سیاست

عدالتیں نہ ہوتیں تو کچھ بھی نہ ہوتا

حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک کا قانون ایسا ہے کہ اس کی ساری کتابوں کو چوراہے پر رکھ کر جلا دینا چاہئے۔

حفیظ نعمانی

ملک میں مرکزی حکومت اور اُترپردیش کی حکومت کو قوم سے معافی مانگنا چاہئے کہ جو معاملات حکومتوں کے اختیار کے تھے ان میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کو دخل دینا پڑا اور اس کے بعد وہ ہوا جو بہت پہلے حکومتوں کو کرنا چاہئے تھا۔ آنجہانی سنجے گاندھی کی بیوی اور ورون فیروز گاندھی کی ماں مینکا گاندھی نے پریس سے کہا کہ 12 سال سے کم عمر کی بچی کے ساتھ اگر کوئی منھ کالا کرتا ہے تو اسے سزائے موت دی جانا یقینی بنایا جائے۔ یہی بات جموں کشمیر کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہی کہ ان کی حکومت ایک نیا قانون بنائے گی جس میں معصوم بچیوں کی عصمت دری میں ملوث افراد کے لئے موت کی سزا لازمی ہوگی۔

پاک پروردگار نے صاف صاف کہا ہے۔ ’’زنا کرنے والے مرد اور زانی عورت کو 100-100  کوڑے مارے جائیں اور ان کے مارنے میں نرمی نہ برتی جائے۔ اسلام میں ہر جرم کی سزا بیشک سخت ہے لیکن اس کا نتیجہ ہے کہ فی الحال سعودی عرب میں جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں۔ قرآن میں  جان کا بدلہ جان بتایا گیا ہے۔ یہ اس شکل میں ہے کہ مقتول کے وارث جان کا بدلہ جان ہی مانگیں تو اسلام میں جمعہ کے دن کسی بڑی مسجد کے باہر جلاد کے ہاتھوں سرقلم کرایا جاتا ہے جسے ہزاروں آدمی موقع پر اور لاکھوں ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔

ہمارے خاندان کا ایک بچہ جدہ میں روڈویز میں ملازمت کررہا تھا وہ جس کمرہ میں رہتا تھا اس میں ایک لڑکا پہلے سے رہتا تھا اس کی ڈیوٹی زیادہ محنت کی نہیں تھی وہ رات میں لائٹ جلاکر کچھ پڑھنا چاہتا تھا یا ٹی وی دیکھنا چاہتا تھا دوسرا بچہ کہتا تھا کہ بہت تھک گیا ہوں مجھے سونے دو۔ ایک دن اس بات پر دونوں کی جوانی ٹکرا گئی اس لڑکے نے ڈنڈا لے کر مارنا چاہا ہمارے عزیز بچہ نے وہ چھین لیا اسی وقت کسی پولیس والے کی نظر پڑی وہ طوفان کی طرح آئے اور اس لڑکے کو پکڑلیا جس کے ہاتھ میں ڈنڈا تھا۔ اس نے لاکھ کہا کہ یہ مارنے کے لئے لایا تھا میں  نے اس سے چھینا ہے پولیس کے سپاہی نے کہا کہ ہم نے جب دیکھا تو ڈنڈا تمہارے ہاتھ میں تھا تم نے جرم کیا ہے اور کوئی بات نہیں سنی اسے لے کر غائب ہوگئے اس کا بڑا بھائی جو برسوں سے جدہ میں تھا اور جس نے بلایا تھا اس نے اس کی ڈیوٹی کی وجہ سے اپنے مکان سے کافی دور اسے رکھا تھا وہ جب چھٹی کے دن نہیں آیا تو فکر ہوئی اور بعد میں معلوم ہوا کہ وہ پولیس لے گئی۔ اس کے بارے میں چھ مہینے تک معلوم نہیں ہوا کہ وہ ہے کہاں؟ اسی سختی کا نتیجہ ہے کہ جھگڑے بھی نہیں ہوتے۔

