سیاست

طارق انور کا استعفیٰ: ایک سیاسی چال

آپ کی الزام تراشی ،  آپ کا استعفیٰ  شردپوار اور این سی پی پر ایک گہری چوٹ ہے۔

خالد سیف الدین

راشٹروادی کانگریس پارڈی کے سینئیر قائد و ممبر آف پارلیمنٹ طارق انور نے پارٹی رُکنیت اور ایم پی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ استعفیٰ کی وجہ رافیل ڈیل پر پارٹی صدر شردپوار کا وزیر اعظم نریندرمودی کی حمایت میں بیان کو گردانا جارہا ہے۔ جبکہ شردپوار نے اس ڈیل کے پس منظر میں نہ تو کسی کی حمایت کی ، نہ کسی کو کلین چٹ دی اور نہ ہی کسی کا دفاع کیا ہے۔ شردپوار ماضی میں مرکزی وزیر برائے دفاع رہ چکے ہیں اور اُنکو یہ پتہ ہے کہ محکمہ دفاع میں رازداری رکھنا ایک اہم جز ہے۔ اسی کے پیش نظر انہوں نے اپنے بیان میں صاف طور پر یہ کہا کہ وزیرات دفاع رافیل ڈیل کے تحت جو لڑاکوں طیارے خریدنے جارہا ہے ان طیاروں کی تکنیکی تفصیلات فراہم نہیں کی جاسکتی بلکہ اس سودے میں طئے شدہ رقم اور ہونے والے اخراجات کے بابت معلومات حاصل کرنے کا حق ملک کے ہر شہری کو ہے۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے شردپوار نے مزید کہا کہ اس ڈیل میں وزیر اعظم کی منشا ء پر شک نہیں کیا جاسکتا۔ ہو سکتا ہے شردپوار کا یہ جملہ طنزیہ ہو، اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بات کرنے کا انداز ہر انسان کا الگ اور منفرد ہوتا ہے۔

بات اس وقت بگڑی جب شاطرامت شاہ نے اس بیان پر ٹویٹ کرتے ہوئے شردپوار کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس ڈیل کی حمایت کی امت شاہ کا منشاء مہاگٹھ بندھن میں پھوٹ ڈالنا تھا لیکن وہ اس مقصد میں کامیاب ہوئے ہیں اور نہ ہی ہو سکیں گے۔ آج ہمارے ملک میں غیر اعلان شدہ ایمرجنسی کے حالات ہیں ملک کی سب سے بڑی اقلیت ، دلت اور آدیواسی سماج صبرآزما دور سے گزررہاہے۔ 2019  ؁ء کے جنرل الیکشن میں یہ تمام پریشان حال قومیں اپنے ووٹ بطور نظرانہ سیکولر پارٹیوں کی جھولی میں ڈال دینگی یہ تمام سیکولر پارٹیاں مہا گٹھ بندھن کی شکل میں ان ووٹوں کی سوغات کو حاصل کرنے کا سنہری موقع کیونکر گنوانا چاہے گی؟

مہا گٹھ بندھن میں شامل تمام پارٹیوں کے نظریات، ترجیہات اور طریقہ کا ر جداجدا ہونے کے باوجود الیکشن سے قبل یہ تمام پارٹیاں ان پر حل تلاش کرتے ہوئے آگے بڑھیگی۔ اس وقت کا سیاسی منظر نامہ وہی ہے جو 1977  ؁ء کا  تھا  اور اس کا حل بھی وہی ہے جو اُس وقت روبۂ عمل لایا گیا تھا۔ 2019 ؁ء کے جنرل الیکشن کے نتائج ظاہر ہونے تک کانگریس کی جانب سے وزیراعظم کے عہدے کیلئے دعوہ پیش نہ کرنے کا اعلان بھی گٹھ بندھن کیلئے مفید ثابت ہوگا؟۔ طارق انور جو کہ راشٹروادی کانگریس پارٹی کے ایک اہم ستون تھے،  25-05-1999 کو جب این سی پی وجود میں آئی تب شردپوار،  پے۔ ایے سنگھا اور طارق انور ہی اس نئی پارٹی کے بنیادی رکن اور بانیان تھے۔

