سیاستہندوستان

شجاعت بخاری: اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

دونوں پر گولیاں چلائی گئیں لیکن ایک موت پر کچھ لوگوں نے خوشی کااظہار بھی کیا مگر دوسرے کے قتل کی سبھی نے مذمت کی۔

ڈاکٹر سلیم خان

شجاعت بخاری کا قتل تاریخ کے ایک ایسے چوراہے پر ہوا جہاں دہلی کو جانے والی  جنگ بندی کی سڑک قریب الختم تھی۔ اقوام متحدہ سے آنے والی  حقوق انسانی کی پگڈنڈی بس آکر ملی ہی تھی۔ ایک شاہراہ سےٹرپ امن عالم کے قیام کی خاطر سنگاپور جارہے تھے اور دوسرے سے گوری لنکیش کے قاتلوں کو گرفتار کرکے لایا جارہاتھا۔ شجاعت و صداقت کے پیکر شجاعت بخاری نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ  وادی کشمیرمیں ؁۱۹۹۰ سے اب تک ۲۶ صحافیوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا ہے۔ کون جانتا تھا کہ ۲۷ ویں وہ خود ہوں گے؟ لیکن شاید شجاعت کو اس کی سن گن لگ گئی تھی۔ معروف کشمیری صحافی  افتخار گیلانی نے ایک گفتگو میں  بتایا کہ ان پر ماضی میں متعدد بار قاتلانہ حملے ہو چُکے تھے تاہم وہ گزشتہ چند ماہ سے بہت زیادہ دباؤ میں تھے اور انہیں عدم تحفظ کا احساس شدت سے ہو رہا تھا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ اس قتل کے پیچھے کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے؟ افتخار گیلانی نے کہا کشمیر جیسے شورش زدہ علاقے میں پیش آنے والے ایسے واقعات کے بارے میں کبھی بھی یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ گیلانی نے بھی اعتراف کیا کہ پچھلے بیس سالوں میں یہ ساتواں یا آٹھواں صحافی ہے جس کو ہلاک کر دیا گیا لیکن اس طرح کی قتل و غارتگری سے نہ شجاعت  خوفزدہ ہوئے اور نہ افتخار ہوں گے اس لیے کہ بقول شاعر مشرق علامہ اقبال ؎

آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی

 اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

معروف سماجی  کارکن پروفیسر اپوروانند نے شجاعت بخاریکی خدمت میں  اپنے خراج عقیدت  کا آغاز اس یاددہانی سے کیا کہ  جس دن اقوام متحدہ کی کشمیر سے متعلق ہندوستانی زیادتیوں کو اجاگرکرنے والی  رپورٹ شائع ہوئی ’’شجاعت بخاری مارڈالے گئے‘‘، یہ خبر گولی کی طرح کانوں میں پہنچی۔ اپوروانند نے شجاعت بخاری کو ہندوستان کے ایک ایساثالث کے طور پر یاد کیا کہ  جو سرکاری تشددپرسمجھوتہ کئے بغیرتنقیدکرتے ہوئے اچھے اندازمیں بات چیت کی وکالت کرتاتھا۔ شجاعت کا گفت وشنید پر اصرار علٰحیدگی پسندوں کو ناراض کرتا تھا اور حکومت پر تنقید دہلی کے لیے سمِ قاتل بن جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو دوبار اغواء کیا گیا۔  ایک باراخوان نامی تنظیم  نے یرغمال بنایاجوسرکاری دہشت گردی کاگروہ ہے۔ دوسری بارعسکریت پسند اٹھا لیے گئے  لیکن وہ دونوں بار بچ کر واپس آ گئے۔

دی وائر  میں منوج جوشی نے شجاعت کا موازنہ  میرواعظ فاروق،عبدالغنی لون اورپھرفضل حق قریشی سے کیا  جوہندوستانی ریاست کے طرفدارنہ تھے لیکن امن چاہتے تھے مگر سب کے سب خاموش  کردیئے گئے۔ منوج جوشی کے مطابق، اس کے پیچھے حکومت کاہاتھ ہے جیساکہ پہلے ڈاکٹرعبدالحمیدگرواورڈاکٹرفاروق آشائی کے قتل میں شبہ کیاگیاتھا۔ ان کے قاتل گمنام کے گمنام ہی رہے؟جوشی کے قیاس کو اس لیے خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا کہ شجاعت بخاری نے تقریباً ایک ماہ قبل حالیہ جنگ بندی پر لکھا تھا ’حکومت پربھروسہ نہیں کیاجاسکتاکیونکہ آج تک اس نے امن کوصرف وقت کواورلمباکھینچنے یعنی ٹال مٹول کے لیےاستعمال کیاہے۔ کشمیری عوام اس کی ترجیح نہیں ہیں، کشمیرپرحکومت کا اختیارہے پھربھی فوج کی کارروائیوں کے سبب تشددکاایک ایساسلسلہ شروع ہوگیاہے جس میں معمولی لوگ اپنی جان گنوارہے ہیں۔ اس کے باوجود  موقع غنیمت جان کر اسےنہیں گنوانا چاہیے۔

