سیاستہندوستان

شرم تم کومگر نہیں آتی

ڈپٹی چیف منسٹر نے اپنے عہدہ کا حلف لینے کے بمشکل دو گھنٹے بعد ہی کہا کہ کھٹوعہ میں ایک آٹھ سالہ لڑکی کی عصمت ریزی اور قتل کا گھناؤنا کیس ایک معمولی واقعہ تھا

مولانا سید احمد ومیض ندوی

گذشتہ ۳۰؍ اپریل ۲۰۱۸ء کے اخبارات میں جموں وکشمیر کے نو منتخب ڈپٹی چیف منسٹر کا بیان پڑھ کر تن بدن میں آگ سی لگ گئی، یقین نہیں آتا کہ تعصب اور حیوانیت انسان کو اس قدر نچلی سطح پر بھی لے جاسکتی ہے جہاں آدمی کاضمیرمردہ ہوجاتا ہے اور اسے انتہائی درجہ کی درندگی اور انسانیت کو شرمسار کرنے والی حرکت بھی معمولی نظر آتی ہے، ڈپٹی چیف منسٹر نے اپنے عہدہ کا حلف لینے کے بمشکل دو گھنٹے بعد ہی کہا کہ کھٹوعہ میں ایک آٹھ سالہ لڑکی کی عصمت ریزی اور قتل کا گھناؤنا کیس ایک معمولی واقعہ تھا، جس پر اس قدر زیادہ توجہ نہیں دی جانی چاہیے، ایک ایسے قائد سے جس نے عرصۂ دراز تک آر ایس ایس سے تربیت حاصل کی ہے، اس کے علاوہ اور کیا توقع کی جاسکتی ہے؟ کووندر گپتا عرصۂ دراز سے آر ایس ایس سے وابستہ رہے ہیں ، کھٹوعہ عصمت دری معاملہ جس میں کئی درندوں نے مسلسل ایک ہفتہ تک ایک آٹھ سالہ معصوم بچی پر زیادتی کرکے اسے بے دردی کے ساتھ قتل کیا تھا، اس گھناؤنی واردات پر سارا ملک سراپا احتجاج بنا ہوا تھا، ایسے المناک اور انسانیت کو شرمسار کرنے والے واقعہ کو معمولی قرار دینا انتہائی بدبختانہ حرکت ہے، اس قسم کا اظہار خیال وہی شخص کرسکتا ہے جس کا ضمیر مردہ ہوچکا ہو اور جس میں انسانیت نام کی کوئی رمق باقی نہ ہو، محترم ڈپٹی چیف منسٹر صاحب پتہ نہیں صاحب اولاد ہیں یا نہیں ، انھیں اس واقعہ کی سنگینی کا اندازہ تب ہوتا جب اس کمسن بچی کی جگہ خود ان کی دختر ہوتی، انھوں نے آٹھ سالہ کمسن بچی کے والدین کے سینے میں جھانک کرنہیں دیکھا کہ ان کا سینہ غم واندوہ کو سہ کر کس قدر چھلنی ہوگیااور ان پر کیسی قیامت ٹوٹی ہے، اس ملک کا خدا ہی حافظ ہے جس کے سربراہ ایسی سوچ رکھتے ہوں، قانون کے رکھوالوں کی یہ سوچ ہو تو پھر ملک میں جرائم کا اضافہ نہیں ہوگا تو کیا ہوگا؟ یہی وجہ ہے  ہر قسم کے احتجاج اور ملک بھر میں ہورہی شدید مذمتوں کے باوجود کمسن بچیوں کے ساتھ عصمت ریزی کے واقعات تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں، کھٹوعہ واقعہ کے بعد ملکی عوام کے تیور کو دیکھ کر بھلے حکومت نے کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کے لیے پھانسی کی سزا منظور کردی ہے؛ مگر اس کے باوجود عصمت ریزی کے واقعات میں کوئی کمی ہوتی نظر نہیں آتی؛ بلکہ مزید اضافہ دیکھا جارہا ہے، اس کا اندازہ درج ذیل سرخیوں سے کیا جاسکتا ہے جو ۲؍ مئی ۲۰۱۸ء کے ایک روز نامہ کی زینت بنی ہیں ، صرف ایک ہی دن میں پیش آئے واقعات کی یہ سرخیاں ہیں ’’اتر پردیش میں چھ سالہ لڑکی کی عصمت ریزی پر نو عمر لڑکا گرفتار‘‘ ’’جھارکھنڈ میں پانچ سالہ لڑکی کی عصمت ریزی اور قتل کے الزام میں ایک شخص گرفتار‘‘ ’’راجستھان میں پندرہ سالہ لڑکی کی عصمت ریزی‘‘ ’’مہوبہ میں نابالغ کی عصمت ریزی ملزم گرفتار‘‘ ان ساری سرخیوں کا تعلق ۲؍ مئی ہی کی تاریخ سے ہے، اب بتایئے کہ جس ملک کے اخبارات ہر دن عصمت ریزی کی سرخیوں سے بھرے رہتے ہوں اور جہاں جنسی درندوں نے ہر قسم کی حدوں کو پار کردیا ہو اور جہاں گھنٹوں اور منٹوں کے لحاظ سے عصمت ریزی کے واقعات رونما ہوتے ہوں ، ایسی سنگین صورت ِحال میں ملک کی ایک ریاست کے ڈپٹی چیف منسٹر کی جانب سے ایسے واقعات کو معمولی قرار دینا کیا کھلے عام مجرموں کی حمایت نہیں ہے؟ ملک کے سیاسی قائدین سے اس قسم کی حمایت پر کسی کو تعجب بھی نہیں ہونا چاہیے؛ اس لیے کہ ریاستی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں پہنچنے والے اراکین کی ایک قابل لحاظ تعداد جرائم پیشہ افراد کی ہوتی ہے، حالیہ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں ۴۸؍ ارکان پارلیمنٹ اسمبلی ایسے ہیں جن کے خلاف عصمت ریزی، اغوا، حبس بے جا میں رکھنا اور جنسی دست درازی جیسے سنگین مقدمات زیر دوراں ہیں ، یہ تعداد ان عوامی نمائندوں کی ہے جنھوں نے اپنے انتخابی حلف ناموں میں ان مقدمات کا اعتراف کیا ہے، ہوسکتا ہے کہ یہ تعداد اور بھی زیادہ ہو اور ان کا انکشاف نہ کیا گیا ہو۔

