سیاستملی مسائلہندوستان

سیاست میں علماء کا کردار!

محمد انصارالحق قاسمی

سیاست ایک پرخاروادی ہے یہاں قدم قدم پر اپنے اعمال کے محاسبہ کیلئے تیاررہناپڑتاہے۔حکومتی کارندوں کے علاوہ پارٹی کے ذمہ داران،دیگرسیاسی جماعتوں اورمیڈیا کی سیاسی رہنمائوں پر خصوصی نظرہوتی ہے۔انکے ذاتی معاملات سے لیکر ان کے دوست واحباب ، اہل وعیال کے سرگرمیوں کوبھی اچھالاجاتاہے۔عیوب ونقائص سے کوئی بھی پاک نہیں ،کمی ، کمزوری، بھول چوک، خطاونسیان کا ہر انسان مرتکب ہوتاہے، یہ تمام صفتیں ان کے کھاتے میں ڈالی جاتی ہیں چاہے وہ اپنے وقت کا کتناہی بڑا مدبر اورسیاستداں یا حاکم وقت کیوں نہ ہو۔لیکن قوم انہیں سیاسی میدان میں قطعاً معاف نہیں کرتی،خصوصا وہ مذہبی رہنماجودینی ومذہبی بھی ہو۔چنانچہ ان کے چال ڈھال ، نشست وبرخاست تک کو زیربحث لایاجاتاہے۔جوانہیں انسانی مخلوق سے بالاترکسی اوردنیا کی مخلوق گویافرشتہ سمجھتے ہیں ،خدانخواستہ ان سے کوئی غلطی یالغزش سرزدہوجاتی ہے تو اسے جر م عظیم اورناقابل معافی تصورکیاجاتاہے۔

جب ہم ہندوستانی سیاست پر نظرڈالتے ہیں اورانکے طورطریقوں کابغورمطالعہ کرتے ہیں توانہیں دو حصوں میں تقسیم کیاجاتاہے۔ایک وہ سیاست داں جو محض سیاست، اقتدار، کرسی اورکھیل تماشہ کامحوربنے رہتے ہیں اودین سے انکا کوئی سروکار نہیں ۔دوسراطبقہ جوسیاست کے ساتھ دین ومذہب کواعلی مقاصد کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ہمیں پہلے طبقہ سے کوئی مطلب نہیں چونکہ یہ لوگ سیاست کو معاش اورجاہ وجلال اور اپنا پیشہ سمجھتے ہیں ۔ جس طرح کوئی کمپنی صنعتی انقلاب کیلئے مختلف مراحل اور حالات میں اپنی پالیسیاں تبدیلکرتی ہیں تاکہ روز مرہ کے اعتبار سے بازارمیں انکی مصنوعی اشیاء کی خریدوفروخت وافرمقدارمیں ہوں ۔اسی طرح پیشہ ورسیاست داں پارٹی کو اپنے مقاصد کیلئے موقع اورمحل کے لحاظ سے اپنے منشور میں تبدیلی کرتے ہیں جس سے عوام کو وعدووعید کی بھول بھولیوں اورخوش فہمیوں کاجھانسہ دیکر پانچ سالہ اقتدارکیلئے ان کے قیمتی ووٹ کو کیش کرلیتے ہیں ۔

