سیاستہندوستان

علی گڑھ: پس منظر نہیں، منظر کی خبر لیجیے

اس منظر نامے کو تاریخ کے پرانے منظر نامے سے جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت نہیں، یہ ہٹلر عھد کے بعد کا نیا منظر نامہ ہے۔

مشرّف عالم ذوقی

کرناٹک کا انتخاب، دو ہزار انیس کا انتخاب، جناح کی تصویر۔ تاریخ کے سیاہ رنگوں میں تقسیم کا المیہ — پس منظر میں الجھ کر ہم حالیہ تصویر کو دیکھنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں ۔ علیگڑھ کے طلبہ نے پولیس اور دہشت گردوں کی موجودگی میں جو قدم اٹھایا، وہ ایک ضروری قدم تھا۔ ۔اس قدم کی وجہ سے ہی شر پسندوں کے حوصلے پست ہوئے ہیں ۔ میڈیا اور عالمی میڈیا کیا بیان دے رہی ہے، ان بیانات کو در گزر کیجئے اور طلبہ کے ساتھ کھڑے ہو کر علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کو بچانے کی کوشش کیجئے۔ یہ ادارہ سر سید نے مسلمانوں کی تعلیم کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی قایم کیا تھا۔ اب اسکو بچانے کی ذمہ داری بھی مسلمانوں پر ہے۔ مٹھی بھر دانشوروں کا ساتھ چاہیے۔ لیکن نہ بھولے کہ خوفناک حالات کی زد میں وہ غیر مسلم صحافی بھی ہیں، جو آپ کے لئے آواز اٹھا رہے ہیں۔ یہ آواز کب تک اٹھے گی ؟ نہیں معلوم۔  کس مضبوطی سے اٹھے گی ؟ یہ بھی نہیں معلوم۔ مٹھی بھر صحافیوں کی بات کا کتنا اثر ہوگا، یہ بھی وثوق سے نہیں کہا جا سکتا۔ آپ اعداد و شمار پر بھروسہ کریں تو مسلمانوں اور علیگڑھ کے لئے آواز اٹھانے والوں کی مجموعی تعداد اتنی کم ہے کہ آپ اپنے مسلم اداروں کو انکے سہارے بچانے کی کوشش نہیں کر سکتے۔ یہ صحافی بھی اس بات سے خوف محسوس کرتے ہیں کہ حکومت انکی ذاتی زندگی سے لے کر بینک کے کھاتوں تک میں نقص نکال کر انہیں جیل بھیجنے کا انتظام کر سکتی ہے۔ اس صورت میں جو کچھ بھی کرنا ہے، مسلمانوں اور مسلمانوں کی تنظیم کو ہی کرنا ہے۔ ۔کیوں کرنا ہے، اس کی وضاحت میں آگے کروں گا۔

مودی حکومت میں مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے والے ظلم کی ہر تصویر صاف ہے۔ آر ایس ایس کا ایک ہی ٹارگیٹ ہے۔ مسلمانوں کی بڑی آبادی کو محتاج بنا دو۔ ان سے تعلیم چھین لو۔ مسلم نوجوانوں کو خوفزدہ کرو۔ انہیں جیل بھیجو۔ ان پر دہشت گرد ہونے کا الزام لگاو۔ چار برس کے منظر نامے کا ہر قدم اکثریت کو کمزور کرنے کے لئے نہیں تھا، مسلمانوں کو برباد کرنے کے لئے تھا۔ نوٹ بنندی سے سب سے زیادہ مسلمان متاثر ہوئے۔ جی ایس ٹی نے سب سے زیادہ مسلمانوں سے روزگار چھینا۔ گوشت پر پابندی نے چھوٹے چھوٹے کاروباریوں سے رزق چھین لیا۔ بنکر برباد۔ ۔مسلم تاجر برباد۔ ۔۔چار برسوں میں حاشیہ سے بھی کویی نیچے پھیکا گیا، تو وہ مسلمان تھے۔ ۔آر ایس ایس آھستہ آھستہ ایک ایک قلعہ فتح کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے۔ مسلم عورتوں کو لے کر طلاق ثلاثہ پر زبردستی بل لے کر آ گیی۔ بابری مسجد کے بعد حوصلہ دو قدم آگے بڑھا تو ہمایوں پور، دلی کے پرانے مقبرے کو راتوں رات مندر میں تبدیل کر کے مورتیاں رکھ دی گیں ۔ لال قلعہ کی نیلامی ہو گیی۔ تاج محل اور مسلمانوں کے ذریعہ تعمیر کی گیی دوسری عمارتوں کی نیلامی ابھی باقی ہے۔ اب مسلم اداروں کی باری ہے۔ اب مسلم نوجوانوں کی باری ہے۔ اقلیتی کردار کو تباہ کرنے کی باری ہے۔ اب نیے منظر نامے کو غور سے دیکھئے۔ ۔پولیس کا استعمال آپکو، آپکے بچوں کو مارنے کے لئے ہو رہا ہے۔