 ملک میں عصمت ریزی کے حوالے سے کس قدر سنگین صورت ِحال ہے اس کا اندازہ حقوقِ اطفال کے لیے نوبل انعام حاصل کرنے والے کیلاش ستیارتھی کے اس بیان سے کیا جاسکتا ہے جو حالیہ دنوں میں اخبارات میں شائع ہوا، ستیارتھی کے مطابق ملک میں یومیہ ۵۵ بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی ہے، انھوں نے کہا کہ ۲۰۱۶ء کے اعداد وشمار کے مطابق اطفال جنسی تشدد کے تقریبا ایک لاکھ کیس عدالت میں زیر التوا ہیں ، کیلاش ستیارتھی چلڈرن فاؤنڈیشن کی جانب سے بچوں کی جنسی ہراسانی پر جاری تازہ رپورٹ میں قومی کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے اعداد وشمارکے حوالے سے بتایا گیا کہ ۲۰۱۳ء سے ۲۰۱۶ء کے دوران تین برسوں میں بچوں کے خلاف جرائم کے واقعات میں ۸۴ فیصد اضافہ ہوا اور ان میں سے ۳۴ فیصد جنسی تشدد کے معاملے ہیں ، ۲۰۱۳ء میں بچوں کے خلاف جرائم کی ۵۸۲۲۴ واردات ہوئیں ، جو ۲۰۱۶ء میں بڑھ کر ایک لاکھ چھ ہزار ہوگئیں ، این سی آر بی کے مطابق ۲۰۱۲ء سے ۲۰۱۶ء کے دوران بچوں کے خلاف جنسی تشدد سے جڑے جرائم میں اضافہ ہوا ہے، ۲۰۱۲ء میں بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی ۸۵۴۱ واردات ہوئیں ، جو ۲۰۱۶ء میں بڑھ کر ۱۹۷۶۵ ہوگئیں ، ۲۰۱۲ء میں جسمانی استحصال کے مقصد سے نابالغ بچیوں کو بہلا کر پھسلا کر لے جانے کے ۸۰۹ واقعات ہوئے، جو ۲۰۱۶ء میں بڑھ کر ۲۴۶۵ ہوگئے، اس مدت میں بچوں کے اغوا کے واقعات ۱۸۲۶۶ سے بڑھ کر ۵۴۷۲۳ ہوگئے، ۲۰۱۶ء میں جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ سے متعلق قانون’’پوسکو‘‘ کے تحت ۴۸۰۶۰ معاملے تفتیش کے لیے درج کئے گئے، جن میں سے صرف ۳۰۸۵۱ معاملے سماعت کے لیے پیش کئے گئے، یعنی ۳۶ فیصد کیس تحقیقات کے لیے زیر التوا تھے، ۲۰۱۴ء سے ۲۰۱۶ء کے دوران پوسکو کے تحت ۳۰ فیصد قصور وار گرادنے گئے، اگرچہ ۲۰۱۵ء میں اس میں ۶ فیصد اضافہ ہوا ، کرائم ریکارڈ بیورو کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق جنسی تشدد کے زیر التوا مقدمات کی تعداد مسلسل بڑھتی جارہی ہے اور اگر ان کی سماعت موجودہ رفتار سے ہی رہی تو ۲۰۱۶ء تک زیر التوا معاملوں کو نمٹنے کے لیے دو دہائیاں لگ جائیں گی،جس ملک میں سناتن دھرم کے پیروہونے پر فخر کیا جاتا ہے، جہاں عورت کو دیوی کا درجہ دیا جاتا ہے، جس ملک کی اکثریت نابالغ بچیوں کے پیروں کو دھو کر ان کی پوجا کرتی ہے وہاں بچیوں کے ساتھ جنسی تشدد کی بڑھتی واردات نہ صرف انتہائی افسوسناک ہے؛ بلکہ ملک کے ماتھے پر کلنک کا دھبہ ہے، سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ دے کر اقتدار پر براجمان ہونے والی حکمراں جماعت کے چار سالہ دور حکمرانی میں اگر کسی چیز کو فروغ ملا ہے تو وہ جرائم ہیں ، جنسی تشدد ہے اور فرقہ واریت کا زہر ہے، ایک طرف مادی ترقی کا ڈھنڈوراپیٹا جارہا ہے کہ ملک کی ترقی کے لیے مختلف سیٹلائٹ مدار میں قائم کردئے گئے ہیں ، غیر ملکی زر مبادلہ میں غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے، کیش لیس اقتصادی نظام صارفین کو سہولتیں مہیا کررہا ہے، ہر بچے بوڑھے، رکشاں راں اور کسان کے ہاتھوں میں موبائل فون آگیا ہے، ایک طرف ملک کا یہ پہلو ہے دوسری طرف اخلاقی بگاڑ اس حد کو پہنچ چکا ہے کہ پانچ سالہ لڑکی سے لیکر ۸۰ سالہ بوڑھی تک غیر محفوظ ہے۔

