سیاستملی مسائل

فرقہ بندی اور مسلک پرستی کے لیے ترغیب یا تحذیر

ایک مشہور اور خیرخواہ معالج نے اپنے مریضوں کو ’’آبیازہ‘‘ (مثال کے لئے ایک خیالی چیز) کھانے سے بڑی سختی سے منع کیا۔ یہ پُرکشش مگر بہت ہی مہلک چیز ’’آبیازہ‘‘ چونکہ ہر جگہ وافر مقدار میں بڑی آسانی سے دستیاب تھا اور وہ بھی بغیر کسی قیمت کے، جس کی وجہ سے اس سے بچنا بڑا مشکل کام تھا۔ اس لئے مریضوں نے اپنی فکر ظاہر کرتے ہوئے اپنے اس محسن اور ہمدرد معالج سے استفسار کیا کہ ’آبیازہ ‘ نام کی اس بلا سے بچنے کی کوئی کارگر ترکیب بتائیں۔ ڈاکٹر نے انسانی نفسیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے سبھی مریضوں کو یہ مشورہ دیا کہ ’’آبیازہ-مخالف/اینٹی -آبیازہ‘‘ بن جاؤ ، اسی میں تمہاری بھلائی ہے ۔ اس ہلاکت خیز فتنے کے تعلق سے میرا اور میرے ساتھیوں کا رویہ دیکھو ، بہتر یہی ہوگا کہ تم لوگ بھی ہماری طرح اپنی سوچ و فکر کو اس طوفانِ بلایعنی ’آبیازہ‘ کے خلاف ڈھال لو ۔ کیوں کہ تم سے پہلے فلاں فلاں لوگوں نے اس مہلک چیز کا استعمال کیا اور وہ تباہ و برباد ہوگئے۔ یہ بات گانٹھ لو کہ زندگی میں کبھی اس چیز کے آس پاس بھی نہیں پھٹکو گے۔ اسی ایک طریقے سے تم سب اور تمہاری آنے نسلیں اس مہلک چیز سے بچ سکتی ہیں۔

ڈاکٹر کا یہ مشورہ بڑا مفید اور کارگر ثابت ہوا ۔ اس کے اس طرح کے نفسیاتی سجھاؤ کا ان سبھی پر اتنا گہرا اثر مرتب ہوا کہ ان میں آپس میں متعدد معاملات و موضوعات پر باہمی اختلافات اور تنازعات پیدا ہوئے ، بہت سی چیزوں کے صحیح اور غلط کے معاملے پر ان میں کشا کشی بھی ہوئی لیکن بات جب بھی ’’آبیازہ‘‘ کی آتی تو سبھی ایک صف میں نظر آتے ،سبھی بیک آواز اس کی مخالفت کرتے۔ ’آبیازہ‘ کے موضوع پر ان سبھی کی اجتماعی سوچ میں کبھی ذرہ برابر بھی فرق واقع نہیں ہوا۔ ان مریضوں نے متفقہ طور پر اپنے اُس خیر خواہ معالج کی اس تجویز پر سو فیصد عمل کیا اور زندگی بھر کبھی ’’آبیازہ‘‘ کے آس پاس بھی نہیں پھٹكے۔ یہی وجہ تھی کہ دیگر انسانی کمزوریوں کے باجود ’آبیازہ ‘سے پرہیز کا نتیجہ تھا کہ ان کی زندگی صحت مند اور اعصاب بہت مضبوط تھے ۔ آبیازہ کے خلاف ان کی سوچ میں پائی جانے والی یکسانیت نے ان کی صفوں میں ایسا اتحاد پیدا کردیا تھا کہ وہ دنیا کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہورہے تھے ۔ ان کے بعد ان کی چند نسلوں نے بھی اس خیر خواہ معالج کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے صحت مند زندگی گزاری اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا کہ جس نے دنیا بھر میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے ۔ مگر بعد کی آنے والی نسلیں دھیرے دھیرے اس خیر خواہ معالج کے انتباہ کو بھولتی گئیں ، اس کے مشورہ پر قائم نہ رہ سکیں اور ’’آبیازہ‘‘ سے پرہیز کو قائم نہ رکھ سکیں ۔جس کی وجہ سے وہ لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو تے چلے گئے۔ا ن کے اعصاب کمزور ہوتے گئے، ان کی سوچ و فکر متزلزل ہونے لگی جس کی وجہ سے ان کی صف بندی اور اتحاد کا شیرازہ بکھر گیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان لوگوں کو آبیازہ کی ایسی لت لگ گئی کہ آبیازہ ہی ان لوگوں کی مرغوب و مرغن غذا بن کر رہ گیا۔ ان لوگوں نے آبیازہ کے استعمال کے لیے جواز تلاش کرنا اور تاویلات گڑھنا شروع کردیا ۔ حد تو تب ہوئی گئی جب آبیازہ کے خلاف اپنے اس محسن معالج کے انتباہ اور مشورے کو ہی ان لوگوں نے توڑ مروڑ کر آبیازہ کے حق میں استعمال کرنا شروع کردیا۔ انھیں لوگوں میں سے ایک گروہ ایسا بھی تھا جو ’’آبیازہ‘‘ کھانے کا تو بہت شوقین تھا لیکن ’’اینٹی-آبیازہ‘‘ ہونے کا کریڈٹ بھی اپنے پاس ہی رکھنا چاہتا تھا۔ سو اس گروہ نے ایک منفرد طریقہ ڈھونڈ نکالا۔ وہ یہ کہ ان لوگوں نے اپنا نام ہی ’’اینٹی-آبیازہ‘‘ رکھ لیا ۔ اور تو اور کچھ لوگوں نے تو ’’آبیازے ‘‘ کی ایک جنس کا نام ہی ’’اینٹی-آبیازہ‘‘ رکھ دیا اور پھر سب مل جل کر ’آبیازہ‘ کی دعوتیں اڑانے لگے ۔

