سیاست

طارق انور کا تاریخی فیصلہ

حفیظ نعمانی

شرد پوار اس وقت کانگریس سے الگ ہوگئے تھے جب سونیا گاندھی کانگریس کی صدر بنی تھیں۔ پوار انہیں غیرملکی اور عیسائی سمجھتے تھے۔ شرد پوار نے اپنی الگ پارٹی بنالی تھی۔ وہ ذاتی طور پر سیکولر کبھی نہیں رہے 1993 ء میں ممبئی میں جو مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور ان سے ممبئی کو خالی کرانے کی مہم شروع ہوئی تو کہا جاتا ہے کہ بعض مسلمان لڑکوں نے بم دھماکے کئے جس میں 260  ہندو مرگئے۔ اس کی اتنی ہیبت ہوئی کہ فساد رُک گیا۔ اس وقت شرد پوار اور سونیا گاندھی کی مشترکہ حکومت تھی اور شرد پوار ممبئی میں رہنے کی وجہ سے معاملات پر حاوی تھے انہوں نے بم دھماکوں کی تحقیقات سی بی آئی کے سپرد کردی تاکہ مسلمانوں کو جتنی سخت سے سخت سزا دی جاسکتی تھی وہ دی جائے اور مسلمانوں کو ایک جج کی چھپی ہوئی رپورٹ دے دی کہ اسے اوڑھو بچھائو یا اس کی جانماز بنالو۔

شرد پوار کے دل میں بی جے پی کے لئے ہمیشہ نرم گوشہ رہا ہے وہ تو سیکولرازم کا نام بھی نہ لیتے لیکن بال ٹھاکرے نے شیوسینا بناکر ان سب کو اپنے ساتھ ملا لیا جو بھی مہاراشٹر مراٹھوں کے نعرہ پر ان کے پرچم کے نیچے جمع ہوسکتے تھے۔ شرد پوار کے پاس اس کے بعد ایک ہی راستہ بچا تھا کہ وہ کانگریس میں واپس آجاتے یا اپنی الگ پارٹی بنا لیتے اور انہوں نے نیشنل کانگریس بنالی۔ انہوں نے کانگریس سے اتحاد بھی کیا اور جب مہاراشٹر اسمبلی کے الیکشن میں بی جے پی کو شیوسینا نے آنکھیں دکھائیں تو انہوں نے مودی جی کے سامنے اپنا کاندھا پیش کردیا کہ آپ کی حکومت کو جب ضرورت ہوگی ہم کاندھا دے دیں گے۔ رافیل جنگی جہازوں کا مسئلہ کوئی ہندو مسلم مسئلہ نہیں ہے اور نہ سیکولرازم اور کمیونلزم کی لڑائی ہے۔ بلکہ یہ ملک کی سا  لمیت سے کھلواڑ اور اندھے کی طرح ریوڑی بانٹنا ہے۔

جب سابق حکومت نے 126  جہازوں کی بات کی تھی جس میں زیادہ تعداد ان کی تھی جنہیں اپنے ہی ملک میں بنانا تھا۔ اور ایک جہاز کی قیمت طے ہوگئی تھی تو یہ موجودہ حکومت کا حق تھا کہ وہ فرانس سے جہاز خریدنے کے بجائے روس سے خریدے اور ایک جہاز کی جو قیمت منموہن سرکار دے رہی تھی اس سے زیادہ دی جائے۔ لیکن یہ بات اعتراض کی ہے کہ وہی جہاز خریدے جائیں اور ان کی زیادہ قیمت دی جائے اور اس کی دیکھ بھال اس کمپنی سے کرائی جائے جو پندرہ دن پہلے صرف اس لئے بنی ہے کہ اس کمپنی کے نام پر امبانی کے چھوٹے بیٹے انل امبانی کو ایک بڑی رقم دے دی جائے۔

وزیراعظم کی دیانت پر رافیل سے پہلے نہ ہم نے قلم اٹھایا اور نہ کسی اور نے انگلی اٹھائی۔ ان کے نوٹ بندی کے فیصلہ کے جو برے اثرات ہوئے اس پر لکھا اور خوب لکھا اور دوسروں نے کہا بھی کہ یہ سارا کھیل اپنے آدمیوں کے کالے دھن کو سفید کرنے کے لئے کھیلا گیا لیکن ہم نے یا طارق انور نے مودی جی کی نیت پر شبہ نہیں کیا ان کے طریقہ کار پر ضرور حملہ کیا ہم نے جی ایس ٹی پر بھی دل کھول کر حملے کئے اور اس کے ذریعہ حکومت کا خزانہ بھرنے کا اور کاروباریوں کو تباہ کرنے کا الزام لگایا لیکن ان کی ایمانداری پر جملہ نہیں کسا۔ لیکن انل امبانی کے لئے انہوں نے اپنی برسوں کی تپسیا کو بھنگ کردیا اور یہ الزام بھی لگنے کی فکر نہیں کی کہ کوئی ان کو چور کہے گا کوئی امبانی نواز۔ اور وہ جو اپنی پہلی انتخابی مہم میں 400  ریلیوں میں شرکت کے لئے جو اُڑن کھٹولے استعمال کرتے رہے ان کا خرچ وہ اب ادا کررہے ہیں اور اس لئے کررہے ہیں کہ اگلا مرحلہ 2019 ء کا ہے جس کے لئے انہیں نظر آرہا ہے کہ

اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

راہل گاندھی برابر کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم نے 100  سرمایہ داروں کو مالا مال کردیا۔ خیال یہ ہے کہ یہ وہ ہوں گے جن کا 2014 ء کا قرض ادا کیا ہوگا اب 2019 ء میں دائو لگانے کیلئے ان سب کا تیار ہونا آسان نہیں ہے۔ سب دیکھ رہے ہیں کہ زندگی کے ہر شعبہ میں مخالفت ہورہی ہے۔ اور شرد پوار جیسے سیاسی سوداگر اب وزیراعظم کے بچائو میں آرہے ہیں۔ ایسے میں مودی جی اپنے بچائو کے لئے امبانی خاندان کو نواز رہے ہیں۔

طارق انور نے جو فیصلہ کیا وہ آسان نہیں تھا ہم برسوں سے انہیں جانتے ہیں وہ ایک چھوڑ ایک پکڑ والے لیڈر نہیں ہیں اور بہار میں صرف ان کے دم پر ہی شرد پوار کا نام لینے والے تھے۔ یقین ہے کہ انہوں نے جتنا سمجھانا ضروری سمجھا ہوگا سمجھایا ہوگا لیکن وہ اب شیوسینا کی بے رُخی کی وجہ سے بی جے پی کے ساتھ مل کر شاید الیکشن لڑیں۔ بہرحال یہ انہوں نے اچھا کیا کہ بنیادی رُکنیت کے ساتھ لوک سبھا سے بھی استعفیٰ دے دیا اب وہ ملک کیلئے قربانی دے کر آئے ہیں اس لئے ہر پارٹی انہیں اپنے ساتھ ملا لے گی۔

طارق انور نے کہا ہے کہ بوفورس سودے کے معاملہ میں بی جے پی نے سب سے زیادہ زور جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی سے انکوائری کرانے کی مانگ کی تھی اور اب جب اس کے وزیراعظم پھنسے ہیں تو وہ کیوں بھاگ رہی ہے؟ اور یہی اس کا ثبوت ہے کہ دال میں کالا نہیں بہت کالا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close