 افسوس اس پر نہیں کہ کچھ انسان نماں درندے جنسی انارکی کا مظاہرہ کررہے ہیں ، افسوس معاشرے کے ان افراد پر ہے جو نہ صرف مجرموں کی پشت پناہی کررہے ہیں ؛ بلکہ ان کے حق میں ریالیاں نکال رہے ہیں ، اس سلسلہ میں ملک کے گودی میڈیا کا کردار نہایت گھناؤنا ہے؛ بالخصوص وہ ٹی وی چینل جنھیں حکمراں جماعت کی سرپرستی حاصل ہے بدترین کردار کا مظاہرہ کرہے ہیں ،حالیہ کھٹوعہ واقعہ اس قدر المناک تھا کہ ملک کے عام فرد سے لیکر اقوام متحدہ تک دہل چکی ہے؛ حتی کہ بین الاقوامی آئی ایم ایف چیف کو بھی یہ کہنا پڑا کہ ہندوستان میں جو ہوا وہ انتہائی گھناؤنا ہے، دنیا بھر میں اس و اقعہ کی مذمت کی گئی، جلوس اور ریلیاں نکالی گئیں ، ملک کے وزیر اعظم جب انگلینڈ کے دورے پر پہونچے تو ان کی آمد کی مخالفت کرتے ہوئے اس واقعہ پر احتجاج درج کیا گیا، مودی کو مجرم اور دہشت گرد تک کہہ دیا گیا، یہ سب کچھ ہوا لیکن دوسری طرف معروف ٹی وی چینل زی نیوز کے اینکر سدھیر چودھری نے ’’کھٹوعہ کے پیچھے کا سچ‘‘ نامی پروگرام میں اس وحشیانہ واقعہ کی مذمت کرنے کے بجائے راسنا گاؤں کے لوگوں کی آڑ لیتے ہوئے اس واقعہ پر متعدد سوالات کھڑے کردئے اور در پردہ مجرموں کو بچانے کی کوشش کی؛حتی کہ یہ تک کہہ دیا کہ ا س واقعہ کو مخصوص ایجنڈے کے تحت اچھالا جارہا ہے، انھوں نے ایک سوال یہ کھڑا کیا کہ ایک کمرے کی مندر میں چار کھڑکیاں ہوں ، تین دروازے ہوں اور جہاں تین گاؤں کے لوگ پوجا کے لیے آتے ہوں وہاں عصمت دری کا واقعہ کیسے پیش آسکتا ہے؟زی نیوز کے اینکر کو جاننا چاہیے کہ آخر ملک میں اس قدر طاقتور فوج رہنے کے باوجود دہشت گردانہ حملے کیسے ہوتے ہیں ؟ پھر دوسرا سوال انھوں نے یہ اٹھایا کہ ایک باپ اپنے بیٹے اور نابالغ بیٹے کو ایک نابالغ لڑکی کی عصمت ریزی کے لیے کیسے کہہ سکتا ہے؟ اس قسم کے مختلف نامعقول سوالات اٹھا کر جرم کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کی گئی ہے؛ حتی کہ مذکورہ ٹی وی چینل کے اینکر نے اس واقعہ کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو حریت کانفرنس سے جوڑ دیا،جرائم اور تشدد کے تعلق سے اس قسم کا متعصبانہ رویہ انتہائی المناک ہے۔

