سیاستہندوستان

عدالت کا پہلا جرأت مندانہ فیصلہ!

حفیظ نعمانی

یہ خبر تو بار بار آپ نے پڑھی ہوگی کہ 5 سال سے 20  سال تک جیل میں بند رکھ کر عدالت نے اس لئے باعزت بری کردیا کہ پولیس کوئی ثبوت اور کوئی ایسا گواہ پیش نہیں کرسکی جس سے یہ ثابت ہوجاتا کہ ملزم نے واقعی وہ جرم کیا ہے یا وہ جرائم کئے ہیں جن کی بناء پر اسے جیل میں رکھا گیا۔ لیکن یہ پہلی بار پڑھ رہے ہوں گے کہ ’’عدالت نے صوبائی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ملزمین کی تعلیمی لیاقت کے اعتبار سے جتنے دن انہوں نے جیل کی صعوبت برداشت کی ہے، انہیں اس کا معاوضہ دیا جائے‘‘۔

اس موضوع پر لکھنے کا سبب یہی ہدایت بنی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جج کوئی بھی ہو وہ ماتحت عدالت کی کرسی پر ہو یا سیشن جج ہو یا ہائی کورٹ کی کرسی پر، ان کو بتایا گیا ہے کہ جیل میں جب تک مقدمہ کا فیصلہ نہ ہوجائے ملزم کو صبح ناشتہ دوپہر کا کھانا اور رات کا کھانا دیا جاتا ہے۔ اور اتنا دیا جاتا ہے جو اچھی سے اچھی خوراک کھانے والے کے لئے بھی کافی ہوتا ہے۔ لیکن یہ نہیں معلوم کہ وہ کھانا کیسا ہوتا ہے؟ اس کے بارے میں اگر میں لکھوں تو مضمون پورا ہوجائے۔ بس یہ لکھ رہا ہوں کہ شاید یہ کسی جج کو معلوم نہ ہوگا کہ اگر گھر سے مدد، سامان اور پیسوں کی شکل میں نہ آئے تو صرف ان لوگوں کا پیٹ بھر جاتا ہے جو اگر نہ کھائیں تو سوکھ جائیں اور مرجائیں ۔ ایسے لوگوں کو بیرک کے پنچ ان لوگوں کی خدمت میں لگا دیتے ہیں جن کے حالات اچھے ہوتے ہیں اور وہ صرف جیل میں عیش کرنا چاہتے ہیں ۔ جیل میں رہ کر ہی معلوم ہوا کہ روٹی جلانے کے کام بھی آتی ہے۔ اکثر حوالاتی جن کی روٹیاں بچ جاتی ہیں وہ انہیں سکھالیتے ہیں اور پھر اینٹوں کا چولھا بناکر دال یا سبزی کو کھانے کے قابل بنانے کے لئے روٹی جلاتے ہیں اور وہ لکڑی سے زیادہ اچھی جلتی ہے۔

جیل میں ہم 9  مہینے رہے ہفتہ میں دو بار گھر سے ہری سبزی اور ناشتہ کا سامان آتا تھا اور صبح ناشتہ اور دونوں وقت کا کھانا بیرک میں ہی پکتا تھا ہم ڈی آئی آر دفعہ کے تحت بند تھے یہ سیاسی دفعہ ہے جو سیاسی لیڈروں یا اخبار والوں کے خلاف لگائی جاتی ہے۔ ہم اپنی ضرورت کی ہر چیز جیلر صاحب سے اجازت لے کر منگواتے تھے اور وہ ہر مرتبہ یہ کہتے تھے کہ میں اجازت نہیں دے سکتا لیکن اگر آپ منگوالیں گے تو میں اس پر اعتراض نہیں کروں گا اور اس خوبصورت اجازت کی وجہ سے ایسی کوئی چیز نہیں تھی جو ہماری ضرورت کی ہو اور وہ موجود نہ ہو یا گھر سے نہ آسکے۔

محترم جج صاحب نے گلزار وانی کی لیاقت کے اعتبار سے جو اجرت بنتی ہو اور کچھ رقم وہ جو اُن کو اذیت پہونچی وہ صوبائی حکومت کو ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔ لیکن اس کا کیا ہوگا جو اُن کے جیل میں رہنے کی وجہ سے ان کے گھر پر گذری؟ اگر معاملہ بارہ بنکی کا ہے تو وہ نہ جانے جیل سے کتنی دور رہتے ہوں ؟ وہاں سے ہفتہ میں ایک بار ہی سہی ملاقات کے لئے آنے والوں نے کتنا خرچ کیا اور گڑ، چنے ، صابن یہ وہ چیزیں ہیں جو غریب سے غریب اپنے گھر سے منگواتا ہے کیونکہ جیل سے جو ملتا ہے وہ رجسٹر میں لکھنے بھر کا ہوتا ہے۔ ان لوگوں کو بعض دن گڑ سے ہی روٹی کھانا پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ اس کی گرفتاری کے بعد اہل خانہ بیوی بچے بہن بھائی اور بوڑھے ماں باپ پر کیا گذری؟ یہ باتیں ہیں جو جیل میں رہنے کی وجہ سے ہم نے برداشت کی ہیں اور جس کے معاوضہ کا کوئی اندازہ نہیں کرسکتا۔

