سیاستہندوستان

سیاست میں مذہب اور ذات کے استعمال پر عدالتی فیصلہ

سپریم کورٹ نے ’ہندوتو‘کے معاملے میں  دائر کئی درخواستوں  پر سماعت کرنے کے بعد اپنے فیصلے میں  انتخابات میں  مذہب اور ذات کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے فیصلہ سنا تے ہوئے کہا کہ کوئی بھی سیاست داں  ذات پات، عقیدے، نسل مذہب اور فرقے کی بنیاد پر ووٹ نہیں  مانگ سکتا۔ عدالت عظمیٰ کی سات رکنی بینچ نے اپنے اکثریتی فیصلے میں  واضح طور پر کہا ہے کہ اگر کسی سیاست داں  نے مذہب کی بنیاد پر ووٹ مانگا تو انتخاب کو کالعدم قرار دے دیا جائے گا۔ اس فیصلے کے مطابق اگر کوئی امیدوار ایسا کرتا ہے تو یہ عوامی نمائندگی قانون کے تحت بدعنوانی والا رویہ مانا جائے گا اور یہ قانون کی دفعہ 123(3)کے دائرے میں  آئے گا۔ البتہ بنچ نے یہ واضح کیا ہے کہ وہ ’’ہندوتو ‘‘کے معاملے میں  دیے گئے 1995کے فیصلے پر نظر ثانی نہیں  کرے گی۔ واضح رہے کہ جسٹس جی ورما کی بنچ نے دسمبر 1995 میں  فیصلہ دیا تھا کہ ’ہندوتو ‘ لفظ ہندوستانی لوگوں  کی طرز زندگی کی طرف اشارہ کرتا ہے، ہندوتو لفظ کو صرف مذہب تک محدود نہیں  کیا جا سکتا۔

در اصل آزادی کے بعد سے ملک کی ترقی کے سامنے جو سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے وہ مذہب، ذات پات اور نسل پرستی کے محور پر ٹکی ملک کی سیاست ہے۔ تحریک ِ آزادی کے دوران جہاں  ایک طرف بھگت سنگھ، گاندھی جی، مولانا آزاد، حسرت موہانی، مولانا محمد علی جوہر اور امبیڈکر جیسے لوگوں  نے ہندوستانی قومیت، آزادی، مساوات اورقومی یکجہتی، سیکولرازم، جمہوریت کو اپنی جد و جہد کی بنیاد بنایا وہیں  ہندو مہا سبھا اور آر ایس ایس جیسی کچھ تنظیموں  نے قومی راشٹرواد، ہندو قومیت اور مذہب کو اپنی سیاست کا محور بنایا۔ 1947میں  ملک کی تقسیم مذہبی خطوط پر ہونے کی وجہ سے سماج میں  نفرت و تعصب کا زہر سرایت کرتا چلا گیا۔ اس کی وجہ سے فرقہ پرست سیاست کو وافر مقدار میں  غذائیت حاصل ہوئی ہے اوریہ سیاست ملک پر اس قدر حاوی ہوتی گئی کہ اس نے سیکولرزم، جمہوریت اور مساوات کی سیاست کرنے والے خیمے کو بھی اپنی زد میں  لیا لے۔ آج ملکی سیاست کی صورتحال یہ ہے کہ سیکولر ہوں  یا کمیونل، جمہوری ہندوستان کی سبھی سیاسی پارٹیوں  کی سیاست کہیں  نہ کہیں  ذات پات اور نسل کے تال میل سے اکثریت حاصل کرنے کے طریقے یا پھر مذہب کے نام پر جنونی کھیل کھیل کر ووٹوں  کا ارتکاز کرنے عمل پر ٹکی ہوئی ہے۔

