سیاست

عام انتخابات 2019: امتحاں ہے تیری فراست کا، تیری دیانت کا

مولانا سید احمد ومیض ندوی

ملک عام انتخابات کے دہانے پر کھڑا ہے، ہر طرف انتخابی سرگرمیوں کا شور وغل ہے، مختلف سیاسی جماعتیں عوام رجھانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہیں، ۲۰۱۹ء کے یہ انتخابات انتہائی حساس ہونے کے ساتھ فیصلہ کن بھی ہیں، یہ انتخابات ملک کا مستقبل طے کرنے والے ہیں کہ آنے والے برسوں میں ہمارا ملک سیکولر اسٹیٹ رہے گا یا ہندو راشٹربن جائے گا، آیا یہ گاندھی اور نہرو کا ملک رہے گا یا مسولینی اور ہٹلر کا دیش بن جائے گا، نیز اس ملک کا سیکولر آئین محفوظ وبرقرار رہے گا یا اسے ٹھکانے لگادیا جائے گا، ویسے ملک کے تمام باشندوں کے لیے حالیہ انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ؛ لیکن مسلم اقلیت کے لیے ان کی حساسیت اور نزاکت دوچند ہوجاتی ہے۔

 ۲۰۱۴ء کے عام انتخابات کے بعد گذشتہ چار سالوں کے دوران ملک اور اس کی عوام جن حالات سے گزری وہ محتاج بیان نہیں ہیں، پچھلے چار برس ہندوستانیوں کے لیے سخت آزمائش کے تھے، اچھے دنوں کا وعدہ کرکے اقتدار حاصل کرنے والوں نے ملکی عوام کو جس جہنم میں پہونچا دیا تھا اس کے تصور ہی سے دل کانپ کر رہ جاتا ہے، ملک کے کچھ صنعت کاروں اور فرقہ پرست سیاسی قائدین کے لیے تو اچھے دن ضرور آئے؛ لیکن عام ہندوستانیوں کو قدم قدم پر مشکلات ہی کا سامنا کرنا پڑا، مہنگائی کی مار ہی کچھ کم نہ تھی، اس کے ساتھ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسی چیزوں نے رہی سہی کسر پوری کردی، لاء ان آرڈر کی بدترین صورت ِحال کا تو کیا کہنا، سارا ملک جنگل راج کا منظر پیش کررہا تھا، موب لنچنگ میں سیکڑوں بے قصور مارے گئے، گاؤ رکھشک کی درندگی انتہا کو پہنچ گئی، دنگا فساد کا سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا، حالیہ ہریانہ گڑگاؤں کا واقعہ تازہ مثال ہے، بی جے پی کے چار سالہ دور اقتدار میں ایسا لگ رہا تھا جیسے ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

 فرقہ پرست قوتیں ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنا چاہتی ہیں، گذشتہ چار برسوں میں ہندو راشٹر بنانے کے لیے صرف راہیں ہموار کی گئیں، حالیہ انتخابات میں اگر انہیں اکثریت حاصل ہوجاتی ہے تو وہ اپنے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے میں کسی طرح کی تاخیر نہ کریں گی، فرقہ پرست طاقتیں ہندوراشٹر کی منزل کی کس قدر قریب ہیں اس کا اندازہ اس تجزیہ سے لگایا جاسکتا ہے جو ملک کے ایک نامور ندوی فاضل مولانا خالد بیگ نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں کیا ہے، موصوف لکھتے ہیں :’’ملک کے موجودہ دستور اور قانون کے مطابق اس ملک کو ہندو راشٹر بنانا اتنا آسان نہیں ہے؛ لیکن ہمارے دستور کے آرٹیکل نمبر:368کے مطابق اگر اس دستور کو بدل کر ملک کو ہندو راشٹر بنانا ہو تو اس کی چار شرطیں ہیں :

 (۱)  ’’ہندو راشٹر کے قانون کو بل کی صورت میں لوک سبھا میں پیش کرنا ہوگا، اگر لوک سبھا کے کل 543ارکان میں سے دو تہائی یعنی 362ایم پی اگر بل کو پاس کردیں تو ہندو راشٹر کا بل لوک سبھا میں پاس ہوجائے گا، اس وقت لوک سبھا میں بی جے پی کے 334ایم پی موجود ہیں، اگر اس وقت ہندو راشٹر کے بل کو لوک سبھا میں پیش کیا جائے تو آسانی سے پاس ہوجائے گا۔

