سیاست

عدلیہ اور جمہوریت پر فسطائی سائے (آخری قسط)

عبدالعزیز

تعلیمی سطح پر سنگھ پریوار کی ثقافتی یلغار کا ایک پہلو نئے سرے سے ’’تاریخ سازی‘‘ ہے۔ اس کیلئے دلیل دی جارہی ہے کہ انگریزوں اور کمیونسٹ مورخوں نے ہندستان کی تاریخ کو مسخ کردیا ہے۔ اس منطق کی روشنی میں یہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ تاریخ کو از نو مرتب کیا جائے؛ تاکہ ہندوتو کے فلسفہ کو بآسانی اسکولوں اور کالجوں میں مروج کیا جاسکے۔ سنگھ پریوار کو حقائق کو مسخ کرنے اور تاریخ پر نظر ثانی کا ایسا جنون سوار ہے کہ انڈین کونسل آف ہسٹاریکل ریسرچ کے موجودہ صدر B.R.Grover  نے دو معروف مورخوں کی ’’آزادی کی طرف‘‘ پروجیکٹ کی دو اہم کتابوں کے مسودے واپس لے لئے ہیں، جس پر آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے تنازعہ چل رہا ہے۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن نے اپنی معروف تعلیمی رپورٹ میں لکھا تھا کہ ’’ہمارا تعلیمی نظام سماجی حالات کی روشنی میں ہونا چاہئے‘‘۔ ہندستانی آئین میں سماجی تنظیم کے اہم نکات پارلیمانی جمہوریت، وفاقیت، سماجی و معاشی انصاف، اقلیتوں کا تحفظ مذہبی عقائد کی تبلیغ و اشاعت کی آزادی وغیرہ ہیں، جن پر فسطائی قوتوں کا اعتماد نہیں۔ وہ تعلیم کو اپنے مخصوص نظریات کے تحت ڈھال کر ایسا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں جس سے آئندہ نسل فرقہ پرستی ، ثقافتی جارحیت، نسلی برتری اور احیائی تصورات کی حامل بن جائے۔

 آر ایس ایس کی تعلیم مہم کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مسلم اور عیسائی تعلیمی اداروں پر یہی الزامات لگائے جائیں اور میڈیا پروپیگنڈا کے ذریعے اقلیتوں کو ہراساں کیا جائے۔ ندوۃ العلماء لکھنؤ، دارالعلوم دیوبند، شبلی کالج اعظم گڑھ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی آزادی کے بعد جن مراحل سے گزرتے رہے ہیں ان پر مزید روشنی ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے؛ البتہ یہ امر قابل تشویش ہے کہ مذہبی اداروں سے متعلق بل کے ذریعہ موجودہ یو پی حکومت تمام مدرسوں کو پاکستانی خفیہ ایجنسی کا اڈا ثابت کرنے پر تلی بیٹھی ہے۔ حالانکہ وہ اب تک اس سلسلے میں کوئی ٹھوس شہادت نہیں پیش کرسکی ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے سنگھ پریوار مشنری اسکولوں اور عیسائی کالجوں کے خلاف بھی محاذ آرائی میں مصروف ہے۔ وہ تعلیمی ادارے جہاں سے پڑھ کر ہندو طبقے نے ہر میدان میں سبقت حاصل کی، آج مبینہ طور پر ہندو دشمنی کے مرکز بن گئے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہاں بائبل کی تعلیم دی جاتی ہے اور درپردہ ہندوؤں کو عیسائی بنانے کی سازش ہوتی رہتی ہے۔ ان اداروں سے متعلق استادوں، مبلغوں اور راہباؤں کی عزت و ناموس پر حملے ہورہے ہیں اور جسمانی طور پر ایذا رسانی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

3۔  دستورِ ہند کی نظر ثانی:

