سیاستہندوستان

سیاست، مخالفت اور علاء الدین کا چراغ!

تبسم فاطمہ

کسی بھی ملک کی اقلیت کے پاس حقوق پانے کے لیے زیادہ راستے نہیں ہوتے۔ مخالفت یا اقتدار سے ٹکرائو کا راستہ حقوق حاصل کرنے کے ہر دروازے کو بند کردیتا ہے۔ ایک آسان سا سوال ہے، کیا آپ حکومت سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھتے ہیں ؟ اس کا جواب نہیں میں ہے۔ عآپ کی تاریخ یا اروند کیجریوال کے عروج کی تاریخ ابھی زیادہ پرانی نہیں ہوئی۔ انّا کی تحریک کا رنگ ایسا تھا کہ اس وقت سارا ہندوستان ایک نئے انقلاب سے دو چار نظر آتا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے آزادی کے بعد کا ہندوستان جمہوریت اور سیکولرزم کو ساتھ لے کر ایک نئی تاریخ رقم کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ اور اس حوصلے کے پیچھے عوام کی طاقت ہے۔

اس تحریک سے کئی لیڈر ابھرے۔ کئی بڑے لیڈر آج بی جے پی کا حصہ بن چکے ہیں ۔ اس زمانے میں جب دلّی اسمبلی انتخاب قریب تھا، اور سڑکوں پر لڑکے لڑکیاں پانچ سال، کجریوال، کا گانا گنگناتے ہوئے گزرتے تھے تو کجریوال کی شکل میں ایک مسیحا کی صورت ابھرتی تھی— ایک پڑھا لکھا ایماندار شخص جو سیاست کی گندگی کو صاف کرنے نکلا ہے۔ میڈیا نے اورعالمی میڈیا میں بھی کجریوال ہیرو بن گئے تھے۔ لیکن اسی میڈیا نے تین برسوں کے اندر کجریوال کو ہیرو سے زیرو پھر ویلن بنادیا۔ کجریوال نے پرشانت بھوشن اور یوگندر یادو جیسے بڑے اور سمجھدار لیڈر کو عآپ سے نکالنے کی بھول کی اور اس کے بعد مسلسل عآپ کا ستارہ گردش میں رہا۔ آج کی تاریخ میں عآپ اور کجریوال سے ہمدردی کسی کو نہیں ہے۔ مودی حکومت کے لیے اب پانچ برس سے قبل کجریوال کی دلی حکومت کو گرانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ حکومت چلی گئی تو کجریوال اور ان کی پارٹی حاشیہ پر آجائے گی—

مودی نے عآپ کی طاقت ختم کردی تو میدان میں اکیلے کانگریس رہ جائے گی۔ بہارمیں لالو یادو کی زبان بند رکھنے کا ہنگامہ شروع ہوچکا ہے۔ کانگریس کے پاس سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی شکل میں دو کمزور مہرے ہیں ۔ یہ دونوں مودی حکومت سے ٹکرانے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ کانگریس کے باقی لیڈران بھی یہ سوچ کر حاشیہ پر چلے گئے ہیں کہ زبان کھولنے کی شکل میں حکومت کہیں ان کے پیچھے نہ لگ جائے۔ یہ بڑی حقیقت ہے کہ عآپ اوراروند کجریوال میں مودی حکومت سے ٹکرانے کا جو حوصلہ ہے، وہ کانگریس کے پاس نہیں ہے۔ یہ وقت تھا جب کانگریس کو دور اندیشی سے کام لے کرعآپ کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا۔ یہ دور اندیشی عآپ کے پاس بھی نہیں تھی۔ یہاں بھی ایک کہانی یاد آرہی ہے۔ دو بندروں کی جنگ میں لومڑی چپکے سے سیب لے کر بھاگ کھڑی ہوئی۔ صورتحال یہ ہے کہ ادھر مودی حکومت سے ٹکر لینے والی عآپ گئی۔ ادھر کانگریس بھی گئی۔ جب برسراقتدار حکومت ان دو پارٹیوں کو حاشیہ پر ڈھکیل سکتی ہے تو کیا مسلمان، کمزور اقلیت ہوکر حکومت سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھتے ہیں —؟