 (۲)  دوسری شرط یہ ہے کہ لوک سبھا کے بعد ہندو راشٹر کے بل کو راجیہ سبھا میں پیش کرنا ہوگا، راجیہ سبھا کے کل 245ایم پیز میں سے دو تہائی یعنی 164ایم پیوں نے اگر اس بل کو پاس کردیا تو ہندو راشٹر کا بل پاس ہوجائے گا؛ لیکن اس وقت راجیہ سبھا میں بی جے پی کے کل 84ایم پی ہیں، جس کی وجہ سے راجیہ سبھا میں ہندو راشٹر کا بل پیش نہیں ہوسکتا؛ لیکن ۲۰۲۲ء میں راجیہ سبھامیں بی جے پی کے دوتہائی ایم پی مکمل ہوجائیں گے۔

 (۳)  تیسری شرط یہ کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے بعد ہندوستان کی کل ۲۹؍ اسمبلیوں میں سے کم از کم ۱۵ ؍اسمبلیوں میں اس بل کو پاس کرنا پڑے گا، اس وقت ۱۵ ریاستوں میں بی جے پی حکومت موجود ہے، لہٰذا ہندو راشٹر لانے کے لیے اس شرط کو پورا کرنا بھی بہت آسان ہے۔

 (۴)  چوتھی شرط یہ کہ آخر میں اس بل کو صدر ہند کے سامنے پیش کیا جائے گا، اگر صدر ہند نے بھی اس بل کو پاس کردیا اور اس پر دستخط کردئے تو ہندو راشٹر کا بل پاس ہوجائے گا، اس وقت صدر ہند بھی انہیں کا ہے، اگر ۲۰۱۹ء کے انتخابات میں خدا نخواستہ یہ ظالم طاقتیں دوبارہ جیت گئیں اور انہوں نے مرکز میں پھر سے حکومت بنالی تو راجیہ سبھا میں بھی ان کے دو تہائی ایم پی آجائیں گے، پھر اس ملک کو ہندو راشٹر بنانے انہیں کوئی روک نہیں سکتا‘‘۔ اس تجزیہ سے واضح ہوجاتا ہے کہ فرقہ پرست طاقتیں ہندوراشٹر کی اپنی منزل سے زیادہ دور نہیں ہیں، اگر ملک خدانخواستہ ہندوراشٹر بن گیا تو یہاں مسلمانوں کا وہی حشر ہوگا جو حشر برما میں دیکھا گیا ہے، پھر نہ ملک میں الیکشن ہوگا اور نہ ہی کوئی سیاست میں قدم رکھ سکے گا، بی جے پی کے بعض ارکان نے اس کا اظہار بھی کیا ہے کہ ۲۰۱۹ء کے انتخابات ملک کے آخری انتخابات ہوں گے، ایسے میں نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ ملک کی ساری سیکولر عوام کو آنے والے انتخابات میں انتہائی دور اندیشی اور غیر معمولی دانشمندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، مسلمانوں کے لیے حالیہ انتخابات کی نزاکت اس لیے بھی ہے کہ ان کی جان کے ساتھ ایمان بھی خطرے میں پڑنے کا اندیشہ ہے، پچھلے چار برسوں میں شریعت ومسلم پرسنل لاء کے حوالہ سے کیا کچھ کیا گیا اس کے بیان کی ضرورت نہیں ہے، ملت ِاسلامیہ کو ان انتخابات میں بڑی بیدار مغزی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، تھوڑی سی غفلت اور معمولی کوتاہی بھی بڑے خسارے کا باعث ہوسکتی ہے، ان انتخابات میں ملت کے ہر طبقہ کو اپنا رول ادا کرنا ہوگا، اس کے لیے درج ذیل نکات پر توجہ ضروری ہے:

