سیاستہندوستان

سوشل میڈیا سے ڈرنے والے مسلمان

حفیظ نعمانی

ہم حیران ہیں کہ اچھے خاصے تعلیم یافتہ اور باشعور مسلمانوں کو کیا گیا ہے کہ ایک وہ کام جس کی دستور نے اجازت دی ہے اور جس کے بارے میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس اصرار کرتے کرتے ریٹائر ہوگئے اس کو زبان پر لانا صرف سوشل میڈیا کے فتنہ پردازوں کے ڈر سے سب سے بڑی غلطی بن گیا؟ مسلم پرسنل بورڈ نے شرعی عدالتوںکو ملک بھر میں قائم کرنے کی بات کہی تو کاغذی مسلمان تھر تھر کانپنے لگے کہ یہ ملک کے عدالتی نظام کے مقابلہ پر ایک نظام ہے اور ملک کی تقسیم کی طرف ایک قدم ہے۔

ایک بزرگ اے رحمان علیگ نے اسے ایک بے مغز اور قطعی غلط وقتی فیصلہ قرار دے دیا اور مسلمانوں کی تضحیک اور تذلیل پر آمادہ سوشل میڈیا کو ایک نیا مسلم مخالف بہانہ کھڑا کرنے کا موقع دے دیا۔ ان سے پہلے قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین سید غیورالحسن رضوی مسلم مجلس اترپردیش کے صدر یوسف حبیب نے کہہ دیا کہ بورڈ نے شگوفہ چھوڑکر ملت کا نقصان کردیا اور محمد ادیب نے ان کی تائید کردی اور ثابت کردیا کہ مسلمانوں کو ہندوستان میں زنخے، ہجڑے اور نامرد بن کر رہنے کا مشورہ صرف وسیم رضوی یا بقل نواب ہی نہیں دے رہے اپنے کو سُنّی کہنے والے اور اپنے کو قائد کہلانے کے شوقین بھی دے رہے ہیں۔

ہر بات پر اعتراض کرنے کے شوقین اتنا بھی نہیں جانتے کہ ملک کا دستور ہر مذہبی اقلیت کو اس کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے مذہبی مسائل اپنی شریعت کے احکام کے مطابق طے کرلیں اور اگر کسی فریق کو اطمینان نہ ہو تو ملک کی عدالتوں سے رجوع کرلیا جائے۔ ان عقل کے اندھوں کو یہ بھی نہیں معلوم کہ جب مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ہی کوئی سرکاری حیثیت نہیں ہے تو شرعی عدالت شرعی ہائی کورٹ یا شرعی سپریم کورٹ بھی مسلمان بنالیں تو ان کی حیثیت کیا ہوگی؟ جس سوشل میڈیا کے ڈر سے ان کے پیجامے گیلے ہورہے ہیں اس کی حیثیت طوائف سے زیادہ نہیں ہے اگر کانگریس پیسے دے گی تو اس کا گیت گائے گا اور بی جے پی دے گی تو مودی مودی مودی کرے گا جسے سوشل میڈیا کہا جاتا ہے اس کا تو کام ہے کہ مودی سے پیسے لینا اور مسلمانوں یا ان طبقوں کو خوفزدہ کرنا جو مودی کی مخالفت پر آمادہ ہیں۔ کل کو وہ اذان اور نماز کے بارے میں کہہ دیں کہ مسلمان اپنی مسجدوں میں عربی میں ملک کو تقسیم کرنے اور دوسرا پاکستان بنانے کی باتیں کررہے ہیں تو سوشل میڈیا کے ڈر سے یہ بہادر مسلمانوں کو مشورہ دیں گے کہ مسجدوں میں تالے ڈال دو۔

سید غیور الحسن رضوی نے کہا کہ دارالقضاء کا مطلب ہوتا ہے شرعی عدالت اور جب لفظ عدالت آجاتا ہے تو تصور پیدا ہوتا ہے کہ ایک عدالت تو ملک میں چل رہی ہے لیکن مسلم سماج اپنی الگ عدالت قائم کررہا ہے تو اس لئے یہ چیز غلط ہے۔ اخبار میں غیور صاحب کو قومی اقلیتی کمیشن کا چیئرمین لکھا ہے۔ اگر اتنی موٹی عقل کے لوگوں کو قومی اقلیتی کمیشن کا چیئرمین بنایا جاتا ہے تو شاید اس لئے کہ ان سے اسی طرح کی باتیں کہلانا ہیں کیا غیور صاحب کسی سرکاری عمارت پر عدالت لکھا ہوا دکھا دیں گے۔ عام آدمی کچہری کہتا ہے وکیل کورٹ بدلتے ہیں اور کاغذ پر نیایالیہ (U;k;ky;)  لکھا جاتا ہے۔ عدالت صرف تعلیم یافتہ مسلمان بولتے اور سمجھتے ہیں۔ اور اگر عدالت کے لفظ سے شبہ ہوتا ہے تو چیئرمین کا لفظ بھی راجیہ سبھا اور دوسرے بڑے کارپوریشن کے چیئرمینوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اور یوسف حبیب صاحب کو صدر نہیں لکھنا چاہئے اس سے صدر جمہوریہ کی طرف ذہن جاتا ہے۔