امید ہے کہ مذکورہ بالا مثال سے سمجھ گئے ہوں گے کہ اس میں کس طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ بھلے ہی یہ ایک مثال ہے مگر مسلمانوں کی مسلکی صف بندی اور تفرقہ بازی کی موجودہ صورتحال کو اجاگر کرنے کے لیے کافی ہے۔ مذکورہ بالا مثال در اصل انسانیت کے خیر خواہ معالج اور محسن رسول اکرم ﷺکی اس حدیث کو سمجھانے کے لیے پیش کی گئی ہے جس میں اس انتہائی مہلک اور خطرناک چیز یعنی مسلک پرستی اور تفرقہ بازی کے خلاف واضح انداز میں متنبہ کیا گیا تھا۔ سنن ابی داؤود کی حدیث (4597) ہے ’’خبردار! تم سے پہلےکے اہل کتاب 72 فرقوں میں بٹے اور یہ ملت 73 فرقوں میں تقسیم ہو گی۔ ان میں 72 جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں۔ اور جنت میں جانے والے وہ ہیں جو جماعت کی صورت میں ہوں گے۔‘‘یعنی جو بٹیں گے نہیں۔اس حدیث کے آخری حصے میں جنھیں ’ناجی ‘قرار دیا گیا ہے یعنی جنھیں جنت کی بشارت دی گئی ہے ان کے لیے ’’و ھِیَ الْجَمَاعَةُ‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ الجماعة کو ن ہیں؟ جب صحابہ کرام ؓ نے رسول اکرم ﷺ سے اس بارے میں استفسار کیا تو انھوں نے کہا ’’ما أنا عليه واصحابي‘‘ (جامع ترمذی ) یعنی جو میرے اور میرے اصحاب کے راستے پر چلے گا۔دیگر مآخذ میں اسی سے ملتا جلتا دوسرا جواب بھی پایا جاتا ہے۔ وہ ہے’’اہل السسنۃ و الجماعۃ‘‘یہ سبھی جوابات ہم معنیٰ ہیں۔ سنت سے مراد نبی ﷺ کا طریقہ اور الجماعۃ سے مراد جماعتِ صحابہ ؓ کا طریقہ ۔ یعنی سنت و اجتماعیت کے راستے پر چلنے والے ، تفرقہ ، تنازع اور انتشار کے برخلاف اتحاد و اتفاق کے ساتھ باہم مل جل کر رہنے والے لوگ ہی ناجی ہوں گے۔

