سیاستہندوستان

شمالی ہند میں مسلمانوں کی سیاست 

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

آزادی کے ستر سال بعد بھی ملک کے عوام میں سیاسی سمجھ پیدا نہیں ہو پائی ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ عوام کے ذریعہ، عوام کے لئے منتخب کی گئی عوام کی حکومت کے کیا معنی ہیں۔ عوام الیکشن میں ووٹ دے کر کسی کو اپنا نمائندہ منتخب تو کر سکتے ہیں لیکن کام نہ کرنے کی صورت میں اسے واپس بلانے کا انہیں حق نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الیکشن میں بنیادی مسائل کے بجائے بناوٹی مدے  حاوی رہتے ہیں۔ سیاست داں کسی بھی طرح عوام کے ووٹ حاصل کر اقتدار میں آنا چاہتے ہیں اور بس۔ اس صورتحال نے عام لوگوں کو ووٹ دینے کی مشین بنا کر رکھ دیا ہے۔ جس نے ملک کے سیاسی نظام کے تئیں ان میں مایوسی پیدا کر دی ہے۔ لوگوں کی ووٹ ڈالنے میں دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے۔ نوٹا کا بٹن دبانے والوں کی بڑھتی تعداد اس کا ثبوت ہے۔

مسلمانوں کی بات کریں تو ان کا اپنا کوئی سیاسی نظریہ نہیں ہے۔ سیاست کے بارے میں جنوب اور شمال کے لوگوں کی سمجھ میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ عام طور پر دو طرح کی باتیں سنائی دیتی ہیں۔ ایک طبقہ مسلمانوں کے اپنی بنیاد پر سیاست کرنے کے حق میں کھڑا دکھائی دیتا ہے تو دوسرا قومی سیاسی جماعتوں کے ساتھ رہ کر اپنی سیاسی ضرورتوں کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ دونوں کے پاس اپنے دلائل ہیں۔ ایک کا ماننا ہے کہ جب تک مسلمانوں کی اپنی سیاسی طاقت نہیں ہوگی تب تک ان کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ جو مسلم نام والے نمائندے منتخب ہو کر آتے ہیں وہ مسلمانوں کے بجائے اپنی پارٹی کے لئے جواب دہ ہوتے ہیں۔ اسی لئے وہ مسلمانوں کے پڑے سے بڑے مسئلہ پر خاموش رہتے ہیں۔ اگر ان پر زور ڈالا جاتا ہے تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ  میں پہلے پارٹی کا نمائندہ ہوں بعد میں مسلمان۔ مجھے سب نے چنا ہے صرف مسلمانوں نے نہیں۔ میں پارٹی کی گائڈ لائن سے باہر نہیں جا سکتا۔ میں  پارٹی کے بغیر کچھ نہیں ہوں وغیرہ۔ اس لئے مسلمانوں کا اپنا نمائندہ ہو جو ان کے لئے جواب دہ ہو۔ ان کی بہتری کے لئے کام کرے اور صحیح وقت پر ان کے حق کی وکالت کرے۔

دوسرے طبقہ کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو سیاست میں اہل وطن کے ساتھ رہنا چاہئے۔ ملک کے حالات مسلمانوں کی اپنی پارٹی بنانے کے حق میں نہیں ہیں۔ اس سے فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ جس کا ملک متحمل نہیں ہو سکتا۔ رہا سوال پارٹیوں میں مناسب نمائندگی نہ ملنے کا تو اس کے لئے سیاسی جماعتوں پر دباؤ بنانا چاہئے۔ آئنی حقوق کے لئے لڑائی لڑنے کے ساتھ انتخابات میں اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ وہ اپنے دعویٰ کے حق میں دلیل کے طور پر آزادی کے فوراً بعد لکھنؤ کنونشن میں مولانا آزاد کے ذریعہ کی گئی تقریر کا حوالہ دیتے ہیں۔ جس میں مولانا نے کہا تھا کہ اب الگ سے مسلمانوں کو اپنی سیاست کرنے کے بجائے اہل وطن کے ساتھ مل کر سیاست کرنا چاہئے۔ جنوب کے لوگوں نے اس کنونشن سے واک آؤٹ کیا تھا۔ بقول ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی ملک میں مسلمان سیاسی طاقت بن کر نہ ابھر سکیں اس کے لئے مولانا آزاد کو استعمال کیا گیا۔ بعد میں جمیعت العلماء ہند  نے یہ کام کیا۔ مسلمانوں نے اہل وطن کے ساتھ مل کر سیاست کرنے کا مطلب سمجھا کانگریس کا ساتھ دینا۔

