سیاست

عدالت میں فلاپ زعفرانی ناٹک

 اقتدار کے نشے میں ایسی حرکات سرزد تو ہوجاتی ہیں مگر مہنگی بھی پڑتی ہیں۔

ڈاکٹر سلیم خان

بھارتیہ جنتا پارٹی ۱۵ دنوں تک ناٹک کر کے ۵ سالوں کے لیے کرناٹک میں حکومت کرنا چاہتی تھی لیکن عدالت عالیہ نے اسے تین دنوں تک سمیٹ دیا۔ اس دوران اپنا کھیل چلانے کے لیے زعفرانیوں کو پے در پے جن  رسوائیوں برداشت کرنا پڑا اس کے سبب کمل کا پھول  پوری طرح مرجھا گیا۔  اس ناٹک کی ابتداء۱۶  مئی کو ہوئی جبکہ سارے نتائج آچکے تھے اور بی جے پی کا رتھ ۱۰۴ پر آکر رک گیا تھا۔ کانگریس نے جنتادل کے سر پر ہاتھ رکھ دیا تھا اور دو آزاد امیدوار بھی ان کے دائیں بائیں کھڑے تھے۔ ایسے صبح ساڑھے گیارہ بجے گورنر سے ملاقات کے بعد یدورپاّ نےاخبار ی نمائندوں کو بتایا۔ میں گورنر کو خط  دے دیا ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ مجھے بلائیں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ مناسب فیصلہ کریں گے۔  شام ۶ بجے کانگریسی رہنما ڈی کے شیوشنکر نے۱۱۷ ارکان اسمبلی کا دستخط شدہ خط گورنر کے حوالے کرنے کے بعد  کہا  گورنر نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ وہ آئین کے مطابق اقدام کریں گے۔ ہمیں ان پر مکمل اعتماد ہےکہ وہ ناانصافی نہیں کریں گے۔ ہمارے پاس تعداد ہے۔ ہمارا ایک بھی رکن منحرف نہیں ہوا ہے۔ ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے۔  شام ۷ بجے یدورپاّ نے کہہ دیا کہ وہ کل حلف لیں گے۔ اسی کے ساتھ یہ خبر آج تک چینل پر چلنے لگی۔ رات ساڑھے نو بجے کرناٹک بی جے پی نے ایک ٹویٹ لکھا کہ کل  یدورپاّ کی رسم حلف برداری ہوگی اورپھر اسے مٹا دیا۔ پندرہ منٹ بعد بی جے پی رہنما مرلی دھر راو نے تصدیق کردی کہ گورنر نے یدورپاّ کو حلف برداری اور حکومت سازی کی دعوت دے دی ہے۔

گورنر کےاس غیر آئینی فیصلے کے خلاف کانگریس اور جے ڈی ایس کے وکیل ابھشیک منو سنگھوی نے رات ساڑھے دس بجے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو اپنی عرضی دی اور الزام لگایا  کہ یدیورپّا کو اکثریت ثابت کرنے کے لیے ۱۵ دن کا وقت ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت کے لیے دیا گیا  ہے۔عدالت عالیہ کے  رجسٹرار رات ۱۱ بجے چیف جسٹس دیپک مشرا کے گھر پہنچےانہوں نے اس معاملے کو جسٹس اے کے سیکری، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس شرد اروِند بوبڈے کی بنچ کے حوالے کردیا۔معاملے کی سماعت رات ۲ بجے شروع ہوئی۔ ابھشیک منو سنگھوی  کے سامنے  بی جے پی کی طرف سے مکل روہتگی کے علاوہ اٹارنی جنرل وینو گوپال پیش ہوئے۔ ابھشیک منو سنگھوی نے  سوال کیا کہ جس پارٹی کے پاس اکثریت نہیں ہے تو اس کے رہنما  بی ایس یدیورپّا کو حکومت بنانے کے لیے گورنر نے  کیوں مدعو کیا ؟ انھوں نے یاد دلایا  کہ گورنر نے اکثریت ثابت کرنے کے لیے پہلی بار کسی کو ۱۵ دن کی مدت دی ہے جبکہ خود یدیورپّا نے خود ۷دن کا وقت مانگا تھا۔