اب اس سے بڑا المیہ کیا ہو سکتا ہے کہ فرقوں اور مسلکوں کے نام پر بٹے مسلمانوں نے مذکورہ بالا حدیث کو ہی مسلکی تقسیم اور فرقہ وارانہ صف بندی کے لیے ایک دلیل کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا اور اس بات کی جم کر تشہیر کی گئی کہ یہ حدیث مسلمانوں کی مسلکی و فرقہ وارانہ تقسیم کے لیے پیشین گوئی ہے! ان کے کہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جس بات کی پیش گوئی نبی ﷺنے کی ہو اور جو بات اٹل ہو اس سے ہم اور آپ کیسے بچ سکتے ہیں! مسلمانوں کے اس موقف کو دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ لوگ اس حدیث کو اپنے اپنے فرقے اور مسلک کے وجود کو جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں یعنی بالواسطہ اس حدیث کا استعمال تفرقہ بازی کے لیے ترغیب کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ جب کہ عقل سلیم رکھنے والا کوئی بھی شخص پہلی ہی نظر میں یہ بتا سکتا ہے کہ یہ حدیث تفرقہ بازی اور مسلک پرستی کے خلاف ایک انتباہ ، ایک تحذیر ، ایک چیتاؤنی ہے ۔ در حقیقت یہ حدیث تمام فرقوں کے وجود پر ایک کاری ضرب ہے ۔ ویسے بھی کوئی پیشین گوئی محض پیشین گوئی نہیں ہواکرتی بلکہ اس کا مقصد یاتو کسی چیز کے لیے ترغیب دلانا ہوتا ہے یا پھر کسی چیز سے چوکنا کرنا ہوتا ہے۔ لہٰذ ا کوئی بھی عالم دین یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ نعوذ باللہ نبی ﷺنے 73فرقوں والی اس حدیث میں تفرقہ بازی کے لیے ترغیب دلائی ہے۔اس حدیث میں جنھیں ’ناجی ‘بتایا گیا ہے یعنی جنھیں کامیابی کی بشارت دی گئی ہے ان کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ میرے (ﷺ) اور میرے صحابہ ؓکے طریقے پر چلنے والے لوگ ہوں گے۔ اب آپ ہی بتائیں کہ اس حدیث میں جس موضوع پر بات کی جا رہی ہے یعنی تفرقہ بازی اور مسلک پرستی کے معاملے میں سنتِ رسول ﷺ اور جماعتِ  صحابہؓ کا طریقہ کیا تھا ؟ اس بات سے ہر مسلمان واقف ہے کہ لاکھ اختلافات کے باوجود صحابہ کی صفوں میں مسلک و فرقہ کے نام پر کبھی درار نہیں پیدا ہوئی ۔ صحابہ ؓ نے اختلافات کے باوجود کبھی خود کو اور اپنے دیگر ساتھیوں کو ’’مسلم‘‘اور ’’مومن‘‘ کے علاوہ نہ تو کسی مسلکی نام سے پکارا اور نہ ہی کسی فرقہ وارانہ خطاب سے نوازا۔ صحابہ ؓ کرام قرآن اور نبی ﷺ کے اس انتباہ کو بخوبی سمجھتے تھے ، یہی وجہ ہے کہ ان سے کبھی ایک دوسرے کو مسلکوں اور فرقوںمیں تقسیم کرنے والی کوئی معمولی حرکت بھی سرزد نہ ہوئی جبکہ ایسا بھی نہیں تھا کہ ان میں اختلافات اور نظریاتی تضادات نہیں تھے۔

اس سے بڑی بد بختی کیا ہوگی کہ اختلافات ، تنازعات اور فرقہ بندی کے موضوع پر قرآن کی محکم آیات کی موجودگی میں مسلمانوں نے مذکورہ بالا حدیث کی غلط تاویل و تشریح کے ذریعے مسالک و فرقہ کی گیندیں خوب اچھالیں مگرشریعت کے ماخذِ اوّل یعنی قرآن کی طرف رجوع کرنا کم ہی گوارہ کیا۔ اگر اس حدیث کے تعلق سے غلط فہمی ہو رہی تھی تو چاہئے تھا کہ اس موضوع پر دیگر احادیث اور قرآنی آیات کی طرف رجوع کیا جاتا جس سے تمام طرح کے اشکالات و ابہامات کا ازالہ ہوجاتا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر فرقہ بندی اور تفرقہ بازی کے خلاف انتہائی سخت الفاظ میں متنبہ کیا ہے ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے :’’اور اللّٰہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ بازی مت کرو۔‘‘(سورہ آل عمران :103) ’’بے شک وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا اور گروہوں میں بٹ گئے۔ آپ کا ان سے کسی بھی چیز میں کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘(سورہ الانعام:159)’’اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو آپس میں فرقوں میں بٹ گئے اور جب ان کے پاس واضح دلائل آ چکے تھے اس کے بعد وہ آپس میں اختلافات کرنے لگے‘‘(سورہ آل عمران:105)’’اور وہ علم آ جانے کے بعد آپس کے ظلم وعناد کی وجہ سے فرقوں میں بٹ گئے( سورة الشوريٰ:14)’’(ہارون موسیٰ سے کہنے لگے) بے شک مجھے ڈر تھا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی ہے ( سورة طه:94) ’’اور وہ آپس میں فرقوں میں تقسیم ہوئے مگر اس کےبعد جب ان کے پاس علم آ گیا۔ ‘‘ (سورة الشوريٰ:14)اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور تم لوگ آپس میں اختلاف نہ کرو کہ کمزور پڑ جائو اور تمہاری طاقت ختم ہو جائے بلکہ صبر کرو کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے(سورہ الانفال:46)

