سیاستہندوستان

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سانحہ: کوئی معشوق ہے اس پردہ زنگاری میں

تعلیمی اداروں میں حکومت اور مختلف ہندو شر پسندوں کی یہ تمام  ہنگامہ آرائیاں وطن عزیز بھارت سے مسلمانوں کی روشن و تابناک اورسنہری تاریخ کو مسخ کرنے بلکہ ختم کرنے کی مسلسل مذموم کوششوں کی ایک کڑی ہے۔

مولانا سید آصف ملی ندوی

اس میں دو رائے نہیں کہ وطن عزیز بھارت میں سر سید مرحوم کے خوابوں کی تعبیر مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی افق علم و ادب کا ایک ایسا روشن ستارہ ہے جس سے علوم و فنون کے متلاشی اور رہروان علم و ادب ہمیشہ ضیاء حاصل کرتے رہے ہیں ، ہمیشہ اس ادارہ سے ایسے افراد جنم لیتے رہے ہیں جنہو نے دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کردیا، ہر میدان میں انہوں نے اپنی امتیازی شان برقرار رکھی خواہ وہ زبان و ادب کا میدان ہو یا فلسفہ و علم کلام کی موشگافیاں ، سائنس و ٹیکنالوجی کا میدان ہو یا مختلف پیشہ ورانہ علوم و فنون یا تعلیم نسواں کا معاملہ، غرض یہ کہ علیگ برادری نے ہر جگہ اپنی منفرد شناخت قائم کی۔

آج دنیا بھر کے مختلف ممالک میں اس ادارے کے فارغین مختلف سیاسی سماجی ومعاشرتی شعبوں میں اپنی گراں قدرخدمات کے ذریعے نہ صرف اپنی مادر علمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا بلکہ اپنے وطن عزیز بھارت کا بھی نام روشن کر رہے ہیں ۔ لیکن برا ہو اس مذہبی منافرت اور ذات پات کی سیاست کا کہ جب اس کے ذریعے کسی انسان کی آنکھ پر تعصب کی عینک چڑھ جاتی ہے تو پھر اس کوہر خوبی خامی ہی نظر آنے لگتی ہے، چنانچہ وطن عزیز بھارت کی آزادی کے پہلے ہی دن سے ملک میں سرگرم شدت پسند ہندو تنظیموں اور افراد کی نظروں میں مسلم تعلیمی اداریں کھٹکتے رہے ہیں ، وہ ہمہ وقت اس بات کے لئے کوشاں رہے ہیں کہ کسی طرح ان مسلم تعلیمی اداروں کو (خواہ وہ مذہبی تعلیمی اداریں ہو یا مسلم انتظامیہ کے تحت جاری عصری دانشگاہیں ) وطن مخالف اور وطن دشمن ثابت کرکے ان پر تالے لگوادیں ، یا کم از کم ان اداروں کی باگ ڈور مسلم انتظامیہ کے ہاتھوں سے لے کر حکومت کے سپرد کردی جائے تاکہ پھر حکومت ان اداروں کی مذہبی حیثیت اور اقلیتی شناخت کو ختم کر ڈالے، یہی وہ عزائم ہیں جنہیں بروئے کار لانے کے لئے کبھی یہ شوشہ چھوڑا جاتا ہے کہ مدارس اسلامیہ میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے، تو کبھی غیر ملکی طلباء کی تحقیق کے نام پر مدارس اسلامیہ میں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے نہ صرف چھاپے مارے جاتے ہیں بلکہ بسا اوقات انتظامیہ، پولس اور فوج کے ذریعے دراندازی تک کی جاتی ہے، اور اب تو نوبت بایں جا رسید کہ جب سے وطن عزیز میں شست پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی اور فکر و نظریات کا حامل ٹولہ اقتدار میں آیا ہے اس وقت سے نہ صرف انتظامیہ، پولس اور فوج بلکہ اس مخصوص نظریات کے حامل عام افراد کو بھی گویا اپنی مرضی کے مطابق لاء اینڈ آرڈر اور نطم و نسق کے اختیارات دیدئے گئے ہیں ، کوئی بھی جنونی اٹھ کر کچھ بھی ہفوات بک سکتا ہے، ہرزہ سرائی کرسکتا ہے اورکسی بھی طرح کے بے جا مطالبات کر سکتا ہے۔ طرفہ تماشہ یہ کہ حکومت وقت کا زر خرید میڈیا ایماندارانہ صحافت کے اصول و اقدار کو پس پشت ڈال کر ان غیر معقول مطالبات اور نا معقول ہرزہ سرائیوں کی تشہیر کسی جائز مطالبے اور سنجیدہ اصلاحی عمل کے طور پرکرتا رہتا ہے۔