چونکہ اترپردیش سمیت پنجاب، اتراکھنڈ، گوا اور منی پور کے ریاستی انتخابات قریب ہیں  اس لیے اعلیٰ عدالت کے اس فیصلے کا ان ریاستی انتخابات پر اثر انداز ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، خاص طور پر اتر پردیش میں  جہاں  اکثروبیشتر مذہب اور ذات پات کے تال میل کی بنیاد پر انتخابی مہم کے چلانے والے ہی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔  لہٰذا اگر اس فیصلے کا زمینی سطح پر عملاً نفاذ ہوتا ہے تو اس سے کم و بیش ملک کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی پارٹیوں  کے متاثر ہونے کا قوی امکان ہے۔ مگر غور کرنے کی بات ہے کہ جن پارٹیوں  کی بنیاد ہی مذہب اور ذات پات پر ٹکی ہو، آخر کار وہ خود کو کس طرح سے مذہب اور ذات پات کی سیاست سے الگ کر سکتی ہیں ؟ مثال کے طور پر آر ایس ایس کی سیاسی شاخ بی جے پی کو ہی لے لیجیے جس کا نظریہ ہی یہی ہے کہ ہندوستانی عوام اصل میں  ہندو ہیں۔  اس کے علاوہ ذات برادری کی سیاست کرنے والی بے شمار کمیونٹی پارٹیاں  ہیں  جن کا وجود ہی انکے کمیونٹی ووٹ بینک پر ٹکا ہوا ہے۔ ایسے میں  یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کے بعد کیا یہ پارٹیاں  فی الفور مذہب اور ذات پات کی سیاست کرنا بند کردیں  گی!

در اصل عدالت کا یہ فیصلہ جتنا اہم ہے اس سے کہیں  زیادہ اہم اس فیصلے پر سیاسی پارٹیوں  کو عمل درآمد کرانے کا معاملہ ہے۔ اس سے قبل متعدد معاملات میں  سیاسی پارٹیاں  عدالتی فیصلوں  کو نظر انداز کرتی رہی ہیں۔  خاص طور پر برسر اقتدار پارٹیوں  کی عدالتی احکامات و ہدایات کو خاطر میں  نہ لانے کی پرانی روایت رہی ہے۔ عدالت اور اقتدار کے درمیان رسہ کشی کا معاملہ بہت پرانا ہے کیوں  کہ برسراقتدار طبقہ اکثر یہ گمان کر بیٹھتا ہے کہ وہ قانون و عدالت سے بالا تر اور سب سے زیادہ طاقتور ہے۔ مثال کے طور پر ججوں  کی تقرری کے حالیہ معاملے میں  حکومت کے سامنے عدالت کی بے بسی کو دیکھا جا سکتا ہے۔

دوسری طرف اس فیصلے کے بعد سرکاری ایجنسیوں  اور اداروں ، خاص طور پر الیکشن کمیشن کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ سیاست دانوں  اور پارٹیوں  کی طرف سے اس فیصلے کی خلاف ورزی پر نظر رکھیں  اور خلاف ورزی کرنے کی صورت میں  ان کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔  مگر یہاں  بھی غور کرنے کی بات ہے کہ کیا سرکاری ادارے اور ایجنسیاں  سیاسی پارٹیوں  اور خاص طور پر بر سراقتدار پارٹی کے خلاف ایکشن لینے کی پوزیشن میں  ہیں ؟ اس بات کی امید کم ہی کی جائے تو بہتر ہے کیوں  کہ ملکی سیاست میں  برسراقتدار پارٹی کیذریعہ سرکاری اداروں  اور ایجنسیوں  کواپنی خواہش کے مطابق استعمال کرنے کی بے شمار مثالیں  موجود ہیں۔

