سیاست

سیاست اس قدر گندی نہ تھی پہلے!

محمد خان مصباح الدین

سیاست کے لغوی معنی حکومت چلانا اور لوگوں کی امرونہی کے ذریعے اصلاح کرنا ہے جبکہ اصطلاحی معنوں میں فنِ حکومت اور لوگوں کو اصلاح کے قریب اور فساد سے دور رکھنے کو سیاست کہتے ہیں ۔ اسلام میں سیاست اس فعل کو کہتے ہیں جس کے انجام دینے سے لوگ اصلاح سے قریب اور فساد سے دور ہو جائیں جبکہ اہل مغرب فنِ حکومت کو سیاست کہتے ہیں اور امورِ مملکت کا نظم و نسق برقرار رکھنے والوں کو سیاستدان کہا جاتا ہے ۔ برصغیر میں چونکہ ایک طویل عرصہ تک انگریزوں کی حکومت رہی اس لیئے اس خطے میں رائج سیاسی نظام بھی اُن سے ورثے میں ملا۔

قارئین کرام!

یہ ہمارے قوم کی بد قسمتی رہی ہے کہ انھیں قوم سے مخلص کوئی ایسا رہنما نہیں ملا جو اخلاص کے ساتھ خدمت کرسکے ۔ سیاست کو اتنا بڑا جرم بنا دیا گیا ہے کہ جیسے تالاب میں کوئی گندی مچھلی۔مسئلہ یہ نہیں ہے کہ تالاب کیسے گندہ ہوجاتا ہے ، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ایک گندی مچھلی پورے تالاب کو کیسے گندہ کردیتی ہیں ۔ اس کی گندگی کی طاقت دوسری مچھلیوں کی طاقت سے اس قدر حاوی ہوتی ہے کہ ایک گندی مچھلی کو باہر اٹھا کر باہر نہیں پھینکا جا سکتا ۔ ہمارے جمہوری نظام کی بھی یہی صورتحال ہے کہ سیاست کے نام پر آنے والوں میں کچھ ایسے بھی آجاتے ہیں جو پوری سیاست کو گندہ کردیتے ہیں ، لیکن اس سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ سیاست میں وہ گندی مچھلی بھی اچھی مچھلیوں کے ساتھ رہتی ہے اور دوسرے لفظوں میں کہا جائے کہ اچھی مچھلیاں بھی گندی مچھلیاں بن جاتی ہیں پھرتالاب گندہ ہو یا صاف اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا.

جمہوری دور میں سیاست سرمایہ داروں ،کے کھیل کا نام سمجھی جاتی ہے جس میں غریب صرف نعرے بازی اور ووٹ ڈالنے کی حد تک شریک ہوتا ہے اور کسی شریف آدمی کا اس میں حصہ لینا انوکھی بات سمجھی جاتی ہے کیونکہ اخلاقی لحاظ سے ہماری سیاست انتہائی پستی کی طرف گامزن ہو چکی ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں خواہ وہ سیاست ہو یا معاش، خاندانی زندگی ہو یا اجتماعی سبھی میں اخلاقی قدروں کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے لیکن اس وقت ہندوستانی سیاست نے اخلاقیات سے اپنا دامن چھڑا لیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ سیاست میں اونچ نیچ,ہندو مسلم سوچ ہونے کیساتھ سیاستدانوں کا کم تعلیم یافتہ ہونا بھی ہے۔