 خوش آئند بات ہے کہ مرکز نے نابالغ بچیوں کے ساتھ عصمت دری کرنے والوں کے لیے پھانسی کا قانون پاس کردیاہے؛ لیکن صورت ِحال پر قابو پانے اور جنسی جرائم کے سد باب کے لیے صرف قانون سازی کافی نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ قانون سازی کے باوجود جنسی تشدد کا سیلاب تھمتا نظر نہیں آرہا ہے، قانون سازی کے ساتھ سماج میں بیداری شعور کا کام ناگزیر ہے، جب تک لوگوں کے اندر خوف خدا اور قیامت کے دن جواب دہی کا احساس اور اس قسم کے جرائم کے سنگین نتائج کا ادراک نہیں ہوگا، ان واقعات کا سد باب ممکن نہیں ، اسی طرح ان راستوں پربھی روک لگانے کی ضرورت ہے جہاں سے فحاشی، عریانی اور جنسی انارکی کو فروغ ملتا ہے،موجودہ حکومتوں کا رویہ متضاد ہے، وہ ایک طرف جنسی تشدد کے واقعات پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتی ہیں اور سخت قوانین کے نفاذ کا عزم ظاہر کرتی ہیں اور دوسری طرف فحاشی اور عریانیت کو فروغ دینے والے اسباب ووسائل کو کھلی چھوٹ دیتی ہیں ، انٹرنیٹ کا بے لگام استعمال، فلموں میں بڑھتی ہوئی عریانیت، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلبہ وطالبات کا اختلاط اور نیم برہنہ لباس کی آزادی اور بازاروں میں خواتین کا بے پردہ گھومنا، یہ وہ چیزیں ہیں جو معاشرے میں جنسی تشدد کو ہوا دیتی ہیں ، والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بچیوں کو بے پردہ باہر گھومنے اور نیم برہنہ لباس پہننے سے منع کریں ، اسی طرح جنسی تشدد کے مجرمین کے مقدمات کے فیصل ہونے میں تاخیر بھی اس قسم کے جرائم میں اضافہ کا سبب بن رہی ہے، موجودہ عدالتی نظام میں نہ مجرموں کو جلد سزا مل پاتی ہے اور نہ مقدمات جلد فیصل ہوپاتے ہیں ، اسی طرح بہت سے اس قسم کے مقدمات میں گواہ، گواہی سے انحراف کر بیٹھتے ہیں ، یہ در اصل گواہوں کو تحفظ حاصل نہ ہونے کا نتیجہ ہے، یہ اور اس قسم کی دیگر چیزوں پر توجہ دی جائے تو صورت ِحال پر کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مولانا سید احمد ومیض ندوی

استاذ حدیث دارالعلوم حیدرآباد

متعلقہ

Close