1999 ؁ء  اور  2004؁ء  کے جنرل الیکشن میں طارق انوربہار کی کٹھیار لوک سبھا سیٹ ہار گے۔ شردپوار نے انھیں 2004 ؁ء  میں مہاراشٹر اسمبلی سے راجیہ سبھا کیلئے منتخب کروایا جس کی وجہ سے اُنکا پارلیمنٹ میں داخلہ ممکن ہوسکا۔ راجیہ سبھا کیلئے دوبارہ انکو مہاراشٹر اسمبلی سے 2010 ؁ ء میں منتخب کروایا گیا۔ طارق انور این سی پی کی جانب سے دس برسوں تک راجیہ سبھا کے ممبر بنے رہے۔ بہار کی کٹیھار لوک سبھا سیٹ سے 1977؁ء  سے 2014 ؁ء  کے درمیان طارق انور نے جملہ 9   الیکشن لڑے جن میں چاردفہ وہ فتح یاب رہے اور 5   مرتبہ الیکشن ہار گئے۔ طارق انور بحیثیت ممبر راجیہ سبھا اور لوک سبھا پچھلے 15  ؍  پندرہ برسوں سے پارلیمنٹ میں این سی پی کی نمائندگی کرتے ہوئے مرکز ی حکومت میں وزارت کے عہدے پربھی فائز تھے۔   استعفیٰ دینے کے باوجود انھوں نے شردپوار کے اس احسان کا شکر یہ ادا کیا۔       پھر؟   یہ الزام تراشی اور استعفیٰ کیوں ؟

نتیش کمار ، لالو پرساد یادیو اور کانگریس نے تمام تر رُکاوٹوں کے باوجود 2015 ؁ء میں بہار اسمبلی الیکشن ایک جوٹ ہوکر لڑا اور کامیابی حاصل کی۔ 2017؁ء میں نتیش کمار کی بی جے پی سے اچانک قربت نے اس گٹھ بندھن کو زبردست جھٹکا دیا ، لالو اور نتیش علیحدہ ہوگئے۔ نتیش کمار نے بی جے پی کی مدد سے دوبارہ اپنی حکومت بنالی۔ اس کا راست اثر بہار کی عوام پر پڑا ،  عوام  نتیش سے ناراض ہوگئی۔ لالو پرساد کے بیٹے تیجسوی پرساد یادو نے حسب مخالف کا جھنڈا اُٹھالیا ، تیجسوی کی شعلہ بیانی بہار کی عوام پر اثر انداز ہونے لگی اور گذشتہ دو برسوں میں آر جے ڈی کے ساتھ ساتھ کانگریس کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے، جو طارق انور کے حلقہ انتخاب کٹیھارپر بھی اثرانداز ہورہی ہے۔ بہار میں اس وقت لالو پرساد یادو کی پارٹی آرجے ڈی  اور کانگریس دو جسم ایک جاں کی طرح ہوچکے ہیں۔ بہار میں کانگریس نے لالو پرساد یادو کی قیادت کو مان لیا ہے۔

طارق انور کا حلقہ انتخاب کٹیھار ، کانگریس کے قد آور لیڈر مولانا اسرار الحق قاسمی کے حلقہ انتخاب کشن گنج سے لگا ہوا ہے۔ مولانا اسرارالحق قاسمی صاحب گذشتہ دو انتخابات سے باآسانی کشن گنج سے منتخب ہورہے ہیں۔ پچھلے 10   برسوں میں مولانا اسرارالحق صاحب کی سادگی اور زبردست عوامی رابطہ کی بناء پر کشن گنج  کانگریس کا ایک مضبوط قلعہ بن گیا ہے ، ضعیف العمری کی وجہ سے ہوسکتا ہے کہ مولانا اسرارالحق قاسمی صاحب 2019؁ء میں لوک سبھا عام انتخابات میں حصّہ نہ لیں !  یہاں پر یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ 2019  ؁ء کے الیکشن سے قبل طارق انور صاحب کو خود کی بقاء کی خاطر کانگریس میں شمولیت کرنا لازمی ہوگیا تھا۔ اگر حضرت مولانا اسرارالحق قاسمی صاحب کشن گنج سے الیکشن نہیں لڑتے تو پھر کشن گنج کی محفوظ سیٹ جہاں 1957 ؁ء سے 2014 ؁ء  تک صرف ایک مرتبہ 1967؁ء میں ایل ایل کپور MP  منتخب ہوئے تھے باقی ماندہ تمام الیکشنس میں کشن گنج پارلیمانی حلقہ سے مسلم نمائندہ ہی منتخب ہوتا رہا ہے۔ ہوسکتا ہے جناب طارق انور صاحب کشن گنج سے انتخاب لڑنے کا منصوبہ بنارہے ہو،  یا پھر اگر ہمیشہ کی طرح وہ کٹیھار حلقہ سے ہی الیکشن لڑتے ہیں تو بھی کانگریس اور آر جے ڈی کی وجہ سے انکی جیت یقینی ہوجاتی ہے۔