ہندوستان میں سیاست اس وقت ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے اور اس کا برملا اظہار خود سیاستداں بھی وقتاً فوقتاً کرتے چلے آ رہے ہیں ۔اگر سیاست ایک کاروبار ہے تو کاروبار میں بھی کچھ اخلاقیات ہوتی ہیں ۔ وہ زمانہ گیا جب اخلاقی روایات سیاست میں قائم تھیں اور سیاستداں شدید مخالفت کے باوجود ایک دوسرے کی عزت و وقار اورمقام و مرتبے کا لحاظ رکھتے تھے مگر اب سیاست داں کی پہچان یہ ہو چکی ہے کہ وہ ملکی مفاد کی تشہیر کرکے ذاتی مفاد حاصل کرنے کیساتھ ساتھ عوام کے جذبات سے کھیلتا ہے، انہیں اچھے دنوں کی آس دلا کر مشکل وقت میں خود منظر سے غائب ہو جاتا ہے ، عوام کو اپنی انگلیوں پر نچاتا ہے اور پھر وعدے کرکے مُکر جاتا ہے۔ یہ جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو فرعون بن جاتے ہیں اور اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو ان سے زیادہ محب وطن کوئی نہیں ہوتا۔ اب شائد وہی بڑا سیاست داں کہلاتا ہے جو مخالفین کے لئے زیادہ سخت زبان استعمال کرے۔ ٹی وی چینلز پر روزانہ ایسے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں اوراس دلدل میں صنف نازک بھی کسی سے کم نظر نہیں آتیں ۔ اب تو وہی کامیاب اور اچھا سیاست دان سمجھا جاتا ہے جو اپنے مخالفین کے لئے انتہائی گندی زبان استعمال کرتا ہے۔

ویسے مجھے سمجھ نہیں آتی کہ گالیاں دینے والے آدمی کو دانشور یا تجزیہ نگار کیسے کہا جا سکتا ہے لیکن ہمارے اینکرز حضرات پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے کیلئے ایسے سیاستدانوں کو اپنے پروگرام میں ترجیح دیتے ہیں جو غیر مہذب زبان استعمال کرکے مخالف کو زیر کرنے کا فن جانتے ہوں۔

جو سیاست داں اصل مسئلے سے ہٹ کر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں ایسے سیاست دانوں کا اصل مسئلہ ایک دوسرے کو ذلیل کرکے بازی لے جانا ہوتا ہے لیکن کیا سیاست دان سمجھتے ہیں کہ وہ اس طرح کی غیر مہذب اور غیر پارلیمانی زبان استعمال کرکے عوام کی خدمت کر رہے ہیں ۔زبان درازی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کہتی ہے تُو مجھے منہ سے نکال میں تمہیں گاؤں سے نکلواتی ہوں جبکہ دنیا کے تمام مذاہب نے زبان کی حفاظت کرنے کی تاکید ہے۔ یہ زبان ہی ہے جو اگر منہ پھٹ کے ہاتھ لگ جائے تو وہ کہنے اور سننے والے دونوں کی ایسی تیسی کر دیتی ہے۔ہر روز صبح کے وقت جسم کے سارے اعضاء زبان کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں کہ بی بی تم کوئی ایسی بات نہ کر دینا جس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑے۔ الفاظ جب تک منہ میں ہوتے ہیں تو آپ کے کنٹرول میں ہوتے ہیں اور جیسے ہی وہ منہ سے باہر آتے ہیں تو آپ ان کے کنٹرول میں ہو جاتے ہیں ۔اچھی اور شائستہ زبان ہمیں قابلِ عزت بناتی اور ہماری نیکیوں میں اضافہ کرتی ہے جبکہ خراب اور بیہودہ زبان ہماری ساری عزت ختم کر دیتی اور گناہوں میں اضافہ کا ذریعہ بھی بنتی ہے لہٰذا عقلمند لوگ ہمیشہ اپنی زبان کو سوچ سمجھ کر اور اچھے طریقے سے استعمال کرتے ہیں ۔

سیاست دانوں کے لئے بھی کوئی ضابطہ اخلاق متعین ہونا چاہئے۔ آج کل اگر ایک انسان جھوٹ بول کر حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کرے تو لوگ کہتے ہیں یہ بڑا سیاست دان ہے۔

قارئین کرام!

