سیاست

سپریم کورٹ نے بی جے پی کے رتھ کی ہوا نکال دی

ڈاکٹر سلیم خان

بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے پیر پسارنے کے لیے دوچار گھسے پٹے طریقے استعمال کرتی ہے۔ اتفاق سے اسے اس کا فوری فائدہ تو مل ہی جاتا ہے۔ ان میں سے پہلا ہے مذہبی جذبات کو بھڑکا  کر فرقہ وارانہ  شعلوں کو ہوا دینا۔ فی الحال اس کا تجربہ کیرالا میں ہورہا جہاں سبری مالا مندر کو لے کر ہنگامہ آرائی چل رہی۔ پولس تھانوں پر بم پھینک کر دیش بھکتی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے یہ اور بات ہے کہ دیش دروہی کنہیا کمار اور عمر خالد وغیرہ کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ اتفاق سے کیرالہ کی  مہابھارت ہندو مسلم نہ ہوکر فسطائی اور اشتراکی ہندووں کے درمیان چھڑی ہوئی ہے۔ دوسرا آزمودہ نسخہ  رتھ یاترا  ہےجس پر بیٹھ کر بی جے پی مغربی بنگال میں  اپنی مقبولیت بڑھانا چاہتی ہے۔ گزشتہ سال ۷ دسمبر سے بی جے پی نے تین مراحل میں بنگال کے اندر رتھ یاترا  نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ بنگال کے تین اضلاع سے ۷، ۹ اور ۱۴ دسمبر  کو نکلنے والی اس  رتھ یاترا کو ریاست کے تمام۴۲لوک سبھا حلقوں تک پہنچنا تھا مگر ممتا نے چلنے سے پہلے ہی اسے بریک لگا دیا۔ اس سے گھبرا کر  بی جے پی نے اپنے ۴۰ روزہ پروگرام  میں تخفیف کرکے ۲۰ دن  کے اندر بہرامپور، ڈائمنڈ ہاربر،مدنی پور اور کلکتہ شمال تک محدود  کردیا ہے اس کے باوجود   سپریم کورٹ نے اجازت دینے سے انکار کردیا۔

اس رتھ یاترا کی شروعات   بی جے پی کےقومی صدر امیت شاہ   کوچ بہار سے کرنے والے تھے مگر ریاستی حکومت اس لاء اینڈ آرڈر کا  اندیشہ جتایا۔ کلکتہ ہائی کورٹ کی یک رکنی بنچ  نے صوبائی حکومت سے اتفاق کیا اور رتھ یاترا  کی اجازت منسوخ کردی۔اس کے بعد سے ہی یہ معاملہ عدالتوں کی یاترا کررہا ہے۔ بنگال بی جے پی یونٹ اس فیصلے کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنے والی نہیں تھی کیونکہ امیت شاہ  نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کردیا   تھا کہ ، ’ہم یقینی طور پر یاترائیں نکالیں گےاور ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔ مغربی بنگال میں بدلاؤ کے لیے  بی جے پی کمیٹڈ ہے۔ یاترائیں رد نہیں، صرف ملتوی ہوئی ہیں ‘۔ بی جے پی نے کلکتہ ہائی کورٹ کی یک رکنی  بنچ کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ کی  ڈویژن بنچ میں اپیل داخل کی اور ممتا بنرجی کی حکومت پر الزام لگایا کہ ملک میں سب سے زیادہ سیاسی قتل بنگال میں ہوئے ہیں نیزمغربی بنگال انتظامیہ  برسرِ اقتدار  ترنمول کانگریس کے لیے کام کرر ہا ہے۔‘ ویسے اگر گجرات  اور دہلی کا انتظامیہ بی جے پی کے لیے کام کرسکتا ہے تو بنگال کا ترنمول کی خدمت کیوں نہ بجا لائے؟

 کلکتہ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ  میں بی جے پی کو کامیابی ملی ۔  اول توہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ نے بی جے پی کے تین ترجمانوں  کو ریاست کے چیف سکریٹری، ہوم سکریٹری اور ڈی جی پی سے ملاقات کرنے کی ہدایت دی۔ آگے چل کر اپنے حتمی  فیصلے میں اس  نے رتھ یاترا سے ہونے والا خطرہ  کوتصوراتی قرار دیا اورچند شرائط کے ساتھ اس کی اجازت دے دی۔ اسی کے ساتھ    ریاست میں امن و سلامتی  کو  یقینی بنا نے کی ہدایت  انتظامیہ کودی۔ اس  پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی رہنما وجئے ورگیہ نے کہا تھا، ’ ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ہمیں عدلیہ پر بھروسہ تھا کہ انصاف ملے گا۔یہ فیصلہ آمریت کے منھ پر طمانچہ ہے۔ ‘ وزیر خزانہ ارون جیٹلی بھی   اس فیصلے پر اپنی خوشی روک نہیں سکے اور ٹویٹ میں لکھا، ’ اگر این ڈی اے کی زیراقتدار کسی ریاست میں اپوزیشن پارٹی کو پروگرام کی اجازت نہیں ملتی توحزب اختلاف اسے’غیر اعلان شدہ ایمرجنسی قرار دے دیتا ہے‘۔ انہوں نے  کورٹ کا شکریہ ادا کیا اور بی جے پی کارکنوں کو مبارک باد دی۔ اب جبکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بی جے پی کے خلاف آیا ہے پورے سنگھ پریوار کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ چاروں طرف سناٹا چھایا ہوا ہے۔

