سیاست

سودے بازی

مدثراحمد

لوک سبھا الیکشن کا اعلان ہوتے ہی جہاں سرکاری افسران، ضلع انتظامیہ، محکمہ پولیس اورسیاسی جماعتیں سرگرم ہوچکی ہیں وہیں کچھ لوگ اورمذہبی تنظیمیں لوک سبھا انتخابات میں اپنے وجود کا مظاہرہ کرنے کیلئے تیار ہوچکے ہیں۔ کچھ دلال قسم کے لوگ جو سال بھر مختلف کام وکاج میں مصروف تھے وہ اب الیکشن کیلئے اپنے آپ کو انگیج کرنے کیلئے تیار ہورہے ہیں۔ جس کےلئے وہ گھروں کی الماری میں رکھے ہوئے سفید اوربہتر کپڑے نکال کر استری کروارہے ہیں اورکچھ لوگ نئے کھادی کے کپڑے خریدنے کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ ایسے زیادہ تر مسلمانوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ روز مرہ زندگیوں میں قوم مسائل کیا ہیں اورقوم کی حالت کیا ہے؟

 قوم کا استحصال کون کس طرح سے کررہا ہے ان تمام باتوں سے ان لوگوں کو کوئی لینا دینا نہیں ہوتا البتہ الیکشن کے موقع پر انہیں قوم کا درد اس قدر کھائے جاتا ہے وہ اپنے کام کوکاج کو چھوڑ کر صرف الیکشن کی تیاریوں میں لگ جاتے ہیں اور قوم کو مستقبل میں ہونےو الے خطروں سےآگاہ کرنے کیلئے گھومتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ لیکن عام لوگوں کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ ان میں قوم کا درد اورتڑپ یوں ہی پیدا نہیں ہوتی بلکہ انہیں مختلف سیاسی جماعتوں اورامیدواروں کی جانب سے الیکشن پیاکیجس دئے جاتے ہیں جس کے بل بوتے پر یہ لوگ اپنے آپ کو قوم کے ہمدردو دعویدار وں کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ لوک سبھا انتخابات میں کچھ ایسے بھی پیدا ہوجائیں گے کہ وہ لوگ سیاسی جماعتوں کے پاس اس بات کا دعویٰ کریں گے کہ وہ مسلم سماج کے ووٹ اتنے ہزار انکی پارٹی کو ہی دلوائیں گے جس کےلئے انہیں اتنے لاکھ روپئے بطور فیس ادا کی جائے۔ جو پارٹی زیادہ بولی لگائے گی اسی پارٹی کیلئے یہ لوگ کام بھی کریں گے۔ اگر بولی لگانے والی پارٹی بھلے ہی کبھی مسلمانوں کیلئے کام نہ کی ہو مگر انکے لئے کام کرنے کیلئے کچھ دلال قسم کے لوگ تیار ہونگے۔ جہاں سفید لباس میں ملبوس ووٹ دلوانے کے دعویدار ہونگے وہیں بعض علاقوں کے مسجدوں کے ذمہ داران بھی امیدواروں کے پاس دعویٰ کریں گے کہ انکی مسجد کے ماتحت اتنے ووٹر ہیں تو انکی مسجد کمیٹی کیلئے فلاں رقم مختص کی جائے۔

 اسطرح کی سودے بازی کرتے ہوئے ایک تو یہ لوگ مسلمانوں کے عظمت کو دغدار کرتے ہیں تو دوسری جانب امیدواروں سے لئے ہوئے پیسے کم ازکم غریبوں تک بھی پہنچانے سے گریز کرتے ہیں۔ حالانکہ ووٹ کے بدلے نوٹ لینا اخلاقی، قانونی اوردینی جرم ہے مگر گاندھی جی تصویر والے کاغذات  کے سامنے کچھ بھی جرم نہیں مانا جاتا افسوس کی بات ہے کہ اس کام میں بڑے بڑے قوم کے عمائدین اوررہبران کی دعویدار بھی بڑھ چڑھ کر رہتے ہیں۔ دوسری جانب کچھ لوگوں کا یہ سوال ہوتا ہے کہ نوٹ لینے کے بارے میں عام لوگوں کو تو اخبارات غلط قرار دیتے ہیں جبکہ وہ خود نوٹ کے بدلے سیاسی جماعتوں کی تشہیر کرتے ہیں۔ یہ بات واضح کردیں گے اخبارات ہویا پرنٹ میڈیا یا پھر الیکٹرانک میڈیا، انکی یہ بھی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ طے شدہ فیس کے مطابق کسی بھی سیاسی جماعت یا کسی بھی امیدوار کی تشہیر کرسکتے ہیں یہ انکا حق ہے اوریہ انکا پیشہ بھی ہے۔چونکہ اخبارات کے آمدنی کے وسائل میں سب سے بڑا ذریعہ اشتہارا ت ہیں تو اس وجہ سے اخبارات پر یہ لازم ہوجاتا ہے کہ وہ اشتہارات لیکر ہی کسی بھی سیاسی جماعت یا امیدوار کی تشہیر کریں۔

اکثر لوگ اخبارات کے اس رویہ پر بھی سوالات اٹھاتے ہیں اسلئے ہم اس بات کی تصدیق ابھی کردینا چاہتے ہیں۔ رہی بات عمائدین، کھادی پوش، سفید پوش اورمسجدوں کے ذمہ داروں کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مفادات کیلئے پوری کی پوری قوم کا سودا نہ کریں بلکہ خود کا سودا کریں۔ قوم کو اورمسجدوں کو اس بھیانک دھندے سے دور رکھیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مدثر احمد

ایڈیٹر، روزنامہ آج کا انقلاب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close