سیاستشخصیات

سید ابوالاعلی مودودی کا نظریہ سیاسی

سیدابوالاعلی مودودی کےسیاسی فلسفہ کی بنیادیہ ہےکہ وہ اسلام کوایک مکمل نظام حیات سمجھتےہیں، جوعبادات ومعاملات سےلےکرمعاشرت ومعیشت اورسیاست تک تمام معاملات میں رہنمائی کرتاہے۔

آصف علی

اسلام کا نظریہ حیات  ایک انقلابی نظریہ  ہےجودنیاکےاجتماعی نظام کوبدل کر اوراسے اپنےاصول وضوابط پرقائم کرناچاہتاہے۔ مسلم مفکرین  کی ایک بڑی تعداد نے اسلامی ریاست اور مسلمانوں کی اخوت کو اپنا موضوع  بنایا ہے۔

سیدابوالاعلی مودودی بھی ان میں سےایک ہیں، ان  کی علمی خدمات  اورعملی جدوجہدنےبہت سےقلوب واذہان پردور رس نتائج چھوڑے ہیں۔ انہوں نے اپنی محنت سے ایک ایسی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی جو اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کے نفاذ کی سعی کر سکے۔

سیدمودودی کی سیاسی فکرکوجاننےکےلیےضروری ہےکہ ان کےبعض دینی نظریات کامطالعہ کیاجائےجوان کےسیاسی فکرکی بنیادہیں۔ سیدابوالاعلی مودودی کے سیاسی فکرکا حاصل  اقامت دین یاحکومت الہیہ کاقیام ہے۔

وہ اپنی بحث الہ، رب، دین اورعبادت کی تشریح سےشروع کرتےہیں۔ ان کےبقول قران مجیداللہ کی حاکمیت پراساسی زوردیتاہے وہ لکھتےہیں :”اللہ رب بھی ہےاورالہ بھی۔”رب بمعنی مالک و پالنہار اور الٰہ بمعنی عبادت و حاکمیت کے لائق!

سیدمودودی نے یوں تو بہت سے کتابیں لکھی ہیں مگر ان کی سیاسی فکر مکمل صورت میں  دوکتابوں میں مدون ہے، ایک خلافت و ملوکیت اور دوسری اسلامی ریاست۔

ان کی کتب میں اسلامی ریاست کی دینی  بنیادوں کےساتھ ساتھ حکومت کوچلانےکےاصول وضوابط بھی بیان ہوئےہیں۔ وہ اسلامی ریاست کے قیام کے طریقہ سے لے کر اس کو چلانے کے اصول و ضوابط کو نصوصِ شریعہ سے ثابت کرتے ہیں – ان  کی کتب میں اسلامی نظریہ سےلےکرفردکی ذمہ داری، سیاست اوردین کاتعلق وغیرہ موضوعات پرسیرحاصل گفتگو ملتی ہے۔وہ قرآن کی آیات کو بنیاد بنا کر یہ بات واضح کرتے ہیں کہ اسلام کی نظر میں مذہب فرد کا نجی معاملہ نہیں ہے، بلکہ دین اجتماعی مسائل میں بھی  رہنمائی  کرتا ہے – وہ مسلمانوں کی  ریاست  و  حکومت  اوراسلامی ریاست میں فرق  کو بیان کرتے ہوۓ  لکھتے ہیں : "اگر رکوئی ریاست مسلمان چلاتےہیں تواس سےیہ لازم نہیں آتاکہ وہ ایک اسلامی ریاست ہےکیونکہ ممکن ہےوہ ریاست سیکولر ہو، وطنیت یاکسی اورنظریہ پرقائم ودائم ہو، اسلامی ریاست البتہ وہ ریاست ہےجوشریعت اسلامی کی بنیادپرقائم ہو۔”

