سیاست

فساد کمزوری نہیں، کسی کی ضرورت ہے!

حفیظ نعمانی

کہا یہی جارہا ہے کہ آسنسول جو چار رُکنی ٹیم گئی تھی اسے امت شاہ نے بھیجا تھا۔ تعجب اس لئے ہے کہ پارٹی کے صدر سے اس کا کیا تعلق کہ آسنسول میں کیا ہوا؟ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی مغربی بنگال حکومت سے رپورٹ منگاکر ثابت کردیا تھا کہ انہیں اس بہار کی بالکل فکر نہیں ہے جہاں دس جگہ فساد ہوا ہے اس لئے کہ وہاں سوشیل مودی ہیں اور نتیش کمار بھی سیاسی دھرم بدل کر کلیجہ ٹھنڈا کرنے والے کام کررہے ہیں۔ اور بہار میں تو دو مرکزی وزیروں کے بیٹوں نے فساد کی قیادت کرکے ثابت کردیا ہے کہ بہار میں فساد نہیں سرکاری حکم کی تعمیل تھی۔

آسنسول میں تو نورانی مسجد کے امام مولانا امداد اللہ نے اپنے 16 سال کے بیٹے کی قربانی کو اپنے پروردگار کا فیصلہ مان کر تمام مسلمانوں سے کہہ دیا تھا کہ اگر تم نے بدلہ لینے کے لئے کسی پر ہاتھ اٹھایا تو میں آسنسول چھوڑکر چلا جائوں گا۔ اور مسلمانوں کو یاد دلایا کہ پیدا کرنے والے نے جس کے مقدر میں جتنی عمر لکھی ہے وہ ایک منٹ زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا اور جس کی جہاں اور جس طرح موت لکھ دی ہے اسے کوئی بدل نہیں سکتا۔

حیرت ہے کہ اپنے کو مسلمان کہلانے والے اور اپنے نام کے ساتھ سید لگانے والے شاہ نواز حسین آسنسول میں داخل ہونے اور مولانا امداد اللہ کے منھ سے نکلے ہوئے قرآنی فیصلہ کی گونج سننے کے بعد بھی امت شاہ کے حکم کی تعمیل کرتے رہے اور اپنی رپورٹ میں لکھ دیا کہ کول مافیا اور ڈرگ مافیا اپنا کام کررہے ہیں اور پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ امت شاہ کی ٹیم نے رپورٹ میں کہا کہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ شاہ نواز (جنہیں سید اور حسین لکھتے ہوئے قلم کانپ رہا ہے) کے اندر اگر ذراسی بھی اسلامیت بچی ہوتی تو ان کا فرض تھا کہ وہ اپنی ٹیم کے تینوں ساتھیوں کو لے کر نورانی مسجد جاتے اور اس اسلام کے چلتے پھرتے نمونے مولانا امداد اللہ سے ملواتے اور انہیں بتاتے کہ ہمارے صدر امت شاہ نے ان کے ماننے والوں کا حال جاننے کے لئے بھیجا ہے کہ کتنے کم ہوئے۔ اور واپس جاکر امت شاہ سے بھی کہتے کہ تھوڑی دیر کے لئے آسنسول چلے جائیں اور مولانا امداد اللہ نام کے امام سے مل کر معلوم کریں کہ یہ سب آپ نے کہاں پڑھا؟ اور انہیں جب معلوم ہوجاتا تو وہ بھی انسان بننے کے لئے وہاں ضرور جاتے۔

