سیاست

صاحب! صرف بل نہیں، دل بھی بد لیے

جس سماج میں ایک طبقے کو اپنی عزت افزائی کے لیے لازماً کسی فریق کی جان ومال اور عزت وآبرو تک سے کھیلنا پڑ جائے وہاں کاغذ پر کیے گیے بڑے سے بڑے فیصلوں سےآخر کتنا فائدہ ہوسکتاہے؟

عبید الکبیر

گزشتہ دنوں کٹھوعہ اور اناؤ سمیت دیگر کئی مقامات پر معصوم بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات پر عوامی رد عمل کے پیش نظر مرکزی کابینہ نے ایک آرڈیننس صدر جمہوریہ کو پیش کیا۔اس کا مقصد تعزیرات ہند میں شامل، Evidence act , CRPC  اور POSCO act میں نظر ثانی اور ترمیم ہے۔اس کے مطابق اب 12 سال تک کی بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی پاداش میں سزائے موت کا نظم کیا جائے گا۔ مرکزی کابینہ کے اس اقدام کی مختلف حلقوں کی جانب سے پذیرائی ہورہی ہے۔سرکردہ شخصیات کا خیال ہے کہ مذکورہ تبدیلی انسداد جرائم کی جانب ایک بہتر پیش قدمی ہے جس سے جرائم کی شرح کو زیادہ سے زیادہ قانون کی گرفت میں لے کر کم کیا جا سکتا ہے۔ہمیں یاد ہے کہ اب سے 6 سال قبل دہلی میں ہوئے نربھیا معاملے کے بعد بھی ملک میں عوامی سطح پر ایسی ہی فضا بنی تھی جس کے بعد پارلیامنٹ میں گرماگرم بحث بھی ہوئی اور پھر Juvenile Justice   قانون میں ترمیم ہوئی جو 7 مئی 2015 کو لوک سبھا اور اس کے بعد 22 دسمبر 2015 کو راجیہ سبھا سے پاس ہوگیا۔جرائم کی روک تھام کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ہمیں زمینی سطح پر ان کے اثر و نفوذ کا جائزہ لیتے رہنا چاہئے۔ ہمارا عام مشاہدہ اور اس حوالے کی معلومات جو کچھ بیان کرتی ہیں وہ بہت افسوس ناک اور باعث تشویش ہے۔

عجیب بات ہے کہ جس وقت مذکورہ بل پر کاروائی جاری تھی اسی اثنا میں کئی ایک واقعات اور رونما ہوئے۔ اس موضوع پر گفتگو کے مختلف پہلو اپنائے جاتے ہیں  اور جاتے رہے ہیں۔ مختلف عقائد وافکار، تہذیب وثقافت کی پیروی کرنے والی عظیم اکثریت کی رائے اور انداز نظر کا مختلف ہونا یقیناً کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔تاہم جب ہم سبھوں کا مقصود انسداد جرائم ہی ہے تو ہمارے حق میں بہت مفید ہوگا کہ  اس حساس مسئلے کو پوری سنجیدگی سے حل کرنے کی جانب مثبت اقدامات کیے جائیں۔ یہ بات تسلیم کیے جانے کے لائق ہے کہ قانونی چارہ جوئی جرائم کی روک تھام کے سلسلے میں کوئی ایجابی افادیت عموماً نہیں رکھتی۔ قانون ( بشرطیکہ ) اس کے تقاضوں کی رعایت کے ساتھ ملزم کا جرم ثابت کرکے اسے کیفر کردار تک پہنچایا جائے تو اس سے عبرت تو حاصل ہو سکتی ہے لیکن یہ آئیندہ کے لیے انسداد جرم کی قابل اطمینان ضمانت فراہم نہیں کرتا۔انسانی سماج کی تاریخِ میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ اخلاقی حس کے بغیر نرا قانون کتنا موثر ہے اس  کو امریکہ میں رونما ہونے والے ایک دلچسپ واقعہ سے سمجھا جا سکتا ہے۔

امریکی ریاست کے شہر اسپارٹنبرگ سے شائع ہونے والےHerald Journal   نے  مورخہ 17 دسمبر 1976 کی اشاعت میں An Old Wives’ Tale  کے عنوان سے جان ڈی لافٹن کا ایک مضمون شائع کیا۔صاحب مضمون کا مقصد یہ بتانا ہے کہ سزائے موت سے جرائم کی شرح میں کوئی واقعی کمی نہیں ہوتی، چنانچہ لکھتے ہیں "برطانیہ میں جن دنوں جیب کتروں کو سزائے موت دی جاتی تھی، تواسی دوران کچھ  جیب کترے  سزائے موت کو دیکھنے کے لیے اکھٹا ہونے والی بھیڑ کی جیبیں صاف کرجاتے تھے”اسی مضمون میں آگے چل کر وہ اسکول آف لا ء نیو یارک کے صدر شعبہ کی بات نقل کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ "اگر موت کی سزا جرائم کو روکنے میں معاون  ثابت ہوتی تو اٹھارویں صدی کے برطانیہ  کا شمار جرائم سے پاک جنتوں میں ہوتا جہاں بچوں کو صرف روٹی کا ٹکڑا چرانے کے جرم میں موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا تھا”۔اسی میں اگلی بات جو اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے وہ ڈاکٹر شموئل جانسن کی رائے میں یہ ہے کہ، اس زمانے میں جب جیب کتروں کے گروہ کا کوئی مجرم برسر عام سولی دیا جاتا تھا تو یہی موقع دوسرے جیب کتروں کے لیے بسا غنیمت ہوتا جس میں وہ اپنا کاروبار بڑے آرام سے کرتےتھے۔

