سیاست

عنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں

وصیل خان

ملک کا ماحول اتنا ہوش ربا اورگھبرادینے والاہےکہ کوئی کچھ کہے بھی تو کیسے کہے۔ روح کو چھلنی کردینے والے مسلسل واقعات نے عام انسانوںکے دماغوں کی چولیں تک ہلاڈالی ہیں۔ درندگی، وحشت اور بربریت کے واقعات جیسے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی ہوڑلگائے ہوئے ہیں ایک واقعہ ابھی پوری طرح ذہن سے اترتا نہیں کہ دوسرا اس سے بھی زیادہ بھیانک اور وحشتناک صورت لئے نظروں کے سامنے رقص کناں ہوجاتا ہے۔آج سے چار سال قبل دادری میں محمد اخلاق کو گائے کا گوشت فریج میں رکھنے کے الزام میں بڑی بے دردی اور سفاکی سے قتل کرڈالاگیا تھا۔ وحشت اور سفاکیت کا یہ سلسلہ تھمنے کے بجائےمزید گہراتا جارہا ہے اس کی وجہ صاف ہے کہ پولس و انتظامیہ نے انہیںکھلی چھوٹ دے رکھی ہےنہ تو انہیں باز پرس کا کوئی خوف ہے نہ ہی انہیں اس بات کا احساس ہے کہ وہ معمولی معمولی باتوں کو جواز بناکر انسانی خون سے ہولی کھیلتے ہیں۔ گذشتہ دنوں عارفہ خانم شیروانی اور ان کی ٹیم نے دادری کا حال جاننے کی کوشش کی، اپنی رپورٹ میں انہوں نے بڑی تفصیل کے ساتھ وہاں کے لوگوں کے حالات بیان کئے ہیں جسے پڑھ کر کلیجہ منھ کو آتا ہے۔ جی چاہتا ہے کہ اس کا اعادہ کیا جائے تاکہ یہ اندازہ  ہوسکے کہ فرقہ پرستی نے وہاں اپنا خونیں پنجہ کتنی گہرائی کے ساتھ انسانی ذہنوں پرمسلط کررکھا ہے۔ وہ لکھتی ہیں۔

 ’’ ڈر تو لگتا ہے، لیکن یہاں سے کہاں جائیں گے۔ مرنا تو اب بھی ہے، تب بھی۔ لیکن اس کی رضا کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔ گریٹر نوئیڈا کے دادری علاقے کے بساہڑا گاؤں کی حسینہ بی ( تبدیل شدہ نام )دھیرے سے یہ کہتی ہیں مانو اب ان کو اپنی قسمت سے کوئی امید باقی نہیں رہ گئی ہے۔ بساہڑا گاؤں کا نام ۲۰۱۵میں اس وقت سرخیوں میں آیا تھا جب ۵۵ ؍سال کے محمد اخلاق کو گائے کے گوشت رکھنے کے شک کی وجہ سے بھیڑ نے پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا تھا۔ اس واقعے کو تقریبا ً چار سال بیت چکے ہیں، لیکن اس گاؤں میں پھیلی کشیدگی، ڈر اور عدم اعتماد کی فضا کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ راجدھانی دہلی سے محض ۶۰؍کلو میٹر دورٹھاکر وں کا یہ گاؤں ترقی یافتہ اور ثروت مند لگتا ہے ۱۶ویں صدی کے راجپوت راجا مہارانا پرتاپ کا مجسمہ والاایک گیٹ گاؤں کی طرف لے جاتا ہے جہاںکی سڑکیں پختہ اور صاف ہیں۔ گاؤں کی واحد مسجد کے اکلوتے امام بتاتے ہیں کہ اخلاق والے واقعے کے بعد کوئی بھی یہاں امامت کرنے کو راضی نہیں، اس لئے راہ خدا میں انہوں نے یہ ذمہ داری سنبھالی ہوئی ہے وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد خوف کے سبب متعدد مسلمانوں نے گاؤں کو خیرباد کہہ دیا، ان کے پاس صحیح اعدادوشمار تو نہیں لیکن اتنا معلوم ہے کہ وہ لوگ کبھی نہیں لوٹے، بقول ان کے یہاں کوئی کسی سے بات نہیں کرتا، کسی کو کسی پر بھروسہ نہیں جتنا کم بولیں اتنا ہی بہتر ہے ماحول بے حد گندہ ہوچکا ہے، ایک طرح سے انہوں نے گاؤں کو ہی برباد کرڈالا۔جب ہم وہاں پہنچے تو دوپہر نہیں ہوئی تھی۔ مسلم کمیونٹی کے کچھ مرد جن کے پاس نہ زمین ہے نہ پیسہ یومیہ مزدوری کرنے نکلےتھے۔ غالبا ً ۵۰؍سے زائد عمر کی حسینہ بی بکریاں چرارہی تھیں، ساتھ ہی آس پاس بھاگتے بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ بھی کررہی تھیں، وہ کیمرے کے سامنے بات نہیں کرنا چاہتیں،ان کو ڈر ہے کہ ان کے بیانات کو توڑ مروڑ دیا جائے گا اور غلط مطلب نکالاجائے گا۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا پہلے ہوچکا ہے لیکن کیمرہ ہٹانے پر کھل کر بات کرتی ہیں۔ اپنی نا امیدی اور تشویش چھپاتے ہوئے وہ پھر بھی کہتی ہیں، ڈرنے سے کیا ہوگا۔ یہ ہمارا ملک ہے، ہمارا گاؤں ہے، ہمیں یہاں سے کون نکال سکتا ہے۔

