سیاست

فوج کی بہادری کی مٹھائی اکیلے مودی جی کو کون کھانے دے گا؟

حفیظ نعمانی

فروری کی 14 تاریخ کو جو کچھ ہوا وہ اس لئے حیران کردینے والا تھا کہ عمران خان کے وزیراعظم ہوتے ہوئے اس کی توقع اس لئے نہیں تھی کہ وہ سیاست کی گندی گودوں میں کھیلنے کے بجائے پوری دنیا کی ایک سے بڑھ کر ایک ٹیم کے ساتھ مقابلہ کرتے اور جیت یا ہار کا ذائقہ چکھتے ہوئے آئے تھے۔ انہوں نے پاکستان کی باگ ڈور اس وقت سنبھالی جب شاید پاکستان بدترین دَور سے گذر رہا تھا اور اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کے سب سے بڑے سرپرست سعودی عرب اور لیبیا وہ نہیں رہے تھے کہ پاکستان سے کہہ دیں کہ   ؎ تو مشق ناز کر خونِ دوعالم میری گردن پر۔ اور عمران خان خوب جانتے تھے کہ ہندوستان سے کسی نہ کسی شکل میں ٹکرائو ناگزیر ہے۔

عمران خان نے اپنی انتخابی مہم میں ہندوستان اور وزیراعظم کے بارے میں جو بھی کہا ہو الیکشن جیتنے کے بعد انہوں نے سب سے پہلی تقریر میں یہی کہا کہ اگر ہندوستان ایک قدم بڑھے گا تو ہم دو قدم بڑھیں گے۔ اور اس پورے عرصہ میں انہوں نے غیرذمہ داری کی کوئی بات نہیں کی۔ دونوں ملکوں کی سرحد پر جو برسوں سے ہورہا ہے وہ اس طرح ہوتا رہا جبکہ عمران خان کو اس طرف توجہ دینا چاہئے تھی اور مسعود اظہر و حافظ سعید سے کہنا چاہئے تھا کہ آخر اس گھٹیا حرکت کا مطلب کیا ہے؟ لیکن 14  فروری کو جو ہوا اسے کون برداشت کرسکتا تھا ہم ایک بات بغیر کسی دلیل کے کہنا چاہتے ہیں کہ ہم نے کسی ہندو کو مانو بم بنتے نہیں دیکھا۔ ہندوستان میں خودکشی تو ہزاروں ہندوئوں نے کی لیکن وہ نہ کسی قافلہ کو اُڑانے کے لئے اور نہ مخالفوں کی لاشیں گرانے کے لئے۔ اس کی وجہ ہوسکتا ہے یہ ہو کہ سناتن دھرم میں مرنے کے بعد پھر آنا مانا جاتا ہے اور جاہل مسلمانوں کو جب مولویوں کی صورت اور ماحول بنانے والے عیار یہ بتاتے ہیں کہ تم کافر کی گولی سے مروگے تو شہید ہوگے اور سانس نکلتے ہی جنت میں ہوگے جہاں حوریں دروازہ کھولے کھڑی ملیں گی اس وجہ سے پاکستان سے جتنے لڑکے بندوق لے کر آتے ہیں وہ اس کی کوشش نہیں کرتے کہ بچ کر بھاگنے کا راستہ بھی تلاش کرلیں بلکہ یا کسی کے گھر میں گھس کر مورچہ بنا لیتے ہیں یا کسی عمارت میں اپنے کو بند کرکے فائرنگ شروع کردیتے ہیں حد یہ ہے کہ ایک بار تھانہ کی عمارت میں گھس گئے اور سب کا طریقہ ایک ہی ہے کہ اس وقت تک گولی باری کرتے رہتے ہیں جب تک مر نہیں جاتے۔

عمران خان نہ صرف تعلیم یافتہ ہیں بلکہ پوری دنیا چھانے ہوئے ہوئے ہیں اگر ایوب خاں، بے نظیر بھٹو، ضیاء الحق، پرویز مشرف اور نواز شریف اگر حافظ سعید اور مسعود اظہر کو یہ سمجھ کر نظر انداز کرتے رہے کہ یہ دونوں عالم ہیں ہوسکتا ہے جو کررہے ہوں وہ ٹھیک ہے تو عمران خان کو مفتیانِ کرام اور علمائے دین سے معلوم کرنا چاہئے اور جب وہ بتائیں کہ امن کی حالت میں کسی کو بغیر خطا کے مارتے ہوئے مرجانے کا انجام وہ نہیں ہے جو یہ بہروپئے بتاتے ہیں تب تو ان پر پابندی لگنا چاہئے۔