یہ تو وہ آیات ہیں جن میں راست طور پر تفرقہ بازی کے خلاف ڈرایا اور سمجھایا گیا ہے ۔ ان کے علاوہ ایسی متعدد آیات و احادیث ہیں جن میں تنازعات و اختلافات میں پڑنے کے خلاف تحذیر و تنبیہ کی گئی ہے اور اتحاد و اتفاق اور اجتماعیت کی ترغیب دینے کے ساتھ ساتھ تاکید کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ اختلاف اور تنازع پیدا ہونے کی صورت میں راستہ بھی دکھایا گیا ہے ۔حضرت ارباض بن ساريہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تم میں سے جو میرے بعد رہے گا، وہ بہت اختلافات دیکھے گا تو تم لوگوں پر لازم ہے کہ میری اور خلفائے راشدین کی سنت کو اپناؤ، اسے دانتوں سے مضبوطی سے تھام لو اور نئے ایجاد کئے گئے معاملات سے پرہیز کرو کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘(ابو داؤد، ابن ماجہ، ترمذی، امام احمد)

ہونا تویہ چاہیے تھا کہ گروہ بندی اور تفرقہ بازی میں نہ پڑ کر بغیر کسی لیبل کے اسلام کو اپنایا جاتا کیوں کہ صحابہ کرامؓ کا طریقہ یہی تھا۔ضرورت اس بات کی تھی کہ تمام ائمہ مسالک اور فقہائے دین کو علم کے چشموں کے طور پر لیا جاتا، علمائے دین اختلافی موضوعات پر اپنے اپنے مسالک اور فرقوں کے موقف کی توضیح و تشریح کرنے کے بجائے تمام ائمہ و فقہا کے دلائل و برہان کو پیش کرتے ، لوگوں کو جو زیادہ مناسب معلوم پڑتا وہ خود ہی اختیار کرلیتے۔اس طرح علم کی وجہ سے فرقہ بندی اور مسلک پرستی خود ہی ختم ہوجاتی مگر ہم نے علم کو ہی افتراق و انتشار کا باعث بنا لیا ۔ ہم نے خود ساختہ انسانی نظریات اور ذاتی مفادات کی خاطر اتحاد و اتفاق اور اجتماعیت کی اپیل کرنے والی اور افتراق و انتشار اور تنازعات و اختلافات پر تنبیہ و تحذیر کرنے والی متعدد قرآنی آیات و احادیث کی کو نظر انداز کردیا ۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہم نے جان بوجھ کر خود کو تفرقہ بازی اور انتشار کے دلدل میں دھکیلا ،جس کے لیے ہم نے دلائل تلاش کیے،تاویلات گڑھے ، عصبیتوں کو ابھارا اور مختلف فیہ امور کو ہوا دی جس کا انجام یہ ہوا کہ اس امت کی ہوا نکل گئی اور دنیا میں ذلیل و خوار ہوکر رہ گئی۔

لہٰذا سبھی مسلمانوں کے لیے اسی میں خیر ہے کہ مسلک و فرقہ کے معاملے میں انتہا پسندانہ اور پُر تشدد مزاج کو فی الفور ترک کردیں، ایک دوسرے کو لعن طعن کرنا ، ایک دوسرے کے خلاف مختلف القاب کا استعمال کرکے باطل اور جہنمی قرار دینا اور نفرت کی آبیاری کرنا چھوڑ دیں، اس معاملے میں شدت پسند ی کی طرف مائل اور انتہا پسندانہ رویہ رکھنے والے علما ، سربراہان و بزرگان وغیرہ کی باتوں میں آکر ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی اور سازشیں کرنا بند کردیں کیوں کہ یہ نبی ﷺاور صحابہ ؓکا طریقہ ہو ہی نہیں سکتا ہے۔ اگر نجات کی بشارت پانے والوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو تفرقہ بازی اور مسلک پرستی کے موضوع پر نبی ﷺاور صحابہ ؓکے موقف کو اپنانا ضروری ہے کیوں کہ کامیاب ہونے کے لیے حدیث میں یہی شرط بتائی گئی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close