 یہ بری بات نہیں ہے کہ وزیراعظم مودی سے ملنے کے لیے مسلم تنظیموں اور مسلم لیڈران  نے ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کے درمیان اس سلسلے کو بھی ناپسندیدہ نظروں سے دیکھا جارہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت آر ایس ایس اور مودی کی ہے تو کیا مسلمان ناراض ہوکر جینا چھوڑ دیں گے؟ ابھی اس وقت حزب مخالف کے جو حالات ہیں ، اسے دیکھتے ہوئے 2019 کی جنگ بی جے پی کے لیے کوئی مشکل جنگ نظر نہیں آتی، کیونکہ ٹکر دینے والے سارے مہرے پٹ چکے ہیں ۔ اور مان لیجئے، اگر بی جے پی اور آر ایس ایس 2019 کے بعد بھی اقتدار پر قابض رہتی ہے تو کیا مسلمان اپنے حقوق کے لیے پڑوسی ملک سے مدد مانگیں گے؟ظاہر ہے مسلمانوں کو ہر طرح کی امداد کے لیے اسی حکومت پر منحصر رہنا ہے۔

 اب یہاں بھی دو باتیں ہیں ۔ یا تو اس وقت ملک میں جس طرح کا ماحول بنایا گیا ہے، یا بنایا جارہا ہے، اسے دیکھتے ہوئے مسلمان خاموش رہیں ۔ یا اگر آواز بلند کریں تو اس آواز میں مخالفت یا ٹکرائو کا عنصر نہ ہو۔ ظاہر ہے، دونوں صورتوں میں خسارہ مسلمانوں کا ہے۔ ان تین برسوں میں کچھ لوگ بی جے پی کے بڑے نمائندے بن کر سامنے آئے۔ ان کا کام ہندوستانی مسلمانوں کو مودی اور آر ایس ایس سے جوڑنا ہے۔ اس سلسلہ کو آگے بڑھانے کا کام اندریش کمار کا مسلم مورچہ بھی کررہا ہے— ان میں شامل ہونے والے مسلم نوجوانوں سے کوئی شکایت نہیں ، کیونکہ ہر نوجوان اپنے مستقبل اور کیریئر کو پہلے دیکھتا ہے۔ اور جو بڑے چمکتے ہوئے نام شامل ہیں یا تو وہ تجارت پیشہ ہیں یا ان کے مفاد وابستہ ہیں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان اگر بی جے پی اور آر ایس ایس سے فاصلہ بنا کر چلتے ہیں تو ان کی مشکلیں وقت کے ساتھ بڑھتی جائیں گی۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ فاصلہ بڑھانے کا کام تو خود آر ایس ایس کرتی آرہی ہے— پھر ہندوستان کے عام مسلمانوں کی حمایت آر ایس ایس کو کیسے ملے گی؟ ان تین برسوں میں گوشت کے روزگار سے لے کر طلاق ثلاثہ تک جو کھیل اس وقت اس ملک میں ہورہا ہے، وہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ آر ایس ایس اپنے مشن کے کس حد تک قریب پہنچ چکا ہے۔ پچھلے دنوں سپریم کورٹ میں طلاق ثلاثہ کو لے کر جو کارروائی ہوئی اور کپل سبل نے تین طلاق کو ایودھیا سے جوڑتے ہوئے عقیدت کا جو مسئلہ اٹھایا اس کا جواب عدلیہ کے پاس اس لیے نہیں تھا کہ عدلیہ بابری مسجد تنازعہ پر کپل سپل کے سیاسی، مفاد پرست بیان سے واقف ہے۔ اور سبل ایک تیر سے کئی شکار کرنے اور مسلمانوں کو کمزور کرنے میں کامیاب رہے ہیں ۔ تین طلاق کے بعد یکساں سول کوڈ کا معاملہ بھی آگے آئے گا۔ اور اس کے بعد بھی کئی ایسے معاملات سامنے آسکتے ہیں جہاں مسلمانوں کی، تنظیموں کی یا مسلم لیڈران کی نہیں چلے گی۔ اس طاقت کے لیے اپازیشن کا ختم ہونا ضروری تھا— اس لیے یہ حقیقت واضح ہوچکی ہے کہ 1925 کے مشن کے مطابق، جب ہندو راشٹر کے لیے آر ایس ایس ایس کا باضابطہ قیام عمل میں آیا تھا، اب آر ایس ایس مزید تیاریوں میں لگ چکی ہے — یہاں اس بات کو جاننا ضروری ہے کہ آر ایس ایس کی دشمنی مسلمانوں سے نہیں ہے۔ آر ایس ایس اسلام کی مخالف ہے— آر ایس ایس ہندستان کے عام مسلمانوں کو کنورٹیڈ سمجھتی ہے اور یہ بھی سمجھتی ہے کہ مسلمانوں کی واپسی اپنے پرانے گھر (دھرم) میں کرائی جاسکتی ہے۔ اس لیے ان تین برسوں میں مسلمانوں کے معاشی ذرائع کو ختم کرنے کی ایک مہم شروع ہوئی۔ نفسیاتی نکتہ یہ ہے کہ محتاج انسان کو مذہب سے زیادہ زندگی پیاری ہوتی ہے۔ اور اس بات کے ثبوت بھی ملنے لگے ہیں ۔

