سیاستہندوستان

ششی تھرور سے سوامی اگنویش تک

ڈاکٹرسلیم خان

سپریم کورٹ میں جس وقت چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم کھنولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڈ کی بنچ ہجومی تشدد پر اپنا پروچن سنا رہی تھی بھارتیہ جنتا پارٹی کا یوا مورچہ سوامی اگنویش  کو زدوکوب کررہا تھا۔ ایک دن قبل زعفرانی ہجوم ایک رکن پارلیمان کے دفتر کو توڑ پھوڑ کر اس پر ہندو پاکستان کا بورڈ آویزاں کرچکا تھا ایسے میں چیف جسٹس دیپک مشرا نے کہا کہ ایوانِ  پارلیمان ہجومی تشدد کے لئے علیحدہ سے قانون بنانے پر غور کرے۔ مودی جی تو فی الحال حلالہ اور تعدد ازدواج کا قانون بنانے میں مصروف ہیں اس لیے عدالت عظمیٰ کے مشورے پر عمل کرنے سے رہے۔ مشرا جی نے  ریاستی حکومتوں کو نصیحت کی  کہ  ہجومی تشدد کو روکنا ان کا فرض ہے۔ کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کا اختیار نہیں ہے۔ خوف اور بدنظمی کا ماحول پیدا کرنے والوں کے خلاف ریاست کارروائی کرے۔ تشدد کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ سپریم کورٹ کو صرف پندو نصائح پر اکتفاء کرنے کے بجائے  یہ  بتانا چاہیے کہ اگر  جینت سنہا جیسا مرکزی وزیر ضمانت پر رہا ہونے والے  ہجومی تشدد  کے ملزمین کی پذیرائی کرےتو اس کی سزا کیا ہے؟  گلپوشی سے آگے بڑھ کر اگر  گری راج سنگھ جیسا کوئی وزیر جیل میں بند فساد کے ملزمین سے ملاقات کرکے انہیں باعزت بری کروانے کا یقین دلائے تو اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔

 سوامی اگنویش نہ تو حامد انصاری کی طرح  مسلمان ہیں اور نہ ششی تھرور کی مانند  کانگریسی بلکہ وہ تو  آریہ سماج کے دھرم گرو ہیں۔ ۸۰ سالہ سوامی اگنویش   نے ۲۸ سال کی عمر  میں کولکاتہ کے لاء اور مینجمنٹ  کالج سے پروفیسر کی ملازمت کو تیاگ کر اپنی زندگی سماجی خدمت کے لیے وقف کردی۔ بندھوا مزدوری کے خاتمہ میں ان کی خدمات کو ساری دنیا میں سراہا جاچکا ہے۔  ۱۹۹۴ ؁ میں انہیں  اقوام متحدہ کے عصری غلامی کے انسداد فنڈ کا سربراہ بنایا گیا۔ آپ کو ۲۰۰۴؁ میں متبادل نوبل انعام (ذریعہ معاش کے حق کا انعام)  سے نوازہ گیا۔۲۰۰۴ ؁میں ہی  وہ عالمی آریہ سماج کے صدر منتخب ہوئے۔ سوامی اگنویش  بھی گیروا لباس پہنتے ہیں لیکن ان کا رنگ سنگھ پریوار سے مختلف ہے۔ ان کے خیال میں ’ہمارا اصل مسئلہ غربت اور سماجی و معاشی عدم مساوات ہےجس کی جانب فوری توجہ کی ضرورت ہے‘۔

سوامی اگنویش کی  رائے ہے کہ  تمام مذاہب کی مشترک اقدار کو نظر انداز کردیا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خلاء کو فرقہ پرستانہ سیاست سے پرُ  کردیا گیا ہے۔ وہ سنگھ پریوار کےہمیشہ سے ناقد رہے ہیں لیکن  چونکہ فی الحال  بی جے پی  کو اپنی شکست کا خوف کچھ زیادہ ہی ستانے لگا ہے اس لیے ان پر حملہ کردیا گیا۔ سوامی جی جھارکھنڈ کے پاکوڑ کے تقریب میںگئے  تھے۔ وہ  جیسے ہی  ہوٹل سے نکلے بی جے یوا مورچہ کے کارکنان ان کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے اور انہیں گھیر لیا۔ اس دوران حملہ آوروں  نے ان کے ساتھ مار پیٹکی اور گالیاں دیں۔ بعد میں سوامی اگنی ویش اسپتال میں لے جایا گیا۔بی جے پییوا مورچہ کے کارکنان کا الزام ہے کہ سوامیجی عیسائی مشنری کے اشارے پر آدیواسیوں کو بھڑکانے کے لئے پاکوڑ آئے تھے۔