 ۱-  ان غلطیوں کا اعادہ نہ کیا جائے جو ۲۰۱۴ء کے انتخابات میں ہوئیں اور جن سے فرقہ پرستوں کے لیے اقتدار تک رسائی ممکن ہوئی، ۲۰۱۴ء کے انتخابات میں مسلمانوں سے تین ایسی فحش غلطیاں سرزد ہوئیں جنہوں نے بی جے پی کے لیے اقتدار کا راستہ ہموار کیا، پہلی غلطی یہ تھی کہ ۵۰ فیصدمسلمانوں کے نام ووٹر لسٹ سے غائب تھے؛ لیکن مسلمانوں نے ان کے اندراج کی فکر نہیں کی، اور اس طرح ایک بڑی تعداد حق انتخاب کے استعمال سے محروم رہی، جس کا راست فائدہ فرقہ پرست امیدواروں کو ہوا۔ دوسری بڑی غلطی یہ تھی کہ ووٹر لسٹ میں موجود ۵۰ فیصد مسلمانوں نے مکمل پولنگ میں حصہ نہیں لیا، مسلم علاقوں میں پولنگ شرح بہت کم رہی، کہیں ۴۰ فیصد تو کہیں ۳۰ فیصد، اکثر مسلمان الیکشن کے موقع پر ووٹ ڈالنے میں سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کرتے ہیں، جس سے دوسروں کو فائدہ پہونچتا ہے۔ تیسری بڑی غلطی یہ ہوئی کہ حق انتخابات استعمال کرنے والے مسلمان متحدہ ووٹ استعمال کرنے کے بجائے مسلک اور فرقوں میں بٹ گئے، مسلم امیدواروں کی ناعاقبت اندیشی نے مسلمانوں کے انتخابی اتحاد کو پارہ پارہ کردیا۔ اس طرح مسلمانوں کے ووٹ بے اثر ہوکر رہ گئے۔ حالیہ انتخابات میں ان غلطیوں کا اعادہ نہ ہو اس کے لیے منظم منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، سب سے پہلے ووٹر لسٹ سے جن کے نام حذف ہیں وہ اپنے ناموں کے اندراج کے لیے فوری حرکت میں آئیں۔ تاریخ انتخابات کو با شعور مسلمانوں کا ایک طبقہ گھر گھر محلہ محلہ پہونچ کر مسلمانوں میں سو فیصد پولنگ کو یقینی بنائے۔ نیز مسلم ووٹوں کو انتشار سے بچانے کے لیے مسلم مذہبی وسیاسی جماعتیں متحدہ لائحہ عمل بنائیں، انتخابات سے قبل مسلم جماعتیں الگ الگ سیاسی پارٹیوں کے لیے تائید ی اپیل کا نہ اعلان کریں، سوشیل میڈیا پر غیر ضروری انتشار سے بچیں، ان مسلم امیدواروں سے عوام کو چوکنا رکھیں جنہیں فرقہ پرست جماعتیں پیسوں کا لالچ دے کر ووٹ تقسیم کرنے کے لیے کھڑا کرتی ہیں۔

 ۲-  حق انتخابات کے استعمال کے حوالہ سے عام مسلمانوں کو باشعور بنانا نہایت ضروری ہے، علماء اور ائمہ مساجد جمعہ کے خطبات میں ووٹ کی شرعی حیثیت پر روشنی ڈالیں اور بتائیں کہ شرعی نقطۂ نظر سے ووٹ کی تین حیثیتیں ہیں :(۱) شہادت (۲) شفاعت (۳)وکالت۔ جس امیدوار کے حق میں آدمی ووٹ ڈالتا ہے وہ در اصل گواہی دے رہا ہے کہ یہ شخص ملک وملت کے حق میں بہتر ہے، جس طرح ووٹ نہ ڈالنا در اصل گواہی کو چھپانا ہے، اسی طرح غلط امیدواروں کے حق میں حق انتخاب کا استعمال جھوٹی گواہی دینا ہے۔ اور جھوٹی گواہی گناہ کبیرہ ہے، بہت سے مسلمان اور ملک کے دیگر باشندے پیسے لیکر ووٹ ڈالتے ہیں، یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی پیسے لیکر جھوٹی گواہی دے۔ مسلمانوں میں شعور پیدا کیا جائے کہ ہر ہر فرد کا ووٹ انتہائی قیمتی اور ملک وملت کی تقدیر بدلنے والا ہے، اس لیے سوچ سمجھ کر اس کا استعمال کیا جائے، جن علاقوں میں قابل سیکولر مسلم امیدوار کے مقابلہ میں دیگر پارٹیوں کی جانب سے مسلم امیدواروں کو کھڑا کیا گیا ہے تاکہ مسلم ووٹوں کو تقسیم کردیا جائے، ایسے امیدواروں کو بالکلیہ طور پر مسترد کردیں۔

