سیاست

صدر کا خطبہ: اندر اور باہر

حفیظ نعمانی

یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے کہ پارلیمنٹ کی تشکیل کے بعد مشترکہ اجلاس سے صدر جمہوریہ جو خطاب کرتے ہیں اس میں ایک لفظ بھی صدر کا نہیں ہوتا بلکہ وہ حکومت کا تیار کیا ہوا خطبہ ہوتا ہے جسے صدر محترم اپنی زبان اور اپنی آواز دے دیتے ہیں ۔ لیکن مودی سرکار سے پہلے پڑھے گئے خطبوں میں حکومت کے منصوبوں کے اشارے تو ہوتے تھے لیکن اتنے کھلے الفاظ میں ہر بات نہیں کہی جاتی تھی جیسے الیکشن میں ووٹوں کیلئے تقریر کی جارہی ہے۔ گذشتہ برسوں میں بھی پاکستان کی طرف سے لشکر طیبہ اور جیش محمد کے تیار کئے ہوئے کشمیر کی سرحد پر لڑکے دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے رہے اور ہمارے جوانوں کی گولیوں سے کتوں کی موت مرتے رہے۔ گذشتہ پانچ سال میں یہ سلسلہ نہ بہت بڑھا ہوا کہا جائے گا اور نہ بہت کم۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دہشت گردی کی شکل میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اس اعلان کے ساتھ ہوتا ہے کہ جان دینے اور جان لینے والی جو حرکتیں ہوتی ہیں وہ صرف اس لئے ہوتی ہیں کہ ہندوستان نے کشمیر کو اپنے قبضہ میں لے لیا ہے جبکہ وہ آزاد کشمیر ہے جس کا کوئی تعلق نہ پاکستان سے ہے نہ ہندوستان سے۔

مودی سرکار سے پہلے ہندوستانی فوج نے سرجیکل اسٹرائک کیا یا نہیں اس زمانہ میں حکومت کی طرف سے اس کا ذکر نہیں آیا۔ مودی سرکار کے زمانہ میں پاکستان کے مقبوضہ کشمیر میں گھس کر سرجیکل اسٹرائک کی تفصیل سننے کو ملی اور جب پاکستان نے کہا کہ کچھ بھی نہیں ہوا تو ہندوستان نے جو کیا تھا اسے دکھایا کہ گولے پھٹ رہے ہیں اور دہشت گرد بھاگ رہے ہیں۔ اسی طرح پلوامہ حادثہ کے بعد یہ مشہور کیا گیا کہ جیش محمد نے ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ پھر اس کے بعد ایک دن یہ خبر مشہور ہوئی کہ ہندوستان کی ایئرفورس نے رات کو ساڑھے تین بجے بالاکوٹ کے دہشت گردی کیمپ پر حملہ کردیا۔ سوشل میڈیا نے ہوائی اُڑا دی کہ مسعود اظہر کے کیمپ پر ہندوستان نے حملہ کردیا اور تین سو تربیت پانے والے مار دیئے۔ مرکزی وزیر ایس ایس اہلووالیہ نے تردید کی کہ کوئی حملہ نہیں ہوا سوشل میڈیا کی اُڑائی ہوئی خبر کو ہی ملک کے ایک چینل نے لے لیا اور اس نے ساڑھے تین سو ماردیئے۔ پاکستان نے صبح سے ہی تردید شروع کردی کہ کچھ بھی نہیں ہوا۔ سوشل میڈیا کی شہرت سن کر دنیا کے دوسرے رپورٹر آئے اور دیکھا کہ کچھ نہیں ہوا۔ بعد میں وزیردفاع نے بھی تردید کی اور وزیر خارجہ نے یہاں تک کہا کہ ہم نے ہدایت کی تھی کہ کسی شہری کو نہیں پاکستان کے کسی فوجی کو بھی نہ مارا جائے۔ اور کئی وزیروں نے کہا کہ ہم بس یہ دکھانا چاہتے تھے کہ ہم اگر چاہیں تو پاکستان کے اندر گھس کر مارسکتے ہیں۔