اس منظر نامے کو تاریخ کے پرانے منظر نامے سے جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت نہیں، یہ ہٹلر عھد کے بعد کا نیا منظر نامہ ہے۔ یہ پتن، ٹرمپ، شی جن پنگ کا زمانہ ہے۔ حقیقتیں بدل چکی ہیں ۔ سفاکیت کے لئے کویی تشریح یا دلیل کی ضرورت نہیں ۔ علیگڑھ میں دن دہاڑے بھگوا دہشت گردوں کا ایک گروہ آتا ہے ؟ کس کے اشارے پر۔ یہ سوال خود سے پوچھ کر دیکھئے۔  پیچھے پیچھے بڑی تعداد میں یوگی کی پولیس ہوتی ہے۔ بھگوا دہشت گرد کی دلچسپی کیا جناح کی تصویر میں تھی ؟ وہ بھی اسی برس پرانی تصویر میں ؟ جناح کی تصویر آج بھی کیی میوزیم اور اداروں میں رکھی ہے۔ ممبئی میں جناح ہاؤس ہے۔ جناح کا اٹھارہ سو چھیانوے میں جاری کیے گئے بیرسٹر سرٹیفکیٹ کو ممبئی ہائی کورٹ کے میوزیم میں رکھا گیا ہے۔ چو دہ فروری ٢٠١٥ کو مودی نے اس میوزیم کا افتتاح کیا تھا اسی طرح پاکستان میں بھی گاندھی کی تصویر ہوگی۔ تصویر کا ہونا کویی گناہ نہیں ۔ ستر برس میں جو ماحول پیدا کیا گیا، اس ماحول میں کویی بھی ہندوستانی مسلمان جناح کے لئے اچھے جذبات نہیں رکھتا۔ نیی نسل کے بچے تو پاکستان کا نام تک سننا گوارا نہیں کرتے۔ یہ ہمارے آج کے ہندوستان کا سچ ہے۔ یہ سچ پکوڑا اور پان بیچنے کی تعلیم دینے والے بھی جانتے ہیں ۔ بی جے پی لیڈر یڈیو رپا بھی جو کرناٹک میں بی جے پی کو ووٹ نہ کرنے والوں کو مارنے کی صلاح دیتے ہیں ۔ آر ایس ایس اور مودی کے لوگ بھی یہ جانتے ہیں کہ کویی بھی ہندوستانی آج جناح کے نام تک کو سننا گوارا نہیں کرتا۔ حب الوطنی کے جذبے نے انسانی نفسیات کو خطرناک حد تک مفلوج کیا ہے کہ آپ تاریخ کا مشاہدہ اور تجزیہ بھی اپنی فکر کے مطابق نہیں کر سکتے۔ اس لئے یہ بات صاف ہوئی کہ مقصد جناح نہیں تھے۔- جناح کی تصویر کو ہٹانا مقصد نہیں تھا۔ اب تو سر سید کی تصویر بھی ٹارگیٹ ہے۔

