سیاستہندوستان

عالمی یوم صحافت اور ہندوستانی میڈیا:سیاں جھوٹوں کا بڑا سرتاج نکلا!

نہال صغیر

تین مئی کو اقوام متحدہ کی جانب سے منایا جانے والا عالمی یوم صحافت پر ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں آزادی اظہار رائے اور جمہوری ہونے کا دعویٰ کرنے والے ممالک میں صحافت کی آزادی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ امریکہ برطانیہ وغیرہ آزادی صحافت کی رینکنگ والے 180 ممالک کی فہرست میں اول اور دوم پوزیشن میں ہونگے لیکن ان کا نمبر بھی تینتالیسواں اور چالیسواں ہے ۔خیر ہم اس بات سے بحث کرنے کی کوشش کریں گے کہ آزادی صحافت کے سلسلے میں ہمارا (ہندوستان ) کا رخ کیا ہے ۔اس سے پہلے ایک بار یہ دیکھ لیں کہ بدترین بدحالی اور خلفشار کا شکار پاکستان 2016 کے مقابلے آٹھ پوائنٹ کی بہتری کے ساتھ 2017 میں 139 ویں مقام پر آگیا جبکہ وہ 2016 میں 147 ویں مقام پر تھا۔

ہندوستان تین پوائنٹ کی گراوٹ کے ساتھ2017 میں 136 پر آگیاجبکہ 2016 میں ہندوستان پریس کی آزادی میں دنیا بھر کے 180 ممالک کی فہرست میں 133 ویں مقام پر تھا ۔ہر اس ملک میں جہاں جمہوریت کو پختگی ملی ہوئی ہے اور یہ ممالک خود بھی اپنے آپ کو جمہوریت اور آزادی اظہار رائے کا چمپیئن سمجھتے ہیں وہاں اس سال یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ پریس کی آزادی کے معاملے میں ان کی قدر کم ہوئی ہے ۔جس میں امریکہ ،برطانیہ اور ہندوستان بھی شامل ہے ۔جبکہ پاکستان جو کہ ایک جمہوری مسلم ملک تو ہے لیکن وہ تشدد اور دہشت گردی کے عنوان سے بہت بدنام ہے وہاں پریس کی آزادی میں بہتری درج کی گئی ۔پاکستان کے بارے میں کئی سال قبل جانے مانے صحافی کلدیپ نیر نے لکھا تھا کہ وہاں میڈیا اور عدلیہ آزاد ہے ۔ایسا نہیں ہے کہ وطن عزیز میں میڈیا پر کوئی پابندی ہے ۔بظاہر ایسا کچھ نظر نہیں آتا ۔لیکن اندرون خانہ کچھ ایسے اشارے ہوتے ہیں جس سے میڈیا کی آزادی کا گلا گھونٹا جانا محسوس ہوتا ہے ۔زیادہ تر میڈیا ہائوسوں کو یا تو سرکاری اشتہار کے ذریعہ خرید لیا گیا ہے یا پھر ان کو اس سرمایہ دار نے اپنی ملکیت میں شامل کرلیا ہے جو حکومت کی جانب سے مراعات حاصل کرنے کیلئے کافی بدنام رہا ہے ۔حوالہ کیلئے یہ بتانا ہی کافی ہے کہ موجودہ حکومت نے گیارہ ارب سے زیادہ اشتہار پر خرچ کئے ہیں ۔

