سیاستمعاشرہ اور ثقافت

سیاست:سیاستداں،معاشرہ اور الیکشن

سیف ازہر

ظاہر ہے یہ موضوع کوئی چھوٹا موضوع نہیں ہے ۔اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے ۔اس پرشاید لکھنے کی ضرورت بھی نہیں مگر ایسے وقت میں جب دنیا میں سیاسی مضرات سے ایک نئی دنیا کی تخلیق ہورہی ہے ،کسی چیز کی تکرار مضر نہیں ہوسکتی۔موجودہ سیاسی تناظر میں اس پر لکھنا انتہائی ضروری ہوجاتا ہے ،ویسے بھی انسانی نفسیات کا یاد دہانی سے انتہائی گہرا رشتہ ہے ۔ظاہر ہے سیاست ایک طریقہ کار ہے عوامی مسائل پر بحث ،طریقہ حل اور حل کا ،اس کا مرکزی تعلق ریاست سے ہے ۔اس بحث ،طریقہ حل اور حل کاتعلق بالواسطہ ان رہنماؤں سے ہے جو اسے انجام دیتے ہیں ۔یہی لوگ ریاست کے سیاستدان بھی ہوتے ہیں ۔عموماسیاست اقتدار،حقوق کے حصول ،تحفظ اقدار،جمہوری روایت کا تحفظ اور ذاتی مفادات کے لیے ہوتی ہے ۔ رہی بات معاشرہ کی تو وہ ایک ایسے انسانی گروہ کانام ہے جہاں لوگوں کی بنیادی ضروریات میں روابط اور اشتراک ہو،یہ ضروری نہیں کہ وہ گروہ قومی، مذہبی ،تہذیبی اورثقافتی طور پر بھی مشترک ہو ۔رہ گئی انتخابات کی بات تو یہ نمائندہ چننے کا عمل اور طریقہ کار ہے ۔پوری دنیا میں اس کے مختلف طریقہ رائج ہیں ۔تمام کے تما م طریقے الگ الگ نام سے متعارف ہیں ۔

فی الوقت جمہوری طریقہ کار میں سب سے زیادہ متعارف جمہوری عمل برطانیہ اور امریکہ متحدہ کا ہے ۔پوری دنیا میں رائج جمہوریت کا کہیں نہ کہیں ان دونوں سے کوئی نہ کوئی تعلق ضرورہے ۔کسی کسی ملک نے تو ان دونوں طریقہ کار کی نہ صرف نقل کی ہے بلکہ چربہ بھی اڑایا ہے ۔ کہتے ہیں کہ سیاست ایک معصوم سی بچی تھی مگر اسے کچھ لوگوں نے اغوا کرکے کوٹھے پر بیچ دیا اس لیے اب اسے صرف اور صرف دوسروں کے جذبات سے کھیل کر اپنافائدہ حاصل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔آ ج کہ سیاست صرف اور صرف حصول اقتداراور مفادات کے لیے ہوتی ہے۔اس لیے آج معاشرہ کی بنیادی ضروریات کو بالائے طاق رکھ کر ہر سیاست داں ،انتخاب میں کود جاتا ہے ۔یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ عام طور پرمفاد پرست سیاست داں معاشرہ کی بنیادی ضرور ت کو سمجھتے ہی نہیں یا مفادات کی حرص نے عقل پر پردہ ڈال دیا ہے ۔

معاشرہ کی ضرورت اور سیاست کے تقاضوں پر بلا کسی مفاد کے ہمارے سیاستداں عمل پیرا ہوتے تو ان کے سامنے آج کو قضیہ فلسطین نہیں ہوتا۔کہیں پر کشمیر کے لیے کوئی آواز نہیں اٹھتی ۔دنیا کا سب سے خوبصورت شہر حلب کی صورت آج کھنڈر کی نہیں ہوتی ۔ایران یہ جانتے ہوئے بھی کہ عرب کی صرف تہذیب اور اقدار کا نام نہیں بلکہ ایک معاشرے کانام ہے ،ان کی ریاستوں میں ٹانگ اڑانے کی کوشش نہیں کرتا۔امریکہ صدام کی تنبیہ کے باوجود عراق پر حملہ نہیں کرتا۔صدام بھی پہلے اس واقف نہیں تھالیکن شاید اسے کویت اور ایران سے جنگ کے بعد اندازہ ہوچکا ہے ۔ممکن کو یہ خبر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ہو اس لیے انھوں نے دنیا پر حصول اقتدار کے لیے براہ راست کے بجائے بالواسطہ طریقے اختیار کیے اور ہر اس جگہ اپنے مہرے نصب کردیے جہاں ان کو غلبہ ملا۔عراق ،افغانستان اور عرب دنیا کہ اتھل پتھل اسی غیر متوازن سیاست ،سیاستدان اور معاشرے کی دین ہے ۔