وزیر اعظم اٹل بہاری باجپئی نے قومی جمہوری اتحاد کے انتخابی منشور کے حوالے سے 23فروری 2000ء کو دستور ہند کی نظر ثانی کیلئے کمیشن مقرر کریا تھا۔ حزب اختلاف اور رائے عامہ کو نظر انداز کرکے اس کمیشن کا قیام اپنی جگہ معنی خیز تھا۔ پارلیمنٹ کے اجلاس سے ایک دن قبل اس اقدام نے بجا طور پر لوگوں کو شکوک و شبہات میں مبتلا کر دیا۔ یہ حقیقت ہے کہ سنگھ پریوار ہندستان کے موجودہ پارلیمانی نظام کے بجائے صدارتی نظام کا حامی ہے لیکن ملک کی بیشتر آبادی خصوصاً اقلیتی طبقے اس کے خلاف ہیں۔ دستور ہند کے کامیاب پچاس سالہ جشن کی تقریب کے موقع پر 27جنوری 2000ء کو باجپئی جی نے آئین کی نظر ثانی کی حمایت کی لیکن صدر جمہوریہ نے ملکی مفاد کے پیش نظر اس سعی لاحاصل کو غیر ضروری قرار دیا۔ ان کے بقول ہمارے آئین کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ہندستان کے حالات اور مسائل یعنی سماجی و معاشی روح سے ہم آہنگ ہے۔ موصوف نے صاف لفظوں میں کہاکہ ہندستان کے دستور میں کوئی کمی نہیں ہے اور وہ ناکام نہیں ہوا بلکہ ہمارے رہنما ناکام ہوئے ہیں۔

 کمیشن نے اپنے پہلے اجلاس میں جن آٹھ امور کی نشاندہی کی ہے اس سے کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا لیکن بی جے پی کے طرزِ فکر اور طرز عمل سے ہمیشہ یہ خطرہ لاحق رہتا ہے کہ وہ عوام کو دھوکہ دے سکتی ہے۔ اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ عوام نے دستور کو بدلنے کی اجازت (Mandate) کسی پارٹی کو نہیں دی۔ یہی نہیں پارلیمنٹ میں قومی جمہوری اتحاد کو دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی قوانین یا عدلیاتی اصلاحات کی مہم کی آڑ میں خفیہ ایجنڈا کو بھی شامل کیا جارہا ہے؛ کیونکہ آئین میں تبدیلی کے ذریعے ہندوتو کے ایجنڈا پر عمل در آمد زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔ بی جے پی کو دستور ہند کی چند دفعات مثلاً دفعہ 25 (مذہبی آزادی)، دفعہ 26(مذہبی ادارے قائم کرنے کی اجازت) اور دفعہ 29 (ہر طبقہ کو زبان و رسم الخط اور کلچر کے تحفظ کی ضمانت) سے بنیادی اختلاف ہے۔ سنگھ پریوار کے نزدیک سب سے اچھا آئین وہ ہے جو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کی پانچ سالہ مدت کو قانونی شکل دے۔ وزیر اعظم کے تقرر کا پورا اختیار صدر کے بجائے پارلیمنٹ کو تفویض کرے، ریاستوں کے وفاقی کردار کو کمزور بنائے اور یکساں سیول کوڈ نافذ کرے۔ ان خدشات کی تصدیق آر ایس ایس کے سربراہ سدرشن جی کے وسط مارچ کے اس بیان سے ہوتی ہے جس میں انھوں نے اپنا عندیہ ظاہر کیا تھا کہ ہندستانی آئین بھارتی عوام کی امیدوں اور خواہشوں سے ہم آہنگ نہیں ہے، لہٰذا اس پر نظر ثانی کی ضرورت نہیں بلکہ اسے مکمل طور پر بدل دینے کی ضرورت ہے۔

