سیاست

فرقہ پرستی اور جانبداری کی بدترین تصویر

حفیظ نعمانی

اخبار کی رپورٹ کے مطابق ’’6 دسمبر 1992 ء کو بابری مسجد کی مسماری کے بعد ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کا انتقام لینے کے لئے ممبئی میں سلسلہ وار بم دھماکے 12 مارچ 1993 ء کو ہوئے۔‘‘ یہ بیان سی بی آئی کا بتایا گیا ہے۔ بابری مسجد کی شہادت اور ممبئی کے بم دھماکوں میں  تین مہینے 6 دن کا فرق ہے۔ اور ان تین مہینوں میں ملک کے ہر اس شہر میں فرقہ وارانہ فساد نہیں بلکہ ان تمام مسلمانوں پر ہندوئوں نے حملے کئے جو مسجد کی شہادت پر احتجاج کرنے کیلئے سڑک پر آئے۔

ممبئی میں بم دھماکے بیشک ہوئے لیکن وہ انتقام لینے کے لئے نہیں بلکہ اس فساد کو روکنے کیلئے ہوئے جو اگر نہ ہوتے تو ممبئی میں مسلمان نہ ہونے کے برابر رہ جاتے۔ 6 دسمبر سے 12  مارچ تک مسلسل ممبئی میں فساد نہیں ہوا بلکہ وہاں احتجاج مارچ میں ہوا اور اس احتجاج پر جسٹس بی این سری کرشنا کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 900  سے زیادہ مسلمان قتل کئے گئے اور مسلمانوں کی تحقیق کے مطابق دو ہزار سے کہیں  زیادہ مسلمان قتل ہوئے اور تین ہزار سے زیادہ زخمی ہوکر جسے جو ٹرین ملی وہ خون ٹپکاتا ہوا اپنے وطن کے لئے بھاگا۔ اور ممبئی کے ہی مسلمانوں کے نزدیک اگر چند مسلمان لڑکے بم دھماکے نہ کرتے تو پوری ممبئی میں مسلمانوں کی سیکڑوں کروڑ کی جائیدادیں فسادیوں کے قبضہ میں چلی جاتیں اور عروس البلاد کے دروازے اترباسی مسلمانوں کے لئے ہمیشہ کیلئے بند ہوجاتے۔

جسٹس بی این سری کرشنا نے اپنی رپورٹ میں صاف صاف لکھا ہے کہ مسلمانوں پر حملہ کرنے اور انہیں قتل کرنے والوں میں بی جے پی، شیوسینا، وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور مسلح پولیس سب شامل تھے۔ لیکن وہ رپورٹ جس میں جسٹس سری کرشنا نے پوری حقیقت واضح کردی ہے وہ ردّی میں پڑی دیمک کھارہی ہے۔ مارچ 1993 ء میں مہاراشٹر میں شردپوار اور سونیا گاندھی کی حکومت تھی ان دونوں کی اس سے بڑی مسلم دشمنی اور کیا ہوگی کہ ان کی حکومت نے مسلمانوں کے قتل عام کی تحقیقات ایک سابق جج کے سپرد کردی اور یہ جانتے ہوئے کردی کہ اس رپورٹ کی حیثیت چارج شیٹ کی نہیں ہے بلکہ یہ ایک ریٹائرڈ جج کے اپنے خیالات ہیں ۔ اور 12  مارچ کو جو بم دھماکے ہوئے اس کی تحقیق سی بی آئی کے سپرد کردی جو خود پولیس بھی ہے جس کا وکیل بھی ہے اور جس کا جج بھی۔ ان دونوں کو ان کی بے ایمانی اور مسلم دشمنی کی سزا مسلمان تو دے نہیں سکتے تھے لیکن وہ پروردگار جس کے سامنے یہ مسلمان دن اور رات میں پانچ بار ماتھا ٹیکتے ہیں اور کہتے ہیں ’’سبحان ربی الاعلیٰ‘‘ ظاہر ہے اسے یہ کیسے برداشت ہوسکتا تھا اسی کا نتیجہ ہے کہ آج دونوں لالو یادو جیسے ایک علاقائی لیڈر کے پیچھے دُم ہلاتے پھر رہے ہیں ۔

