سیاست

فلم پدماوتی کا تنازع اور گجرات الیکشن

فیصل فاروق

دوستو، گزشتہ چند ہفتوں میں فلم ‘پدماوتی’ کی مخالفت میں اٹھنے والی آوازوں کی شدت ایک عجیب خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے لیکن افسوس کہ جو لوگ قانون کو توڑ رہے ہیں، اس فلم سے منسلک شخصیات کو نقصان پہنچانے کی کھلے عام دھمکیاں دے رہے ہیں، ایسے انتہا پسندوں پر حکومت کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے بلکہ دیکھا جائے تو ان کی مزید حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔

تاریخ کے حوالے سے پدماوتی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس کے باوجود ایک افسانوی کردار کو لیکر ہنگامہ آرائی جاری ہے۔ مورخین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ کے اُس دور کے دستاویزات میں کہیں بھی رانی پدماوتی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ پدماوتی کا کردار سولہویں صدی کے مشہور شاعر ‘ملک محمد جائسی’ کا تخلیق کردہ ہے۔ ان کی کہانی پدماوتی صرف ایک کہانی ہے جس کا تاریخ سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔

صرف ملک محمد جائسی کی شاہکار کہانی ‘پدماوت’ کی وجہ سے ہی راجپوت سماج پدماوتی کو پہچانتا ہے اور اس سے بڑی عقیدت رکھتا ہے ایسے میں ‘پدماوت’ راجپوت سماج کیلئے ایک مقدس کتاب کا درجہ رکھتی ہے، تو پھر کیا وجہ ہے کہ اسی کہانی پر بنائی گئی فلم پدماوتی کو لیکر راجپوت سماج میں اتنا غصّہ ہے؟

یہ بات بھی پوری طرح صحیح ہے کہ تاریخ اور ادب کے کسی کردار کے ساتھ کھلواڑ کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ مگر پہلے یہ طے تو ہو کہ جو دکھایا جا رہا ہے وہ غلط ہے۔ کوئی پہلے سے کیسے طے کر سکتا ہے کہ جو ہونے والا ہے وہ غلط ہی ہے۔ جبکہ فلم منظر عام پر آنا باقی ہے۔ رانی پدماوتی کے وجود کے بارے میں حقیقی طور پر کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں۔ کئی بڑے فلمسازوں کا بھی کہنا ہے کہ اس کردار پر مبنی فلم دراصل ایک تخیلاتی کہانی ہے۔

لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ محض ایک فلم پر اتنا واویلا مچایا جا رہا ہے اور احتجاج و مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔ افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ میڈیا کو رانی پدماوتی کے علاوہ کوئی موضوع ہی دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ اور تو اور، کئی ریاستوں کے وزراء اعلیٰ بھی اس معاملے میں کود پڑے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ گجرات انتخابات کیلئے بی جے پی کے پاس کوئی اہم موضوع نہیں ہے، ریاست میں اس کے پاس کوئی بڑا چہرہ نہیں ہے، اسی لئے بی جے پی اور اس کی ہمنوا تنظیمیں رانی پدماوتی کے چہرے کو آگے رکھ کر گجرات اسمبلی انتخابات میں سیاسی فائدہ اٹھانے کی فراق میں ہیں؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

فیصل فاروق

فیصل فاروق کالم نگار اور صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close