سیدابوالاعلی مودودی کےسیاسی فلسفہ کی بنیادیہ ہےکہ وہ اسلام کوایک مکمل نظام حیات سمجھتےہیں، جوعبادات ومعاملات سےلےکرمعاشرت ومعیشت اورسیاست تک تمام معاملات میں رہنمائی کرتاہے۔ اپنی سیاسی فکرمیں وہ سب سےپہلےدین وسیاست کےتعلق پربحث کرتےہیں۔ ان کےنزدیک اسلام اللہ اوربندہ کےدرمیان انفرادی تعلق کاہی نام نہیں ہے  بلکہ انسانی زندگی کےتمام پہلووں میں رہنمائی فراہم کرتاہےجس میں سیاست اورریاست بھی شامل ہیں۔ جہاں تک اس سوال کاتعلق ہےکہ اسلامی ریاست کیسی ہوگی؟تواس کےجواب میں سیدمودودی واضح کرتےہیں کہ:

"مغربی جمہوریت میں جہاں لوگوں کوقانون سازی کااختیارحاصل ہےوہیں اسلامی نظام میں بندے رب تعالی کےبنائےگئےقوانین وضوابط ہی کو نافذ کریں گے۔” اسی طرح وہ پاپائیت پربھی تنقیدکرتےہوئےاسےاسلام کےخلاف قراردیتےہیں کہ اس نظام میں مذہبی طبقہ قانون سازی کرتاہےاوراپنےآپ کواللہ تعالی کےساتھ شریک بنالیتاہے۔

انہوں نے جمہوریت اور  پاپائیت کےمقابلےمیں "تھیوڈیموکریسی”  کے نام سے ایک نئی اصطلاح   ایجاد کی ہے۔ وہ اسےاسلام کے نظام کا جامع  بیان  قراردیتےہیں۔ اس نظام میں حاکمیت ِاعلی اللہ کےپاس ہےاوراس کےاوامرکانفاذلازمی ہےالبتہ حکامِ سلطنت کی تقرری لوگوں کےباہمی مشورہ سےہی عمل میں آئےگی۔ جن معاملات میں شریعت نےواضح رہنمائی نہیں دی ان معاملات میں شوری کےذریعہ فیصلہ کیا جائے گا۔

سید مودودی کےنزدیک قرآن وحدیث سپریم لاء ہونگےجن کی طرف رجوع کرنااور ان کی پاسداری کرنا  ریاست کےلیےلازمی ہوگاجس کوبدلنےاورمنسوخ کرنے کا اختیار کسی شخص کوحاصل نہ ہوگا۔

خلاصہ کلام یہ ہے  کہ اسلامی ریاست کےدوبنیادی ارکان حاکمیت الٰہی اورکتاب وسنت کی بالاتری ہیں۔ سیدمودودی کےنزدیک انسان زمین میں اللہ کاخلیفہ ہےاورخلیفہ ہونےکےناطےاس کویہ حق حاصل نہیں ہےکہ اپنی مرضی سےزمین میں زندگی گذارےبلکہ اس کافرض ہےکہ اللہ کےبتائےہوئےاصولوں پراس کی زندگی قائم ہو۔ ان کےنزدیک حاکم کےانتخاب کےلیےاسلام میں کوئی خاص طریقہ کارنہیں ہےہروہ طریقہ اپنایاجاسکتاہےجس سےصالح حکمراں کاانتخاب ممکن ہو۔ ان کےنزدیک صالح حکمراں کی مندرجہ ذیل صفات ہونی چاہیے:ایمان داراور سچا ہو۔ فاسق وفاجرنہ رہاہو۔ دین ودنیاکی حکمرانی کےلیےجتناعلم ضروری ہےاتنےعلم کا جاننے والا ہو اور منصب کی خواہش نہ رکھتاہو۔

سید مودودی کی سیاسی فکرموجودہ دورکے مسلمانوں کے مسائل کا  بہترین حل مہیاکرتی ہے۔برصغیرمیں جس عالم نےاسلامی ریاست کامکمل نقشہ فراہم کیاوہ سیدابوالاعلی مودودی تھے۔ انہوں نےصرف علمی بنیادوں پرکام ہی نہیں کیابلکہ عملی میدان میں بھی اسلامی ریاست کےقیام کےلیےمکمل جدوجہدبھی کی۔ سیدمودودی یقینابطل جلیل تھےجنہوں نےاپنی پوری زندگی کواسلامی نظام حیات کےلیےوقف کردیاتھا۔عصرحاضرمیں کوئی بھی  انسان اسلام کےسیاسی افکارکےمیدان میں سیدمودودی سےمستغنی نہیں ہوسکتا، چاہےوہ سیدابوالاعلی مودودی کاکتناہی بڑا مخالف کیوں نہ ہو۔

