سیاست

عدالت کی توہین کا فیصلہ کون کرے گا؟

حفیظ نعمانی

سپریم کورٹ نے دیوالی میں رات کو آٹھ بجے سے دس بجے تک یعنی صرف دو گھنٹے آتش بازی کی اجازت دی ہے اور حکم کی خلاف ورزی پر تھانہ انچارج کو ذمہ دار بنایا ہے اور کہا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو اسے توہین عدالت کا مجرم مانا جائے گا۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ آٹھ کے پونے آٹھ نہ ہوں اور دس کے سوا دس نہ ہوں۔ جبکہ بزرگ سنجیدہ اور تعلیم یافتہ طبقہ فضا کو آلودگی سے پاک رکھنے کے لئے خود ہی اس کا خیال رکھتا ہے۔

جب عدالت کی توہین اتنی نازک چیز ہے تو پھر جو صاحب حکمراں پارٹی کے صدر ہیں اور انہیں وزیراعظم نے راجیہ سبھا کا ممبر بھی بنا دیا ہے وہ اگر صاف صاف الفاظ میں سپریم کورٹ کو یہ ہدایت دیں کہ وہ مقدموں کا ایسا فیصلہ سنائے جس پر عمل ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور کورٹ کو ایسے حکم دینے چاہئیں جن پر عمل ہوسکے ایسے حکم نہ دینے چاہئیں جو لوگوں کی آستھا کا احترام نہ کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندو مذہب نے کبھی خواتین کے ساتھ ناانصافی نہیں کی ان کو دیوی مان کر ان کی پوجا کی ہے۔ امت شاہ کے کہنے کے مطابق بھگوان ایَپّا کے کئی مندر ملک میں ایسے ہیں جہاں خواتین کو جانے کی عام اجازت ہے لیکن کیرالہ کے اس مندر میں بھگوان ایَپّا کی برہمچاری مورتی لگی ہے اس لئے یہ پابندی ہے۔

معلوم نہیں امت شاہ نے حکومت کی وزیر اسمرتی ایرانی کا وہ بیان پڑھا یا نہیں جس میں انہوں نے کہا کہ پیرئیڈ کی عمر میں عورتیں ناپاک رہتی ہیں۔ بہرحال جس کا جو دھرم ہو وہ جانے، لیکن ایک نہیں ان برسوں میں سپریم کورٹ نے جتنے فیصلے کئے ہیں وہ صرف اسی بنیاد پر ہیں کہ مرد اور عورت جب برابر ہیں تو جو مرد کرسکتے ہیں وہ اگر عورتیں کرتی ہیں تو ان پر کوئی روک نہیں لگائی جاسکتی اور جو عورت کرتی ہے وہ مرد کریں تو ان کو نہیں روکا جاسکتا۔ ممبئی میں حاجی علی کی درگاہ میں ہائی کورٹ نے ہر اس جگہ جانے کی اجازت دی جہاں تک مرد جاتے ہیں جبکہ یہ آستھا نہیں شریعت کا حکم ہے کہ قبرستان میں یا قبر کے قریب عورت نہیں جاسکتی۔

ہندوستان میں ہر مزار پر عورتیں جاتی ہیں اور ہر مذہب کی جاتی ہیں لیکن حکومت مسلمانوں کی نہیں ہے اور نہ شریعت کا قانون نافذ ہے اس لئے مسلمان برداشت کرتے ہیں تو اگر امت شاہ کے نزدیک کسی مندر میں عورتوں کا جانا آستھا کے خلاف ہے تو ہوا کرے۔ قانون آستھا کا پابند نہیں ہے یا ہندوستان کے دستور میں ملک میں ہندو آستھا کو قانون کا درجہ دیا جاتا؟ ہماری گذارش کا مقصد یہ ہے کہ اگر یہ توہین عدالت نہیں ہے تو ہمیں بھی کچھ کہنا ہے اور اگر توہین عدالت ہے تو ان کی زباں بندی کے لئے عدالت کیا کررہی ہے؟

یہ تو اس ملک میں جگہ جگہ ہورہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کو ماننے سے ہندو صاف انکار کررہے ہیں جیسے جنم اشٹمی کے موقع پر ممبئی میں ایک زبردست مقابلہ دہی کی ہانڈی پھوڑنے کا ہوتا ہے جو 40  فٹ بلندی پر لٹکی ہوتی ہے۔ اس مقابلہ میں حصہ لینے والے پرجوش نوجوان نہ جانے کتنے ایسے ہیں جن کی گرنے سے ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں اور ایسے بھی ہیں جن کی ریڑھ کی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں اور وہ زندگی بھر کے لئے بیکار ہوگئے۔ سپریم کورٹ نے اس کے بارے میں دو حکم دیئے ایک یہ کہ 20  فٹ سے زیادہ اوپر ہانڈی نہ باندھی جائے اور نابالغ لڑکوں کو اس میں حصہ نہ لینے دیا جائے۔ ہانڈی پھوڑنے کے باقاعدہ کلب ہیں جن میں مقابلہ ہوتا ہے لاکھوں روپئے انعام ہوتا ہے کروڑوں روپئے کا سٹہ ہوتا ہے اور دیکھنے کے لئے مجمع ٹوٹتا ہے۔ ان کلب والوں نے نہ صرف ماننے سے انکار کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ یہ ہم جانیں اور ہماری صوبائی سرکار سپریم کورٹ سے کیا مطلب اور جو ہوتا تھا وہ ہورہا ہے۔

