سیاست

صرف تین صوبوں کی جیت سے بدہضمی!

حفیظ نعمانی

ملک کی آزادی کے ساتھ ساتھ گروپ بندی بھی ملک کو تحفہ میں ملی۔ حکومت کے بنتے ہی معلوم ہوگیا کہ کانگریس کا ایک گروپ سردار پٹیل کو وزیراعظم بنانا چاہتا تھا اور گاندھی جی نے نہرو کو بنوا دیا۔ ناتھو رام گوڈسے نے جو کیا وہ اسی گروپ بندی کا مظاہرہ تھا۔ اور پھر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پورے ملک میں کانگریس دو خانوں میں بٹ گئی۔ اترپردیش میں پنڈت گووند ولبھ پنت کو وزیراعلیٰ بنانا صرف پٹیل گروپ کا دباؤ تھا۔ اگر پنت جی وزیراعلیٰ نہ بنتے تو بابری مسجد شہید نہ ہوتی۔

نومبر اور دسمبر میں ہونے والے پانچ ریاستوں کے الیکشن میں راہل گاندھی کو اچھی طرح معلوم تھا کہ مدھیہ پردیش میں سندھیا نے بے انتہا محنت کی ہے۔ اس کے باوجود سینئر لیڈر کمل ناتھ کو وہاں بھیجا اور وہاں کی گروپ بندی کو توڑکر ایک کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسی طرح راجستھان میں گہلوت کا اپنا ایک حلقہ تھا لیکن جس پائلٹ نے راجستھان میں زمین آسمان ایک کردیا اس کے برابر میں گہلوت کو کھڑا کردیا۔ یہ وہ کام تھا جو بہت پہلے کرنے کا تھا راہل گاندھی نے جو کچھ کیا یہ ان کی کم عمری ہے۔ وہ آگ اور پانی کو اس وقت ایک کررہے ہیں جب دونوں نے اپنی اپنی زمین بنالی ہے۔ اسی طرح چھتیس گڑھ کا مسئلہ ہے کہ جب اندازے اور قیاس کے گھوڑے دوڑ رہے تھے تو ہم نے وہاں کے سنجیدہ کئی آدمیوں سے سنا کہ کانگریس اس وجہ سے ہار سکتی ہے کہ اس کے پاس کوئی چہرہ نہیں ہے اور جب نتیجہ آگیا تو کئی چہرے اس دعوے کے ساتھ سامنے آگئے کہ وہ پندرہ سال سے کانگریس کو زندہ کئے ہوئے ہیں۔

ضرورت اس کی ہے کہ کانگریس کی اس بیماری کو جیسے بھی ہو ختم کیا جائے یہ تین ریاستیں اس لئے کانگریس کو نہیں ملیں کہ وہ عوام کی پسند ہے بلکہ اس لئے ملیں کہ دوسری کوئی علاقائی پارٹی ان صوبوں میں ایسی نہیں تھی جیسی یوپی میں سماج وادی پارٹی یا بی ایس پی یا بنگال میں ترنمول وغیرہ مایاوتی، اکھلیش یادو اور اجیت سنگھ تینوں اترپردیش کے تھے ان کے مقابلہ پر سب نے کانگریس کو بہتر سمجھا اور اس لئے بہتر سمجھا کہ دوسرا کوئی حکومت نہیں بنا سکتا تھا۔

وزیراعظم نریندر مودی یہ تو برداشت کرسکتے ہیں کہ ملک برباد ہوجائے لیکن یہ برداشت نہیں کرسکتے کہ کانگریس واپس آجائے۔ اور کانگریس ہی وہ اکیلی پارٹی ہے جو پورے ملک کی گاڑی کو گھسیٹ سکتی ہے۔ یہ الگ بات ہے دوسرے باہر سے اس کی مدد کریں۔ لیکن کانگریس میں یہ جو گروپ بندی کی لعنت ہے یہ صرف اس صورت میں ختم ہوسکتی ہے کہ پائلٹ اور سندھیا جیسے فولادی اعصاب کے جوان جسے اپنا بنائیں اسے میرا اور تیرا نہ ہونے دیں بلکہ وہ کانگریس کا ہو۔ اور یہ اپنے چاہنے والوں کو سمجھائیں کہ چھوٹے سے صوبہ کا وزیراعلیٰ بنانے کے بارے میں مت سوچو پورے ملک کے بارے میں سوچو۔ جس دن پورے ملک پر حکومت ہوگی ہر محنت کرنے والے کو اس کی محنت کا دس گنا پھل ملے گا۔

آزادی سے پہلے کانگریس کا تنظیمی الیکشن ہوا کرتا تھا صوبائی کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ممبر کی وہ حیثیت ہوتی تھی جو بعد میں ایم ایل اے کی ہوتی تھی۔ آزادی کے کئی برس کے بعد اترپردیش ورکنگ کمیٹی اور صوبائی صدر کا الیکشن ہورہا تھا۔ مقابلہ سی بی گپتا اور منیشور دت اُپادھیائے کے درمیان تھا سمپورنانند وزیراعلیٰ تھے وہ منیشور دت اُپادھیائے کو لڑا رہے تھے ایک دن انہوں نے کہہ دیا کہ اگر گپتاجی جیت گئے تو میں استعفیٰ دے دوں گا۔ ان کے اس اعلان سے الیکشن سنجیدہ ہوگیا اور آخرکار تین ووٹوں سے گپتاجی جیت گئے۔ سمپورنانند پنڈت نہرو کے پاس گئے کہ اب کیا کروں؟ انہوں نے کہا کہ جب کہہ چکے تو جاکر استعفیٰ دے دو۔ اور اس طرح انہوں نے استعفیٰ دیا اور سی بی گپتا وزیراعلیٰ بھی بن گئے لیکن اس کے بعد یہ ہوا کہ تنظیمی الیکشن ختم ہوگئے اور سب کام دہلی سے ہونے لگے۔