خیر ہمیں بحث مذہبی سیاستداں کے نظریہ سے ہے جن کا تعلق سیاست اور مذہب دونوں سے ہے اس پر بحث کرنی ہے آیا یہ عوام کیلئے کتنے مفید اورمستقبل تابناک بنانے کیلئے کونسا چراغ راہ ہیں ۔اس لحاظ سے مذہبی سیاست داں کی ذمہ داری دوہری ہوجاتی ہیں ۔اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا مذہبی ودینی علما اورائمہ کو سیاست میں قدم رکھناچاہئے یانہیں ،عوام الناس اسے کس نظریہ سے دیکھتی ہے۔ یہ ایک لمبی بحث ہے اورمذہب کا توازن سیاست سے اورسیاست کا تقابل دین سے کتناصحیح اورغلط ہے۔ اسلامی اوراق اورتواریخ کامطالعہ کریں گے تو بخوبی پتہ چل جائے گاکہ سیاست مدنیہ کیاہے۔تاریخ اور اسلامی نظام سے نابلد سیاست داں دونوں کو چشمک نظروں سے دیکھتے ہیں ،جو کج فہمی اورناعاقبت اندیشی کامظہرہے۔ سیاست بغیر اسلام کے آمریت ،ظلم وتشدداورہٹلرشاہی کی طرف دعوت دیتاہے۔اگراسی میں مذہب اسلام دخیل ہوجائے تو سیاست کاتوازن برقرار اوراعلی مقاصد کیلئے نہایت سودمندہوتاہے، اس سے عدل وانصاف کی فضاء قائم رہتی ہے۔عوام پرامن ماحو ل اوراچھے معاشرے میں زندگی بسرکرتے ہیں ۔ آخرالزماں حضور اکرم  ﷺ  مدبر،مفکر اورماہر سیاست داں تھے جسے غیروں نے بھی تسلیم کیاہے۔ میثاق مدینہ جومشہور دستاویز ہے امت کیلئے ، یہ ضابطہ نظام تا قیات رہے گا۔آپ  ﷺ کی مکی ومدنی زندگی اقوام عالم کیلئے ضابطہ حیات ہے۔آپ ایک طرف دین کے داعی ہیں تو دوسری طرف شہنشاہ وقت بھی ہیں ۔ ایک طرف امام الانبیاء ہیں تودوسری طرف فوجی کمانڈربھی ہیں ۔آپ کی حکومت اس امت کیلئے ترک وراثت ہے،علماء اور ائمہ انکے خصوصی وارث اور حقدارہیں ۔جس کا بین ثبوت اور مثال خلفاء اربعہ کی حکمرانی جو خلیفہ اورمسجد نبوی کے امام بھی تھے۔خلفاء کامعیاراورنظام حکمرانی مذہب اور دین اسلام کے اساس پر تھا۔حضرت عمر رضی اللہ کازمانہ خلافت حکمراں طبقہ کیلئے نمونہ ہے،حضرت عمررضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں دوران خطبہ بھی فوجی کمانڈنگ کی تلقین کرتے تھے۔ خلفاء اربعہ اورحکمراں صحابہ نے تو مسجد نبوی کو ہی دارالمشورہ اور ایوان بنایاتھا۔حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالی عنہ کادورخلافت ایکعدیم المثال حکمراں کادور تھا۔جواس بات کاثبوت ہے کہ سیاست کواگرمذہب سے الگ کردیاجائے توسیاست کاوہ حال ہوتاہے جوآج کل ہماری سیاست کاہے۔ایک واقعہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ کی دورخلافت کاہے۔وہ ایک حاکم تھے۔ وہ ایک مرتبہ وہ مسجد میں منبر رسول پر کھڑے جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک غریب شخص کھڑا ہوگیا اور کہا کہ اے عمر ہم تیرا خطبہ اس وقت تک نہیں سنیں گے جب تک یہ نہ بتاؤ گے کہ یہ جو تم نے کپڑا پہنا ہوا ہے وہ زیادہ ہے جبکہ بیت المال سے جو کپڑا ملا تھا وہ اس سے بہت کم تھا۔تو عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا کہ مجمع میں میرا بیٹا عبداللہ موجود ہے، عبداللہ بن عمرؓ کھڑے ہوگئے۔ عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ بیٹا بتاؤ کہ تیرا باپ یہ کپڑا کہاں سے لایا ہے ورنہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں قیامت تک اس منبر پر نہیں چڑھوں گا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ بابا کو جو کپڑا ملا تھا وہ بہت ہی کم تھا اس سے ان کا پورا کپڑا نہیں بن سکتا تھا۔ اور ان کے پاس جو پہننے کے لباس تھا وہ بہت خستہ حال ہو چکا تھا۔ اس لئے میں نے اپنا کپڑا اپنے والد کو دے دیا۔ابن سعد فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن حضرت امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک کنیز گزری، بعض کہنے لگے یہ باندی حضرت کی ہے۔ آ پ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ امیر المؤمنین کو کیا حق ہے وہ خدا کے مال میں سے باندی رکھے۔ میرے لیئے صرف دو جوڑے کپڑے ایک گرمی کا اور دوسرا جاڑے کا اور اوسط درجے کا کھانا بیت المال سے لینا جائز ہے۔ باقی میری وہی حیثیت ہے جو ایک عام مسلمان کی ہے۔ جب آپ کسی بزرگ کو عامل بنا کر بھیجتے تھے تو یہ شرائط سنا دیتے تھے : 1-گھوڑے پر کبھی مت سوار ہونا۔ 2-عمدہ کھانا نہ کھانا۔ 3-باریک کپڑا نہ پہننا۔ 4-حاجت مندوں کی داد رسی کرنا۔ اگر اس کے خلاف ہوتا تو سزائیں دیتے۔مہاتماگاندھی نے 1935میں کانگریسیوں سے کہاتھاکہ حضرت ابوبکرصدیق اور عمربن الخطاب رضی اللہ عنہماوالی حکمرانی کرنا۔گویا کہ مذہب اسلام میں سیاست ایک جزء ہے جو کسی ذات کے ساتھ تشخیص نہیں ہے، اسلام میں سیاست ادنیٰ، اعلیٰ، ائمہ، علماء  وفضلاء ، دانشور، عصری تعلیم یافتہ ہو یامذہبی تعلیم یافتہ سب کرسکتے ہیں ۔جو لوگ ابن الوقتی یا کسی خاص جماعت کیلئے خود کو مسلمانوں کاامین اوررہنماء قراردیتے ہیں ، ایسے نظریات رکھنے والے کی اسلام میں کہیں بھی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی اس طرح اسلام کی شبیہ پیش کرنے کاانہیں حق ہے۔قرآن نے کہاہے کہ ہم تمہیں حاکم اوررہبر بناکر بھیجاہے ۔