  بیسویں صدی یورپ کی تاریخ میں ہٹلر اور مسولینی جدید فسطائیت کے اہم ستون قرار دیئے جاتے ہیں۔ تشدد آمیز قومیت کے تصور پر مبنی ان ڈکٹیٹروں کی پالیسیوں کے نتیجے میں دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمنی اور اٹلی کو جن آزمائشوں سے گزرنا پڑا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ ہندستان میں آر ایس ایس اور اس کی ذیلی جماعتوں نے بھی فسطائی خطوط پر ہندو راشٹر کا خواب دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ دقیانوسی کلچر اور منو وادی نظام قائم کرنے کیلئے فرقہ پرست ہندو دانش وروں، ہم نوا مافیا گروپوں سے تعاون کے علاوہ ہندوتو کے داعی سرمایہ داروں سے مالی امداد تو ملتی ہی رہی ہے۔ اب چند ریاستوں میں اقلیت کو ہراساں کرنے اور انھیں ہندو کلچر کے خاص دھارے میں لانے کیلئے سرکاری مشنری سے بھی کام لیا جارہا ہے۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کے علاوہ اب سکھوں پر بھی سنگھ پریوار کی نظر ہے۔ ’’راشٹریہ سکھ سنگت‘‘ جس کا قیام 1986ء میں عمل میں آیا تھا، اب سکھوں کے علاحدہ تشخص کو ختم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔

 ملک میں فاشزم کے بڑھتے طوفان کا اندازہ سنگھ پریوار کے پروپیگنڈا اور اشاعتی مہم سے لگایا جاسکتا ہے۔ گجرات میں زہر آلود کتابچوں کی تقسیم کو سابقہ طاعون اور خشک سالی سے زیادہ خطرناک سمجھا جارہا ہے۔ ’’بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں سیاسی عدم استحکام، سیکولر جماعتوں کی نا اتفاقی، تعلیمی پسماندگی اور معاشی ابتری کے باعث فسطائی قوتوں کو سرگرم ہونے کے مواقع ملے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی واضح ہے کہ ہندستان جب کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک جہاں ہزاروں سال سے مختلف نسلوں اور قبیلوں کے لوگ رہتے آئے ہیں اور جہاں امن پسندی اور وسیع المشربی کی عظیم روایت آج بھی برقرار ہے۔ کبھی فرقہ پرست عناصر کو حاوی ہونے کا موقع نہیں دے گا۔ اگر چہ آج خود غرض اور ضمیر فروش سیاست دانوں کی بداعمالیوں، سیاسی پارٹیوں کی باہمی چپقلش اور نام نہاد جمہوری تجربوں کے منفی اثرات بھی ہمارے سامنے آرہے ہیں لیکن ہمیں یقین کامل ہے کہ ہندستان میں فسطائیت کو جمہوریت پر کبھی فتح نہیں حاصل ہوگی۔ ہندستانی عوام بہر حال اشوک، اکبر، خواجہ اجمیری، کبیر داس اور گرونانک کے انسان دوست اصولوں کو گولوالکر اور گوڈسے اور ’’ہندوتو‘‘ کے گمراہ کن نظریہ پر ترجیح دیں گے‘‘۔

 (پروفیسر یٰسین صاحب نے اگست 2000ء میں مذکورہ خیالات کا اظہار کیا تھا۔ مضمون کے آخری پیرا گراف میں فرقہ پرستوں کے بارے میں یہ لکھا تھا کہ وہ حاوی نہیں ہوں گے بلکہ انسان دوست نظریہ میں حاوی ہوگا مگر ایسا نہیں ہوا وہ عارضی ہی سہی حاوی ہوگئے ہیں۔ دوسری بات ہے کہ ان کے سیاہ کرتوتوں کی وجہ سے چار سال بعد ان کی گرفت کمزور ہوتی جارہی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے اتحاد و اتفاق سے کام لیا تو پھر ان کا وقتی عروج و زوال میں بدل جائے گا۔ اس وقت عدلیہ بھی ان کی زد میں ہے مگر عدلیہ میں بھی حق پسندوں کی جماعت نے فسطائی قوتوں کے خلاف آوز بلند کی ہے۔ یہ ایک اچھی علامت ہے۔ ع-ع)۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close