سیاستہندوستان

سیاسی ناکامیوں کا ہدف کشمیر اور کشمیری

عادل فراز

کشمیر کی موجودہ صورتحال پرکچھ لکھنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا کشمیریوں کے مسائل کوسمجھنا اور ان کو سلجھانا مشکل ہے۔ کسی بھی علاقے کی موجودہ صورتحال کوسمجھنا اس وقت تک آسان نہیں ہوتاجب تک اس علاقے کے باشندوں کے مسائل کی افہام و تفہیم نہ ہو۔ ہماری حکومتوں نے کشمیرکےمسئلے کے حل کےلئے ایڑی چوٹی کازور صرف کیاہے مگر کبھی کشمیریوں کے مسائل کے تدارک کے لئے سنجیدہ اقدامات نہیں کئے۔اس کے اسباب و علل پر اگر غور کیا جائے تو ایک مفصل بحث معرض وجود میں آئے گی کیونکہ آج ہندوستان کے مختلف علاقوں میں کشمیریوں کے ساتھ جو ناروا سلوک کیا جارہاہے وہ اس دعویٰ کی دلیل ہے کہ ہم نے کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر اٹھانے کی پوری کوشش کی ہے مگر کشمیریوں کے مسائل کو نظر انداز کیاہے۔ کیا یہ مسئلہ قابل غور نہیں ہے کہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ حصہ بتانے والے کشمیریوں کے ساتھ ایسا سلوک کررہے ہیں کہ جیسے وہ اس ملک کے باشندے ہی نہ ہوں۔جگہ جگہ یرقانی وزعفرانی تنظیموں کے غنڈے جنہیں حکومت اور انتظامیہ کی پشت پناہی حاصل ہے، کشمیریوں پر تشدد کررہے ہیں۔اس تشدد نے یہ ثابت کردیاہے کہ ہم کشمیر یوں کو اپنا نہیں سمجھتے بلکہ انہیں کسی دوسری دنیا کی مخلوق سمجھتے ہیں۔یا واضح الفاظ میں یوں کہوں کہ انہیں ’پاکستانی‘ سمجھ کر انکے ساتھ تشدد کیا جارہاہے۔

پلوامہ میں دہشت گردانہ حملے کے بعدجس طرح کشمیریوں کے ساتھ پرتشدد واقعات پیش آئے وہ حیرت انگیز بھی ہیں اور قابل مذمت بھی۔ ان واقعات سے یہ واضح ہوتاہے کہ ہمارا ملک ’راشٹرواد‘ اور ’اندھی بھکتی‘‘ میں کس راہ پر چل پڑاہے۔ یہ واقعات حیرت انگیز اس لئے ہیں کہ کشمیریوں پر تشدد کے تمام تر واقعات میں ان تنظیموں کے افراد ملوث ہیں جو کشمیر کے مسئلے پر ہندوستان کے سادہ لوح عوام کو جذباتی کرکے ’پاکستان مردہ باد‘ کے نعرے لگواکر اپنی ’حب الوطنی‘ ثابت کرتے ہیں اور پھر پورا مسئلہ کشمیر سیاست کا شکار ہوکر رہ جاتاہے یا پھر کشمیر کے نام پر فقط ووٹوں کی سیاست کی جاتی ہے۔ یہ پرتشدد واقعات حیرت انگیز یوں بھی ہیں کہ ہماری انتظامیہ اور پولیس ایسے واقعات پر خاموش تماشائی بنی رہتی ہے یاپھر برائے نام کاروائی کو اہمیت دیتی ہے کیونکہ جو لوگ ان واقعات میں شامل ہوتے ہیں وہ کہیں نا کہیں پولیس کےلئے بھی خطرہ بن چکے ہیں۔ انتظامیہ کوسمجھنا ہوگا کہ اگریہ خودساختہ پولیس اسی طرح سڑکوں اور شاہراہوں پردندناتی پھرتی رہی تویہ لوگ انتظامیہ کے لئے بھی درد سر بن جائیں گےجیساکہ بعض علاقوں میں بن بھی چکے ہیں۔دنیا میں بہت سے ایسے ممالک ہیںجہاں اس طرح کےلوگوں نے ملک کو خانہ جنگی کی راہ پر ڈھکیلاہےچونکہ ان لوگوں کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہوتی تھی لہذا انتظامیہ کے لئے ان پر قابوپانا آسان نہیں ہوتا تھا اس لئے وقت کے ساتھ وہ لوگ صرف حکومت ہی نہیں بلکہ پورے ملک کےلئے ناسور بن گئے۔ اسکی زندہ مثالیں پاکستان میں ہی تلاش کی جاسکتی ہیں۔ جیسے سپاہ صحابہ وغیرہ۔ ہندوستان جو پاکستان کو عالمی سطح پر اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتاہے، اگر پاکستان کے داخلی مسائل کا تجزیہ کرے تومعلوم ہوگا کہ کس طرح ان جماعتوں اور ان سے منسلک متشدد افراد نے ملک کونقصان پہونچایا ہے اور آج تک پہونچارہے ہیں۔ ہندوستان اسی راہ پر گامز ن ہے اگر فی الوقت ان عناصر کو ختم نہیں کیا گیا تو ہندوستان کے داخلی حالات پاکستان سے بھی بدتر ہونگے کیونکہ ہندوستان کا سماجی جغرافیہ پاکستان سے مختلف ہے۔ پاکستان میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اس کے باوجود ٹارگیٹ کلنگ اور پرتشدد واقعات رونماہوتے رہتے ہیں۔ ہندوستان میں مختلف مذاہب،فرقےاور رنگ و نسل کے لوگ بستے ہیں اگر یہاں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوگئی تو اس پر قابو پانا  آسان نہیں ہوگا۔ اس لئے انتظامیہ حکومت کے دبائو میں نہ آکر ان شدت پسند عناصر کی توبیخ کرے اور ان پر لگام کسنے کے لئے ملک کی انٹلیجنس کا سہارا لیا جائے۔ اگر اس اقدام میں بہت تاخیر کی گئی تو شاید حالات ہمارےقابو سے باہر ہوجائیں،جیسا کہ بعض علاقوں میں رونما ہونے والے واقعات یہ بتارہے ہیں کہ حالات اب بھی قابو میں نہیں ہیں۔