سید مودودی کی بابت سمجھنا چاہیے کہ ان کا فکری کام کیا ہے۔ ان کا کردار ایک  مثالی کردار مانا گیا ان کا علمی کام اور عملی تحریک ایک جمود توڑنے والا رجحان ثابت ہوئی اور اپنے عہدکو بہت متاثر  کر گئی – یہ الگ بات ہے کہ  فکری لحاظ سے ان کی وراثت کے امین روایتی مذہبیت سے بری طرح آلودہ ہو کر فکر و عمل میں روایت کا ہی تسلسل بن گئے۔ ایک سو  ان کا فکری سرمایہ ناآشنائی کے غبار تلے دبتا چلا گیا جبکہ دوسری طرف روایتی درماندگی  یا  تجدّد کے تنوّع نے اس کی جگہ لے لی ـ

بغور دیکھیے تو فکری لحاظ سے سید نے اصلاً فقہ و تشرّع کے استیلاء اور باطنیت و روحانیت کی حقائقِ حیات سے کٹی ہوئی دو انتہاؤں کے بیچ ایمان و اَخلاق کی قرآنی اساسات پر پیغمبری اسوہ کو نمایاں کرنے کا کام انجام دیا ہے جس سے یہ فکر و فلسفہ نکھر کر سامنے آیا کہ دین قانون و ضوابط اور اوراد و اَشغال کی تعلی نہیں بلکہ عقلی اساسات پر انسانی زیست کے عین اندر رواں عدل و مساوات کا نام ہے اور اس  کو فرد کے کردار کے صدق و امانت یعنی توحید و آخرت کے پیدا کردہ شاندار رویّے پر اٹھانا لازم ہے ـ افراد کی سیرت کا محکم ہونا ایمان کے اسی زندہ ہونے پر منبی ہے جو فرد کو اندر سے دیانت دار و محنتی بناتا ہے اور اس طرح اس کا ضرر کم سے کم کرتا اور نفع زیادہ سے زیادہ کرتا چلا جاتا ہے ـ یہ تدریجی رویہ ہے جو ترقی بھی پاتا اور کبھی شکستگی کا شکار بھی ہوتا ہے لیکن ایک مسلسل کوشش کی صورت حق و باطل کے کارزار میں برپا رہتا ہےـ فرد کو حُلیہ کا نقال بنانے کی بجائے اور مفروضہ روحانیت و صوفیت کا زہر پلائے بنا سچے حقائق کی اساسات پر زندگی کے منفی حقائق سے بچنے پر آمادہ کرنا اور مثبت کو اختیار کرتے چلے جانا اس فلسفہ کا خاصّہ ہے ـ زمین پر انسان کی خلافت و نیابت کا درست زاویہ بھی یہی ہے جس کی رُو سے ہر فرد اپنے اپنے دائرہ میں کچھ نہ کچھ امور دے کر آزمایا جا رہا ہے کہ وہ کتنا وفادار یا کتنا نسیان کا شکار رہا ـ یہی خلیفہ اپنے وسعت و امکان کی حد تک ہدایاتِ الٰہی اپنا کر دنیا میں نافع و فیض رساں بن سکتا اور اسی سے آخرت کی فوز و فلاح سمیٹ سکتا ہے ـجب کہ مجرّد قشر یا انسانی زیست کے حقائق و میدان سے کٹی بے عملی کی روحانیت کا باطن، کبھی کارآمد انسان پیدا نہیں کر سکتے الٹا کام کے لوگوں کو ناکارہ کرنے کی صنعت میں ہی ڈھلے ہیں جس کے عبرت ناک نمونے آج کی مذہبی اشکال میں سب کے سامنے نمایاں ہیں ـ