اب اس منظر کو ایک بار پھر دیکھئے۔ پولیس نے مسلم نوجوانوں پر بے دردی سے لاٹھیاں برساین۔ ۔مسلم نوجوانوں کی چیخ سے آسمان بھی تھرتھرا اٹھا ہے۔ ۔میں نے ویڈیو دیکھا ہے۔ ایک بڑی دنیا نے یہ ویڈیو دیکھا ہے۔ پولیس کا ارادہ کیا تھا ؟ میڈیا میں جو اسکے بعد خبریں این، اسکا پس منظر کیا تھا ؟ اب یہ بات پوری دنیا جانتی ہے کہ ہندوستانی میڈیا کو خبریں بھی پی ایم آفس سے ملتی ہیں ۔ ۔تو کیا جو کچھ ہوا پہلے سے منصوبہ بند تھا ؟ اگر ہاں تو منصوبہ کیا تھا۔ ۔آزادی کے بعد پچاس ہزار سے کہیں زیادہ فسادات ہوئے۔ ان فسادات میں پولیس کا کردار بھیانک رہا۔ ہاشم پورا میں تو پولیس نے وہی کردار مسلمانوں کے لئے ادا کیا جو جنرل ڈائر نے انیس سو انیس میں ہندوستانیوں کے لئے ادا کیا تھا۔ آزادی کے بعد کی سیکڑوں تحقیقاتی کمیٹیوں کی رپورٹ کو سرد بستے میں ڈال دیا گیا۔ ۔کیوں ڈال دیا گیا ؟اس لئے کہ ان ریکارڈس میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے اعداد و شمار درج تھے۔ مودی یگ کی شروعات ہوتے ہی تمام مجرم جیل سے رہآیی پا جاتے ہیں اور مسلمانوں پر قیامت ٹوٹ پڑتی ہے۔ ۔ مسلم آبادی کا ایک بڑا حصّہ آج جیلوں میں قید ہے۔ ۔روزانہ کی خبروں میں ، مسلمانوں کی غداری کی مثالیں دی جا رہی ہیں ۔ کبھی انکاونٹر ہوتا ہے کبھی کوئی نوجوان دہشت گرد ثابت ہوتا ہے۔ ۔اب اصل ٹارگیٹ مسلم نوجوان ہیں ۔ اس لئے بڑی تعداد میں جھوٹے الزامات لگا کر کبھی انہیں جیل کی سلاخوں میں ڈالا جاتا ہے کبھی فرضی انکاونٹر کیا جاتا ہے۔

اے ایم یو کی تھذیب، تعلیم یافتہ بچے ٹارگیٹ ہیں

میڈیا نے آسانی سے تہذیب یافتہ مسلم بچوں کے ہنگاموں کو دہشت گردی سے جوڑ دیا۔ شیروانی پہنے ہوئے بچے۔ ٹوپی لگاہے ہوئے۔ شکل و صورت سے مہذب نظر آنے والے یہ بچے دنیا کے بہترین بچوں میں سے ایک ہیں ۔ ان بچوں کو کیریر سرٹیفکیٹ ایسے لوگ نہ دیں جو انگریزوں کے مخبر ساورکر کو ویر بتاتے ہوں ۔ جو گاندھی کے قاتل کے مندر بناتے ہوں ۔ جو فرقہ پرستی کی خوفناک رسم کو نبھاتے ہوئے ہندوستان کے ٹکڑے کرتے ہوں ۔ جو دلتوں کو بھی بے عزت، بے آبرو کرنے کے بہانے تلاش کرتے ہوں ۔ جنکے تعلیمی سرٹیفکیٹ تک جعلی ہوں ، ان لوگوں کے سرٹیفکیٹ علیگڑھ کے بچوں کو نہیں چاہییں ۔ مشکل یہ ہے کہ ہمارا آدھا ادھورا دانشور سماج بھی ان بچوں کو کوس رہا ہے۔ ۔یہ سماج اصل ایشو چھوڑ کر، جناح اور ہندوستان کی تاریخ کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ ہر شخص اپنی دانشوری منوانے میں پیش پیش ہے۔