اسی مسموم و مذموم ذہنیت کے تحت گذشتہ کئی دہائیوں سے شدت پسند ہندو تنظیموں کے سربراہان کی جانب سے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کو برابر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، کبھی اس کی مذہبی حیثیت کو ختم کرنے کی بات کی جاتی ہے تو کبھی اس کی اقلیتی شناخت کو ختم کرنیکی بات کی جاتی ہے، تو کبھی کوئی عقل سے عاری آر ایس ایس کا سر سنچالک وائس چانسلر کو خط لکھ کر یونیورسٹی کیمپس میں آر ایس ایس کی شاخ کھولنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ ابھی گذشتہ ہفتے ۳۰ اپریل۲۰۱۸ کو مسٹر ستیش کمار نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر جناب طارق منصور کوخط لکھ کر یونیورسٹی میں گذشتہ آٹھ دہائیوں سے آویزاں بانی پاکستان محمد علی جناح کی تصویر ہٹانے کا مطالبہ کیا، اورپھراچانک محمد علی جناح کی تصویر یونین ہال سے غائب بھی کردی گئی، اس مطالبے کو دو ہی تین دن گذرے تھے کی ۲مئی ۲۰۱۸ کو علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں تاریخ کا بدترین واقعہ پیش آیا۔ جس کی مختصر سی تفصیل یہ ہے کہ سابق نائب صدر جمہوریہ جناب حامد انصاری صاحب کو یونین کی لائف ٹائم ممبر شپ دینے کے لئے بطور خاص مدعو کیا گیا تھا، سنگھ پریوار اور دیگراقلیت دشمن فرقہ پرستوں کو یہ بات کیسے راس آ سکتی تھی کہ جناب حامد انصاری صاحب کو (جنہوں نے اپنے ایک خطاب کے دوران اس حقیقت کا برملااظہار کیا تھا کہ موجودہ زعفرانی حکومت کے دور میں بھارت کا مسلمان ڈر اورخوف کی نفسیات کا شکار ہوکر زندگی گذارنے پر مجبور ہے )یونین کی لائف ٹائم ممبر شپ سے سرفراز کیا جائے۔

چنانچہ اکثریتی طبقے کے تعصب پسند افراد نے جناب حامد انصاری صاحب پر حملہ کرنے کی کوشش کی، اور ساتھ ہی جناح کی تصویر کوموضوع بناکر ہنگامہ آرائی شروع کردی، جبکہ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ یونین ہال میں صرف ان ہی شخصیات کی تصاویر آویزاں کی جاتی ہے جنہیں یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ یونین کی جانب سے تاحیات رکنیت دی گئی ہو، اوریہ بات بھیایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جناح کوملک کی آزادی سے قبل ہی تاحیات رکنیت سے نوازا گیا تھا، گذشتہ اسی سال کے دوران جناح کی اس تصویر سے کسی کے ماتھے پر شکن کے کوئی آثار تک نمودارنہ ہوئے، بلکہ ان خود ساختہ محبین وطن میں سے کسی نے بھی خود اسی زعفرانی ٹولے کے سابق سربراہ کے اپنے دورہ پاکستان کے موقعے پر کراچی پنہچ کرمزار قائد(جناح کی قبر)پر چادرچڑھانے اور گلہائے عقیدت پیش کرنے سے یا ملک کے موجودہ وزیر آعظم کا اپنی وزارت عظمیٰ کی تقریب حلف برداری میں پاکستانی وزیر آعظم کو بطور مہمان خصوصی مدعوکرنے سے کسی طرح کی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی، حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ان وطن دوست افراد کو ملک کے موجودہ وزیر آعظم کے اپنے طویل سفر کے دوران اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ بریانی تناول فرمانے کی خاطر پاکستان اترنے پر ذرا بھی اشکال نہیں ہوا۔

در اصل علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں دن دھاڑے بھگوادہشت گردوں اور یوگی کی ہندو یوا واہنی کے شرپسندوں کا دندناتے ہوئے گھس آنا، ایک پر وقار تقریب میں بھنگ ڈالنا، جناح کی اسی برس پرانی تصویر کو بہانہ بناکر ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کرنا اوراس دوران عالمی شہرت یافتہ مدبر و دانشور اور ملک کے سابق نائب صدر جمہوریہ محترم جناب حامد انصاری صاحب پرقاتلانہ حملہ کرنے کی مذموم کوشش کرنا اوراس کے فوراً بعد یوگی کی پولس کا آکران شر پسندوں کے معاون کا کردار اداکرنا اور یونیورسٹی کے طلباء پر جارحانہ کاروائی اور لاٹھی چارج کرنا، جس کے نتیجے میں تیس سے زائد طلباء بری طرح زخمی ہوئے۔ یہ سب وہ باتیں ہیں جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی معشوق ہے اس پردۂ زنگاری میں ۔ در اصل مسلم تعلیمی اداروں میں حکومت اور مختلف ہندو شر پسندوں کی یہ تمام  ہنگامہ آرائیاں وطن عزیز بھارت سے مسلمانوں کی روشن و تابناک اورسنہری تاریخ کو مسخ کرنے بلکہ ختم کرنے کی مسلسل مذموم کوششوں کی ایک کڑی ہے۔ اس لئے اس سانحہ کومحض ایک واقعہ یاحادثہ سمجھ کر نظر انداز کرنا اور خاموش ہوجانا ان شرپسندوں کو جری بنادیگا، وطن عزیز کی مسلم سیاسی وسماجی تنطیموں واداروں اورمختلف سیاسی وسماجی سرگرمیوں میں فعال و سرگرم افرادکو اس مسئلے کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا ہوگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مولانا سید آصف ندوی

امام و خطیب مسجد قدسیہ ناندیڑ ، صدر جمعیت علماء، شہر ناندیڑ.

متعلقہ

Back to top button
Close