یوسف حبیب صاحب مسلم مجلس اترپردیش کے صدر ہیں یعنی آل انڈیا مسلم مجلس کا صدر کوئی اور ہے اور اس کا دفتر بھی کہیں اور ہے۔ یہ مسلمانوں کی وہ عظیم پارٹی ہے جس کا نہ کوئی لوک سبھا میں ہے نہ راجیہ سبھا میں نہ کسی اسمبلی میں نہ کائونسل میں نہ کسی کارپوریشن میں نہ میونسپل بورڈ میں اور نہ کسی گرام پنچایت میں۔ لکھنؤ میں ایک دفتر ہے وہ بھی اس لئے ہے کہ توفیق جعفری صاحب کی وہی رہائش ہے اور وہ چونکہ ایک سیاسی پارٹی کا دفتر ہے اس لئے اسے مالک مکان خالی نہیں کراسکتے۔ ہم اپنی گوشہ نشینی کی وجہ سے صرف ان حضرات سے مل لیتے ہیں جو از راہ محبت غریب خانہ پر تشریف لے آتے ہیں۔ الہ آباد کے ایک حبیب صاحب جو مسلم مجلس کے عروج کے زمانہ میں بہت سرگرم تھے ان سے تعلق بھی تھا اور باتیں بھی ہوتی تھیں۔ یوسف حبیب صاحب کا ان سے کوئی رشتہ ہے یا نہیں یہ ہمارے علم میں نہیں؟ لیکن یوسف حبیب نے جو کچھ انقلاب سے کہا اسے پڑھ کر اس لئے تکلیف ہوئی کہ انہوں نے ابتدا ہی اس بات سے کی ہے کہ میں (شاہی) امام کے بیان کی تائید کرتا ہوں کہ دارالقضاء کے نام سے جو نیاشگوفہ چھوڑا گیا ہے میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ کیا یوسف حبیب یہ نہیں جانتے کہ جامع مسجد کا یہ امام ہر الیکشن میں اپنی امامت کو فروخت کرتا ہے اور اگر اٹل جی منھ مانگے پیسے دے دیں تو ان کی بولی بولتا ہے، ملائم سنگھ، مایاوتی یا شیوسینا کا صدر دے دے تو ان کی بولی بولتا ہے۔ وہ شاہی امام نہیں مسلمانوں کی بداعمالیوں کی سزا ہے اور جو اس کی تائید کرے اللہ اس کے ایمان کی حفاظت فرمائے۔

یوسف حبیب صاحب نے بی جے پی کا ذکر کرکے اور یہ بتاکر کہ اس نے جناح کی تصویر کا مسئلہ چھیڑا اور اب مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اسے ایک نیا موضوع دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ شریعت پر یقین رکھتے ہیں وہ خود مفتی یا امام کے پاس چلے جاتے ہیں اور اپنے مسائل حل کرلیتے ہیں۔ یوسف حبیب صاحب کے نزدیک مفتی بھی بازار میں دُکان لگاکر بیٹھتے ہیں۔ مسلمانوں کی اتنی بڑی پارٹی کا صوبائی صدر یہ بھی نہیں جانتا کہ جہاں مفتی بیٹھتے ہیں وہی دارالقضاء ہے اور پرسنل لاء بورڈ نے یہی تو کہا ہے کہ ہر شہر ہر قصبہ اور ہر مسلم آبادی میں ایک مفتی ہو یا دارالقضاء ہو۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اگر مسلمانوں کی کوئی جماعت ہے تو وہ آستین چڑھاکر سوشل میڈیا کو للکارے اور کہے کہ وہ اپنے دائرے میں رہے ورنہ اسے ننگا کرکے گھمایا جائے گا۔

آخر میں یوسف حبیب صاحب نے کہا کہ اس وقت ملک میں بے روزگاری پر بحث ہورہی ہے کسانوں کی خودکشی چرچے میں ہے بینکوں میں پیسے نہیں ہیں گیس کی قیمت 800  روپئے ہوگئی ہے مودی جی نے جو غریبوں کو گیس کنکشن دیئے تھے وہ خالی پڑے ہیں۔ یوسف حبیب یہ چاہتے ہیں کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ یہ کام کرے۔ یا اللہ ہم کہاں جاکر سر پیٹیں کہ ایک سیاسی جماعت کا صدر خالص مذہبی اور شرعی تنظیم سے حکومت کی گاڑی چلوا رہا ہے اور خود صرف بیان دے کر گھر بیٹھا ہے۔ ظاہر ہے جو پارٹی ایک دفتر تک ہو اس کا صوبائی صدر ایسا ہوگا کہ اس پر رحم کھایا جائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close