یوں تو میڈیا یعنی ذرائع ابلاغ کا شروع سے مشن رہا ہے عوام کو باخبر کرنے کا لیکن آجکل ملک میں ایسا ماحول پیدا کردیا گیا ہے کہ میڈیا عوام کو بے خبر بنا کر محض چند جذباتی اور غیر حقیقی نعروں میں الجھا کر حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کا کام کررہا ہے ۔ایسا نہیں ہے کہ یہ کام صرف ہندوستان میں ہورہا ہے ۔ایسا معاملہ پوری دنیا میں ہے ۔لیکن بات یہ ہے کہ بیرون ملک میں ہائوس کم از کم اپنے معیار سے نہیں گرتے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے یہاں کا میڈیا کا کوئی معیار ہی نہیں بچا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ کبھی باوقار مانا جانے والا پیشہ اب سب سے زیادہ بے وقار ہو گیا ہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میڈیا بھی ایک کاروبار بن گیا ہے ۔اس پر سرمایہ داروں کا قبضہ ہے اور سرمایہ دار اپنے مفاد میں ہی خبروں کی تشہیر کرتے ہیں یا اسے دبا دیتے ہیں ۔اگر ہم میڈیا کے ابتدائی دنوں میں بات کریں تو انیسویں صدی میں ہٹلر میڈیا کے تعلق سے اپنی سوانح میں لکھتا ہے کہ کس طرح یہودی سرمایہ داروں نے ملک کو جھوٹی خبروں اور پروپگنڈہ سے یرغمال بنا رکھا تھا ۔لیکن اب اس پر گفتگو نہیں ہوتی اگر گفتگو ہوتی ہے تو یہ کہ ہٹلر نے بڑے پیمانے پر یہودیوں کا قتل عام کیا کیوں کہ پوری دنیا کے میڈیا پر اب صرف یہودی ،برہمن اور ایران نواز وں کا قبضہ ہے ۔ اسی طرح اب ہمارے ملک کو میڈیا نے ہائی جیک کرلیا ہے ۔اس شور میں سچائی کہیں چھپ گئی ہے یا چھپا دی جاتی ہے اور عوام فرضی اور من گھڑت مسائل میں الجھ کر رہ گئے ہیں ۔حالیہ حکومت کے کئی احمقانہ فیصلوں ، جس سے عوام اور ملک کا دیوالیہ نکل گیا لیکن یہ صرف میڈیا کے جھوٹ کی ہی قوت ہے کہ ان مسائل سے عوام کے ذہنوں کو دوسری جانب موڑ کر بی جے پی اپنا سیاسی مفاد حاصل کررہی ہے ۔رویش کمار نے عالمی یوم صحافت پر ایک طویل مضمون لکھا ہے ۔اس میں انہوں نے میڈیا کے تعلق سے اس پرانے گانے کے ایک بول ’سیاں جھوٹوں کا بڑا سرتاج نکلا‘کاحوالہ دیا ہے جس کو ہم نے مضمون کا عنوان بنایا ہے ۔آج ہمارے ملکی میڈیا کی یہی حالت ہے ۔سادہ لوح تو میڈیا کے سحر میں گرفتار ہیں ہی لیکن جو باشعور طبقہ ہے وہ بھی مشکوک ہوجاتا ہے کہ شاید یہی سچ ہو ۔بعض باتیں بار بار لکھنا مناسب بھی نہیں لگتا کہ میڈیا کیا چھپا رہا ہے اور کیا لوگوں کے ذہنوں میں بو رہا ہے ۔

اوپر ہم نے ہلکا سا اشارہ تو کیا ہے کہ امریکہ و برطانیہ اور ہمارے یہاں کی صحافت میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔اسی لئے وہ ہم سے سو پوائنٹ سے زیادہ آگے ہیں ۔رویش کمار نے اپنے مضمون میں اس تعلق سے امریکی میڈیا کی ایک تنظیم ’امریکی پریس کور‘ کے ایک خط کا حوالہ دیاہے کہ اس نے نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو جو خط لکھا ہے رویش کمار کا کہنا ہے کہ ویسا خط یہاں کوئی لکھنے کی ہمت نہیں کرے گا ۔آپ بھی دیکھ لیں کہ امریکی صحافیوں کی تنظیم نے کس طرح سے ڈونالڈ ٹرمپ کو چیلنج کیا ہے ۔خط کا متن ہے ’’قابل احترام ،نومنتخب صدر صاحب ۔آپ کے دور صدارت کے شروع ہونے کے آخری دنوں میں ہم نے ابھی ہی صاف کردینا صحیح سمجھا کہ ہم آپ کی انتظامیہ اور امریکی پریس کے رشتوں کو کیسے دیکھتے ہیں ۔ہم مانتے ہیں کہ دونوں کے رشتوں میں تنائو ہے ۔رپورٹ بتاتی ہے کہ آپ کے پریس سکریٹری وہائٹ ہائوس سے میڈیا کے دفتروں کو بند کرنے کی سوچ رہے ہیں ۔آپنے خود کی خبر نگاری کیلئے کئی خبریہ تنظیموں کو بین کردیا ہے ۔آپ نے ٹیوٹر پر نام لے کر صحافیوں پر طعنے کسے ہیں ،دھمکایا ہے ۔اپنے مداحوں کو بھی ایسا کرنے کیلئے کہا ہے ۔آپنے ایک رپورٹر کا یہ کہہ کر مذاق اڑایا ہے کہ اسکی باتیں اسلئے اچھی نہیں لگی کہ وہ معذور ہے ۔

