سیاست

سیلف ڈیفنس

مدثراحمد

پچھلے کچھ دنوں سے دیکھا جارہا ہےکہ ہندوستان کے مختلف مقامات پر مسلم تنظیمیں مسلمانوں کے تحفظ کیلئے مسلم نوجوانوں کوسیلف ڈیفنس ٹیکنیکس سے واقف کرانے کیلئے باقاعدہ تربیتی کارگاہوں کا اہتمام کررہی ہیں۔ کچھ تنظیمیں ایسی بھی ہیں جو نوجوانوں کو باقاعدہ وردیاں فراہم کررہی ہیں اور آر ایس ایس کے مدِ مقابل ان نوجوانوں کوکھڑا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایک حد تک ان کا یہ طریقہ درست ہے، لیکن دوسرے زاویہ سے دیکھا جائے تو مسلم نوجوانوں کو تنظیموں کی جانب سے وردیاں دیکر قوم کی حفاظت کروانا مناسب نہیں ہے اور نہ ہی یہ طریقہ کار لمبے وقت تک کامیاب ہوسکتا ہے۔ آج ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو تنظیموں و اداروں کے ذریعے سے تحفظ فراہم کروانے کے بجائے ایسی حکمت عملی کو اپنانے کی ضرورت ہے جس سے نسل درنسل استفادہ ہوسکے۔

ایک اندازے کے مطابق ہندوستانی فوج، پولیس اور دیگر حفاظتی دستوں میں مسلمانوں کی نمائندگی تین فیصد سے کم ہے، جبکہ دوسرے مذاہب کےلوگ ان حفاظتی دستوں میں کثرت سےخدمات انجام دے رہے ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کو اگر واقعی میں وری پہنا کرقوم کی حفاظت کروانی ہے تو اس کیلئے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیس، فوج اور جانچ ایجنسیوں میں خدمات انجام دینے کیلئے تیار کریں۔ ذرا ہم سوچیں کہ ہمارے نوجوان تعلیم یافتہ ہوکر بھی محکمہ پولیس اور دیگر جانچ ایجنسیوں میں خدمات انجام دینے سے محروم ہیں، کتنے ہمارے پاس آئی پی ایس اور اسٹیٹ پولیس سرویسس میں خدمات انجام دینے والے نوجوان ہیں ؟ان محکموں میں جملہ مسلمانوں کی نمائندگی کا تناسب دیکھا جائے تو ایک فیصدسے بھی کم ہے۔

حال ہی میں جمعیۃ علماء، پاپولر فرنٹ جیسی تنظیمیں اپنے کارکنوں کوباوردی کرتے ہوئے انہیں مسلمانوں کے محافظ کے طو رپر پیش کیا ہے، حالانکہ یہ طریقہ ان کی تنظیموں کے مطابق ڈسپلین کا طریقہ کہاجاتا ہے لیکن غیر مسلموں اور حکومتوں کے سامنے یہ الگ ہی فوج کا مرتبہ رکھتے ہیں اور کئی موقعوں پر اس طرح کی سرگرمیوں کو ملک مخالف سرگرمیاں کہا جاتا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو تعلیم یافتہ بنانے کی ضرورت ہے، پھر ان نوجوانوں پر محنت کرتے ہوئے انہیں فوج، پولیس، سی بی آئی، بی ایس ایف جیسے محکموں میں روزگار فراہم کروایا جاسکتا ہے، اس سے نہ صرف یہ نوجوان روزگار حاصل کرینگے بلکہ وہ ملک، قوم اور ملت کے محافظ بھی بن سکتے ہیں۔ اکثر فرقہ وارانہ فسادات کے موقع پر مسلمانوں کی شکایت ہوتی ہے کہ پولیس مسلمانوں کا ساتھ نہیں دیتی اور مسلمانوں کو بلاوجہ گرفتارکیا جارہا ہے۔

 مسلمانوں کے تعلق سے متعصبانہ رویہ اختیارکیا جارہا ہے، یہ باتیں عام ہیں، لیکن ان باتوں کے جواب میں مسلمانوں نے اب تک کیا کیا ہے یہ بھی سوچنے کی بات ہے؟ملک کی آزادی کے بعد سے اب تک بھی مسلمانوں کا رونا رہا ہے کہ پولیس مسلمانوں کی پاسدارنہیں ہے، اگر ہمارے نوجوان ان محکموں میں خدمات انجام دینے لگے گیں تو انہیں کم ازکم انہیں مسلمانوں کی مکمل تائید کرنے کے بجائے کم ازکم عدل وانصاف کے دائرے میں رہ کام کرنے کاموقع ملے گا جس سے قوم و ملت کی حفاظت ممکن ہوگی۔

ہماری تنظیموں کی جانب سے دئیے جانے والی وردیاں اور ان کامارشل آرٹ دیکھنے کیلئے دلکش ضرورہے، لیکن اس طریقے کو زیادہ دن تک بحال نہیں رکھا جاسکتا۔ اس لئے ہماری تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلم نوجوانوں کو صحیح راہ دکھا تے ہوئے انہیں ملک و ملت کے محافظ  بنانے کیلئے کام کریں، تعلیم یافتہ نوجوانوں کودماغی و جسمانی طور پر اس طرح سے تیار کریں کہ وہ حفاظتی دستوں میں بآسانی شامل ہوسکیں۔ یہی ملک کے مستقبل اور مسلمانوں کے تحفظ کیلئے آسان طریقہ ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مدثر احمد

ایڈیٹر، روزنامہ آج کا انقلاب

متعلقہ

Close