معاشرہ جو کہ ایک کہ مخصوص انسانی گروہ پر مشتمل ہوتا ہے اس کے اقدار کچھ بھی ہو مگر اس کی ضروریات مشترک ہوتی ہیں ۔عرب کی پوری دنیاکا معاشرہ کم وبیس ریگستانی علاقوں پر مشتمل ہے ۔اس میں سب کو اونٹ بطور سواری کے لیے ہوناضروری ہے ۔گاڑیوں کے دور میں خیر پوری دنیا کو گاڑی چاہئے۔ سب بڑی دقت یہیں آکر پیدا ہوتی ہے ۔شاید اسی لیے کہنا بھی بجا ہوسکتا ہے کہ دنیا میں سیاست اور معاشرت کی متعینہ تعریف اب فرسودہ ہوچکی ہے ۔گلوبلائزیشن کے دور میں بہت ساری ضرورتیں جو کسی وقت میں کہیں سے مخصوص تھیں اب آفاقی ہوچکی ہیں ۔ معاشرت کی خصوصیات رہن سہن تک کی تبدیلی کے باوجود ابھی بھی کچھ چیزیں ہیں جنھوں نے سب کو باندھ کر رکھا ہے ۔

گلوبلائزیشن نے دنیا کو بہت کچھ دیا ہے جن میں لوٹ ،ہوڑ،معاشیاتی عدم توازن ،نفرت اور تشدد جیسی بہت سی چیزیں بھی شامل ہیں ۔ گلوبلائزیشن کی وجہ سے مغرب دنیانے عرب ملکوں میں معاشرہ اور تہذیب اورمذہب کو سیاست کی آڑ میں ایک کردیا جس سے نفرت کی پیداورمیں اضافہ ہو ا۔اس نفرت کو تشدد میں ہتھیار بیچ کر بدل دیا اور پھر کیا تھا دہشت گردی اورتشددایک بہت بڑی انڈسٹری کی شکل اختیار کر گیا۔یہ صرف اور تہذیب اقدار اور معاشرہ کی لکیر کو مٹا کر ہی سکتا تھا ۔شاید اسی لیے آج پوری دنیا ایک نئی حد بندی کے دور سے گزر رہی ہے ۔پرانی سرحدوں اور معاشرے میں کسی کو اب اطمینان نہیں رہا ہے ۔پاکستان ،ترکی ،شام اور عراق اس کی بہت عمدہ مثال ہوسکتی ہے ۔اب میں اسی تناظر یعنی سیاست ،سیاستداں ،معاشرہ اور الیکشن میں وطن عزیز کو دیکھنا چاہتا ہوں ۔یہ ایک ایسا ملک ہے، جہاں ہزاروں بولیاں ،ہزاروں طرح کی تہذیب اور معاشرت ہے ۔