عدالت کے اس فیصلے کا خیر مقدم ہونا چاہئے لیکن اس پہلو پر غور و فکر کرنا بہت ضروری ہے کہ ان بے لگام سیاسی پارٹیوں  کو آخر کس طرح قانون کے شکنجہ میں  کسا جا سکتا ہے کیوں  کہ عہد ِحاضرکی سیاست بے لگام گھوڑ ے کی مانند ہے اور اسے قابو میں  لانا آسان کام نہیں  ہے۔ اہل سیاست کو قانون سے کھلواڑ کرنے کا فن اچھی طرح سے آتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ سیاسی پارٹیاں  اس فیصلے کے بعد راست طور پر مذہب اور ذات برادی کا نام لینا بند کردیں  لیکن عین ممکن ہے کہ ڈھکے چھپے انداز میں  مذہب اور ذات پات کی اپنی سیاست جاری رکھیں۔  جیسے کہ کچھ پارٹیاں  ترقی (وکاس) تو کچھ سیکولرزم کو اپنا مکھوٹا بنا لیں  تاکہ وہ قانون کی زد میں  آنے سے بچ سکیں  لیکن عملاً اپنی سیاست مذہب اور ذات پات کے خطوط پر ہی جاری رکھیں۔  یہ کوئی نئی بات بھی نہیں  ہے، سیاسی پارٹیوں  کا سیکولرزم کی آڑ میں  کمیونلزم اور ترقی کی آڑ میں  تباہی کا کھیل پہلے سے ہی جاری ہے۔ خاص طور پر عدالت نے اپنے فیصلے میں  جس طرح لفظ ’’ہندوتو‘‘ کوہندوستانی لوگوں  کی طرز زندگی کا ترجمان بتاتے ہوئے اسے صرف مذہب تک محدود کرنے یا اس پر نظر ثانی کرنے سے انکار کردیا ہے، اس سے اس بات کا امکان از خود نکل آتا ہے کہ کچھ سیاسی پارٹیاں  لفظ ’’ہندوتو‘‘ کو مخصوص مذہب کا متبادل بنا کر استعمال کر سکتی ہیں۔  جب کہ اس سے قبل بھی اس لفظ کا سیاست میں  غلط استعمال ہوتا رہا ہے ایسے میں  اس لفظ پر عدالت کا نظر ثانی کرنے سے انکار کرنا تعجب خیز امر ہے! اس عدالتی فیصلے کا مسلم، سکھ، عیسائی، دلت اور دیگر کمیونٹیز و مذاہب کی سیاست کرنے والی پارٹیوں  پر تو کچھ اثر پڑسکتا ہے لیکن ہندوتو کے نام پر مذہب کی سیاست کرنے والی پارٹیوں  پر کوئی اثر پڑنے کا امکان نہیں  نظر آرہا ہے۔ ایسے میں  جب کچھ پارٹیاں  ’’ہندوتوا‘‘ کی آڑ میں  کھلے عام مذہب کا سیاسی استعمال کریں  گی تو دیگر پارٹیاں  اس چیز سے خود کو کب تک اور کیسے روک سکیں  گی، اس بات کو سمجھنا کوئی مشکل کام نہیں  ہے۔ اس لیے عدالت کو ان تمام پہلوؤں  پر بھی باریک بینی سے غور کرنا چاہئے تاکہ ملکی سیاست کے اس ناسور کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ مذہب اور ذات پات کی سیاست نے سماج میں  فرقہ پرستی اور تعصب کے زہر کو اتنا عام کردیا ہے کہ کچھ لوگوں  نے تو باقاعدہ مسلمانوں ، دلتوں  اور دبے کچلے طبقوں  کے خلاف انتہا پسندی اور تشدد کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے۔ لہٰذا آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ لو جہاد، گھر واپسی، بیف، گائے اور رام مندرجیسے ایشوز پر ہونے والی سیاست کا مکمل خاتمہ کیا جائے، لوگوں  کے دلوں  سے ڈر و دہشت اور سماج سے بھید بھاؤکو دور کیا جائے، اسی کے ساتھ ساتھ سماج میں  پھیلی غریبی، فاقہ کشی، بے روزگاری، پسماندہ علاقوں  کے خستہ حال انفراسٹرکچر جیسے مسائل پر مثبت سیاست کو فروغ دیتے ہوئے ملکی سیاست کو قومی یکجہتی اور مساوات کے محور پر منتقل کیا جائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close