سوامی اگنویش نے این ڈی ٹی وی کے نامہ نگار سے کہا کہ وہ  امن پسند ہیں اورتشدد کے خلاف ہیں۔ وہ  نہیں جانتے کہ یہ حملہ کیوں کیا گیا؟ اس  لیےمعاملے کی جانچ ہونی چاہیے۔ جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ رگھوور داس نے معاملے کی جانچ کا حکم  بھی دے دیا  لیکن بی جے پی وزرائے اعلیٰ کی تفتیش کے اوپر سے اب عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔ اس سےعوام کی نظروں میں دھول جھونکنے کے علاوہ کچھ حاصل  نہیں ہوتا۔ مدھیہ پردیش کے اندر مندسور کے کسانوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا اور تفتیشی کمیٹی نے سارا الزام کسانوں کے سرمنڈھ دیا۔ گورکھپور نے بچوں کی موت کے لیے سرکاری کوتاہی کو کلین چٹ دے دی نیز اسپتال کے انتظامیہ کو قصوروار ٹھہرا کر ۹ ڈاکٹروں کو جیل بھیج دیا۔ گجرات میں گھوڑا رکھنے کے سبب ایک دلت کی موت واقع ہوئی تو پولس تفتیش میں پتہ چلا وہ ذاتی دشمنی کے سبب قتل ہوا۔ ہاپوڑ میں گئوکشی کی افواہ پھیلانے والی تشدد کی  وارادت  موٹر سائیکل کا تنازعہ قرار دے دیا گیا۔ ایسے میں جھارکھنڈ کی اس تفتیش سے کیا توقع کی جائے ؟ کوئی بعید نہیں کہ سوامی جی کو ہی الٹاموردِ الزام ٹھہرا دیا جائے۔  قانون کا نفاذ کرنے والا انتظامیہ اگر اس قدر جانبدار ہو تو قانون بنانے کا کیا فائدہ؟

سوامی اگنویش سے قبل کانگریس کے رہنما ششی تھرور کے دفتر  پر بی جے پی والوں نے حملہ کردیا۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے کہہ دیا اگر مودی دوبارہ منتخب ہوگئے تو ہندوستان ہندو پاکستان بن جائے گا۔   بی جے پی یوتھ  سیل  نےدفتر کو توڑنے پھوڑنے کے بعد اس پر ہندو پاکستان کا بورڈ چسپاں کردیا۔ اس طرح انہوں نے پورے ہندوستان کو نہ سہی کیرالا میں ششی تھرور کے دفتر کو ہندو پاکستان بناکر ان کی پیشنگوئی کو سچ ثابت کردیا۔ ہندوستا ن میں عدم رواداری کی شروعات گئوماتا کی عقیدت سے ہوئی اور پھر بچوں سے شفقت تک پہنچ گئی۔ ہجومی تشدد کے حالیہ  واقعات  کے پس پشت بچوں کی چوری سے متعلق افواہیں کارفرما رہی ہیں۔ کرناٹک کے بیدر میں گوگل کے اندر کام کرنے والا ایک پیشہ ور انجنیر ہلاک کر دیا گیا اور اس کے ساتھ ایک قطری شہری بھی تشدد کا شکار ہوا۔ اس کے سبب  یہ نیک نامی ساری دنیا میں پھیل گئی۔  لیکن اب تو یہ معاملہ بچے سے  آگے بڑھ کرمرغی تک پہنچ گیا ہے۔

کیرالا ہی کے اندر ایک ۲۴ سالہ بنگالی مزدور مانک رائے کو گزشتہ ماہ  لوگوں نے مرغی ہاتھ میں لے  کرجاتے ہوئے دیکھا تو اس کو مرغی چور سمجھ لیا۔ بس پھر  کیا سارا ہجوم اس پر پل پڑا اور مارپیٹ کرنے لگا۔ کچھ دیر میں وہ شخص بھی وہاں پہنچ گیا جس نے اسے مرغی دی تھی لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ مانک رائے کو زخمی حالت  میں اسپتال لے جایا گیا  اور بعد میں علاج کے بعد وہ گھر بھیج دیا گیا۔ وہ مزدور اس واقعہ کے تین ہفتہ بعد اپنے  سر میں لگی اس چوٹ کا علاج کرانے کے لیے جب دوبارہ اسپتال پہنچا تو ڈاکٹروں نے اس کوسی ٹی اسکین کے لیے  سرکاری اسپتال روانہ کیا لیکن وہ بیچارہ راستے ہی میں  فوت ہوگیا۔   جس ملک میں انسانی جان کی قیمت ایک مرغی چوری کی  افواہ سے بھی کم ہو  اس  میں سوامی اگنویش اور ششی تھرور جیسے لوگ کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ ایسے ملک کے بارے میں یہ دعویٰ کہ  وہ  بہت جلد پردھان سیوک کی قیادت میں عالمی رہنما بن جائے گا ایک دیوانے کا خواب نہیں تو کیا ہے؟   بقول شاعر؎

دن میں بھی حسرتِ مہتاب لیے پھرتے ہیں 

 ہائے کیا لوگ ہیں کیا خواب لیے پھرتے ہیں

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close