وہ جو قرآن میں چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کے ہاتھ کاٹنے کی سزا بتائی  گئی ہے اسی کا انعام ہے کہ اب تک ہر شہر کی ہر مسجد میں ایک ہی وقت میں نماز ہوتی ہے اور کروڑوں کے سامان والی دُکان پر صرف ایک پردہ ڈال کر دُکان کھلی چھوڑکر ہر آدمی نماز کے لئے چلا جاتا ہے  یہ اسی کا انعام ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک کا قانون ایسا ہے کہ اس کی ساری کتابوں کو چوراہے پر رکھ کر جلا دینا چاہئے۔ مقدمہ کیسا ہی ہو واقعہ کتنا ہی دل ہلا دینے والا ہو برسوں اس کی پیشیاں ہوتی رہیں گی ملزمین سے بھی دو چار مرجائیں گے اور گواہ بھی برسوں پرانی بات بھول جائیں گے اور عدالتیں مجبور ہوکر رِہا کردیںگی۔ اگر چوری کے مرتکب کا ہاتھ کاٹ دیا جائے  تو اس کا ہاتھ چاہے کسی حادثہ کی وجہ سے ڈاکٹر نے کاٹا ہوگا وہ اس لئے اسے چھپائے پھرے گا کہ جو دیکھے گا وہ چور سمجھے گا۔ اپنے ملک میں نہ جانے کتنی بار کہا گیا ہے کہ خصوصی عدالت بنائی جائے گی اور جب خصوصی عدالت بنتی ہے تو ایک سال میں ہی وہ عمومی ہوجاتی ہے اور ہر جرم کے مقدمے وہاں سننا شروع ہوجاتے ہیں۔

کشمیر کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی جو دو بیٹوں کی ماں ہیں اس وقت وہ واقعی سنجیدہ ہیں لیکن وہ جو قانون بنانا چاہتی ہیں اس کے بارے میں ان کو معلوم ہے کہ جموں کی ہندو ایکتا منچ کے بینر کے نیچے بی جے پی کے وزیروں اور ان وکیلوں نے شیطان کے بیٹوں کی حمایت میں بار بار جلوس نکالے ہیں جموں بند کرایا ہے اور کرائم برانچ کے افسروں کو چارج شیٹ پیش کرنے سے گھنٹوں روکا ہے اور ایسی ہندو ایکتا دکھائی ہے کہ سپریم کورٹ کو بار ایسوسی ایشن سے جواب طلب کرنا پڑا اور امت شاہ کو اپنی پارٹی کے منھ کی کالک دھونے کے لئے ان دونوں وزیروں کا استعفیٰ لینا پڑا۔ جس ریاست کا یہ ماحول ہو اور انصاف اور قانون کی روٹی کھانے والے وکیلوں کو بھی وکالت کے بجائے ہندو ایکتا کی فکر ہو وہاں کون قانون بنانے دے گا اور کون ہے جو مسلمان بچی کے معاملہ میں ہندو کو سزائے موت دینے دے گا؟

پورا ملک نہیں آدھی سے زیادہ دنیا جب اُنائو اور کٹھوعہ جموں میں آبروریزی اور خون میں لت پت انسانیت پر حکومتوں کا سکون دیکھ کر حیران ہونے لگی اور انڈیا گیٹ پر انسانیت نوازوں کی ہزاروں کی بھیڑ جلتی ہوئی شمع ہاتھوں میں لے کر آگئی تب وزیراعظم کی آواز آئی کہ ’’جو واقعہ منظر عام پر آیا ہے اس سے ہم اور ہمارا ملک شرمسار ہوا ہے انہوں نے کہا کہ اس قسم کے وا قعات کو کوئی برداشت نہیں کرے گا اور کوئی ملزم بچ نہیں پائے گا۔‘‘ اور یہ حقیقت ہے کہ جموں کی پوری بی جے پی اس کے وزیر اور اس کے وکیل سب وزیراعظم کے نہیں ہندو ایکتا منچ کے و فادار ہیں اور جب تک وزیراعظم ان سے پارٹی کو پاک نہیں کریں گے کسی کو سزا نہیں ہوگی۔ یہی اُنائو کے دبنگ ایم ایل اے کا معاملہ ہے۔ وزیراعلیٰ کچھ بھی کہیں اس دبنگ ایم ایل اے کو صرف عدالت عالیہ کے حکم سے گرفتار کیا گیا ہے اگر ایمانداری سے دیکھا جائے تو اس کی سزا اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے کہ ایم ایل اے کے اُن بھائیوں کو جنہوں نے ایک غریب کو پانی ڈال ڈال کر مارا ہے اسی طرح پیٹ پیٹ کر اتنا مارا جائے کہ وہ عمر بھر اپنے زخموں کو یاد کرکے کانپتے رہیں۔ لیکن کچھ نہیں ہوگا 2019 ء کے آتے آتے سب باہر ہوں گے اور بی جے پی کے لئے ووٹ مانگ رہے ہوں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close