سیاستہندوستان

سپریم کورٹ نے اپنا فرض ادا کردیا، گیند حکومت کے پالے میں

ملک کی سب سے بڑی اور محترم عدالت نے گئو رکشکوں کی بھیڑ اور کسی شریف انسان کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالنے پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے

حفیظ نعمانی

ہجومی تشدد یا اچانک بھیڑ کا بے قابو ہونا صرف اس لئے ہے کہ انہیں یقین ہے کہ کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اور یہ یقین اس لئے ہے کہ مقامی پولیس صوبائی حکومت کے ماتحت ہے اور صوبائی حکومت مرکزی حکومت کے ماتحت ہے اور مرکزی حکومت نریندر مودی صاحب کے ماتحت یا آر ایس ایس اور یوگی کے ماتحت ہے جن کی مسلمانوں سے دوری کا یہ حال ہے کہ اگر کوئی محبت یا عقیدت کے جذبہ سے ان کی طرف ٹوپی بڑھا بھی دیتا ہے تو ایسے بھڑکتے ہیں جیسے کوئی سانپ دکھادے۔ وزیراعظم نریندر مودی اگر پنجاب جائیں گے تو سرداروں کی پگڑی باندھیں گے شمالی مشرقی ریاستوں کا دورہ کرنے جائیں گے تو وہاں کے بڑے جو کچھ اور جیسا کچھ بھی سر پر رکھتے ہیں وہ رکھیں گے اگر ناگالینڈ جائیں گے یا بھوٹان جائیں گے تو ان کے ہیٹ سر پر رکھیں گے لیکن کوئی ایسی ٹوپی دکھادے جیسی مسلمان سر پر رکھتے ہیں تو بدک جائیں گے۔

ملک کی سب سے بڑی اور محترم عدالت نے گئو رکشکوں کی بھیڑ اور کسی شریف انسان کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالنے پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے اور قانون اپنے ہاتھ میں لینے کے بارے میں کہا ہے کہ وہ پہلے بھی حکم دے چکے ہیں اور اب چیف سکریٹریوں سے معلوم کیا ہے کہ کیا صوبائی حکومتوں کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ چلایا جائے؟

مرکزی حکومت جو پوری طرح ایسی فضا بنانے کی ذمہ دار ہے وہ تو یہ کہہ کر دامن چھڑا رہی ہے کہ عوام کی حفاظت کا کام صوبائی حکومتوں کا ہے۔ قانون کی کتاب میں تو بے شک یہی لکھا ہے لیکن ہمارے ملک میں وہ نہیں ہوتا جو قانون کی کتاب میں لکھا ہے بلکہ وہ ہوتا ہے جو وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کی زبان سے نکلتا ہے۔ پچھلے سال ایک فلم کے بارے میں بھیڑ نے کہہ دیا کہ یہ فلم اگر دکھائی گئی تو سنیما گھروں کو آگ لگادی جائے گی۔ فلم بنانے والوں نے ہر طرح کی صفائی دی فلم کا نام بدلا اس میں قابل اعتراض حصے نکالے سینسر بورڈ جو مرکزی حکومت کا ادارہ ہے اور وہی فلم دکھانے کی اجازت دیتا ہے یا روکتا ہے اس نے اسے دیکھ کر پاس کردیا مگر بھیڑ نے نہیں مانا اور بھیڑ نے نہیں مانا تو جن ریاستوں میں بھیڑ کی پارٹی کی حکومت تھی انہوں نے اعلان کردیا کہ ان کی ریاست میں فلم نہیں دکھائی جائے گی۔ اور جب دوبار سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ ہر جگہ دکھائی جائے تو بھیڑ کی ریاستوں نے اسے بھی نہیں مانا۔ اور یہ بات سپریم کورٹ اور مرکزی حکومت دونوں کو معلوم ہے۔

سپریم کورٹ کے سامنے یہ بات بھی آئی کہ اب گئو رکشک ہی نہیں بچہ چوری بھی بھیڑ کو عنوان مل گیا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ کسی کو بچہ چراتے یا اسے بہلاتے ہوئے یا اپنے ساتھ لے جاتے ہوئے دیکھے بلکہ جو اجنبی نظر آئیں وہ بچہ چور ہے اور جس مسلمان کو جی چاہے گئو خور کہہ کر مار ڈالو۔ اگر اسے روکنا ہے تو صرف ایک راستہ ہے کہ پولیس کو حکم دیا جائے کہ وہ بھیڑ پر لاٹھیاں برسائے اور نہ مانے تو گولی ماردے اگر پانچ بے گناہوں کو مارنے والے پولیس کی گولیوں سے دس مرجائیں تو ملک کو جنگل راج سے بچانا زیادہ نفع کا سودا ہے۔ اور اگر کسی ایک ریاست میں بھی یہ ہوگیا تو پھر کہیں بھیڑ کا نام نہیں سننے کو ملے گا۔