اگر کانگریس 2019 ء کا الیکشن حکومت بنانے کے لئے لڑنا چاہتی ہے تو جہاں وہ بہت کمزور ہے وہاں ایک سیٹ پر بھی نہ لڑے اور جہاں جہاں علاقائی پارٹیاں صرف حاضری کیلئے الیکشن لڑتی ہیں وہاں ان سے معاہدہ کرنا چاہئے کہ وہ سنجیدگی سے کانگریس کی حمایت کریں۔ مہاراشٹر، تمل ناڈو جیسی ریاستوں میں اپنی اپنی پارٹی کا ڈھول بجانے کے بجائے وہاں دیکھیں کہ سیکولر ذہن کے لیڈر کون کون ہیں وہ اگر کہیں تو کانگریس کو کھڑا کریں نہیں تو وہاں جاکر ان کی مدد کریں۔ اس لئے کہ ہر جنگ کے دو مقصد ہوتے ہیں ایک یہ کہ مخالف کو ہرانا ہے اور دوسرا یہ کہ اپنی حکومت بنانا ہے پانچ ریاستوں میں سے مودی جی کو ایک بھی نہ ملنا اتنا بڑا حادثہ ہے کہ شاید وہ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ اور نتیجہ دو بڑی ریاستوں کا ایسا ہے کہ کان کے پاس سے گولی نکل گئی یعنی ایک یا دو سیٹوں سے جیت اس کا اعلان ہے کہ قادر مطلق نے بی جے پی کو سزا دی ہے۔ یہ بات ہر آدمی جانتا ہے کہ بہت بڑی جیت یا بہت بڑی ہار کے مقابلہ میں چھوٹی ہار سے ہارنے والا کلیجہ پکڑکر رہ جاتاہے اور سب ایک دوسرے پر الزام رکھتے ہیں کہ تم نے یہ نہ کیا ہوتا تو اور تم نے یہ کیا ہوتا تو۔

یہ بات کوئی نہیں بتا سکتا کہ وزیراعظم نریندر مودی اب اپنی ان غلطیوں کو سدھاریں گے جن کی وجہ سے انہیں یہ دن دیکھنا پڑے یا اور زیادہ سخت رویہ اپناکر انتقام لینے کے بارے میں سوچیں گے؟ یہ بات کہی جارہی ہے کہ مودی جی پورے ملک کے کسانوں کا قرض معاف کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ اگر وہ یہ قدم اٹھاتے ہیں تو یقیناًفائدہ ہوگا لیکن تینوں ریاستوں میں جو راہل گاندھی نے سینہ ٹھونک کر کہا ہے کہ میں گارنٹی کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ اگر حکومت بنی تو دس دن میں قرض معاف ہوجائے گا گیارہواں دن نہیں لگے گا۔ وہ یہ رقم کہاں سے لائیں گے یہ وہ جانیں لیکن اگر کسان مایوس ہوئے تو کانگریس کی فتح کا سلسلہ بھی رُک جائے گا۔ انہیں ہر وہ وعدہ پورا کرنا ہے جو انتخابی منشور میں انہوں نے کیا ہے۔ وہ زمانے گئے جب لوگ بھول جاتے تھے کہ کس نے کیا وعدہ کیا تھا۔ اور مودی جی کی ہار وعدہ خلافی کا ہی نتیجہ ہے۔

آخری بات یہ ہے کہ تین ریاستوں میں وزیراعلیٰ کی کرسی کے لئے جو بھونڈی رسہ کشی ہوئی ہے اس نے جگ ہنسائی کا موقع دے دیا ہے۔ کانگریس کے لیڈر ملک کے سب سے بڑے حکمراں سے ٹکرانے چلے تھے اور جب جیت گئے تو کرسی کے لئے لڑنے لگے۔ جبکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ صوبہ جیت کر اپنے صدر کے قدموں میں ڈال دیتے اور وہ وزیراعلیٰ کی کرسی دیتے تو واپس کردیتے کہ بڑی کرسی لیں گے۔ صرف ڈھائی ریاستوں کی جیت پر پوری کانگریس کو بدہضمی ہوگئی۔ ملک میں حکومت سے جنگ تیسری جنگ عظیم کے برابر ہے وہ مودی اور وہ امت شاہ جو 25 برس حکومت کرنے کے منصوبے بنائے ہوئے تھے کیا وہ تین زخم کھاکر راہل گاندھی کو معاف کردیں گے؟ کانگریس کو جتنی متحد ہونے کی آج ضرورت ہے کبھی نہیں تھی اور وہ منتشر ہوئی تو کوئی رونے والا بھی نہ ہوگا۔ سب نے جب کہہ دیا کہ فیصلہ راہل جی کریں گے تو پھر یہ ضد کیوں کہ فیصلہ ہمارے حق میں کیا جائے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close