اپنی انتظامیہ تک رپورٹر کی پہنچ ختم کرنے غلطی کریں گے ۔ہم خبریں حاصل کرنے کے طرح طرح کے راستے کھوجنے کے ماہر ہیں ۔اپنی مہم کے دوران جن خبریہ تنظیموں کو بین کیا تھا ان کی کئی رپورٹ بہترین رہی ہے ۔ہم اس چیلنج کو قبول کرتے ہیں ۔صحافت کے قوانین ہمارے ہیں ،آپکے نہیں ۔ہم چاہیں تو آپکے افسران سے آف ریکارڈ بات کریں یا نہ کریں ۔ہم چاہیں تو آف ریکارڈ بریفنگ میں آئیں نہ آئیں ۔اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ رپورٹر کو چپ کرادینے یا بھگادینے سے اسٹوری نہیں ملے گی ،تو غلط ہے ۔ہم آپ کی رائے لینے کی کوشش کریں گے ۔لیکن ہم سچائی کو توڑنے مروڑنے والوں کو جگہ نہیں دیں گے ۔وہ جب بھی ایسا کریں گے ہم انہیں بھگا دیں گے ۔یہ ہمارا حق ہے ۔ہم آپ کے جھوٹ کو نہیں دہرائیں گے ۔آپ کی بات چھاپیں گے لیکن سچائی کا پتہ کریں گے ۔آپ اور آپ کا اسٹاف وہائٹ ہائوس میں بیٹھا رہے ،لیکن امریکی حکومت کافی پھیلی ہوئی ہے ۔ہم حکومت کے چاروں طرف اپنے رپورٹر تعینات کردیں گے ۔آپکی ایجنسیوں میں گھسادیں گے اور نوکر شاہوں سے خبریں نکال لائیں گے ۔ہو سکتا ہے کہ آپ اپنے انتظامی عمارت سے آنے والی خبروں کو روک لیں لیکن ہم آپ کی پالیسی کا تجزیہ کرکے دکھا دیں گے ‘‘۔

کسی صحافتی ادارے کی جانب سے ایسے سخت تیوروہ بھی منتخب اور دنیا کے سب سے طاقتور انسان کو دکھانے کی ہمت ہندوستان میں تو واقعی کوئی نہیں کرسکتا ہے ۔ہم آئے دن دیکھتے ہیں کہ کس طرح مودی بھکت اپنے ناقدین کا جینا دشوار کردیتے ہیں ۔حد تو یہ ہے کہ جو لوگ آج حکومت میں ہیں ان کے ہی کارندوں کے ذریعہ میڈیا ہائوسوں پر پتھرائو اور توڑ پھوڑ کرنے کا شاندار ریکارڈ رہا ہے ۔اب ان کی حکومت ہے تو اشتہار کے ذریعہ اور درپردہ مالی امدار اور دھونس و دھاندلی کے ذریعہ خاموش کردیا گیا ۔ایک آدھ ہی میڈیا ہائوس ایسا بچا ہے جو حکومت کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتا ۔وہ سوال کرتا ہے ۔لیکن حکومت کی چمچہ گیری کرنے والے میڈیا ہائوسوں اور صحافیوں کے شور میں ان کی آواز صدا بصحرا ثابت ہو رہی ہے ۔لیکن بہر حال ارنب گوسوامی،دیپک چورسیا جیسے صحافت کے کلنکوں کی بھیڑ میں رویش کمار اور وشو دیپک جیسے صحافی اندھیرے میں جگنو کی طرح اپنی جگمگاہٹ سے اپنی موجودگی کا احساس کراتے رہتے ہیں ۔یہ بتانے کیلئے کہ ہم مکمل اندھیرا نہیں ہونے دیں گے ۔ہر چند کے جھوٹوں کے اس شور میں ان کی آواز کوئی سنے یا نہیں سنے !

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close