طارق انور نے اچانک استعفیٰ نہیں دیا۔ بلکہ اُنکی یہ سوچی سمجھی چال تھی۔ بنیادی طور پر وہ اپنی طالب علمی کے زمانے سے ہی محترمہ اندراگاندھی اور کانگریس سے متاثر ہیں ، وہ اپنی سیاسی زندگی کے ابتدائی 25  سالوں تک کانگریس کا حصّہ رہے اور اسی پارٹی کے ٹکٹ پر کٹیھار سے تین مرتبہ لوک سبھا کیلئے منتخب بھی ہوئے اور ہم یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر کوئی کانگریسی وقتیہ طور پر کانگریس پارٹی چھوڑ بھی دیتا ہے تو پھر کچھ عرصہ بعد گھوم پھر کر کانگریس پارٹی کو دوبارہ رجوع کرلیتا ہے۔ این سی پی سے استعفیٰ دیتے ہی کانگریس اور آر جے ڈی نے طارق انور کو کھلے عام اپنی اپنی پارٹی میں شمولیت کی دعوت دے دی ہے۔ اب رہی بات یہ کہ جب آپ کو این سی پی سے استعفیٰ ہی دینا تھا تو آپ نے شردپوار کے بیان کو توڑ مروڑ کر کیوں پیش کیا؟ آپ کے لئے  استعفیٰ دینے کا سہی وقت 2014 ؁ء میں تھا جب مہاراشٹر اسمبلی اتخابات کے بعد مہاراشٹر این سی پی یونٹ نے مہاراشٹر میں بی جے پی کو حکومت سازی میں ضرورت پڑنے پر تائید کرنے کا اعلان کیا تھا تب تو آپ مصلحتََ خاموش رہے۔ گذشتہ 19   سالو ں میں بہار این سی پی یونٹ نے سوائے ایک پروگرام کے قومی سطح پر کوئی دوسرا پروگرام نہیں لیا۔ این سی پی یونٹ بہار گذشتہ 19  سالوں سے خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے۔ شردپوار کی قیادت میں این سی پی نے ملک کے تمام ریاستوں میں اپنی شناخت بنائی تھی ، آپ پارٹی میں شردپوار کے بعد دوسری اہم حیثیت رکھتے تھے  این سی پی کے ستون کہلاتے تھے۔ لیکن۔۔ وہ آپ ہی ہیں جن کی وجہہ سے آج  این سی پی  آسام ،  بہار،  یو پی،  اڑیسہ،  ہماچل پردیس،  اتراکھنڈ  اور دیگر ریاستوں میں اپنے وجود کی جنگ لڑرہی ہے۔ پارلیمنٹ میں اگر آپ کی گذشتہ چار سالہ کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو افسوس ہوتا ہے کہ نہ  تو آپ نے ماب لینچنگ، شریعت میں موجودہ حکومت کی مداخلت اور نہ ہی مسلمانوں ، دلتوں اور آدیواسیوں پر ہورہے دیگر مظالم کے خلاف پارلیمنٹ میں سوال اُٹھائے اور نہ بحث میں حصّہ لیا، جبکہ این سی پی کی سپریہ سولے ایم پی نے ان مضوعات پر پارلمنٹ پر جارحانہ رویہ اختیار کیا تھا۔

آپ کی الزام تراشی ،  آپ کا استعفیٰ  شردپوار اور این سی پی پر ایک گہری چوٹ ہے۔ این سی پی کے قدآور لیڈران آپ کے احترام میں خاموش ہیں جبکہ آپ کے اس رویہ سے این سی پی کے تما م کارکنان دل برداشتہ ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close