اب ان واقعات کے بعد کیا کوئی توقع کرسکتا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ زمین جہاں مسجد تھی مسلمانوں کی ملکیت ہے تو کون ہے جو ہندوئوں کو وہاں مندر بنانے سے روک دے؟ جبکہ برہمن، ٹھاکر، راجپوت اور دوسری اعلیٰ ذات کے تو الگ رہے وہ نائب وزیراعلیٰ جو موریہ ہیں وہ بھی مندر کے خلاف فیصلہ آنے پر پارلیمنٹ سے قانون پاس کراکر مندر بنانے والوں میں شامل ہیں چاہے ہندو ان کو اینٹ چھونے بھی نہ دیں۔ اور امت شاہ تو کہہ چکے ہیں کہ عدالت کو ایسے فیصلے دینا چاہئیں جس میں آستھا کا احترام ہو۔

بی جے پی کے صدر نے یہ تقریر کیرالہ میں کی ہے۔ خیریت یہ ہے کہ ہندی میں کی ہے اس لئے دو چار فیصدی ہندوئوں نے سمجھ لی ہوگی۔ انہوں نے کیرالہ کے کمیونسٹ وزیراعلیٰ کو للکارا اور کہا کہ کان کھول کر سن لیں۔ اور دھمکی بھی دی کہ اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا یہ اُس کیرالہ میں وہ بھاشن دے رہے تھے جہاں تعلیم سو فیصدی ہے۔ وہاں اختلاف بھی اتنی شرافت اور تمیز سے کیا جاتاہے کہ اترپردیش یا گجرات والے دیکھیں تو شرم سے سر جھکالیں۔ وزیراعظم نے یہ کیوں ضروری نہیں سمجھا کہ امت شاہ کو صدر بناتے وقت انہیں بتاتے کہ ہر صوبہ گجرات نہیں ہے۔ اور جنوبی ہند میں جانا تو کسی تعلیم یافتہ کو ساتھ لے لینا اور وہاں سے تمیز سیکھ کر آنا۔

کیرالہ کے وزیراعلیٰ کمیونسٹ ہیں۔ ہم جب 50  سال پہلے کیرالہ گئے تھے تو ہمیں بتایا گیا تھا کہ کیرالہ میںہندو کمیونسٹ ہیں مسلمان مسلم لیگی ہیں اور عیسائی کانگریسی ہیں۔ یہ وقت وہ تھا کہ بی جے پی کا وجود نہیں تھا جن سنگھ تھی وہ زیادہ بڑی پارٹی نہیں تھی۔ یہ بات تو اب تک ہے کہ بی جے پی کی وہاں کوئی حیثیت نہیں ہے۔ کیرالہ میں تعلیم کی وجہ سے شادی کوئی مسئلہ نہیں ہے ہندو لڑکیاں مسلمان لڑکوں سے اور مسلمان لڑکیاں ہندو یا عیسائی لڑکوں سے اور عیسائی لڑکیاں اپنے شوق اور پسند کے مطابق شادی کرتے ہیں۔ بی جے پی جب پہونچی تو وہ لوجہاد کا جھنجھنا بھی لے گئی اور درجنوں شادیوں میں انہیں جہاد نظر آیا پھر جب عدالتوں نے تحقیق کرائی تو پتہ چلا کہ یہ مودی جی کا تحفہ ہے۔ اس کے بعد کیرالہ بھی لوجہاد سے پاک ہوگیا۔ لیکن کیرالہ میں بی جے پی کی دال اس لئے گلنا مشکل ہے کہ وہاں تعلیم عام ہے اور بہت ہے اور بی جے پی کیلئے جاہل ہونا بھی شرط ہے۔ بی جے پی کے لیڈر جانتے ہیں کہ بی جے پی کا ورکر اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوگا تو وہ اٹل بہاری باجپئی ہوجائے گا جبکہ مودی جی چاہتے ہیں کہ وہ سردار پٹیل کی پوجا کرے اور یہ نہ پوچھے کہ کیوں؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close