اب سوچئے کہ یہ بچے کیا کرتے ؟ بھگوا دہشت گردوں کا منشا کیا تھا ؟وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنان پر مشتمل گروپ ‘رہائی منچ’ نے ایک ‘فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ’ جاری کرکے یہ بیان دیا تھا کہ موجودہ ہندوستان کا اصل ٹارگیٹ مسلمان ہیں ۔ گھر واپسی، گو رکشا جیسی مہم کے بعد اے ایم یو پر حملہ اسی ٹارگیٹ کی منظم اور منصو بہ بند کڑی ہے۔ آر ایس ایس اور حکومت کے کارندے اب مسلسل علیگڑھ کو سازش کا حصّہ بناتے رہینگے۔ ہمارے پاس بڑے خزانے کے طور پر علیگڑھ کے سوا کچھ نہیں ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ بھی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ جب ہمارے پاس علیگڑھ کے سوا کچھ نہیں ، تو علیگڑھ کے لئے ہمیں بھی منظم ہونا ہوگا۔ اب آئیے غور کریں کہ علیگڑھ کے طلبہ کے پاس کیا راستہ تھا ؟طلبہ کی ناراضگی جناح کی تصویر اتارنے کو لے کر نہیں تھی۔ بھگوا غنڈے اشتعال انگیز نعرے لگا رہے تھے۔ فرض کیجئے مسلم بچے خاموش رہتے تو کیا ہوتا ؟ فرض کیجئے کی بنیاد پر آر ایس ایس کی دلیل نہیں چلتی۔ ایک وقت میں جب ہماری یہ دنیا مریخ سے بھی آگے بستیاں بسانے کی تیاری کر رہی ہے، بی جے پی کے جاہل لیڈر کبھی گوگل کو نارد منی سے جوڑتے ہیں ۔ کبھی وائی فایی اور انٹرنیٹ کو مہابھارت سے پہلے کا بتا کر ساری دنیا میں اپنی جہالت سے ہندوستان پر ہنسنے کا موقع فراہم کرتے ہیں ۔۔ہم مسخرے اور جاہل قاتلوں کے درمیان ہیں جو تعلیم کے مقاصد سے اسی قدر واقف ہیں کہ ہندوستان اگر تعلیم یافتہ ہوا تو انکی حکومت تعلیم یافتہ لوگوں کو منظور نہیں ہوگی۔ اسلئے آزادی کے بعد پہلی بار تعلیم کے بجٹ کو بھی کم کیا گیا۔ اب یہ لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے پاس سے ان کی تعلیمی درس گاہیں چھین لی جاییں ۔ مہذب بچوں کے لباس کو بھی ٹارگیٹ کیا گیا اور پولیس کی بے رحم لاٹھیاں بھی ان بچوں پر برسایی گیں ۔ ۔کیا مٹھی بھر دانشور ہماری درس گاہوں کو بچا سکتے ہیں ؟ میرا جواب ہے نہیں ۔ انکا ساتھ ضرور چاہیے۔ ایسے لوگ ہماری بڑی طاقت ہیں ۔ لیکن علیگڑھ کے طلبہ نے اس وقت جو کیا، اس طاقت کا مظاہرہ ضروری تھا۔ کیوں کہ آر ایس ایس وہاں اپنی شاخیں کھولنا چاہتی ہے۔ اسکا دوسرا ٹارگیٹ ہے کہ چند مسلم بچوں کو خریدا جائے جس سے مستقبل قریب میں اے ایم یو میں آر ایس ایس کی شاخوں کی بنیاد ڈالنا آسان ہو جائے۔ بھگوا دہشت گردوں کے خوفناک ارادوں کو علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ نے ابھی تو ناکام بنا دیا ہے لیکن اگر انھیں سارے ہندوستان کے مسلمانوں کی حمایت نہ ملی تو آئندہ یہی لوگ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جایئں گے۔