سہارا کے اپنے ادارے کی خبر میں یہ بھی نظر سے گذرا کہ یہ سوال جواب طلب ہے کہ فسادی مغربی بنگال میں فساد کرانے میں کیوں کامیاب ہوجاتے ہیں؟ اسی مغربی بنگال میں جیوتی بسو نے بھی تو حکومت کی تھی اور فساد پر کنٹرول کرکے دکھایا تھا۔ یہ سوال اپنے منھ سے بول رہا ہے کہ لکھنے والے نے صرف اوپر کی باتیں دیکھی ہیں۔ اور یہ نہیں دیکھا کہ فساد صرف جھگڑے کا نام نہیں ہے وہ تو 1857 ء کے بعد سے کبھی رام لیلا کے جلوس پر، کبھی محرم کے جلوس پر اور کبھی اس سے بھی کم درجہ کی بات پر ہوجاتا ہے۔ ایسے فساد کا تعلق چھوٹے طبقہ اور جاہلوں سے ہوتا ہے لیکن اب جو فساد ہوتا ہے اس کے اداکار بھی ہوتے ہیں اور ڈائرکٹر بھی، ہیرو بھی ہوتے ہیں اور ولن بھی اور اس کی پشت پر حکومت ہوتی ہے۔ جیوتی بسو نے جتنے  دن حکومت کی اس میں نہ مودی جی تھے نہ امت شاہ اور بہار چھوڑکر بنگال سے رپورٹ منگوانے والے وزیرداخلہ شری راج ناتھ سنگھ۔ اس کا اندازہ تو اس سے کیا جاسکتا ہے کہ امت شاہ آسنسول اپنی ٹیم بھیجتے ہیں اور ان کے واپس آنے سے پہلے  پورے ملک میں نہیں پوری دنیا میں مولانا امداد اللہ کا وہ بیان سنا جاچکا ہوتا ہے کہ میرا بیٹا اتنی ہی عمر لایا تھا۔ اس کا انتقام لینے کی کسی نے بات کی تو میں آسنسول چھوڑکر چلا جائوں گا۔ اور اس اعلان کے بعد مسلمان خاموش ہوجاتے ہیں لیکن امت شاہ کے کلیجہ میں آگ بھڑک جاتی ہے۔

جیوتی بسو دادا نے جس زمانہ میں حکومت کی اس زمانہ میں صرف الیکشن کے وقت یہ کوشش ہوتی تھی کہ ہماری پارٹی کی حکومت بن  جائے۔ لیکن مودی جی کا طریقہ دوسرا ہے وہ وزیراعظم ضرور ہیں لیکن انہیں صرف ایک فکر رہتی ہے کہ جہاں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے وہاں اس کی حکومت کیسے بنے؟ وہ سال میں دو چار دفعہ فساد کراتے ہیں اپنی پارٹی کی ریلیاں نکلواتے ہیں اپنے ان لیڈروں کو جو وزیر نہیں ہیں باری باری فضا خراب کرنے بھیجتے ہیں اور اس وقت تک چین نہیں لیتے جب تک حکو مت گرا نہ دیں۔ جیوتی بسو کو شریفوں سے واسطہ تھا اور جب الیکشن نے فیصلہ کردیا تو سب پانچ سال انتظار کرتے تھے۔

ممتا بنرجی کے بارے میں مودی جی کو یہ بھی خطرہ ہے کہ ان پر بھرشٹاچار اور گھوٹالے کا کوئی الزام نہیں لگ سکتا ملک میں ہر زبان پر ان کی چھوٹی گاڑی، سوتی ساڑی، پرانا مکان اور ہر کسی کی فکر سب کی زبان پر ہے۔ یہ ان کی سادگی کی قیمت ہے کہ انہوں نے جب بزرگ لیڈر یشونت سنہا کی طرف ہاتھ بڑھایا تو انہوں نے احترام اور عزت سے ان سے باتیں کیں جبکہ وہ ان کی اولاد کی برابر تھیں۔ ممتا بنرجی کی یہی مقبولیت ہے جو مودی جی کو کھائے جارہی ہے اور انہیں ڈر ہے کہ مجھے کنارے لگانے میں یہ دُبلی پتلی لڑکی سب سے اہم کردار ادا کرے گی۔ وہ اس لئے اسے چین نہیں لینے دیتے۔ اور کسی کو بے چین رکھنے کا سب سے آسان کام فرقہ وارانہ فساد ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close