سیاست

شکستِ فاش کا ایک سلسلہ ہے بی جے پی

ڈاکٹر سلیم خان

ایک نشست میں تین طلاق کی سزا اگر تین سال قید بامشقت ہے تو این ڈی اے سے یکلخت  اپنا رشتہ ٔ ازدواج  توڑ کر ایوانِ پارلیمان میں طلاق، طلاق، طلاق کا نعرہ لگانے کی سزا کیا ہے؟ اور یہ نکاح فسخ ہوا یا نہیں ؟ اس کا فیصلہ عدالتِ عظمیٰ بھی نہیں کرسکتی ۔ مودی بھکتوں کے لیے جو سوچتے جاگتے ؁۲۰۱۹ میں انتخاب جیتنے کا خواب دیکھتے اور بیچتے ہیں حکمران قومی جمہوری محاذ کی سابق حلیف تیلگودیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کا  بی جے پی کی حمایت واپس لینا حیرت کا جھٹکا تھا لیکن اس کے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف ایوان ِ  پارلیمان میں عدم اعتماد کی تحریک نے بی جے پی کی نیند اڑا دی۔  تیلگودیشم پارٹی نے یہ متفقہ فیصلہ  ریاست آندھرا پردیش کو نظر انداز کرنے اور خصوصی ریاست کا درجہ دلانے کے معاملےمیں  مرکز ی حکومت کی وعدہ  خلافی کے باعث کیا ہے۔ ٹی ڈی پی کی طرف سے لائی جا نے والی  عدم اعتماد کی تحریک کو کانگریس پارٹی، اے آئی ایم آئی ایم ، ٹی ایم سی اورسی پی ایم کی  حمایت حاصل ہوگئی اور بقیہ لوگوں کا تعاون بھی مل جائے گا۔

ایک ماہ قبل وزیراعلیٰ  این چندرا بابو نائیڈو نے وائی ایس آر کانگریس کے اس مطالبہ کو مسترد کردیا تھا  کہ مرکز کی مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے۔ وائی ایس آر کانگریس نے ریاست کو خصوصی درجہ دیئے جانے کے مسئلہ پر ٹی ڈی پی سے  مرکزی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا مطالبہ کیا تھا جسے تیلگودیشم پارٹی نے یہ کہہ کر مسترد کردیا  تھا کہ  بی جے پی کو مکمل اکثریت حاصل ہے۔ اس لیے تحریک عدم اعتماد  کو شکست ہوجائیگی اور پھر چھ ماہ تک اس مسئلہ پر کچھ بھی نہیں کیا جاسکے گا لیکن پھر نائیڈو کو اپنی غلطی کا اھساس ہوا۔ اس نے اپنی پارٹی کے وزراء کو استعفیٰ دینے کے لیے کہا اور متحدہ قومی محاذ سے کنارہ کشی اختیار کرلی اس لیے وزیراعظم نریندر مودی نے ان کو ملاقات تک کے لیے وقت نہیں دیا تھا۔ اب تو نائیڈو نے یہ الزام بھی لگا ر ہے ہیں   کہ نیرو مودی کے ملک سے فرار میں مودی سرکار کا ہاتھ   ہے۔ گورکھپور اور ارریہ  کے بعد ان کا من پریورتن ہوگیا اور اب نتیش کمار کو بھی بہار کا خصوصی درجہ یاد آنے لگا ہےلگتا ہے انہیں بھی اپنی سیاسی خودکشی کا احساس ہونے لگا ہے۔ ایسے میں منہ بسورتے  مودی جی اور شاہ جی  کی نذر میر تقی میر کا یہ شعر ہے؎

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا

 آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

مئی ؁۲۰۱۴ میں جب انتخابی نتائج کا اعلان ہوا تو جملہ ۵۴۳ میں سے بی جے پی کے ۲۸۲ ارکان تھے لیکن اب کل ۵۳۶ میں سے اس کے صرف ۲۷۲ ارکان رہ گئے  ہیں۔ اس دوران  ۱۴ ضمنی انتخابات ہوئے جن  میں سے بی جے پی کو صرف دو نشستوں پر کامیابی ملی ہے۔  ایک گجرات اور دوسری مدھیہ پردیش میں بقیہ ۱۲ پر اس کو شکست فاش کا منہ دیکھنا پڑا یعنی کامیابی تناسب ۱۴ فیصد  بنتا ہے۔ شاہ جی کے نزدیک اگر یہ عظیم کامیابی ہے تو ہوا کرے لیکن دنیا بھر کی نظر میں تو ایسا نہیں ہے۔ ؁۲۰۱۴ میں بڑودہ کے علاوہ جو خود وزیراعظم کا حلقۂ انتخاب تھا مزید چار مقامات پر ضمنی انتخابات ہوئے جن میں سے  میدک میں  ٹی آر ایس نے ۳ لاکھ ۶۱ ہزار ووٹ کے فرق سے کانگریس کے امیدوار کو ہرایا۔ بی جے پی دوڑ میں دور دور تک نظر نہیں آئی۔ورنگل میں ٹی آر ایس نے کانگریس کو ایک لاکھ ۶۰ ووٹ سے ہرایا۔ بی جے پی تیسرے مقام پر تھی۔ مین پوری اتر پردیش  میں سماجوادی پارٹی نے ۳ لاکھ ۲۱ ہزار ووٹ کے فرق سے بی جے پی کو دھول چٹائی۔ کاندھ مل اڑیسہ میں  بی جے ڈی نے بی جے پی امیدوار کو تقریباً ۳ لاکھ ووٹ کے فرق شکست دی۔