 ۳-  مسلم پولنگ فیصد کو بڑھانے کے لیے زمینی سطح کی محنت ضروری ہے، ملی ومذہبی قائدین کی ذمہ داری ہے کہ محلہ واری سطح پر ڈورٹو ڈور پہونچ کر مستقل محنت کریں، اکثر مسلمان سیاسی قائدین کی بے عملی دیکھ کر ووٹ نہ دینے ہی میں عافیت سمجھتے ہیں جو کہ غلط ہے، باشعور مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عام مسلمانوں میں اس بات کا شعور پیدا کریں کہ موجودہ ملکی حالات میں ووٹ کی اہمیت عبادت سے کچھ کم نہیں ہے۔

 ۴-  اکثر مسلم تنظیمیں اور مسلم شخصیات انتخابات سے قبل مختلف سیاسی جماعتوں کے لیے تائیدی اپیل جاری کرتے ہیں، ہر جماعت کا نقطۂ نظر دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، اس قسم کی اپیلوں سے بالعموم مسلم رائے دہندگان کنفیوژن کا شکار ہوجاتے ہیں، جس کی وجہ سے مسلم ووٹوں کے بکھرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، بیان بازی اور شور وہنگامے کے بجائے خاموش منصوبہ بندی کے ذریعہ اس بات کی کوشش کی جائے کہ مسلم ووٹ بکھرنے سے محفوظ رہیں، یوپی جیسی ریاست میں اکثروبیشتر مسلم ووٹ بکھراؤ کی نذر ہوجاتے ہیں۔

 ۵-  بھرپور کوشش کی جائے کہ انتخابات سے قبل مسلم بہ مقابلہ ہندو کا ماحول نہ پیدا ہو، فرقہ پرست جماعتیں اس قسم کے ماحول جان بوجھ کر پیدا کرتی ہیں ؛ تاکہ ہندو ووٹوں کو متحد کیا جاسکے، اس سلسلہ میں مسلم قائدین کوبھی فرقہ وارانہ بیان بازی سے احتراز کرنا چاہیے، اس قسم کی بیان بازی کا راست فائدہ فرقہ پرست جماعتوں ہی کو ہوتا ہے، الیکشن کو مذہبی رنگ دینے والے کسی طرح مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے، بلکہ یہ ایسے ملت فروش ہوتے ہیں جو دنیا کے حقیر مفادکے لیے ملت کو نقصان پہونچانے سے گریز نہیں کرتے۔