سپریم کورٹ میں یہ  اسپیشل رائٹ پٹیشن خود بی جے پی نے دائرکی تھی۔ اس  کے وکلاء نے کہا تھا   ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور یہاں ہر  سیاسی جماعت کو اپنے پروگرام کے مطابق ریلی، جلوس اور دیگر پروگرام کرنے کا دستوری حق حاصل ہے۔ریاستی حکومت کو آئینی حق سے محروم کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ کاش کے اپنے حقوق کی دہائی دینے والی بی جے پی شہری نکسلواد کے نام پر گرفتار کیے جانے والے دانشوروں اور جے این یو کے طلباء کے حقوق کا پاس و لحاظ کا خیال  بھی کرتی۔ عدالت عظمیٰ کے حالیہ فیصلے کا ترنمول کانگریس کے وزیر سبرتو مکھرجی نے خیرمقدم  کیا اور کہا کہ  بی جے پی کو یکے بعد دیگر تھپڑ لگ رہے ہیں  لیکن وہ اس سے سبق لینے کی کوشش نہیں کررہی ہے۔ریاستی وزیرخوراک جیوتری پریہ ملک نے  بھی اس کی تائید میں کہا کہ ”بی جے پی بنگال میں رتھ یاترا کے نام پر فسادات کرانے کی کوشش کررہی تھی“اس کا اندازہ سپریم کورٹ کو تھا اسی لیے اس نے تاریخی فیصلہ دیا ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی نے اپنے فیصلے میں لکھا   کہ رتھ یاترا کے دوران تشدد کے واقعات رونما ہونے کے بنگال حکومت کے اندیشے بے بنیاد نہیں ہیں تاہم بنگال  میں بی جے پی میٹنگ اور ریلیوں کا انعقاد کرسکتی ہیں۔ مغربی بنگال میں بی جے پی کا سابقہ  کانگریس یا اشتراکیوں سے نہیں بلکہ  ترنمول کانگریس سے ہے۔ ممتا بنرجی اور بی جے پی  ایک دوسرے کے لیے اجنبی نہیں ہیں۔ ترنمول کانگریس  این ڈی اے میں شامل رہی ہے  بلکہ اٹل جی کی  سرکار میں ممتا بنرجی کووزارت ریلوے سے نوازہ جا چکا ہے۔ اس وقت سیاست میں قدم جمانے کے لیے ممتا  بنرجی کو بی جے پی کی ضرورت تھی لیکن اب وہ اس سے بے نیاز ہوچکی ہیں۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ بی جے پی آج بھی نادانستہ اپنے احسان فراموش دشمن کا  سیاسی فائدہ پہنچانے پر مجبور  ہے۔

بنگال میں مسلمانوں کو بہت بڑی آبادی ہے۔ کسی  زمانے میں بنگال کا مسلمان کمیونسٹ محاذ اور کانگریس میں منقسم تھا اس کے بعد   جب ترنمول آئی تو بہت سارے کانگریسی اس کے ساتھ ہوگئے۔ امت کو  ان تینوں جماعتوں میں کوئی خاص فرق  نظر نہیں آتا تھا۔ سب ان کی منہ بھرائی کرتے تھے لیکن فلاح و بہبود کے کاموں میں کسی کو دلچسپی نہیں تھی۔ اس حقیقت کی غماز سچر کمیٹی کی رپورٹ ہے جس نے مسلم دوست سیاستدانوں کے چہرے کی نقاب نوچ کر پھینک دی۔ بی جے پی چونکہ حاشیہ پر تھی اس لیے مسلمان بلاخوف و خطرجس  کسی سے ناراض ہوتے اس  کو بھگاکر کسی اور کولے آیا کرتے تھے۔ اب صورتحال بدل گئی ہے بی جے پی اپنی طاقت بڑھا رہی ہے اور بظاہر اس کا مقابلہ کرنے قوت صرف  ترنمول میں  نظر آتی ہے اس لیے ملت کا سارا جھکاو ممتا کی جانب ہوگیا  ہے۔ گزشتہ اسمبلی اور ضمنی انتخابات میں ترنمول کو ملنے والی غیر معمولی کامیابی اس حقیقت کا شاخسانہ ہے۔ ترنمول اور بی جے پی کے درمیان یہ جبری تعاون  دیگر سیاسی جماعتوں کا صفایہ کرکے ان کی  قوت میں اضافہ کررہاہے۔ یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ بی جے پی کا نشان کمل اور ترنمول کا پتے ہیں۔ پھول اور پتے کب تک ایک دوسرے سے جدا ر ہیں اور کب ایک ساتھ ہوجائیں گے یہ کود بھی نہیں جانتے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close