ہندوستان کی تاریخ اور مسلم حکمراں سے لیکر آزادی تک میں مذہبی پیشوائوں کا دخل رہاہے۔ ہندوستان کی مٹی میں یہ صفت ہے کہ اس ملک میں مذہبی لیڈروں کا اہم کردار رہاہے چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم حکمراں طبقہ ان کے بغیر اس ملک میں حکومت نہیں کی ہے،گویاکہ ہندوستان کی تہذیب وثقافت اور کلچرل میں یہ صفت آمیزش ہے،تاریخ کے صفحات اس سے لبریز ہیں ۔ رہا سوال عوم الناس پر ان کے کتنے اثرات مرتب ہوتے ہیں اس کا فیصلہ ہم نہیں بلکہ عوامی عدالت پر محمول ہے کہ کتنا مذہبی علماء اورائمہ کی باتوں پر لبیک کہتے ہیں ۔ہر انسان کو اپنی فہم وفراست کے اعتبار سے رائے اورمشورہ دینے حق ہے چاہے عوام قبول کریں یانہ کریں ،اور ہندوستان کی سیاست بغیر مذہبی رہنماء کے چل ہی نہیں سکتی۔خصوصا مسلم برادری میں علماء اورائمہ کا انتخابات کے وقت اہم کردار ہوتاہے ، جس کی وجہ سے انہیں اپنوں سے ہی نبرد آزماہوناپڑتی ہے۔ اور ذاتی مفاد کی خاطر اسے فتویٰ کانام دیکر خوب پولرائز کرتے ہیں ۔تاریخی حقائق سے نابلد مسلم مفادپرست لیڈرکومعلوم ہوناچاہئے کہ 1947کے بعدنہروکابینہ میں دومسلم وزیر ہوئے ایک سابق امام ناخدا مسجد کولکتہ کے  مولاناابوالکلام آزاد وزیرتعلیم تھے ،دوسرے جمعیۃ علماء ہند کے ذمہ دارمولاناحفظ الرحمن سیوہاروی یہ وزیرٹرانسپورٹ تھے۔ویسے بیشمار مذہبی لیڈران ہیں جن کو اقتدار اوروزارت پیش کی گئیں مگر ان علماء اور ئمہ نے دین پر سیاست اوراقتدارکو ترجیح نہیں دیں ۔جنتاپارٹی کے انتشارکے بعد اندراگاندھی مکمل اکثریت کے ساتھ برسراقتدارآئیں تو مرحوم مولاناسیدعبداللہ بخاری سابق شاہی امام جامع مسجد دہلی کو نائب صدرجمہوریہ کاعہدہ پیش کی اور حضرت والا اس عہدہ کیلئے آمادگی ظاہرکردی، مگر ایک درویش (اللہ والے) کی ممانعت کے بعد اس عہدہ کو قبول کرنے سے منع کردیا۔