یہ واردات ہرگز ایسی نہیں تھی کہ صدر کے خطبہ میں اسے اس طرح بیان کیا جائے جیسے مودی جی الیکشن میں ووٹ لینے کیلئے بیان کرتے تھے صدر صاحب نے کہا کہ ہندو دہشت گردی اور نکسلزم سے نمٹنے کیلئے مؤثر اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ اور یہ صدر صاحب کے منھ سے اس لئے اچھا نہیں لگا کہ سرجیکل اسٹرائک اور ایئر اسٹرائک کا تعلق تو صرف پاکستان سے ہے جس کی حیثیت اب یہ ہے کہ ہمارا ایک صوبہ بھی اس پر حملہ کردے تو وہ کوشش کرے گا کہ کوئی جنگ بند کرادے۔ رہا نکسلزم تو وہ ہمارے گھر کے اندر ہیں اور پاکستان سے کہیں زیادہ اپنے فوجیوں کی جان لے چکے ہیں ۔ اور ڈوب مرنے کی بات ہے کہ جب ہماری حکومت چھتیس گڑھ میں یا مہاراشٹر میں سڑک بنانا چاہتی ہے تو وہ درجنوں گاڑیوں کو اُڑا دیتے ہیں اور فوجیوں کی لاشیں گرادیتے ہیں اور ہماری حکومت کچھ نہیں کرپاتی۔ صرف اس لئے کہ اندر کی بات یہ ہے کہ نکسلیوں کی مدد چین کررہا ہے اور ہماری حکومت جو پاکستان کو تو دن میں چار دفعہ گھونسہ دکھاتی ہے لیکن چین کا ذکر آتا ہے تو ہاتھ جوڑ لیتی ہے۔

اگر صدر محترم سے کوئی معلوم کرے کہ پاکستان میں تو دوسرے ملک میں گھس کر مارنا پڑتا ہے اور نکسلی یا ماؤوادی جو اپنے گھر میں بیٹھے ہیں وہاں کتنی مرتبہ سرجیکل اسٹرائک اور ایئر اسٹرائک کی اور کتنی مرتبہ تین سو اور ساڑھے تین سو مارے؟ اور نہیں مارے تو کیوں نہیں مارے؟ وہ ملک جہاں سے ساڑھے تین بجے صبح مختلف ایئربیس سے 12 میراژ 2000  جنگی طیاروں نے اُڑان بھری 3:35  پر طیاروں نے کنٹرول لائن پار کی 3:45  پر جیش بالا کوٹ تباہ 3:48  پر مظفر آباد کا دہشت گردی لانچ پیڈ نیست و نابود 4:6  منٹ کے آپریشن کے بعد ہندوستانی طیارے واپس آئے۔ یہ وہ خبر ہے جو سرکاری طور پر میڈیا کو دی گئی اور ہر اخبار میں چھپی۔ اور جب بین الاقوامی میڈیا نے چھان بین کے بعد کہا کہ چوہا بھی پاکستان کا نہیں مرا تو مرکزی وزیر ایس ایس اہلووالیہ نے صفائی دی کہ اس حملہ کا مقصد انسانی ہلاکتیں نہیں تھا بلکہ پاکستان کو صرف یہ پیغام دینا تھا کہ ہندوستان پڑوسی ملک کے اندر بھی گھس کر کارروائی انجام دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت یا وزیراعظم نے اب تک یہ نہیں کہا کہ حملے میں کتنے آدمی ہلاک ہوئے بلکہ میڈیا اور سوشل میڈیا غیرمصدقہ اعداد و شمار پھیلا رہا ہے۔ اور پھر کئی وزیروں نے یہی بات دہرائی اس کے بعد بھی ایسی فرضی خبر کو صدر کی خبر بنوانا کیا ان کی بے عزتی نہیں ہے؟

صدر نے فرمایا کہ موجودہ لوک سبھا میں آدھے ممبر نئے ہیں اور اس کے بعد یہ بھی بتایا کہ کس کس پیشہ کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن ان کا ذکر نہیں ہے جن کے پاس انگریزی میں خط آتا ہے تو جواب دیتے ہیں کہ ہمیں انگریزی نہیں آتی اور وہ بھی ہیں جو سات برس جیل میں کاٹ کر بیماری کے بہانے ضمانت پر آئی ہیں اور ہر ہفتہ عدالت میں حاضری دیں گی اور وہ بھی ہیں جو حلف لے کر مندر وہیں بنے گا کا نعرہ لگاتے ہیں اور مسلمان کو دیکھ کر وندے ماترم اور جے شری رام کے نعرے لگاتے ہیں ۔ اور وہ دو تہائی الگ ہیں جو کروڑ پتی ہیں جن میں وہ بھی ہیں جو 40  کروڑ الیکشن میں لٹاکر آیا ہے۔ اور اب یہ سب مل کر ملک کو نچوڑیں گے۔ اور حکومت کا ہاتھ ان کے سر پر رہے گا صدر محترم نے کہا کہ طلاق ثلاثہ اور حلالہ کے خاتمہ پر تعاون کریں تاکہ بہن اور بیٹیوں کے حقوق مساوی بن سکیں ۔ اس طرح کے جملے ہیں جو چغل خوری کررہے ہیں کہ صدر صاحب جو کہہ رہے ہیں ان سے کہلایا جارہا ہے۔ ورنہ جب پاس ہوکر ان کے پاس جائے گا تو وہ اپنا فرض ادا کریں گے ہی۔ لیکن صدر سے اپیل کرانا شاید مناسب نہیں ہو۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close