مسٹر اسمعیل نے کیرالہ سے اس کا جواب دیا۔ انھوں نے مسلم لیگ بنا کر مسلمانوں کی سیاسی طاقت کو ابھارا۔ مسلم لیگ ریاستی حکومت کا حصہ رہی جس کی وجہ سے وہاں کے مسلمانوں کی حالت ملک کے دوسرے خطوں سے بہتر ہے۔ کیونکہ وہاں مسلمان حکمرانی کا حصہ رہے ہیں۔ اس کے بر خلاف شمال میں مسلمانوں کی سیاسی حیثیت کوڑے کرکٹ سے زیادہ نہیں ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے درمیان ہوئے انتخابات سے یہ بھرم بھی ختم گیا کہ مسلمان جس کو چاہیں ہرا یا جتا سکتے ہیں۔ 2014 کے الیکشن میں اتر پردیش سے ایک بھی مسلمان پارلیمنٹ نہیں پہنچ سکا۔ جہاں مسلمانوں کے بڑے دینی مراکز موجود ہیں اور ان کی بڑی آبادی یہاں رہتی ہے۔ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں کم ہوتی مسلم نمائندگی بھی اسی بے وزنی کو ظاہر کرتی ہے۔ جبکہ سچر کمیٹی نے قانون ساز ایوانوں میں مسلمانوں کی مناسب نمائندگی کی سفارش کی تھی۔ رہا سوال سیاسی جماعتوں کا تو وہ مسلمانوں کا ووٹ تو چاہتی ہیں لیکن ان کے مسائل پر بات کرنے اور نمائندگی دینے کو تیار نہیں ہیں۔ بی جے پی نے اتر پردیش کے ریاستی الیکشن میں ایک بھی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا تھا۔

ایسا نہیں ہے کہ شمال میں مسلمانوں کو سیاسی طور پر بہ اختیار بنانے کی کوئی کوشش نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی نے 1968 میں مسلم مجلس بنا کر انتہائی کامیاب سیاسی تجزیہ کیا تھا۔ چودھری چرن سنگھ نے مسلم مجلس کی مدد سے ہی اترپردیش میں حکومت بنائی تھی۔ جسے اتحادی حکومت کی ابتداء بھی مانا جاتا ہے۔ اسے انہیں اعلیٰ ذات کے ہندوؤں نے ناکام کر دیا جو مسلمانوں کو سیاسی پچھ لگو بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنتا پارٹی میں جن سنگھ شامل تھی مسلمانوں نے سیکولرزم کی خاطر اس کا ساتھ دیا۔ جنتا پارٹی کے ٹوٹنے کے بعد ملک میں صوبائی سیاست کی شروعات ہوئی۔ لیکن مسلمان سیاسی سمجھ کے فقدان کی وجہ سے اس موقع کا فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ مجلس اتحاد المسلمین، انصاف پارٹی، پرچم پارٹی، نیشنل لوک تانترک پارٹی، پیس پارٹی، علماء کونسل اور ایس ڈی پی آئی وغیرہ میدان میں آئیں، لیکن ردعمل کی بنیاد پر وجود میں آئی پارٹیوں کا سفر لمبا نہیں ہوتا۔ اس لئے اتحاد المسلمین، پیس پارٹی اور ایس ڈی پی آئی کے علاوہ باقی پارٹیوں کا لوگ نام تک نہیں جانتے۔ ملک کے فسادات بھی دلت، آدی واسی اور مسلمانوں کو سیاسی اعتبار سے پیچھے رکھنے کی سازش کا ہی نتیجہ ہیں۔

آسام میں آسام یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کا کامیاب تجربہ ہے اور ایس ڈی پی آئی ابھی ابتدائی مراحل طے کر رہی ہے۔ سیاسی طور پر وہی جماعت کامیاب ہوگی جو اپنے ملک گیر سیاسی نظریہ کی بنیاد پر کیڈر کھڑا کر سکے گی، دلت، آدی واسی، پسماندہ اور کمزور طبقات برابری کی بنیاد پر اس کے ساتھ ہوں۔ تاکہ انہیں حق وانصاف مل سکے جس سے صدیوں سے وہ محروم ہیں۔ سماجی کارکن اور بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن کی کو فاونڈر ذکیہ سمن صاحبہ کا کہنا ہے کہ مسلم سماج میں خواتین کو بہ اخیار بنانے کی طرف بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ ان کی حصہ داری کو بڑھائے بغیر کوئی بھی سیاسی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ملک میں تمام طاقتیں استعمال ہو چکی ہیں۔ لیکن وہ ملک کے عوام کو انصاف دلانے، بد عنوانی روکنے اور وسائل کی تقسیم میں برابری لانے میں ناکام رہی ہیں۔ اتنا ہی نہیں آزادی کے ستر سال بعد بھی لوگ بھک مری اور خوف سے نجات حاصل نہیں کر سکے ہیں۔ مسلمان دلت، آدی واسی اور پسماندہ مل کر اس ملک کی تصویر بدل سکتے ہیں۔ ان کی طاقت کو بھی ملک کی ترقی کے لئے استعمال کیا جانا چاہئے۔ ملک کے عوام کو سمجانے کی ضرورت کہ یہی وہ طریقہ ہے جس سے ملک کے تمام کمزور طبقات کو طاقت حاصل ہو سکتی ہے۔ ملک کو آج اسی کی ضرورت ہے کیونکہ سب کی ترقی کے بغیر ملک کو ترقی یافتہ نہیں کہا جا سکتا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close