14 فروری کا حادثہ ہوسکتا ہے مسعود اظہر نے نہ کرایا ہو جیسا کہ عمران خان کہتے ہیں بلکہ کسی اور نے کرکے ان کا نام لے دیا ہو لیکن عمران خان کا ہندوستان سے ثبوت طلب کرنا سیاست نہیں ہے انہیں یہ کہنا چاہئے تھا کہ ہم ایک ہفتہ یا ایک مہینے میں معلوم کرلیں گے کہ یہ کس کا کام ہے۔ عمران خان کو معلوم تھا کہ ہندوستان زبردست ایکشن میں مبتلا ہے اور اگر ہندوستان پاکستان کے خلاف کوئی سخت قدم اٹھائے گا تو وہ اس کا فائدہ حاصل کرے گا۔ اور دنیا نے دیکھ لیا کہ بارہ دن تو وزیراعظم نے سوگ منانے کا مظاہرہ کیا اور اس کے بعد بالاکوٹ میں اپنے بقول سب گندگی صاف کردی۔ ہندوستانی فضائیہ کی سرجیکل اسٹرائک نے سارا حساب برابر ہی نہیں کیا بلکہ پاکستان کو دکھا دیا کہ دونوں میں وہ فرق نہیں ہے جو نواب زادہ لیاقت علی خاں کے زمانہ میں اور پنڈت نہرو کے زمانہ میں تھا کہ پاکستان کا ہر بوڑھا اور جوان (مُکّا) سینے پر ایسے ہی لگاکر گھوم رہا تھا جیسے مودی جی کمل لگاتے ہیں بلکہ اب صورت حال یہ ہے کہ ہندوستان کا وزیراعظم کہہ رہاہے کہ اگر عمران خان فون پر بھی گفتگو کرنا چاہتے ہیں تو ماحول بنائیں۔ یہ انداز سیر اور سواسیر میں نہیں سیر اور پانچ سیر سے کم میں نہیں ہوتا۔

وزیراعظم کا دعویٰ ہے کہ بالاکوٹ میں 350  دہشت گرد ماردیئے گئے اور اس فتح کا سہرا وہ صرف اپنے سر پر باندھ رہے ہیں۔ اپوزیشن نے دل کھول کر فوج کو سلامی دی لیکن کوئی اس کے لئے تیار نہیں ہے کہ مودی جی ہیرو بن جائیں اور وہ تالی بجائیں مودی جی نے گرم لوہے پر چوٹ مارکر اپنے حق میں موڑنے کیلئے جب یہ اعلان کیا کہ وہ 15  ہزار مقامات پر لاکھوں پارٹی کارکنوں سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ بات کریں گے اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت دہلی ہیڈکوارٹر پر اس پروگرام کا حصہ ہوگی تو اپوزیشن اسے کیسے برداشت کرتا؟ راہل نے یہ کہا کہ وزیراعظم نے ملک کی ہر پارٹی کو ساتھ نہیں لیا مایاوتی اور اکھلیش نے وزیراعظم کے رویہ کو غیرذمہ دارانہ اور ملک کے ساتھ کھلواڑ بتایا اور ممتا بنرجی نے کہا کہ ساڑھے تین سو دہشت گردوں کے مارنے کا ثبوت کیا ہے؟

وزیراعظم اگر چار سو بتاتے یا پانچ سو ہم تب بھی یقین کرتے لیکن جن دماغوں میں ثبوت کلبلا رہا ہے وہ یہ ہے کہ اپنے ملک میں 40  تابوت اور پھر ہر تابوت کے آخری رسوم کے وقت ہزاروں ہزار پاکستان مردہ باد کے نعرے لگانے والے اور جگہ جگہ وزیر بھی موجود جبکہ تابوت صرف 40  تھے تو یہ جو بالا کوٹ میں ساڑھے تین سو دہشت گرد ہم نے صاف کردیئے کیا یہ مرغی کے انڈے تھے؟ کہ ساڑھے تین سو جنازے اٹھتے ہوئے یا ہندوستان کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے سوشل میڈیا نے بھی نہیں دکھائے۔ جو لڑکے تربیت پارہے تھے وہ نہ جانے کہاں کہاں کے ہوں گے اور اگر بالاکوٹ نہیں تو کہیں تو جنازہ آتا اور رونا پیٹنا مچتا۔

پھر یہ بھی غور کرنے کی بات ہے کہ ہمارے وزیراعظم بارہ دن کالے کپڑے پہن کر سوگ مناتے رہے راہل گاندھی اور ہر پارٹی کا لیڈر پاکستان کے خلاف بولتا رہا اور پاکستان میں ساڑھے تین سو مسلمان نوجوان موت کی نیند سلادیئے گئے اور عمران خان گلے میں لال رومال ڈالے میٹنگ کی صدارت کرتے رہے اور ایک بار بھی نہیں کہا کہ ہم مرنے والوں کے پسماندگان کے ساتھ ہیں۔ اور یہ انتہا ہے کہ ایک ہندوستان کا پائلٹ ان کی گرفت میں آگیا تب بھی نہ انہوں نے اسے مال غنیمت سمجھا اور نہ اپوزیشن نے کہا کہ ہندوستان سے ساڑھے تین سو کا حساب تو لے لو بلکہ جب اسے آزاد کرنے کا فیصلہ کیا تو پوری پارلیمنٹ نے میزیں تھپتھپاکر تائید کی۔ کیا اس کے بعد بھی ثبوت مانگنے والے ملک دشمن ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close