سیاستہندوستان

ضمنی انتخاب: کٹ گئی پتنگ اڑ گئے طوطے

اتر پردیش کے اسمبلی انتخاب میں زبردست کامیابی درج کرانے کے بعد   یوگی ادیتیہ  ناتھ جیسے ناتجربہ کار اور خود سر   کے ہاتھوں میں اقتدار  کی باگ ڈور سونپ دینا خودکشی کے مترادف حرکت  تھی۔

ڈاکٹر سلیم خان

چندر گپت موریہ اگر راج پاٹ کرنے کے بجائے  ودیش میں پتنگ اڑا نے لگے  اور ان کا چانکیہ ارتھ شاستر لکھنے کے بجائے انرتھ کرنے لگے تو وہی ہوگا ہے جو ضمنی انتخابات میں ہوا۔ پتنگ کٹ گئی اور سمراٹ دیکھتے رہ گئے۔  مانجا ٹوٹ مگر گرودیو پھرکی لپیٹے رہے۔ ان نتائج  کا مختصر ترین تجزیہ یہ ہے کہ سنگھ پریوار نے اقتدار کی ہوس میں ایک نااہل فرد کو وزیراعظم بن جانے کا موقع دیا  اس لیے کہ اسے بولنے  کا فن آتا تھا اور وہ سرمایہ داروں کی آنکھوں کا تارہ  تھا۔ سنگھ کو توقع رہی ہوگی کہ وہ اپنے پردھان سیوک  کو اپنی مٹھی میں بند کرکے خفیہ ایجنڈا نافذ کریں گے لیکن مودی جی نے بڑی چالاکی سے  ہندوتوا کو مودیتوا میں بدل دیا  نیزاپنی  ساری حماقتوں کا ٹھیکرا سنگھ پریوار کے سر پھوڑ دیا۔ اس طرح تقریباً سوسالوں کے اندر سنگھ پریوار نے جو خوبصورت خواب اپنے بھکتوں کو دکھائے  تھے وہ ٹوٹ پھوٹ کر  چکنا چور ہوگئے۔ مودی جی نے ۴ سالوں کے اندر سنگھ کا پول کھول کر اس کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا تو کانگریس ۷۰ سالوں میں بھی نہیں پہنچا سکی۔  اب یہ آسیب اس قدر دیوہیکل ہوگیا ہے کہ بھاگوت جی  بھی اس کے آگے بے بس ہے۔

 مودی جی نے اپنے اقتدار کے نشے میں چور بغض معاویہ سے مغلوب ہوکر  سنگھ سے بھی بڑی غلطی کردی۔ اتر پردیش کے اسمبلی انتخاب میں زبردست کامیابی درج کرانے کے بعد   یوگی ادیتیہ  ناتھ جیسے ناتجربہ کار اور خود سر   کے ہاتھوں میں اقتدار  کی باگ ڈور سونپ دینا خودکشی کے مترادف حرکت  تھی۔ اس  کا نتیجہ وقفہ وقفہ سے سامنے آرہا ہے۔ کل یگ کا یہ بجرنگ بلی  لنکا دہن (نذر آتش) کے بجائے ایودھیا نگری کو جلاکر راکھ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ انتخابی نتائج بیماری نہیں علامات ہیں  جو پہلے پھولپور اور گورکھپور میں ظاہر ہوتے ہیں تو کبھی  کیرانہ اور نور پور اس کا اعادہ ہوا۔ یوگی جی نے ناکامیوں کی  ہیٹرک  ہی  نہیں چوکا لگا دیا اور  گیند چار ٹپےّ کھا کر باونڈری سے باہر چلی گئی۔ اب مودی جی کی بھلائی اس میں ہے کہ آئندہ قومی انتخاب سے قبل یوگی جی کی  بلی چڑھا دیں  اور سنگھ پریوار مودی جی کو گھر بھیج دے ورنہ آئندہ سال یرقان زدہ  زعفرانی کمل  مرجھا جائے  گا۔