میرا اپنا کاروبار پریس کا تھا ندائے ملت اخبار کا دفتر بھی اسی عمارت میں تھا میں دونوں کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے تھا میری گرفتاری ندائے ملت کے اکائونٹ افسر اور سرکولیشن منیجر کی میرے ساتھ گرفتاری کی وجہ سے دونوں کاروبار ٹھپ ہوگئے۔ اخبار اور پریس کو کتنا نقصان ہوا اس کا کوئی حساب نہیں ۔ ایسا ہی ان 16  سال کے بعد باعزت رِہا ہونے والوں کا معاملہ ہے۔ جو نقصان اُن کے موجود نہ ہونے سے ہوا وہ اپنی جگہ اور جو مقدمہ کی پیروی وکیلوں کی فیس پیشکار کی رشوت اور جیل آنے جانے کے اخراجات اور اس دن کی آمدنی کا نقصان کیا صرف اس رقم سے پورا ہوجائے گا جو حکومت سے ملے گی؟ وہ بھی اگر ملی؟ اور یہ فیصلہ سونے کے قلم اور سونے کے پانی ہی سے لکھنے کے قابل ہے کہ وہ تمام روپئے ان پولیس والوں سے لے کر دیا جائے جنہوں نے جان بوجھ کر جھوٹا مقدمہ بنایا اور ہر گرفتاری کی طرح گلزار کو بھی پکڑا کہیں ،رکھا کہیں اور دِکھایا کہیں ۔

انشاء اللہ چار دن کے بعد رمضان المبارک کا پہلا روزہ ہوگا اور دین کا وہ کاروبار شروع ہوگا جس میں اتنا نفع ہوتا ہے جتنا دنیا کے کسی کاروبار میں نہیں کہ ہر نیکی کا 70  گنا ثواب ملے گا۔ ہم نے پہلے بھی توجہ دلائی ہے اور پھر لکھ رہے ہیں کہ مولانا ارشد مدنی جو کام کررہے ہیں میرے جیسے گناہگار اور جیل کے تجربہ کار کی نظر میں سب سے بڑا کام یا سب سے بڑے کاموں میں سے ایک ہے۔ جو لوگ جیل میں نہیں رہے اور جیل کے معاملات کو ایک اخبار نویس کی طرح نہیں دیکھا وہ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ جیل کی زندگی کیا ہے؟

ہم اخبار والے تھے جیل کے بڑے چھوٹے افسر سب ڈرتے تھے کہ ہم باہر جاکر نہ جانے کیا کیا لکھیں ؟ اس لئے وہ ہمیں تو مہمان سمجھتے تھے لیکن جیل کے دوسرے حوالاتیوں میں دو طرح کے ملزم ہوتے ہیں ایک وہ جنہوں نے کچھ کیا ہے اور ایک وہ جنہوں نے کچھ نہیں کیا۔ جو کرکے آتے ہیں وہ مست رہتے ہیں اور جو بے گناہ ہوتے ہیں ان کا ایک گھنٹہ ایک مہینہ کی طرح گذرتا ہے۔ ہم نے جیل میں ہر طرح کے لوگوں سے انٹرویو لئے۔ اس وقت ارادہ تھا کہ وہ سب چھاپ دیں گے لیکن بعد میں ارادہ بدل دیا۔

عرض کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ رمضان المبارک میں عام طور پر زکوٰۃ کی رقم نکالی جاتی ہے۔ (خیال یہ ہے کہ وہ بھی 70  گنا ثواب لینا چاہتے ہوں گے) اس رقم میں سے ایک معقول حصہ ان لوگوں کے لئے اگر مخصوص کرکے مولانا ارشد مدنی کو بھیجا جائے تو ایک تو 70  گنا ثواب رمضان کی وجہ سے ہوگا اور جو دعائیں حوالاتی خود، ان کی بیوی بچے اور بوڑھے ماں باپ دیں گے اس کا اندازہ صرف ہم جیسے ہی کرسکتے ہیں جنہوں نے بے گناہوں کو چھپ چھپ کر روتے اور مولا کے سامنے گڑگڑاتے دیکھا ہے۔ وہ جتنے دن بھی رہتے ہیں چپ رہتے ہیں ۔ اور ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ جن پارٹیوں سے قدرت نے حکومت چھینی اور کانگریس کو خاص طور پر شیر سے لومڑی بنا دیا وہ ان کی ہی بددعائوں کا نتیجہ ہے جو خود بھی برسوں تڑپے اور ان کے گھر کے ہر فرد کو تڑپنا پڑا۔ عزیزم گلزار وانی کو رِہائی مبارک، آنے والا رمضان مبارک اور آنے والی عید مبارک اب ایک فرض ان کے اوپر یہ بھی ہے کہ وہ جب دعا کے لئے ہاتھ اٹھائیں تو مولانا ارشد مدنی اور جج صاحب کو نہ بھولیں ۔ خدا کرے جتنے اور بے گناہ ہیں وہ مسلمان ہوں یا ہندو سب باہر آجائیں اور پولیس کے ہر افسر سے وصول کرکے انہیں کنگال بنا دیا جائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close