آج کے اس ہندوستانی سیاسی ماحول میں ایک عام انسان کی مثال بالکل باسکٹ بال کیطرح ہے جس سے ایک کھلاڑی پوری طرح فائدہ اٹھاتا ہےاور بعد میں اس گیند کو بھول جاتا ہے, وہ اسطرح کہ میچ کا اعلان ہوتا ہے کھلاڑی اس باسکٹ بال سے خوب مشق کرتا ہے اور اور دھیرے دھیرے میچ کے ایام قریب آتے ہیں وہ اور زیادہ مشق کرتا ہے اور آخر میں اسی باسکٹ بال سے میچ کھیلتا ہے اور پھر آخری بال کو باسکٹ میں ڈال کر اس میچ کی چیت اپنے نام کر لیتا ہے اور تمام تحفے تحائف,اور ہر طرف سے اپنی شہرت اور مقبولیت سمیٹ کر  چلا جاتا ہے اور وہ گیند جس سے جیت حاصل ہوئی ہے اسے باسکٹ میں بھول کر اپنی شہرت کی آڑ میں ذہن سے نکال کر چلا جاتا ہے اور وہ گیند اپنی قسمت کو لیکر کف افسوس ملتا ہے کھلاڑی کو  اس گیند کی یاد اس وقت آتی ہے جب دوسرے میچ کا اعلان ہوتا ہے_

بالکل یہی معاملہ ہندوستانی سیاست میں عام انسانوں کا ہے جسکا کرداد صرف سیاسی لیڈروں کو کرسی دلانے میں کام آتا یے,جب سیاسی لیڈروں کے انتخاب کی بات آتی ہے تو مکھی کیطرح سیاسی لیڈر سامنے آتے ہیں ,عوام کے سامنے لمبے چوڑے وعدے اس طرح کرتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ پوری قوم کا درد ان سے بہتر کوئی سمجھنے والا نہیں , یہی لوگ قوم میں انقلاب لیکر آئنگے مگر جب عوام انکی میٹھی باتوں میں آکر انہیں اپنا رہنما چن لیتی ہے اور انہیں قوم کی سیاسی کرسی پے بیٹھا دیتی ہے تو یہی لوگ اس عوام کو بھول جاتے ہیں جنکی بدولت انہیں سیاست کی کرسی حاصل ہوتی ہے پھر دوبارہ وہ اپنا چہرا اسی وقت دکھاتے ہیں جب دوسری انتخاب کی بات آتی ہے,پھر وہی ہوتا ہے کہ عوام انکی چوڑی چکنی باتوں میں آکر دوبارہ انہیں اپنا رہنما بناتی ہے مگر پھر بھی انہیں سوائے افسوس کے کچھ ہاتھ نہیں آتا_

کچھ سیاسی لیڈر تو دوسرے انتخاب میں عوام سے یہاں تک کہتے ہیں کہ اس سے پہلے جو آپ لوگوں نے مجھے سیاست کی کرسی پے بیٹھایا تھا اس میں تو ہم نے اپنا سب کچھ کیا اس لیے آپ لوگوں کیطرف دیکھنے کا موقعہ نہیں ملا مگر اس بار آپ لوگوں کے ہی مسائل پے سارا کام ہوگا اور اگر آپ لوگوں نے کسی دوسرے کا انتخاب کیا تو نقصان آپ لوگوں کا ہوگا کیونکہ جب وہ نیا شخص سیاست میں آئیگا تو پہلے پانچ سالوں تک وہ اپنے مسائل حل کریگا پھر کہیں آپ لوگوں کی طرگ اسکا رجحان ہوگا اس میں نقصان آپ لوگوں کا ہی ہوگا,اسطرح دوبارہ آپ لوگ کئی سالوں پیچھے چلے جائینگے.

یہ ہے ہندوستانی سیاست اور سیاسی لیڈروں کا کردار اور انکا قوم اور اسکی عوام کے تعلق سے روشن خیالی اور قوم کے تئین انکی فکر_

سیاست اس وطن کی اس قدر گندی نہ تھی پہلے

ردائے مادر ہندوستاں میلی نہ تھی پہلے

مگر پہلے سیاست میں لپھنگے بھی نہ آئے تھے

گلی کے چور وچکے, جیب کترے بھی نہ آئے تھے

شریف انساں جو ہوتا تھا پہنتا تھا وہی کھدر

جو باعزت ہوا کرتا تھا بنتا تھا وہی لیڈر 

مگر اب تو شریف انساں کی گنجائش بہت کم ہے

سیاست میں وہی آتا ہے جس کے ہاتھ میں بم ہے.

سیاست مکمل طور پر گندی ہو چکی ہے اس لیے شریف لوگوں کو اس میں آنا چاہیئے اور ملک کی فضا کو خوشگوار بنانا چاہیئے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close