پلوامہ دہشت گرد حملے کے بعدجس طرح کشمیریوں کےساتھ پرتشدد واقعات پیش آئے اس سےواضح ہوتاہے کہ ہم کشمیرپراپناسیاسی دعویٰ ضرور پیش کرتے ہیں مگر کشمیریوں کو اپنا حصہ نہیں سمجھتے۔ سوال یہ ہے کہ جب تک ہم کشمیریوں کو اپنا نہیں سمجھیں گے، انہیں یہ احساس نہیں دلائیں گے کہ ہم ان کے مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ ہیں اس وقت تک ہم کشمیر کے مسائل کو کیسے سلجھاسکتے ہیں؟۔کشمیر میں بہت سےاہم مسائل ہیں مگر میرے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ یہ ہےکہ ہم کشمیریوں کو یہ یقین دہانی کرانے میں ناکام رہے ہیں کہ ہم انہیں اپنا حصہ سمجھتے ہیں۔ انکے مسائل کو حل کرنے کے لئے سنجیدہ ہیں۔ جس دن ہم کشمیریوں کویہ یقین دہانی کرانے میں کامیاب ہوجائیں گے اس دن کشمیر کے باغی نوجوان (میڈیا کے مطابق)بھی بغاوت سے کنارہ کشی اختیارکرلیں گے۔ مگر ابھی تک کوئی ایسی پہل نہیں دیکھی گئی جس سے یہ معلوم ہو کہ ہم کشمیریوں کےمسائل حل کرنے کےلئے پرعزم ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کی سرحد پر ذرا بھی ہلچل ہوتی ہے تو ہم کشمیرکواپنی انا کا مسئلہ بناتے ہوئے عالمی سطح پر پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کی بات تو کرتے ہیں مگر کشمیریوں کے لئے کوئی مضبوط لائحۂ عمل ترتیب دینے میں ناکام رہ جاتے ہیں۔ یہ عجیب مسئلہ ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

کشمیر میں دہشت گردانہ حملہ ہوتاہے تو کیا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے پیچھے کشمیری عوام ہے؟باالفرض اگرکبھی کچھ لوگ اس واقعہ میں ملوث ہوتے بھی ہیں توکیااسکی سزا پورے کشمیر کو ملنی چاہئے ؟یہ کہاں کا انصاف ہے ؟۔لوگ حکومت سے ناراض بھی ہوتے ہیں اور اسکے مخالف بھی ہوسکتےہیں۔ اس ناراضگی اور مخالفت کو ’دیش دروہ ‘ اور ’ غداری‘ کا نام دینا کہاں تک درست ہے ؟۔ بہتر ہوتا کہ اگر ہماری حکومتیں کشمیریوں کی ناراضگی کو دور کرنے اور انکی مخالفت کو حمایت میں بدلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتیں۔کیونکہ جس طرح کے واقعات اب تک رونما ہوئے ہیں ان سے واضح ہوتاہے کہ ہماری حکومتوں نے کشمیریوں کی ناراضگی میں اضافہ ہی کیاہے۔ بعض وہ کشمیری جو خود کو ہندوستان کا حصہ نہیں سمجھتے انہیں بھی اپنی اس سوچ کو بدلنا ہوگا۔اگر وہ خود کو ہندوستانی نہیں سمجھتے ہیں تو پھر انہیں اس تشدد پر احتجاج کا بھی کوئی حق نہیں ہے۔ اس لئے کہ آج انسانیت سے زیادہ علاقائیت اور ’راشٹرواد‘کو ترجیح دی جارہی ہے۔ ایسی سوچ کےحامل کشمیری اپنی سوچ کو بدلیں اور اپنی قومیت پر اصرارکریں تاکہ سماج دشمن اورانسانیت مخالف عناصرکی سیاست کامیاب نہ ہوسکے۔یاد رہنا چاہئے کہ دو کشتیوں کا سفر کبھی نجات کا ضامن نہیں ہوتا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close