 ۶-  اخیر میں ہم مسلمانوں سے یہ حقیقت اوجھل نہ ہو کہ حکمرانوں کی تبدیلی میں اعمال کا بڑا دخل ہوتا ہے، ہمارے اعمال جس قسم کے ہوں گے اللہ تعالیٰ اسی طرح کے حکمرانوں کو مسلط کریں گے، اس سلسلہ میں ایک واقعہ کا حوالہ جسے ملک کے ایک صاحب ِنسبت عالم دین مولانا اعجاز احمد اعظمی نے اپنے مضمون میں ذکر کیا ہے دلچسپی سے خالی نہ ہوگا، مولانا نے لکھا ہے کہ ایک بزرگ سے کسی نے ظالم حکمراں کی شکایت کی تو انہوں نے ارشاد فرمایا کہ دو یار ہمسفر تھے، ایک نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے سلطنت عطا فرمائے تو ایسا عدل وانصاف کروں اور جود وکرم کی وہ داد دوں کہ کبھی کسی نے سنا بھی نہ ہو، دوسرا بولا کہ اگر میں بادشاہ ہوجاؤں تو ہر روز ایک آدمی کو قتل کیا کروں، اور ایسے ایسے ظلم ایجاد کروں کہ جو کسی کے خیال میں بھی نہ گزرے ہوں، خدا کی قدرت! کچھ مدت کے بعد وہ ظلم دوست آدمی صاحب تخت وتاج ہوگیا، اور اپنے ارادے اور منشأ کے مطابق اس نے ایسے ایسے ظلم شروع کئے کہ تمام ملک میں شور قیامت برپا ہوگیا، اتفاقا وہ عدل پسند یار بھی وہاں آ نکلا، لوگوں نے اس کے رو برو واویلا کی کہ صاحب بادشاہ آپ کا قدیم دوست ہے، کچھ تم ہی سمجھاؤ کہ جور بے حد سے باز آئے، اس نے تنہائی میں نصیحت کی کہ یار کچھ تو خدا سے ڈر، کیوں خلقت کو تباہ کرتا ہے، اس نے جواب دیا، ابے احمق اگر اللہ کو لوگوں پر رحم کرنا منظور ہوتا تو مجھ کو دولت اور سلطنت کیوں دیتا تجھی کو نہ بادشاہ بناتا، کیا تجھ کو یاد نہیں کہ میں نے اس سفر میں کیا کہا تھا؟ اس واقعہ کو ذکر کرکے مولانا لکھتے ہیں کہ اگر واقعی اچھی حکومت درکار ہے تو رعایا میں ایمانداری، سچائی، باہمی ہمدردی اور خیر خواہی کا چلن عام ہونا چاہیے؛ ورنہ بدچلن رعایا بد چلن حاکم ہی کا انتظار کرے، بالخصوص مسلمان جن کو یہاں کی حکومت سے سب سے زیادہ شکایت ہے الیکشن کی تمام زور آزمائیوں کا یہ بارہا تجربہ کرچکے ہیں، نتیجہ ہمیشہ خلاف رہا، ہر اگلا دن پچھلے دن سے مشکل آتا گیا ہے، ان کے پاس تو زندگی کا ایک مکمل اور پاکیزہ دستور العمل ہے، یہ اس دستور العمل کو سیکھتے اور اپنے اوپر اس کو نافذ کرنے کا حوصلہ رکھتے تو رنگ بدلتے دیر نہ لگتی۔ اس سلسلہ میں ایک حدیث قدسی کو نظروں کے سامنے رکھنا چاہیے جس میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: میں اللہ ہوں، میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، میں بادشاہوں کا مالک ہوں، بلکہ بادشاہوں کا بادشاہ ہوں، بادشاہوں کے دل میرے قبضہ میں ہیں، جب بندے میری فرماں برداری کرتے ہیں تو میں ان کے بادشاہوں کے دلوں کوان کی طرف رحمت وشفقت کرنے کے لیے پھیر دیتا ہوں اور میرے بندے جب میری نافرمانی پر اتر جاتے ہیں تو میں ان کی طرف بادشاہوں کے دلوں کو غصہ اور انتقام کے لیے متوجہ کردیتا ہوں، پس وہ ان کو سخت عذاب اور تکلیف میں مبتلا کردیتے ہیں، اس لیے خود کو بادشاہوں پر بددعا میں مشغول نہ کرو؛ بلکہ خود کو ذکر، عجزو تضرع میں مشغول رکھو؛ تاکہ میں تمہارے بادشاہوں کے مظالم سے تم کو محفوظ رکھوں۔ (مشکوٰۃ شریف، ۳۲۳)

 ضرورت اس بات کی ہے کہ سارے مسلمان توبہ، انابت الی اللہ اور گناہوں سے استغفار کا اہتمام کریں ؛ بالخصوص اس دعا کا اہتمام کریں۔  اللہم لا تسلط علینا من لا یرحمنا اے اللہ ہم پر ایسے حکمرانوں کو مسلط نہ فرما جو ہم پر رحم نہ کھائیں۔ اپنی اصلاح اور اعمال کی درستگی کا کام بھی در اصل آنے والے انتخابات کی تیاری کا ایک حصہ ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مولانا سید احمد ومیض ندوی

استاذ حدیث دارالعلوم حیدرآباد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close