 جسٹس سیکری نے کہا کہ گورنر نے اپنے شعور کا استعمال کیا تو ہم ایسے معاملے میں دخل کیسے دے سکتے ہیں ؟ یہ گورنر کے خصوصی اختیار کا معاملہ ہے۔انہوں  نے سنگھوی سے سوال کیا کہ آپ جو بی جے پی کی حکومت سازی کے دعویٰ سے متعلق کہہ رہے ہیں ، ہو سکتا ہے وہ سچ ہو پر ہم کیسے مان لیں ؟ اس کے جواب میں سنگھوی نے کہا کہ آپ استحقاق کی بنیاد پر فیصلہ کریں۔ عدالت نے سنگھوی کے درخواست کی میرٹ پر سوال کیا کہ ’’آپ کے پاس گورنر کی بی جے پی کو حکومت بنانے کی دعوت دینے والی چٹھی ہی نہیں تو کیسے دلیل سنیں ؟ عدالت نے سنگھوی سے بی جے پی کے ذریعہ حکومت سازی کا دعویٰ پیش کرنے والی چٹھی بھی طلب کی۔ سنگھوی وہ خط تو نہیں پیش کرسکے مگر  پوچھا آخر حلف برداری کی اتنی جلدی کیوں ہے؟یہ حلف برداری دو دن بعد بھی تو ہو سکتی ہے۔ سپریم کورٹ  اگرآئین کی دفعہ ۳۵۶ کے تحت صدر راج کو مسترد کر سکتا ہے تو گورنر کے حکم کو کیوں نہیں ؟ اس کے بعد سابق اٹارنی جنرل مکل روہتگی سے بی جے پی کی حمایت والی چٹھی طلب کی ۔ روہتگی اوراٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال  بھی گورنر کو دیا گیا خط پیش کرنے سے قاصر رہے۔اسی پرجسٹس بوبڈے نے پوچھا کہ بی جے پی کو کرناٹک میں ۱۵ دن کیوں چاہیے؟ اس کا اوٹ پٹانگ جواب اٹارنی جنرل نے  یہ دیا  کہ ۱۵ دن میں آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا۔ سوال یہ ہے کہ اگر ۱۵ دنوں میں آسمان نہیں ٹوٹے گا تو کیا حلف برداری  عدالتی کارروائی  کی تکمیل تک رک جائے کو کیا زمین پھٹ پڑے گی اور اس میں شاہ اور یدورپاّ سما جائیں گے ؟

جسٹس سیکری نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ آپ کے پاس اکثریت نہیں ہے، کیسے ثابت کرو گے؟ تو ان کا جواب تھا مجھے نہیں پتہ اور ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا ہے۔ عدالت نے جب پوچھا کہ آپ کے نمبر تو ایسا نہیں بتاتے تو ان کا جواب یہی تھا، ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ عدالت نے کہا کہ ایسی حالت میں تو آپ فلور ٹیسٹ میں فیل ہو سکتے ہو، تو اٹارنی جنرل کا جواب تھا کہ یہ تو گورنر کے شعور کا معاملہ ہے۔ یہ حکومت اور گورنر کا شعور کہ ہر سوال کے جواب میں وہ صرف یہ کہتے ہیں کہ ’’ مجھے نہیں پتہ اور ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا ہے‘‘۔ اگر کچھ پتہ نہیں ہے تو حکومت کیوں کرتے ہو؟  عوام کا پیچھا چھوڑو اور جاکر کسی ریلوے اسٹیشن پر  چائے پکوڑی بیچو۔

