سیاستہندوستان

سیکولر اتحاد کی سیاسی حیثیت

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی

ہندوستانی سیاست کی قدریں بدل چکی ہیں ؛  ملک میں اب زیادہ تر ان عناصر  کا تسلط ہے جو انسانی سماج میں نفرت پھیلانے کا کام کرتے رہے ہیں اور مزید کررہے ہیں ۔  اقتدار میں آنے کے بعد بھی آئے دن کوئی نہ کوئی ایسا بیان آتا رہتا ہے جو بھارت کی صدیوں پرانی تاریخ و تہذیب کو چرمرا دیتا ہے۔ وہیں ہندوستان کے اقلیتی طبقہ کی دل آزاری بھی کرنے میں  قطعی نہیں ہچکچا تے ہیں۔ ظاہر ہے  اس طرح کے بیانات سے  ہندوستانی سماج میں تعصب و تنگ نظری کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں ؛ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ملک کی بدنامی ہوتی ہے۔ بھاء چارگی اور ملی و قومی یکجہتی کو خطرہ ہوجا تا ہے؛  سماجی ہم آہنگی اور باہم مذہبی اقدار کا تحفظ بھی متائثر ہونے کی درپہ آجا تاہے۔ اس لئے اگر ملک کی سالمیت و مرکزیت اور یکجائیت کو سماج دشمن عناصر سے بچانا ہے تو یقینی طور پر اس بات کی ضرورت ہے کہ ریاستی  اور مرکزی حکومتوں کو  ایسے سماج دشمن عناصر کے خلاف سخت کارواء کرنی چاہئے ۔ ابھی رام مندر کے معاملہ میں کچھ سادھووں سنتوں نے جس طرح عدالت عظمی کی توہین کی ہیکیا اس پر کوئی ایکشن لینے کی ضرورت نہیں ہے؟ حد تو یہ ہیکہ بعض سادھوؤں نے تو یہاں تک کہ ڈالا کہ ہم عدالت کے فیصلہ کا انتظار نہیں کرسکتیہمیں ہر حال میں مندر چاہئے یہ کیا ہے؟ کیا اس طرح کی زبان استعمال کرنا تکثیری سماج میں درست ہے؟  اسی طرح  حکمراں جماعت کے قومی ترجمان جو انتھائی ہوشیار تصور کئے جاتے ہیں ان  کو اکثر ٹیلی ویزن مباحثوں میں یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ  مندر وہیں بنے گا؛  اسی پر بس نہیں بلکہ پورے اعتماد کے ساتھ یہ تک کہدیا کہ عدالت کا فیصلہ ہمارے ہی حق میں آئے گا۔ کیا یہ عدالت کے فیصلوں میں در اندازی نہیں ہے؟  یہاں یہ بتانا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کے دھمکی آمیز کلمات استعمال کرنے سے اکثریتی طبقہ کے افراد کو محض خوش کرنا ہے ؛ سماجی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ اگر عوام کو بے وقوف بنانا ہے اور ان کو مشتعل کرنا ہے تو صر ف مذہب کی افیون پلا دیجئے؛  یہی وجہ ہیکہ اس?وقت جس تیزی سے رام مندر کے بنانے کی پورے ملک میں مانگ اٹھی ہے اس کے پس پردہ یہی مقاصد ہیں۔ غور کرنے کی بات یہ بھی  ہیکہ موجودہ حکومت جن وعدوں اور دعووں کے تحت اقتدار تک پہنچی تھی ان میں سب سے نمایا ں اور واضح وعدہ رام مندر کی تعمیر کا تھا مگر ساڑھے چارسال گزر گئے لیکن ابھی تک رام مندر کے تئیں نہ حکومت بیدار ہوئی اور نہ ملک کا وہ طبقہ جورام مندر کی تعمیر کا حقیقی معنوں میں خواہاں ہے؛ اچانک رام مندر کی تعمیر کے تئیں مذہبی ر ہنماؤں ؛  سماجی کارکنان اور آر ایس ایس کا مطالبہ کرنا اور حکومت پر دباؤ بنانے   کا صاف مطلب ہیکہ زمینی سطح پر ایسا ماحول استوار  کیا جارہا ہے کہ ہندوستانی عوام حکمراں جماعت کے کئے گئے وعدے بھول جائے  اور  آئندہ سال ہونے والے لوکسبھا الیکش میں دوبارہ کامیاب کردے؛  چونکہ زمینی سطح پر حکومت نے کوئی ایسا فلاحی؛  تعمیری یا تربیتی کام نہیں کیا ہے جس سے عوام کو دوبارہ اعتماد میں لایا جا سکے۔ لھذا اپنی تمام تر ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے ضروری ہے کہ پانچ ریاستوں میں اسمبلی الیکشن سے قبل عوام کو رام مندر کے مسئلہ میں الجھا دیا جائے۔ اور 2019 کے لوکسبھا الیکشن کے لئے زمین ہموار کردی جائے۔