ہم قانون کے آدمی نہیں ہیں ۔ لیکن سپریم کورٹ کے دائرہ کو دیکھتے ہوئے خیال آتا ہے کہ کیا اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ ممبئی کے معاملے میں جو یہ کھلی بے ایمانی ہورہی ہے کہ ایک سابق محترم جج کی رپورٹ میں جس جس کی طرف اشاراہ کیا گیا ہے ان سے تو بلاکر کسی نے یہ بھی نہیں معلوم کیا کہ تم ان دنوں میں کیا کررہے تھے؟ اور سی بی آئی کے حکم پر جج صاحبان 24  برس سے کسی مسلمان کو پھانسی کسی کو عمرقید کسی کو دس سال کی قید کی سزا دے رہے ہیں اور وہ مسلمان جن پر الزام ہے کہ انہوں نے 257  ہندو مار دیئے ان کو سزا دی جارہی ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک شاید جاری رہے گا جب تک جیل جانے والے 257  نہ ہوجائیں ؟

کیا سی بی آئی کے وہ رنگروٹ جو کہہ رہے ہیں کہ 6 دسمبر 1992 ء کے بعد ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کا انتقام لینے کے لئے مسلمانوں نے بم دھماکے کئے اور یہ نہیں بتاتے کہ ممبئی میں ہزاروں مسلمانوں کی جان بچانے کیلئے یہ بم دھماکے ہوئے۔ اگر انتقام کی بات ہوتی تو دو سو نہیں دو ہزار ہندو بم دھماکوں کا شکار ہوتے۔ بات صرف 1993 ء کی ہے اور نہ 2002 ء کی بلکہ پورے ملک میں جہاں جہاں بھی مسلمانوں کا قتل عام ہوا ہے وہاں بے ایمان حکومتوں نے کسی جج سے تحقیقاتی رپورٹ لکھوالی ہے اور جج صاحبان بھی جانتے ہیں کہ یہ چارج شیٹ نہیں ہے بلکہ قتل عام کی کہانی ہے اس سے انکار نہیں کرتے کہ ہم افسانہ نگار نہیں ہیں بلکہ جج ہیں جو سزا دیتے ہیں یا بری کرتے ہیں ۔ سی بی آئی نے بم دھماکوں کا الزام 100  مسلمانوں پر لگایا ہے۔ حکومت اور عدالت اس کی پابند ہے کہ سی بی آئی جو کہے وہ سچ ہوتا ہے۔ لیکن اس عدالت کی نگاہ میں اس جج کے فیصلہ کی کوئی حقیقت نہیں جس کے جوتوں کی دھول بھی سی بی آئی سے زیادہ منصف مزاج ہے؟

ابوسلیم کے گروہ میں بھی دو کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک یا دونوں کو پھانسی دے دی جائے۔ اس لئے کہ ہمارے ملک میں صرف مسلمان کو پھانسی دی جاتی ہے۔ ہندو اور سکھ کو کسی نہ کسی بہانے سے بچالیا جاتا ہے نہ جانے کتنے ہندو ایسے ہیں جنہیں سپریم کورٹ نے پھانسی کی سزا کی تائید کردی ہے اور صدر نے رحم کی درخواست بھی مسترد کردی مگر ان کو پھانسی نہیں ہوئی۔ اس کی صرف یہ وجہ ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہیں ۔ ایک سکھ جس نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی کار کو بم دھماکہ میں اُڑا دیا اسے ہر جگہ پھانسی کی سزا دی گئی اور رحم کی درخواست مسترد کردی گئی اس لئے کہ صرف وزیر اعلیٰ ہی نہیں کانگریس کے اہم لیڈر بھی اس دھماکہ میں زخمی ہوئے تھے۔ اس سکھ کو پرکاش سنگھ بادل نے بچا لیا اور آخر میں  یہ بہانہ بنایا کہ اس کا دماغی توازن ٹھیک نہیں ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام اس کی تو تعلیم دیتا ہے کہ اگر کوئی تمہارے اوپر حملہ کرے تو تم مقابلہ کرو چاہے اس مقابلہ میں اس کی جان چلی جائے لیکن اس کی اجازت نہیں دیتا کہ مسلمانوں کو قتل تو فرقہ پرست پارٹیوں کے لیڈروں اور ورکروں نے کیا اور بم دھماکے میں وہ لوگ مرے جن کا اس قتل سے عام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ایک بات بار بار کہی جارہی ہے کہ بم دھماکوں کا اصل ملزم دائود ابراہیم ہے۔ لیکن جسے بھی پکڑا جاتا ہے یا سزا دی جاتی ہے اسے بھی اصل ملزم بتایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ ان میں بے گناہ بھی ہیں اور بے گناہوں کے لئے کوشش بھی کرنا چاہئے اور دعا بھی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close