ابھی کچھ اور ہوگا۔ ۔جسکی نشاندہی میں نے اپنے ناول آتش رفتہ کا سراغ میں ٢٠١٢ میں کی تھی:

 اردو پر برا وقت آئے گا ۔

فیس بک پر آپکے اردو پیغامات بھی کل الزامات کے نرغے میں ہوں گے۔

ادبی پاکستانی دوستوں سے آپکے تعلقات بھی شک کی فضا پیدا کریں گے

اس بات کو سمجھے کہ اصل ٹارگیٹ مسلم نوجوانوں کا مستقبل ہے۔

یہ آپ کو چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھا کر اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

آر ایس ایس اپنی کمزوروں کو جانتی ہے۔ اس ادارے سے وابستہ لوگ خوب پڑھتے ہیں ۔ بی جے پی میں اکثریت مسخروں کی ہے۔ یہ بھی آر ایس ایس کی دور اندیشی ہے۔ کیا حقیقت میں جاہلانہ بیان دینے والے مسخرے ہیں ؟ یا انہیں ایسا بیان دینے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔ ؟ آر ایس ایس اپنے علم کو تخریب کاری اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتی ہے۔ اور اسی لئے اس کا ایک ایک قدم آج کی تاریخ میں آپ گن سکتے ہیں ۔ کبھی مسلم آبادی کا مسلہ اٹھا کر، کبھی دہشت گردی، کبھی مسلم نوجوانوں اور مدرسوں کے حوالہ سے۔ ۔ہر قدم کے پیچھے ایک بڑی تحریک کو دخل ہوتا ہے۔ اور تحریک ہے کہ ہندوستان سے اسلام کا خاتمہ ہو۔ مسلمانوں کی گھر واپسی ہو۔ مسلمانوں کو اس حد تک سماجی، معاشرتی، معاشی، سیاسی طور پر کمزور دو کہ انکی گھر واپسی آسان ہو سکے۔ اس لئے آر ایس ایس کو حب الوطنی کا راگ بھی اختیار کرنا پڑا۔ ۔آر ایس ایس جانتی ہے کہ اس نے ہمیشہ ترنگے کی جگہ بھگوا پرچم کو اہمیت دی۔ انگریزوں کا ساتھ دیا۔ نیے منظر نامے میں مسلمانوں کو غدار ثابت کرتے ہوئے آر ایس ایس کو پوری تیاری کرنی ہے۔ نیا نصاب، نیی تاریخ اور نیے ہندوستان کا مکمل خاکہ اس کے ذہن میں ہے۔ ۔۔اور اس خاکے میں کسی مسلم درس گاہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اس لئے ملک میں منو سمرتی کے قانون کو نافذ کرتے ہوئے اب وہ مسلم نوجوانوں کے مستقبل کو برباد کرنے کے راستے پر بھی چل پڑی ہے۔
اے ایم یو میں جو کچھ بھی ہوا، وہ ایک بڑی سوچی سمجھی سازش کے طور پر ہوا۔

ابھی بھی علیگڑھ کے طلبہ کے لئے پر زور حمایت سامنے نہیں آیی ہے۔ یہ وقت تاریخ کے صفحات الٹنے کا نہیں۔ جاہلوں سے امید نہ رکھیں کہ انہوں نے تاریخ کا مطالعہ بھی کیا ہوگا۔  جامعات کو بچانے میں اپنا کردار ادا کیجئے۔

تیری نوا سے ہے بے پردہ زندگی کا ضمیر
کہ تیرے ساز کی فطرت نے کی ہے مضرابی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مشرف عالم ذوقی

ڈاکٹر مشرف عالم ذوقی اردو کے معروف نقاد، ادیب اور فکشن نگار ہیں۔ موصوف کم و بیش تین درجن کتابوں کے مصنف ہیں۔

متعلقہ

Close