 رام مندر کے  مطالبہ سے جہاں حکومت کی ناکامیوں  کو چھپانے کی سازش ہے وہیں عوام کے ذہن سے رافیل معاملہ  کسان یوجنا بیمہ؛ جیسے اہم مدعوں کو  رفع کرنا بھی ہے؛  اہم بات یہ بھی ہیکہ نوٹ بندی کی وجہ سے جو اوپر نیچے کیا گیا ہے وہ بھی پوری طرح ناکام رہا ہے؛  اور اس کی ناکامی کی واحد مثال یہ ہیکہ پردھان منتری نے اپنی تقریر میں کبھی بھی دوبارہ نوٹ بندی کے فضائل نہیں بیان کئے ہیں ؛  دلچسپ بات یہ بھی ہیکہ فضائل تو فضائل عوامی ریلی میں نوٹ بندی کا تذکرہ تک نہیں  کرتے ہیں۔ ان تمام اہم اور بنیادی مسائل سے انحراف کے لئے لوکسبھا الیکشن سے قبل رام مندر کا راگ الاپنا حکمراں جماعت کا سیاسی پینترا ہے ؛  رام مندر کے حوالہ سے حالیہ دنوں میں   جوبیان بازی  ہوئی ہے اس کی روشنی میں صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ صرف  2019 کی تیاری کا فارمولہ ہے۔

 صاحبو ذرا یہ بھی گوش گزار کرتے چلئے کہ یوپی کے سربراہ رام مندر کی تعمیر کے متعلق کچھ اور کہتے ہیں اور ان کی سرکار کے نائب یہ بیان دیتے ہیں کہ رام مندر اس لئے نہیں تعمیر ہوسکتا کہ ابھی اس کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے؛ ان متضاد باتوں سے ہندوستانی عوام کو چوکنا ہونے کی ضرورت  ہے وہیں اس بات کو بھی جاننا بے حد ضروری  ہے کہ  رام مندر کا راگ الاپ کر بی جے پی صرف اقتدار بحال کرنا چاہتی ہے؛

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیس عدالت عظمی میں زیر سماعت ہے اور اس پر فیصلہ آنا باقی ہے کیا اس دوران بابری مسجد یارام مندر کے حوالے سے کوئی بھی گفتگو کرنا مناسب ہے؟ اس لئے را قم کا خیال یہ ہیکہ جب تک اس تعلق سے کوئی فیصلہ نہ آجائے اس سے قبل مسجد اور مندر کے تئیں فکر مندی کا اظہار ہندوستانی عوام کو مذہب کے نام پر بانٹنے کے مترادف ہے۔ اس ضمن میں نیوز چینل انتھائی مثبت رول ادا کرسکتے ہیں پہلا کام تو یہ کرنا چاہئے کہ اس موضوع پر سرے سے کوئی ڈبیٹ کی میز ہی نہ سجائی جائے؛  اسی طرح سیاسی جماعتوں کو بھی  کسی طرح کی بیان بازی سے گریز کرنا چاہئے۔ البتہ عدالت کے فیصلے کے منتظر رہیں  عدالت جو بھی فیصلہ کریگی وہ ملک کے ہر باشندہ کو بسر وچشم منظور ہوگا؛

ذرا یہ بھی ملاحظہ کرتے چلیں  کہ بعض افراد تو عدلیہ کی توہین کرنے کو اپنی بالادستی سمجھتے ہیں  اور حکومت و اقتدار کے نشے میں   عدلیہ کو چیلینج کر ڈالتے ہیں۔ ملک کے منظر نامے پر نظر ڈالیں تو   عدلیہ سے ٹکراؤ کی  مختلف مثالیں مل جائیں گی ابھی دیوالی کے موقع پر مدھیہ پردیش ریاست کے کابینی وزیر  عدالت کے فیصلہ کی بے حرمتی کرتے ہوئے نظر آئے۔ پٹاخے  چلانے  کے حوالے سے عدلیہ کا جو قانون ہے اس پر آنجناب نے قابل اعترض تنقید کی؛ اور ممنوعہ اوقات میں پٹاخے بھی چلائے۔    حتی کہ بعض افراد نے تو یہاں تک کہ ڈالا کہ  ہندوستانی آئین کو بدلنا ہماری خوش قسمتی ہے  ۔

افسوس اس بات کا ہے کہ  ملک میں آئے دن ایسے خطرناک بیانات کا سلسلہ جاری رہتا ہے مگر حکومت خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔ تصور کیجئے جب وطن عز یز میں سماج دشمن عناصر عدالت کی توہیں کرنے پر آمادہ ہوں اور ان کے خلاف کوئی ایکشن نہ لیا جائے تو لامحالہ یہ کہنا پڑتا ہے کہ کہیں ان عناصر کی سر پرستی حکومت تو نہیں کررہی ہے۔