اس کے بعد عدالت نے دونوں فریقین  کو نوٹس جاری کرکے حلف برداری تقریب پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔ لیکن یہ بھی  کہا کہ بھلے ہی یدیورپّا حلف لے لیں ، لیکن انھیں اپنے حامی ارکان  اسمبلی کے دستخط والا خط اور گورنر کو لکھی  گئی چٹھیاں عدالت میں جمع کرانی ہوں گی۔عدالت نے معاملے کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے اسی دن  دوپہر ۲بجے کا وقت طے کیا لیکن اٹارنی جنرل اور مکل روہتگی نے دوسرے معاملوں کا بہانہ بنا کر اگلی صبح تک  ٹالنے کی درخواست  کی جسے منظور کرلیا گیا اور سماعت جمعہ کی صبح ساڑھے دس  بجے تک کے لیے ملتوی کردی ۔ سابق اور حالیہ اٹارنی جنرل کے ٹال مٹول سے یہ بات ہوگئی کہ یہ کمل کیچڑ میں کھلا ہوا ہے۔ یدورپاّ اس کو اپنے تاج میں لگانے کے چکر میں دلدل کے اندر دھنس بھی سکتے ہیں۔ اس  کے باوجود ایک دن کی مہلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یدورپاّ کی غیر آئینی حلف برداری کردی گئی۔

جمعہ کے دن شروعات ہی بی جے پی کے وکیل مکل روہتگی نے میڈیا کے سامنے ایک سفید جھوٹ سے کی۔ سماعت سے کچھ وقت قبل انہوں نے عدالت عالیہ کے باہر کہا کہ ’’میں سپریم کورٹ میں وہ خط پیش کرنے جا رہا ہوں جسے بی ایس یدی یورپا نے گورنر کو سونپا تھا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو حمایت حاصل ہے جسے وہ اسمبلی میں اسے ثابت کر سکتے ہیں۔ ہارس ٹریڈنگ جیسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘ سماعت کے دوران  جب عدالت نے استفسار کیا کہ خط میں حمایت دینے والے ارکان کے نام نہیں ہیں تو اس کے جواب میں روہتگی اپنے دعویٰ سے مکر گئے اور  کہا کہ اُس وقت اِس کی ضرورت نہیں تھی اور حمایت والا دستخط شدہ خط گورنر کو نہیں دیا گیا۔ سچ تو یہ ہے کہ دستخط والا خط کمارسوامی نے گورنر کو دیا لیکن دھرتراشٹر نما گورنر نے اس کی ان دیکھی کر کے من مانی کردی۔

 اقتدار کے نشے میں ایسی حرکات سرزد تو ہوجاتی ہیں مگر مہنگی بھی پڑتی ہیں۔ ایسا ہی ہوا جب سپریم کور ٹ کی  بینچ نے دونوں فریقین کے سامنے یہ پیش کش رکھی ہے کہ اگلے دن  فلور ٹیسٹ کرایا جائےتو کانگریس۔جے ڈی ایس کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے یہ تجویز مان لی ہے  لیکن مکل روہتگی  گھبرا گئے اور انہوں نے سات دن کا وقت مانگا  مگرعدالت نے دھتکار دیا۔ یہ طمانچہ تو ایک گال پر پڑا تھا لیکن دوسرے گال پر ایک اور تھپڑ رسید کرتے ہوئے کرناٹک گورنر کے ذریعہ اینگلو انڈین  رکن اسمبلی کی نامزدگی پر روک لگا دی۔  عدالت نے اسی پر بس نہیں کیا  بلکہ سر پر گھونسا جڑتے ہوئے  سنیچر کی شام چار بجے کرناٹک اسمبلی میں فلور ٹیسٹ کرائے جانے کا حکم جاری کر دیااور بی جے پی کی نیند اڑانے کے لیے  فلور ٹیسٹ کے ضوابط تیار کرنے  کی ذمہ داری کانگریسی پروٹیم اسپیکر کو سونپ دی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close