کشمیر ٹائمز کی انورادھا بھاسن جاموال ۲۸ سالوں سے شجاعت  کو جانتی ہیں۔ انہوں نے شجاعت  کی تعزیتی تحریر کا خاتمہ ان الفاظ سے کیا کہ ’’یہ بحرانی خطہ ہے۔ یہاں لوگ ایک لمحہ جیتے ہیں اور دوسرے میں مرجاتے ہیں۔ وہ اپنی قبر میں داخل ہونے سے قبل لاکھوں مرتبہ مرتے ہیں۔ جنت نشان کشمیر کی ایسی منظر کشی کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔  انورادھا نے شجاعت کے قتل سے متعلق کئی چبھتے اٹھائے ہیں۔  مثلاً شجاعت کے قاتل دن دہاڑے ایک ایسے علاقہ میں چلے آئے جہاں ؁۲۰۰۰ سے آج تک کوئی  آتش زنی کی واردات نہیں ہوئی۔ شجاعت ایک بھیڑ بھاڑ والے علاقے میں افطار سے پہلے اپنے محافظین کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ رہے تھے۔ وہ پوچھتی ہیں  کہ اس گہما گہمی کے دوران قاتل وہاں کس طرح پہنچے؟ اور اپنا کام کرکے بڑے آرام سے فرار ہوگئے۔ عام طور پر کشمیر جیسے علاقے میں گولی کی آواز سنتے ہی بہت سارے محافظ دستے متوجہ ہوکر اپنی کارکردگی دکھاتے ہیں۔ گولی باری کے بعد  ناکہ بندی کردی جاتی ہےلیکن وہاں موجود حفاظتی جتھوں کے باوجود حملہ آور کسی کے ہتھے نہیں چڑھے۔ اس لیےحقائق کا پردہ فاش کرنے کی خاطر غیرجانبدار تفتیش لازمی ہے۔

وادی کشمیر کے ایک اور معتبر صحافی ماجد حیدری کے مضمون میں بھی انورادھا کے سوالات کی بازگشتسنائی  دیتی ہے۔ ان کو حیرت ہے کہ جائے واردات سے قریب ہی پولس تھانے کی موجودگی کے باوجود شجاعت اور ان کے ساتھیوں کو اسپتال لے جانے میں ۲۰ منٹ کی مجرمانہ تاخیر ہوئی۔ حیدری کہتے ہیں شجاعت کے بھائی  بشارت بخاری صوبائی حکومت میں سینیر وزیر ہیں اس کے باوجود شجاعت کو خاطر خواہ تحفظ نہیں دیا گیا جبکہ محبوبہ مفتی اپنے قریب زیر تربیت صحافی طلباء کو بھی زیڈ سیکیورٹی مہیا کرتی ہیں۔ اس کی وجہ شجاعت کی جانب سے حکومت کی تنقید ہے۔ وہ اپنے بھائی کے قافلہ پر ہونے والی سنگباری کو بھی نہیں چھپاتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ کئی بار ان کے اخبارات کے سرکاری اشتہارات روک دیئے جاتے تھے۔

حیدری لکھتے ہیں لشکر اور حزب نے اس قتل کی مذمت کی ہے اس کی وجہ ظاہر ہے کہ جس دن اقوام متحدہ کی جانب سے پہلی بار حکومت ہند کی زیادتی پر رپورٹ ظاہر کی گئی اس دن علٰحیدگی پسندوں کے موقف کی عظیم فتح تھی لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس کا فائدہ اٹھاتے شجاعت کے قتل نے ذرائع ابلاغ کی توجہ دوسری جانب مبذول کرادی۔ شاید یہی وجہ ہو کہ  جنازے میں شریک لوگ اسے ایجنسیوں کی آپسی جنگ کا شاخسانہ قرار دے رہے تھے۔ شجاعت کی شہادت کے بعد دوسرے دن بھی ان کے اخبارات بلند کشمیر  اور رائذنگ کشمیرمنظر عام پر آئے۔ ان کے پہلے صفحہ پر درج تھا ’’آپ اچانک ہمیں چھوڑ گئے لیکن  اپنے پیشہ ورانہ استقامت  اور مثالی دلیری  سےہمیشہ ہی ہمارے لیے نورِ ہدایت بنے رہیں گے۔ ہم ان بزدلوں کے آگے نہیں جھکیں گے جنھوں نے آپ کو ہم سے چھین لیا۔ ہم آپ کے تلقین کردہ حق گوئی کے اصول پر کاربند رہیں گے چاہے وہ لوگوں کو کتنی ہی ناگوار ہی کیوں نہ ہو۔ یہی قرآنی تعلیم بھی ہے: اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی) باتیں کیا کرو۔ بقول شاعر ؎

آپ حق گوئی کی جو چاہیں سزا دیں مجھ کو

 آپ خود جیسے ہیں ویسا ہی کہا ہے میں نے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close