ویسے تو ۴ پارلیمانی حلقوں  میں سے صرف ایک میں  بی جے پی کی کامیابی اور۱۱ صوبائی اسمبلی کی نشستوں  میں سے ۱۰ پر شکست   خود اپنے آپ میں  شرمناک ہے مگر یہ ایک طویل سلسلے کی کڑی ہے۔ امسال کل ۲۸ مقامات پر ضمنی انتخابات ہوئے جن میں بی جے پی کا کمل صرف ۳ مقامات پر کھلا۔ لوک سبھا کے دس ضمنی انتخابات میں سے   بی جے پی کو صرف ایک جگہ کامیابی ملی اور اس نے خود اپنے ۶ ارکان گنوائے اس کے برعکس کانگریس نے دو نشتیں بی جے پی سے چھین لیں اور دو کانگریس کے حامی بھی کامیاب ہوئے جبکہ  بی جے پی کاصرف ایک حامی الیکشن جیت سکا۔ دیگر علاقائی جماعتوں نے چار مقامات پر فتح کا پرچم لہرایا اور ان کی قوت میں  ۳ کا اضافہ  ہوا۔ ۱۸ صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہوئے  ان میں سے  بی جے پی کو ۲ پر کامیابی ملی اور دو اس کے ہاتھ سے نکل گئیں۔ ان کی حامی جماعتوں نے بھی  اپنی ایک سیٹ گنوائی۔ یہ تینوں نشستیں علاقائی جماعتوں کے قبضے میں چلی گئیں۔ کانگریس نے اپنے ۶ اور اس کے حامی جماعتوں نے ۴ مقامات پر اپنا قلعہ بچائے رکھا۔ اس طرح کل ملاکر اس سال انڈین پولیٹیکل لیگ (آئی پی ایل) ٹورنامنٹ  کے ۲۸ میچوں میں سے بی جے پی نے تین اور اس کے حامیوں نے ایک میچ جیتا۔ کانگریس نے ۸ اور اس کے حامیوں ۶ میں  کامیابی حاصل کی اور دیگر علاقائی جماعتوں نے ۹ میچ اپنے نام کیے۔ یہ  شاہ جی کے کانگریس مکت بھارت کا  اس سال کا اسکو ر کارڈ ہے۔

 انحطاط کا یہ سلسلہ  مودی جی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے جاری ہے۔ ؁۲۰۱۴ میں ۵ پارلیمانی انتخابات ہوئے تھے جن میں سے ۲ پر بی جے پی کو اور ۳ پر علاقائی جماعتوں کو کامیابی ملی تھی لیکن کسی کا کوئی نقصان نہیں ہوا تھا گویا مودی لہر کے اثرات باقی تھے۔ ؁۲۰۱۵ میں بی جے پی کو پہلا جھٹکا لگا جب مدھیہ پردیش میں  اس کی ایک سیٹ پر کانگریس نے ترنگا لہرا دیا۔ ؁۲۰۱۶ میں بی جے پی سنبھل گئی اور اس نے دو نشستوں پر کامیابی درج کرائی نیز اس کا ایک حامی بھی جیت گیا جبکہ دومقامات پر علاقائی جماعتیں کامیاب ہوئیں۔ ؁۲۰۱۷ سے بی جے پی کے زوال کا آغاز ہوا۔ ۴ نشستوں میں سے اس کو یا اسکی حامی جماعتوں کو ایک بھی کامیابی نہیں ملی بلکہ ان لوگوں نے اپنی ایک ایک سیٹ گنوادی۔ اس میں سے ایک کانگریس اور ایک علاقائی جماعت کے قبضے میں چلی گئی۔ اس طرح اب نئی صورتحال میں ایوان پارلیمان کے اندر بی جے پی واضح اکثریت پر سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا۔ اس کے ۸ ارکان پارلیمان شکست فاش سے دوچار ہوکر میدان سے باہر ہوچکے ہیں۔ اب  ملک میں خالص بی جے پی کی نہیں بلکہ  حقیقی معنی میں  این ڈی اے کی سرکار بن گئی ہے۔

بی جے پی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کا کام وہی کسان کریں گے جنہوں اس کو سارے ہندوستان میں شکست فاش سے دوچار کیا ہے۔ کاشتکاروں نے حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں کے خلاف  یکم تا ۱۰ جون تک ملک گیر مظاہروں  کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران شہروں کو اناج، دودھ، پھل اورسبزی کی فراہمی روکی  جائے گی۔ پنجاب، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور راجستھان سمیت کئی ریاستوں کے کسان اس احتجاج میں شامل ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ملک کے ۲۲ صوبوں کی ۱۳۰ کسان تنظیموں نے اس ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اگر کسان ایسے ہی اڑے رہے تو آنے والے ۱۰ دنوں میں کھانے پینے کی چیزوں کے دام آسمان چھو سکتے ہیں۔ ان کسانوں نے ملک کے مختلف حصوں میں دودھ ٹینکر راستوں پر کھول دیئے اور پھلوں کو سڑکوں پر پھینک دیا۔ گئو ماتا کے پوتر دودھ کے ساتھ یہ اہانت آمیز سلوک  مودی جی سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ مودی جی کو اپنے آخری سال میں یہ احتجاج مہنگا پڑ سکتا ہے۔ راجناتھ سنگھ نے ان انتخابی نتائج پر نہایت دلچسپ تبصرہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑی چھلانگ لگانے کے لیے دو قدم پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ یہ درست بات ہے۔ بی جے پی والے دو قدم پیچھے ہٹ کر ہمالیہ کی چوٹی پر چڑھ گئے ہیں اور اب ان لی لمبی چھلانگ سیدھے بحر ہند میں ہوگی جہاں وہ غرقاب ہوجائیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Close