؁۲۰۱۵ کا سال بی جے پی کے لیے اور بری خبر لے کر آیا اس لیے کہ وہ اپنے گڑھ مدھیہ پردیش کے رتلام میں ایک ایسی  نشست ہار گئی جہاں دو سال قبل بی جے پی امیدوار کا میاب ہوا تھا۔ اس ہار نے کانگریس فری انڈیا کے غبارے کی ہوا نکال دی اس لیے کہ  یہاں کانگریسی امیدوار کو تقریباً ۸۹ ہزار ووٹ سے کامیابی ملی تھی۔ ؁۲۰۱۶ میں مدھیہ پردیش کی شہڈول سیٹ کو بچانے میں بی جے پی کامیاب رہی لیکن پھر ؁۲۰۱۷ میں اس کے برے دن لوٹ آئے۔ سب سے پہلے نیشنل کانفرنس نے بی جے پی کی حلیف پی ڈی پی کو ہرایا۔ اس کے ساتھ کیرالہ میں مسلم لیگ نے سی پی ایم کو ایک لاکھ ۷۰ ہزار کے فرق سے شکست دی جبکہ یہاں بی جے پی کی ضمانت ضبط ہوگئی۔ پنجاب کے گرداسپور میں کانگریس نے بی جے پی امیدوار کو ایک لاکھ ۹۳ ہزار کے فرق سے ہرایا۔ اس حلقہ میں بی جے پی کے ونود کھنہ کامیاب ہوتے رہے تھے لیکن کانگریس نے یہ سیٹ اس سے چھین لی۔

؁۲۰۱۸ کا سال تو بی جے پی کے لیے قہر برساتا ہوا آیا۔ اس سال پہلے   اپنے  گڑھ راجستھان میں بی جے پی منہ کی کھانی پڑی اور پھر اتر پردیش میں اس کا منہ کالا ہوگیا۔ کانگریس نے ۸۴ ہزار کے فرق سے اجمیر کی  نشست بی جے پی سے چھین لی اور الورکی کامیابی ایک لاکھ ۹۷ ہزار ووٹ کے فرق  سے تھی۔ یہ دونوں نشستیں بی جے پی کے کھاتے سے نکل کر کانگریس کے جیب میں  چلی گئیں۔   مغربی بنگال کے اولوبیریا میں ترنمول نے بی جے پی کو ایک لاکھ ۸۱ ہزار کے فرق سے شکست دی۔  اس کے بعد پھولپور میں ۵۹ ہزار اور گورکھپور میں ۲۶ ہزار کے فرق سے یکے بعد دیگرے دو ناکامیاں بی جے پی کے ہاتھ آئیں۔ بہار کے اندر بھی یہی ہوا ارریہ میں  آر جے ڈی نے نتیش کی حمایت باوجود بی جے پی کو ۶۱ ہزار ووٹ سے چت کردیا۔ ۔ ایسے میں عوام نے تو ۱۴ میں سے ۱۲ مرتبہ بی جے پی پر اپنے عدم اعتماد کا اظہار کرچکے ہیں ۔ اب اگر ایوان پارلیمان میں بی جے پی ایک مرتبہ اپنی عزت بچانے میں کامیاب  بھی ہوجائے تو کون سی بڑی بات ہے۔  اس صورتحال  میں شیوسینا کے ادھو ٹھاکرے کا یہ کہنا کہ ؁۲۰۱۹  میں بی جے پی کو کم از کم ۱۰۰ تا ۱۱۰ نشستوں کا خسارہ ہوگا  درست معلوم ہوتا  ہے۔

آسمان کی جانب دیکھ کر چلنے والے ہر خاص عام کو  جب ٹھوکر لگنے پر زمین نظر آتی ہے۔ عام آدمی کے گرنے کی خبر نہیں بنتی لیکن جب کوئی خاص آدمی گرتا ہے تو خاص خبر بن جاتی ہے۔ گورکھپور سے قبل ۱۱ مرتبہ بی جے پی ضمنی انتخابات میں  ٹھوکر کھاکر گری لیکن ایسی خبر نہیں بنی لیکن کا فائدہ ہوا۔ یوگی جی کو اچانک  یاد آگیا کہ وہ ہندو ضرور ہیں لیکن یوپی میں سارے مذاہب کے پیروکاروں کے وزیراعلیٰ ہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگردعوت دی  جائے تو وہ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے  مسجد بھی جائیں گے ؟ یوگی ادیتیہ ناتھ ایک فرد کی حیثیت سے اسلام کی دعوت کے اسی طرح  مستحق ہیں جیسا کہ کوئی اور ہوسکتا ہے لیکن وزیراعلیٰ کی حیثیت سے تو انہیں اپنی مسجد میں بلانے کی غلطی شاید ہی کوئی کرے؟ اس شکست کے بعد راج ٹھاکرے جیسے آرزومند سیاستدانوں نے بھی ’بی جے پی مکت‘ بھارت کا نعرہ لگادیا اور لوک جن شکتی پارٹی کے رام ولاس پاسوان نے تک بی جے پی کو مسلمانوں کے اندر اپنی شبیہ سدھارنے کی نصیحت کرڈالی۔ یہ آفاقی حقیقت ہے کہ جب برے دن آتے ہیں تو دشمنوں کے علاوہ دوست بھی  آنکھ دکھانے لگتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close