سپریم کورٹ میں فریاد کرنے والے تحسین پونا والا نے اپنے وکیلوں سے یہ کیوں نہیں کہلوایا کہ گائے کا کوئی تعلق دھرم سے نہیں ہے۔ اگر دھرم سے تعلق ہوتا تو کیا کوئی نائب وزیر داخلہ یہ کہنے کے بعد ہندوستان کا وزیر رہ سکتا تھا کہ میں تو خود بیف کھاتا ہوں۔ اور پورے ملک کا ہندو جانتا ہے کہ مرکزی حکومت کا وزیر ٹنوں گوشت گائے کا مسلم ملکوں کو بھیجتا ہے اور جن کے پاس کاٹنے اور گوشت بھیجنے کا ٹھیکہ ہے ان کو گئو رکشکوں نے کیوں پیٹ پیٹ کر نہیں مار ڈالا؟ تمام شمالی ریاستوں اور کیرالہ میں گائے کھائی جاتی ہے۔ کیرالہ میں بی جے پی الیکشن میں عوام کو یقین دلاتی ہے کہ وہ آپ کو زیادہ اچھی گائیں کھانے کے لئے دیں گے۔ اور ہی بات جو ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ 1947 ء سے پہلے بقرعید میں صرف گائے کی قربانی ہوتی تھی اور بہت بڑے دولتمند بکرا کاٹتے تھے رہی بھینس تو وہ کہیں نہیں کٹتی تھی۔ اور ہندوستان میں 2014 ء سے پہلے اوسط یہ تھا کہ آدھی گائیں اور آدھی بھینس کٹتی تھیں ۔ بقرعید سے پہلے ہر مویشی بازار میں وہ ہندو جو ان گایوں کو پالتے تھے جو دودھ سے بھاگ جاتی تھیں تو صرف اس لئے پالتے تھے کہ بقرعید میں اس کے اچھے پیسے مل جائیں گے۔

گائے تو ہندوستان میں ہمیشہ سے ہے اور ہندو وہ ہیں جن کا یہ ملک ہے تو کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ جب گھر گھر گائے کٹتی تھی تو ایک بھی گئورکشک نہیں تھا اور اب جبکہ شمالی ہند میں کہیں نہیں کٹ رہی تو ہر شہر اور گائوں میں گئو رکشک پیدا ہوگئے؟ یہ صرف آر ایس ایس کے غنڈے ہیں جن کی ذمہ داری بی جے پی کی حکومت بنوانا ہے اور بی جے پی کے لئے مسلمان اور سیکولر ہندوئوں کا ملاپ سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اب بی جے پی یہ چاہتی ہے کہ مسلمان ان ہندوئوں سے ناراض ہوجائیں جو برے وقت میں ان کے کام نہ آئیں ۔

سپریم کورٹ ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے لیکن وہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ مرکزی حکومت نے داغی ممبروں پر مقدمہ چلانے کا دس بار کورٹ کو یقین دلایا اور ایک کے خلاف بھی نہیں چلایا۔ یہ بی جے پی ہی تھی جس نے 2013 ء میں اننا ہزارے کی لوک پال تحریک کو ملک کی سب سے بڑی تحریک بنا دیا اور حکومت کے یقین دلانے پر برت ختم کرایا اور یہ بی جے پی ہی ہے جس نے چار سال میں بھی لوک پال نہیں بنایا اور جب جانے کا وقت آگیا تو اس کا ذکر ہورہا ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے پاس قانون ہے قلم ہے اور بس اور جن سے سابقہ ہے وہ صرف ڈنڈے اور گولی کی زبان سمجھتے ہیں جو سپریم کورٹ کے پاس نہیں ہے۔ ہم احسان فراموش نہیں ہیں سپریم کورٹ کے اس فیصلہ پر شکریہ ادا کرتے ہیں اس کے جو اختیار میں تھا اس میں اس نے کوئی کمی نہیں کی۔ اور گیند اب جس پالے میں ہے ان کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ کچھ نہیں کریں گے۔ ہم چیف جسٹس کا شکریہ ادا کرنے کے بعد اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اپنے سامنے سرجھکانے اور اسے وحدہٗ لاشریک ماننے والوں پر رحم کرے اور سپریم کورٹ کے جذبات کو موثر بنائے۔ آمین۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close