اگر ملک کو مستحکم کرنا ہے تو ہر شہری کو عدالت کا احترام اور آئین کی حفاظت کرنی ہوگی۔  اور جو بھی ہندوستان کی عدالت یاآئین کو ناپاک نگاہوں سے دیکھے اس کو سبق سکھانا حکومت کی عین ذمہ داری ہے؛ تبھی جاکر  ملک میں امن و امان اور شانتی کی فضا ہموار ہوگی آج ہر طرف بے چینی اور بد عنوانی ہے اس کی واحد وجہ یہ ہیکہ ملک کے کونے کونے میں سماج دشمن عناصر دندناتے پھررہے ہیں۔ ملک میں آزادی کے بعد مسلمانوں نے کئی اتار وچڑھاؤ دیکھے ہیں  مگر اس وقت نفسیاتی طور پر مسلمانوں پر دباؤ بنانے کی کاوش ہورہی ہے اور باہم دو طبقوں کو  لڑاکر سیاسی رہنما اپنی اپنی سیاسی روٹیاں سیکتے نظر آرہے ہیں اس لئے ہندوستانی عوام کو انتہائی سنجیدگی سے سوچنا ہوگا اور یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ  2019 کے لوکسبھا الیکشن میں کن طاقتوں کو ملک کی زمام اقتدار سونپنی ہے۔ ملک اور آئین کی حفاظت؛  عدلیہ کا احترام ہر شخص کا بنیادی فرض ہے؛  اس لئے جو طاقتیں بھی اس کے خلاف بیان بازی کریں ان کو سبق سکھانے کے لئے حکومت کو سرعت کے ساتھ آگے  آنا ہو گا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر  ہے کہ اس وقت ہندوستانی عوام کا رجحان بڑی تیزی سے بدل رہا اس کی واضح مثال حالیہ کرناٹک کا ضمنی الیکشن ہے؛  اس?میں تمام سیکولر سیاسی جماعتوں کے لئے یہ خوش آئند پہلو پنہاں ہے کہ اگر اتحا و ہم آہنگی کے ساتھ  الیکش لڑا جا ئے تو حکمراں جماعت کو اقتدار سے باہر کرنا بہت آسان ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بتانا  بھی ضروری ہے کہ کرناٹک میں یہ اتحاد الیکش سے قبل ہوتا تو صورت حال کچھ اور ہوتی؛ کرناٹک کے ضمنی انتخاب کی جیت   ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کانگریس کے لئے مثبت خبر ہے وہیں تمام   سیکولرسیاسی جماعتوں کے لئے بھی لمحئہ فکریہ ہے۔

 تاہم  یہ سوال ذہن میں گردش کرنے لگتا ہے کہ رواں سال میں ہونے والے ریاستوں میں بدھانسبھا الیکشن میں بھی تمام سیکولر جماعتیں مل کر لڑتی تو فتح یقینی تھی۔

 جس طرح چھتیس گڑھ؛ راجستھان  اور مدھیہ پردیش میں حکمراں جماعت ہارتی نظر آرہی ہے لیکن بی ایس پی اور ایس پی کی وجہ سے سیکولر ووٹ بٹنے کا خطرہ ہے اس بنیاد پرایسا محسوس ہوتا ہے کہ دوبارہ زعفرانی طاقتیں وجود میں نہ آجائیں اگر یہ ہوا تو صرف پچھتاوے کے سوا اور کچھ نہیں  ہوگا  اور اس کا منفی  اثر 2019 کے عام انتخابات پر پڑیگا۔

چنانچ ملک میں سیکولر جماعتوں کا اتحاد ضروری ہے تبھی جاکر فرقہ پرست طاقتیں معدوم ہوسکیں گی۔

تمام سیکولر کہی جانے والی سیاسی جماعتوں کے لئے پانچ ریاستوں میں بدھانسبھا الیکشن کو سیمی فائنل کے طور پر دیکھا جارہا ہے؛  مطلب واضح ہے کہ جس جماعت کا بھی ان ریاستوں میں قبضہ ہوگا عام انتخابات میں بھی وہی کامیاب ہوگا۔ جہاں تک سوال ہے سیکولر  اتحاد  اور اس کی اہمیت و افادیت کا تو اس بابت یہی عرض کرنا مناسب ہوگا کہ آج ملک کے جمہوری نظام اور اس کی بقاء￿  کے لئے سیکولر؛  متوازن طاقتوں کا اتحاد لازمی ہے۔ اسی وجہ سے ملک کے کونے کونے سے یہ آواز بڑی تیزی سے بلند ہورہی ہے کہ  سیکولر اتحاد پوری آب و تاب کے ساتھ وجود میں آئے۔ اس کی سیاسی حیثیت و طاقت کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے جب بھی ملکی سطح پر عظیم اتحاد کی بات ہوتی ہے توحکمراں جماعت خود بخود لرزہ براندام ہونے لگتی ہے۔ اور اس کے روکنے کے لئے طرح طرح کے منصوبے اپنانے لگتی ہے؛  لھذا اس وقت سمجھداری اسی میں ہے کہ زعفرانی قوتوں کو دھول چٹانے کے لئے تمام سیکولر سیاسی جماعتوں کو متحد ہونے ہوگا اور اپنے ذاتی مفاد کو بھی بالائے طاق رکھنا ہو گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ظفر دارک قاسمی

جنرل سکریٹری اقراء ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی(رجسٹرڈ ) بدایوں، یو۔پی۔انڈیا شعبۂ دینیات،مسلم یونیورسٹی علی گڑھ

متعلقہ

Back to top button
Close