تقریباً چار دہائی قبل وہ یہاں دلہن بن کے آئی تھیں آج ان کے تین بیٹے ہیں جن میں ایک درزی،ایک یومیہ مزدور اور ایک لیب میں کام کرتا ہے۔ انہوں نے اس عام مسلم نظریئے پر یقین کرتے ہوئے کہ مسلمانوں کو ان کی تعلیم کے مطابق کام نہیں ملتا، اپنے بچو ں کو نہیں پڑھایا، وہ پھیکی ہنسی کے ساتھ کہتی ہیں، ہمیں کون نوکری دے گا ؟آس پاس سے گزررہے دوسرے مسلمان بڑے تجسس کے ساتھ ہمارے پاس آتے ہیں اور یہاںسے چلے جانے کا مشورہ دیتے ہیں تو ان سے ہم یہی کہتے ہیں آپ لوگ جایئے، ہم اپنے جہنم میں خوش ہیں۔ اس گاؤں میں تقریبا ً ۶۵۰۰؍ووٹرس ہیںجن میں صرف ۳۵؍ مسلم خاندان ہیں باقی زیادہ تر راجپوت ہیں۔ یہاں مسلمانوں میں عدم اعتماد اور انہیں الگ تھلگ کردیئے جانے کا جذبہ صاف دیکھا جاسکتا ہے جس کو بی جے پی رہنماؤں اور ان کی بانٹنے والی سیاست نے مزید گہرا تے ہوئےبہت زیادہ بھڑکا دیا ہے۔ یوپی کے وزیراعلا یوگی کی ہونے والی حالیہ ریلی میں محمد اخلاق کی لنچنگ کا ملزم وشال سنگھ بھی پیش پیش تھا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ یوگی یوگی کے نعرے لگارہا تھا۔ اخلاق کے قتل کے الزام میں گرفتار ہوئے ۱۸؍لوگوں میں سے ۱۷؍ ضمانت پر ہیں اور ایک ملزم کی جیل میں ڈینگو سے موت ہوگئی تھی گاؤں والوں نے اس کی لاش کو ترنگے میں لپیٹا تھا، ان کا ماننا تھا کہ وہ شہید تھا جس نے ’ ہندواقدارکی حفاظت کی تھی۔ حالانکہ اب اخلاق کی فیملی سے کوئی اس گاؤں میں نہیں رہتا، اس گاؤں کی سوچ جاننے کیلئے ایک دوکاندار سے بات کی۔ چہرے پر ندامت کا تاثر لئے اس نے گاؤں کی امیج بچانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ’ ہمارے گاؤں میں کوئی قاتل نہیں ہے۔ یہ سب باہر کے لوگ تھے۔ اخلاق کے ساتھ بہت برا ہوا، وہ بھی ہمارا بھائی تھا۔ ‘‘

ملک میں جب تک گنگا جمنی تہذیب کا غلبہ تھا، اس طرح کا کوئی بھی فرقہ وارانہ ماحول زیادہ دیر تک نہیں قائم رہ پاتا تھا بلکہ کچھ ہی دنوں میں فطرت کے زور پر سب کچھ لوٹ آتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہوتا، ایک بار جہاں ماحول خراب ہوگیا تو ایک منصوبہ بند تحریک کے تحت یہ کوشش کی جاتی ہے کہ یکجہتی کا وہ ماحول نہ لوٹنے پائے، اس کے لئے فرقہ پرست بڑے اتحاد کے ساتھ محنت کرتے ہیں۔ گیارہ اپریل سے پارلیمانی انتخابات کا سلسلہ جاری ہوچکا ہے بی جے پی جان توڑ کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ ایک بار پھر وہ اقتدار پر قابض ہوجائے، اس نے تین طلاق بل اور دستور کا عطا کردہ ریاست کشمیرکیلئے خصوصی درجہ جیسےدیگر معاملات کو اٹھاکر ہندومسلم منافرت کومزید بھڑکانے کا کام شروع کردیا ہے۔ دادری کے بساہڑہ کے لوگوں کے حالات دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ خوف و دہشت میں بھی بڑی طاقت ہوتی ہے یہ اچھے اچھوں کو بھی کمزورکردیتا ہے، خوف و دہشت کی یہ نفسیات صرف بساہڑہ میں ہی نہیں اور بھی جگہوں پر دیکھی جاسکتی ہے ۔ یہی وقت ہے ہمارے امتحان کا اور یہ امتحان بہت آسان بھی نہیں ہے کیونکہ سیکولر اپوزیشن جماعتوںکا اتحاد کمزوربھی اور منتشربھی، جبکہ فرقہ پرستوں اور ان کی جماعتوں کو اکھاڑ پھینکنے کا یہی واحد راستہ تھا یعنی عظیم اتحاد، جس کے مضبوط ہونے کا سردست کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ ہمیں اسی امکان کو یقین میں بدلنے کا عہدکرنا ہے۔عنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

وصیل خان

ممبئی اردو نیوز

متعلقہ

Close