مفکر کی عظمت کا ایک معیار یہ بھی ہے کہ اس کے مخالفین بھی اس کی اصطلاحات اور مقاصد سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔ آج کے دور میں یہ بات سید مودودیؒ کی سیاسی فکر پر سب  سے زیادہ صادق آتی ہے۔ سید مودودیؒ کی سیاسی فکر کا فیضان بایں طور جاری ہوا کہ آج مسلم دنیا میں چلنے والی کم ہی تحریکیں معروف معنوں میں ‘سیاسی اسلام’ کے دائرے سے باہر ہیں۔ مختلف حلقوں میں اقامت دین اور حکومت الٰہیہ کے قیام کو مختلف ناموں سے یاد کیا گیا اور نوجوانانِ تحریکاتِ اسلامی نے اس مقصد کو نصب العین بنایا۔ عرب میں اخوان کے علاوہ سلفی تحریکوں نے سید کے نظریات سے استفادہ کیا۔ اسی کی دہائی میں جب جہادِ اسلامی کاا حیاء ہوا اور ساری دنیا میں مسلم خطوں میں قابضین کے خلاف جہادی تحریکوں کا آغاز ہوا تو انہوں نے بھی سیاسی فکر کے لیے فکرِ مودودی راہنمائی حاصل کی۔ خود برصغیر کی روایتی مذہبی فکر، جہاں سید مودودیؒ کو مختلف حوالوں سے شدید تنقید کانشانہ بنایا گیا، رفتہ رفتہ اقامت دین کے نظریے کو اپناتے چلے گئے۔ آج کسی مسلک کی کوئی مین سٹریم جماعت ایسی نہیں ہے جو میدان سیاست میں موجود ہو اور اس کا دستور ‘اسلامی حکومت کا قیام’ سے خالی ہو۔ یہ نظریے کی ہمہ گیری کا اعجاز ہے۔

مزید دکھائیں

آصف علی

آصف علی اعظم گڑھ کے ایک علمی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان دنوں ریاض، سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ اسلامی علوم، ادب اور تحریک اسلامی آپ کی دل چسپی کے خاص میدان ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. ‎سید مودودی رحمہ اللہ, مدتوں سیاست میں رہے۔ نہ ان کی سیاست کا سینہ دل سے خالی تھا، نہ ان کا دل خدا خوفی سے خالی تھا، نہ ان کی سیاست شرافت کی اعلی اقدار سے خالی تھی، نہ ان کی زبان سے کسی مخالف کے لیے گالی نکلی، نہ الزام لگا۔ وہ کسی کے دشمن نہیں تھے مگر ان سے دشمنی اور مخالفت کرنے والے سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں بھی تھے، حکومت و اقتدار کے ایوانوں میں بھی۔ قادیانی ان کے دشمن تھے اور سوشلسٹ اور کمیونسٹ اور مغربی تہذیب و تمدن اور سرمایہ دارانہ نظام کے پشت بان ان کو اپنا سب سے بڑا حریف جانتے تھے۔ سید مودودی رحمہ اللہ اپنے خلاف اتنے بڑے محاذ کھلے دیکھتے، جہاں سے ان پر مسلسل گولہ باری کی جاتی تھی، مگر نہ مشتعل ہوتے اور نہ جذبہ انتقام سے مغلوب ہوتے تھے۔ وہ بولنے سے پہلے اپنی بات کو بڑی احتیاط سے تولتے تھے اسی لیے ان کے بدترین مخالف بھی ان کی بات کے وزن کو محسوس کیے بغیر نہ رہتے تھے۔ آئے روز اخباری بیان جاری کرنا کبھی ان کا معمول نہیں ہوتا تھا۔ اہم قومی ایشوز پر اپنی جچی تلی اور مدلل رائے دیتے ہوئے الفاظ کا انتخاب ایسا کرتے کہ کبھی ایک لفظ بھی نہ فالتو ہوتا اور نہ اثر آفرینی سے خالی۔ حکمران ان کی بات کا توڑ ڈھونڈتے تھے مگر اس انتظار میں بھی رہتے تھے کہ دیکھیں، فلاں مسئلے پر مولانا مودودی کیا رائے دیتے ہیں

متعلقہ

Back to top button
Close