ادھرکچھ مسلمانوں کی، گھر واپسی کی خبریں بھی سرخیوں میں آئی ہیں ۔ نوجوان مسلمانوں کے آر ایس ایس جوائن کرنے کی خبریں بھی مسلسل موصول ہورہی ہیں ۔ اس سیاسی پس منظر کو دیکھتے ہوئے مودی سے ملنے والے مسلم لیڈران اور علما کے بیانات کو سامنے رکھیے تو دور جدید کے علاء الدین کی کہانی یاد آجاتی ہے۔ علا دین کو چراغ ملا۔ چراغ سے جن نکل کر سامنے آگیا۔ جن نے کہا آقا کیا چاہیے۔ علاء الدین نے کہا، ایک مکان دلا دو بھائی۔ جن دوبارہ یہ کہہ کر چراغ میں چلا گیا کہ اگر مکان مل جاتا تو میں چراغ میں کیوں رہتا؟ مودی جانتے ہیں اور آر ایس ایس بھی جانتی ہے کہ ہندوستان کے مسلمان کبھی ان کے نہیں ہوسکتے۔ حکومت بننے سے قبل ہی مودی نے صاف کردیا تھا کہ انہیں مسلمانوں کے ووٹ کی ضرورت نہیں ؛چراغ والے معصوم جن کی طرح ہمارے علماء اور مسلم لیڈر مسلم مسائل کے حل کے لیے وزیر اعظم مودی سے ملاقات تو کرر ہے ہیں ۔ لیکن مودی یا آ رایس ایس یہ جانتے ہوئے مسلمانوں کے مسائل میں دلچسپی کیوں لے گی کہ مسلمان آگے بھی ان کو ووٹ نہیں دیں گے۔

 یہ نیا سیاسی تجربہ ہے۔ مسلمانوں نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ ستربرسوں میں آر ایس ایس اور بی جے پی سے نفرت انہیں اس قدر مہنگی پڑ سکتی ہے۔ لیکن حل بھی اسی سیاسی منظر نامہ سے نکلے گا۔ کیسے؟ اس پر جذباتی ہو کر نہیں ، منطقی اور سیاسی پہلوئوں کو سامنے رکھ کر سوچنا ہوگا۔ آر ایس ایس اور مودی سے ملاقات کا عمل جاری رکھنا ہوگا۔ ابھی جس سیاسی دور اندیشی کی ضرورت ہے، مسلمانوں میں اس کی کمی ہے۔ اور کمی اس لیے کہ موجودہ سیاست نے ان کے آگے بڑھنے کے تمام راستے بند کردیے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close