حالیہ پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہورہے ہیں ، ووٹ کے ٹھیکیدار مذہب اور سیاست کو دو پہلو سے دیکھ رہے ہیں ۔ پارٹی او رقوم میں برتری کیلئے گندی اورناشائستہ الفاظ تک کا استعمال کررہے ہیں جو ایک خودغرضی اور ابن الوقتی ہے، ہاں کسی کو بھی رائے سے اختلاف تو ہوسکتا ہے کسی کی ذات سے نہیں ۔ اور انتخابات نظریات، ترقیات اور مدعوں کی بنیاد پر لڑی جاتی ہیں نہ کہ شخصیت اور ذات کی بنیاد پر۔رہا سوال علماء اور ائمہ انتخابات میں اپنی رائے اوراپیل دے یانہیں یہ ان کی ذات پر منحصر ہے۔جہاں تک بات اترپردیش اسمبلی انتخابات کیہے تو اس میں علماء اور ائمہ کا اہم کردار رہاہے ، اتردپش حکومت سے مذہبی علماء اسلئے نالاں ہے کہ اس نے 2012 میں جس اعتماد کے ساتھ سماجوادی کو حمایت دی تھی اس پر بالکل کھری نہیں اتری، منشور میں جو اقلیتوں کے تعلق سے وعدے کئے تھے اس پربالکلعمل نہیں ہوا۔ آج اکھلیش حکومت مجموعی طورپر سڑک تعمیرات کاجھنجھنا یوپی کے عوام کودکھاکرووٹ کیش کررہی ہے۔ افسوس تویہ ہے کہ مسلمانوں کے بارے میں ترقی توکیا اس حکومت میں جان ومال تک محفوظ نہیں رہا۔کوسی کلاں ، ترپاگڑھ، ڈاسنہ، مظفرنگرفسادات زندہ ثبوت ہیں ، جن کے دوراقتدارمیں 500سے زائد فسادات ہوئے۔ آج تین لا کھ مسلمان ہجرت کرکے مختلف جگہوں پر پناہ گزیں ہیں ۔ انکے مال ومتاع تک کو لوٹ لیا گیا، 60 مسلمانوں کا اب تک اکھلیش حکومت سراغ نہیں کہ وہ زندہ ہے یامردہ ۔اکھلیش حکومت سے یہ سوال کیا جائے کہ مظفرنگراورگجرات فسادمیں کیافرق ہے توبغلیں جھانکیں گے۔سوائے بہانہ بازی کے کوئی جواب نہیں ہوگا۔2007میں مسلمانوں کی ناراضگی صرف اسلئے ہوئی تھی کہ ستیش مشرا کے حلقہ شراوستی میں ایک بوڑھی مسلم عورت کے ساتھ گائے کے نام پر زیادتی ہوئی تھی جس کاعام مسلمانوں میں غلط تأثرگیاتھا۔جس کی وجہ سے مسلمانوں نے 2012میں سماجوادی کوحمایت دی۔یہی تاثربہار میں محمداخلاق دادری والے سانحہ سے پیدااور بہار میں مہاگٹھ بندھن کامیاب ہوئی۔واضح رہے کہ جذبات اوراحساس کاتعلق صرف حقوق اورسماجی نظام سے نہیں بلکہ مذہب سے بھی ہے۔یادرہے مذہب ہی اچھائی اوربرائی کی ترغیب وترہیب دیتاہے۔

ہندوستان میں مذہبی لیڈران کی ابتداء سے ہی سیاست میں دخل ہے چاہے آزادی سے قبل ہو یابعد میں اوریہ عوام پر منحصر ہے انکی باتوں کو کتنا سودمند اور مفید سمجھتے ہیں ۔جن علماء اور مدارس کے بغیر آزادی کی تاریخ ادھوری ہے اسی طرح آج کی تاریخ میں انکے کردارکے بغیر مسلمانوں کی ترقی ادھوریہے۔برطانوی سامراج کے ظلم واستبداد ،غلامی اورمحکومی سے نجات دلانے ، وطن کو حریت سے ہم کنارکرانے میں علماء ،مدارس اسلامیہ اورانکے قائدین کی قربیانیوں کاصلہ ہے کہ آج ہم آزادی کی سانس لے رہے ہیں ۔ لوگ خواب غفلت میں مست،آزادی کی ضروت و اہمیت سے نابلد اوراحساس غلامی سے بھی عاری تھے۔مگریہ بڑاقومی المیہ ہے کہ غیر تو غیر اپنے بھی مولانانوتویؒ،رشیداحمد گنگوہی، حریت کے سرخیل شیخ الہند محمود الحسن دیوبندی، مولاناحسین احمد مدنی اور دیگر رفقاء اور قائدین نے صعوبت ومشقت جھیلیں ،جاں نثاری وسرفروشی کی ایسی مثال قائم کی کہ ملک کاچپہ چپہ چشم دید گواہ ہے اور مسلم لیڈران انہیں فراموش کررہے ہیں ۔ بالآخر ہندوستانی سیاست میں مذہبی لیڈروں کا کردار چولی دامن کاساتھ ہے ، اسکے علاوہ الیکشن بھی دلچسپ ہوتاہے، اورکہیں نہ کہیں فرقہ پرست طاقتوں کو زیر کرنے معاون ومددگارہوتے ہیں ۔اورہر جماعتیں اپنے نظریئے کے مطابق مذہبی لیڈروں سے حمایت طلب کرتی ہیں ۔

جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو

جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close