کہیں راون کی پوجا ہوتی ہے اورکہیں جلایا جاتا ہے ۔کسی کے لیے خود کشی جرم ہے تو کسی کے لیے نجات کا ذریعہ ۔کوئی دفن کرتا ہے اور کوئی جلاتا ہے ۔نہ جانے کتنے اقدار اور تہذیب ہیں جوکہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں مگر پھر بھی ہندستان ایک پور معاشرہ ہے ۔اس معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ ہر ایک دوسرے کے معاملات میں روادار واقع ہوئے ہیں ۔ ہندستانی معاشرے کو بھی گلوبلائزیشن نے نقصان پہنچایا ہے مگر یہاں کہ معاشرت کو ابھی تک کوئی خطرہ نہیں تھا مگرجس طرح الیکشن نے امریکہ معاشرہ کو خطرے میں ڈال دیا ہے ،ہندستانی معاشرہ بھی الیکشن کی زد میں ہے ۔جب تک الیکشن نہیں آتا کہیں سے بھی کوئی مسجد مندر گرانے اٹھانے کی بات نہیں کی جاتی، مگر الیکشن میں یہ باتیں ہوتی ہیں کیونکہ معاشرہ صرف اسی زہر سے مر سکتا ہے اور دوسراکوئی زہر اس پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ ہزاروں سال کی معاشرت کو صرف اس لیے سیاستداں خطرے میں ڈال دیتے ہیں تاکہ ان کامفاد مکمل ہوسکے ۔الیکشن صرف اس لیے ہوتا ہے تاکہ لوگ اپنا نمائندہ چن سکیں ۔ان کا نمائندہ ان کے مسائل پر بحث کرے اوران کاحل نکالاجائے ۔معاشرہ کی ضرورت ان کے بنیادی مسائل ہیں مگر وہ سب چھوڑ کر کچھ اور ہورہا ہے ۔

معاشرہ بھی یہ سب چیزیں اتنی حاوی ہوچکی ہیں کہ اس کوبھی اس کے علاوہ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے ۔منی پور اور اترپردیش کے وہ سرحدی علاقے جو کہ نکسل متاثرہ ہیں ان کی ضرور ت فی الحال یہ ہے کہ جن لوگوں نے ان کی زندگی حرام کر رکھی ہے ریاست ان کو اس کے نجات دلائے ۔ظاہر ہے یہ کام ان کا ہے جو ان نے نمائندے ہونگے ۔امیدوار نمائندہ کواس بات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ ان کے اس مسئلہ کا کیا حل ہونا چاہئے ۔ان کو صرف اس سے مطلب ہے کہ ان کا ووٹ کسی طرح ان کے پالے میں آسکتا ہے ۔ورنہ آپ خود سوچیں راہل کے پائن ایپل کوناریل کاجوس بنانے کی ضرورت کیوں پڑی ۔ریل حادثہ کی انکوائری ہورہی ہے ۔خفیہ ایجنسیا ں اس کی چھان بین میں لگی ہیں مگر اس کا تذکرہ گونڈہ کی ترقی سے کیا تعلق رکھتا ہے ۔

اعظم گڑھ میں امت شاہ کا یہ کہنا کہ جس رات بی جے پی کا وزیر اعلیٰ حلف لے گا اسی رات یوپی کے سلاٹر ہاوسیز پر تالا لگ جائے گا۔کوئی پوچھے کہ اس سے معاشرے کی ترقی رکے گی یا بڑھے گی ۔پہلی بات تو یہ سب مفاد کی سیاست ہے ایسا کچھ نہیں ہونے والا جب وزیراعظم اپنا ہے تو وزیرا علیٰ کی کیا ضرورت وہ چاہے تو پورے ملک میں یوں ہی تالا لگا سکتا ہے ۔یہ سب تو سیاست داں ہے اور ان کو جمہوری اقدار اور تہذیب کی تحفظ سے لینا دینا نہیں ہے کیونکہ سیاست اور سیاست دانوں نے طریقہ کار مسخ کردیا ہے ۔مانتا ہوں کہ سیاست اور سیاست دانوں کو منع نہیں کرسکتے حالانکہ ایسا ضروری نہیں مگر معاشرت کو بچانے کون آئے گا۔زیڈ سیکورٹی صرف سیاستدانوں کے تحفظ کے لیے ہے تمہارے لیے نہیں ۔اگر تمہارے لیے ہوتی تو تم فسادات یا جگہ مارے نہیں جاتے ۔یہ اگر سچائی نہیں ہے تو بتاؤ کہ کوئی سیاستداں کبھی کیوں نہیں مارا جاتا۔یہ سوچنے کامقام ہے اور سوچنا ضروری بھی ہے تاکہ سیاست ،سیاستداں اور الیکشن کے درمیان فرق سمجھ کر معاشرت کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے ۔اگر ایسا نہیں ہوا تو جھوٹی دیش بھکتی کی آڑ میں معاشرہ ٹوٹ جائے گا۔معاشرہ ٹوٹا توریاست کو ٹوٹنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سیف ازہر

student of urdu literature jamia millia islamia new delhi

متعلقہ

Back to top button
Close