سیاست

ظلم یا دہشت گردی کی سرکوبی ضروری ہے

عبدالعزیز
اس وقت دہشت گردی کا جرم مسلمانوں کے سر تھوپا جارہا ہے اور ساری دنیا میں جو مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھائے جارہے ہیں اسے اہل باطل ظلم بھی کہنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اسلام دنیا میں سارے مذاہب کے مقابلے میں انسانی جان کا سب سے زیادہ احترام کرتا ہے اور جو لوگ انسانوں کے درپے ہوتے ہیں انھیں پریشان کرتے ہیں۔ خوف و دہشت سے کام لیتے ہیں ان کو اسلام، مسلمان یا اہل ایمان میں شمار کرنے کیلئے بھی تیار نہیں ہے۔ اسلام کی تعلیم ہے کہ ’’نیکی پھیلاؤ اور برائی مٹاؤ، حق وانصاف کے علمبردار بنو، حق کے گواہ بنو‘‘۔ اگر کوئی نیکی کے بجائے برائی پھیلاتا ہے ، حق و انصاف کے بجائے بدامنی اور ناانصافی کا علمبردار ہے، حق کی گواہی پیش کرنے کے بجائے جھوٹ اورباطل کی سرگرمیوں یں ملوث ہے تو اس کا اسلام سے کیا تعلق ہے؟ اگر کسی شخص کا مسلمانوں جیسا نام ہے ، اس کے ماں باپ مسلمان ہیں، وہ مسلم معاشرہ میں رہتا ہے، اس کی وجہ سے اس کی ساری خباثتیں مسلمانوں اور اسلام کے نام پر لکھ دی جائیں تو کیا یہ انصاف کہا جائے گا؟
جن تنظیموں کا نام دہشت گردی کیلئے مشہور ہے وہ تنظیمیں مسلمانوں کا کیا بھلا کام کر رہی ہیں؟ کیا وہ تنظیمیں مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن اسرائیل سے قوت آزمائی کر رہیں ہیں؟ وہ ساری کی ساری تنظیمیں تو مسلم ملکوں میں سرگرم عمل ہیں۔ زیادہ تر تو وہ مسلمانوں کو قتل و خون سے لت پت کرنے میں منہمک ہیں۔ عراق، شام، افغانستان ، پاکستان یہ سب مسلم ممالک ہیں۔ آئے دن یہاں دہشت گرد بم بازی سے سیکڑوں مسلمانوں کو ہلاک کر رہے ہیں۔ پاکستان میں تو پاکستانی فوج بھی ہزاروں مسلمانوں کو دہشت گردی کے نام پر ہلاک یا برباد کر رہی ہے۔ یہ ساری طاقتیں جو مسلمانوں کے نام پر سرگرم عمل ہیں یہ سب مسلمانوں کی تباہی و بربادی کے درپے ہیں۔
ہندستان میں دہشت گردی میں جس کا نام سب سے آگے ہے وہ آر ایس ایس ہے۔ ملک کی عدالتوں میں اس تنظیم سے تعلق رکھنے والوں پر 18 مقدمات زیر سماعت ہیں۔ مہاراشٹر پولس کے سابق آئی جی مسٹر ایس ایم مشرف نے اپنی کتاب میں اعداد و شمار کے ذریعہ ثابت کیا ہے کہ ہندستان کی سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس ہے۔ آج تک نہ ان کے بیان پر کسی نے چیلنج کیا اور نہ ان کی کتاب پر کسی نے حرف گیری کی بلکہ بعض غیر مسلم دانشوروں نے ان کی کتاب کے مواد کی روشنی میں عدالتوں میں مقدمہ دائر کیا ہے کہ جو لوگ دہشت گردی میں ملوث ہیں ان تنظیموں پر انگشت نمائی کیوں نہیں کی جاتی اور ان کو عدالت کے کٹہرے میں کیوں نہیں کھڑا کیا جاتا؟
بنگلہ دیش میں چند سر پھرے لڑکوں نے جن کا مسلمانوں جیسا نام ہے معصوموں اور بے قصوروں کے خون سے ہولی کھیلی۔ ساری دنیا چیخ پڑی۔ چیخ پڑنا بھی چاہئے کیونکہ یہ سراسر ظلم ہے۔ وحشت ہے، دہشت گردی ہے مگر اُسی ملک میں حکومت نے چھ سات افراد کو خانہ ساز ٹریبونل بناکر چالیس سال پہلے کے بے بنیاد الزام ان کے سر ڈال کر انھیں پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا اور ہزاروں نوجوانوں سے جیلوں کو بھر دیا۔ دنیا خاموش رہی۔ جہاں نہ پریس آزاد ہے نہ جماعتیں آزاد ہیں، نہ کوئی حکومت کی بے راہ روی اور ظالمانہ روش کے خلاف آواز بلند کرسکتا ہے۔ پورا ملک قید خانہ بنا ہوا ہے۔ ایسی جیل کی حمایت اور تائید ہورہی ہے۔ ہمارے ملک کی ایمرجنسی کی سیاہ رات کو آج تک لعنت و ملامت کی جاتی ہے مگر بنگلہ دیش کی غیر اعلانیہ سیارہ رات کو محض اس لئے برداشت کیا جارہا ہے کہ ظلم ان لوگوں پر کیا جارہا ہے جو اسلام کے نام لیوا ہیں۔ وہاں کی حکومت ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے جو تسلیمہ کے بھائی بہن ہیں جو مطالبہ کرتے ہیں کہ اسلام پسندوں کو عمر قید کی کیوں سزا دی گئی۔ انھیں پھانسی کے پھندے میں لٹکایاجائے۔ حکومت ان کے اجتماع کی سرپرستی کرتی ہے۔ ان کے اجتماع میں پانی کی بوتلیں اور کھانے اور ناشتے کے پاکٹ پہنچاتی ہے۔ اس کی تشہیر کیلئے کفر پسند میڈیا پر انعام و اکرام کی بارش کرتی ہے۔ ہمارے ملک کی میڈیا نے بنگلہ دیش کی ایک ہندو لڑکی کے قتل ہونے پر خوب خوب آنسو بہائے ، بہانا بھی چاہئے کیونکہ ایک کا قاتل سب کا قاتل ہوتا ہے جس کسی نے بھی ایک عورت یا مرد کو ناحق قتل کیا اس نے ساری انسانیت کو قتل کر دیا۔ وہ ساری انسانیت کا قاتل اور دشمن ہے۔ اسے انسان کہنا یا حیوان کہنا بھی گناہ ہے مگر اسی ملک میں تیس تیس چالیس چالیس گاؤں آسام اور اتر پردیش میں محض تہس نہس کر دیئے جاتے ہیں۔ گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے مگر گجرات کے نظم و نسق پر قابو نہ پانے والے کو بعض لوگوں کے خیال سے بلوائیوں اور فسادیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی وجہ سے اہل ملک کی ایک تعداد آر ایس ایس کی رہنمائی میں اسے پورے ملک کے نظم و نسق کی ذمہ داری سونپ دیتی ہے جس کی ذمہ داری اور قیادت میں روزانہ مسلمانوں کو گالیاں دی جاتی ہیں۔ حرامی، حرام زادہ کہا جاتا ہے۔ انھیں ملک سے باہر جانے کا دروازہ دکھایا جاتا ہے۔ انکے کھانے پینے کی چیزوں پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔ انھیں سوریہ نمسکار، یوگا اور جے بھارت ماتا کہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ان کو گھر واپسی کے نام پر ہندو بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لوگوں کو لو جہاد کے نام پراکسایا جاتا ہے تاکہ مسلمانوں کا جینا حرام ہوجائے۔ یہ سب دہشت گردی، ظلم و زیادتی نہیں تو کیا ہے؟
مسلمانوں کو ظلم و زیادتی اور دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کیلئے دل و دماغ کی پوری طاقت سے اٹھ کھڑا ہونا چاہئے جو بھی جس نام کا بھی ہو اس کے ظلم اور دہشت گردی کی نہ صرف مخالفت کرنی چاہئے بلکہ اسے اپنی انفرادی اور اجتماعی کوششوں سے ختم کرنا چاہئے۔ جن لوگوں نے مسلمانوں جیسا نام رکھ کر دہشت گردی کی دکان کھول رکھی ہے جس کی حوصلہ افزائی استعماری طاقتیں کر رہی ہیں انھیں کسی قیمت پر برداشت کرنا نہیں چاہئے کیونکہ وہ کام تو بڑی طاقتوں کا انجام دے رہی ہیں اور ان سے اسلام اور مسلمان بدنام ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں پر میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔ آج بھی میری یہی رائے ہے کہ مسلمانوں کے یہ سب سے بڑے دشمن ہیں۔ انسانیت کے یہ سب سے بڑے ظالم ہیں۔ انسانیت اور انصاف کے ایسے دشمنوں پر مسلمانوں کو ہر وقت لعنت و ملامت کرنے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ ان کے خلاف صف آرا ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ان کو اپنی سرکشی اور شرپسندی کرنے کا موقع نہ ملے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close