در اصل نوع انسانی کی زندگی مجموعی طور پر جس قسم کے انفرادی اور اجتماعی معاملات سے گھری ہوئی ہے اس کے تناظر میں ایک فرد کو جرم سے روکنے میں صرف قانون کا ڈر یا سہارا غالباً مفید نہیں ہے۔اگر ایسا ہوتا تو یقیناً صورت حال وہ  نہ ہوتی جس کا تصور بھی کسی سلیم الطبع شخص کے لیے ہولناک اور گھناؤناہے۔ ہماری سماجی زندگی ایک کل ہے جس کا ہر ہر جز کسی نہ  کسی شکل سے آپس میں ایک مناسب توازن کے ساتھ مربوط ہے۔ چنانچہ اگر ان میں ہم آہنگی پیدا نہ کی جائے تو لازماً ٹکراؤ کی صورت پیدا ہوگی جس کے نتائج بہر حال ہماری مرضی کے پابند نہیں ہوں گے۔

اس حقیقت کو خواہ ہم تسلیم کریں یا اپنی اپنی سمجھ اور اپچ کے مطابق ملمع سازی سے کام لیں ایسے نتائج کبھی بھی برآمد نہیں ہوں گے جن کو ہمارا ضمیر آسانی سے قبول کر لے۔یہ بات کتنی چشم کشا ہے کہ ایک ہی وقت میں جب جرم کو مذہب سے جدا کرکے صرف انسانیت کی نظر سے دیکھا اور دکھایا جارہا تھا کچھ لوگ اسی جرم کو نہ صرف جواز فراہم کررہے تھے بلکہ بعض لوگوں نے تو اسے ایسا رخ دیا کہ وزیر اعظم تک کو زبان کھولنی پڑگئی۔ظاہر ہے کہ جس سماج کےخرقہ پوش طبقے تک کی ذہنیت میں جذبات کی آلودگی کا یہ عالم ہو اس  کے اخلاقی حس پر ماتم ہی کیا جانا چاہئے۔اب ذرا گرد وپیش کے اس ماحول میں نظر کیجیے جس میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ تعلیم، تہذیب، تاریخ وآثار اور فنون لطیفہ یہ وہ عوامل ہیں جن کے سائے  میں ہماراشعوری اور اخلاقی وجود پروان چڑھتا ہے۔ اس ضمن میں گھر سے لے کر دفتر تک اور اسکول سے لیکر سینما تک  جو فضا قائم کی گئی ہے کیا اس میں کسی قسم کے اصلاح کی ضرورت نہیں ہے۔کسی قسم کی مذہبی رنگ آمیزی کے بغیر بھی ہم دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ یہ چیزیں کس تیزی کے ساتھ ہماری اخلاقی حس کو کچلتی  چلی جارہی ہیں۔ہم ایسی فلمیں دیکھ   کر اور دکھا کر خوش ہورہے ہیں جن میں تاریخ کو صرف اس مقصد کے لیے بھی کو غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ فلاں قوم کے سربرآوردہ شخص نے فلاں قوم کی غیرت کو کچھ اس انداز میں پامال کیا تھا۔کیا یہی وہ قومی ورثہ ہے جس کا ہم نسل نو کو امین بنانا چاہتے ہیں۔ فکر وشعور کی  صلاحیتوں کو بد قسمتی سے جو غذا فراہم کی جارہی ہے اس میں اپنی عفت کا کوئی واضح تصور موجود نہیں ہے چہ جائے یہ کہ کسی دوسرے کی عزت کو کوئی مقام حاصل ہو۔

خلاصہ یہ ہے کہ جس سماج میں ایک طبقے کو اپنی عزت افزائی کے لیے لازماً کسی فریق کی جان ومال اور عزت وآبرو تک سے کھیلنا پڑ جائے وہاں کاغذ پر کیے گیے بڑے سے بڑے فیصلوں سےآخر کتنا فائدہ ہوسکتاہے؟ارباب  حل وعقد کو اس پہلو پر ضرور اپنی عنان توجہ منعطف کرنی چاہئے۔ایسے معاملات میں اصلاح و تدبیر کے پہلو کو یکسر نظر انداز کرکے صرف تعزیری شکنجہ پر ساری توجہ مرکوز کردینا کوئی ایسا کارنامہ نہیں ہے جسے ہم حصولیابی سے تعبیر کرنے میں خود کو حق بجانب سمجھیں۔ قانون  کو ثبوت وشواہد کی فراہمی کے لیے جن مراحل سے گذرنا پڑتا ہے اس میں مظلوموں کی حوصلہ شکنی اور ظالموں کی راہ فرار آسان ہوتی جاتی ہے۔ اس کے برعکس اخلاقیات کا دائرہ وسیع بھی ہے موثر بھی ہے جس کی وجہ سے عام حالات میں صرف ضمیر کی ملامت کا خوف ہی بڑے بڑے جرائم کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ ہمیں اپنے سماج میں ایسے اقدار کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جس میں انسانیت سوز نفسیات یا تو جنم ہی نہ لیں یا کم از کم ان میں پنپنے کی جرئات آسانی سے پیدا نہ ہونے پائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close