سیاست

فکر وہ کریں جن کے ہاتھ سے حکومت گئی

ندیم عبد القدیر 

کیا یوپی میں مسلمان اقتدار کی شاداب چراگاہوں سے مستفیض ہورہے تھے اور بی جےپی کی فتح سے اب وہ اس سے محروم ہوگئے؟کیا یوپی میں مسلمان حکومت کے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے اوراب اس سے معزول کردئیے گئے؟ جی نہیں۔ یوپی انتخابات میں نقصان ان لوگوں کا ہوا ہے جوحکومت کی میوے سے لدی شاخوں سے فیض پارہے تھے۔ آپ کے ہاتھ میں کھونے کے لئے کچھ نہیں تھا لیکن تخت نشینوں نے بہت کچھ کھودیا ۔ ظاہر ہے نقصان اُن کا ہوا تو فکر بھی ان کو ہی ہونی چاہئے، اور آپ یقین جانئے وہ لوگ آپ سے زیادہ فکر مند ہیں۔

یوپی انتخابات میں بی جےپی کی ناقابل یقین فتح کا غوغا ہے۔ ہونا بھی چاہئے۔ ایک پارٹی جو یوپی میں روبہ زوال تھی آخر اچانک اتنی ساری طاقت کہاں سے سمیٹ لائی ، لیکن اس شور وغل میں مسلمان سب سے زیادہ پریشان ہیں۔ کیا واقعی مسلمانوں کو پریشان ہونے کی ضرورت ہے؟

مسلمانوں کے خلاف سنگھ پریوار کے مظالم کا خدشہ

اگر یہ کہا جائے کہ بی جےپی کی حکومت میں سنگھ پریوار مسلمانوں پر ظلم کرے گا تو کیا واقعی سماج وادی پارٹی کے دورِ اقتدار میں سنگھ پریوار کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے؟ اگر ایسا تھا تو پھر مظفر نگر فسادات کیسے ہوگئے؟ اگر ایسا تھا تو پھر دادری سانحہ کیونکر عمل میں آیا؟ کانگریس کے دور اقتدار میں تو سنگھ پریوار یوپی میں مسلمانوںکے خلاف ایسا دندناتا پھرتا تھا کہ اس کی تفصیلات سمیٹنے میں ایک کالم کا دامن تنگ پڑجائے۔اس بات کو اب مسلمانوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ حکومت چاہے کسی بھی پارٹی کی ہو ، سنگھ پریوار کو لگام دینے کا کام کوئی نہیں کرتا ہے ۔ سماج وادی کی شکست اور بی جےپی کی فتح سے بھی عام مسلمان کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ اس کی حالت ویسی ہی رہے گی جیسی پہلے تھی۔

اراکین اسمبلی کی تعداد

یہ سچ ہے کہ پچھلی اسمبلی میں مسلم اراکین کی تعداد 69؍تھی لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ ان 69؍اراکین کی موجودگی میں ہی مظفر نگر میں آرایس ایس اپنی مرضی سے مسلمانوں کے گھروں کو نذرِ آتش کرتا رہا ، مسلم خواتین کو بے آبرو کرتا رہا اور مسلمانو ںکو قتل کرتا رہا اور یہ سارے 69؍اراکین اسمبلی خاموش تماشائی بنے رہے ۔ ان 69؍مسلم اراکین اسمبلی کے دلوں میں ملت کے کسی درد نے انگڑائی نہیں لی ۔ یہ سارے خاموش تھے۔ اس وقت بھی ، جب سماج وادی پارٹی حکومت نے فریج میں رکھے ہوئے گوشت کو فارینسک لیب بھیج دیا ، یہ پتہ کرنے کیلئے آیا یہ گوشت بکرے کا ہے یا گائے کا ۔ گویا کہ اگر وہ گوشت گائے کا ہوا، تو سنگھ پریوار کی اس بھیڑ نے اخلاق کے ساتھ جو بھی کیا وہ اچھا کیا اس بھیڑ کو انعام و اکرام سے نوازا جانا چاہئے۔ ان 69؍اراکین اسمبلی کا ہونا یا نہیں ہونا برابر ہی تھا۔

فرقہ پرستی

فرقہ وارانہ فسادات مسلمانوں کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہوتا ہے ۔ مسلمانوں کی جان و مال ، عزت و آبرو سب کچھ ہندو فسادی لوٹ لیتے ہیں۔ فرقہ وارانہ فسادات کا جائزہ لیں تو، پتہ چلتا ہے کہ فسادات سنگھ پریوار کی ہی کارستانی ہوتےہیں،وہی ماحول پیدا کرتے ہیں۔ نفرت اور کدورت کے فضا تیار کرتے ہیں۔ لوٹ مار کیلئے منصوبے بھی ان کے ہی ہوتے ہیں اور منظم طریقہ سے وحشی کارنامے بھی وہی انجام دیتےہیں ،لیکن اقتدار میں بیٹھی سیکولر حکومتیں سارا تماشا دیکھتے رہتی ہیں اور ان فسادیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی۔ حکومت میں چاہے سماج وادی پارٹی ہو، یا کانگریس ۔ یوپی کی تاریخ گواہ ہے ان پارٹیو ں کی حکومت میں بھی سنگھ پریوار بڑے ہی آسانی کے ساتھ مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتا ہے ۔ سماج وادی پارٹی میں تو کچھ لوگوں کو نام کیلئے ہی سہی ،سزا بھی ملی کانگریس کی حکومت میں تو ستم ظریفی یہ رہی کہ کسی بھی مجرم کو سزا تک نہیں ملی۔ سماج وادی پارٹی کے دورِ اقتدار میں مظفر نگر اور دادری سانحہ اس کی سب سے مثالیں ہیں اور کانگریس کا دورِ اقتدار تو اس سے بھرا پڑا ہے۔

بابری مسجد

بابری مسجد 6؍دسمبر 1991ء کو ہی شہید کردی گئی تھی ۔ مسجد بی جےپی نے شہید کی تھی اس وقت یوپی میں حکومت بھی بی جےپی کی ہی تھی ۔ مسجد کی شہادت کے بعد وہ پوری قطعہ اراضی مرکز کی کانگریس حکومت نے ایکوائر کرلی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مسجد شہید کی گئی تھی تو وہاں مسجد دوبارہ تعمیر کردی جاتی ،کانگریس کی سیکولر حکومت نے زمین ایکوائر کرکے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ مسجد کی جگہ پر رام مندر تعمیر کردیا۔ فوجیوں کو کہا گیا کہ اپنے بیلٹ اور جوتے اتاروں اور ’رام ‘ کے درشن کرکے آؤ ۔ کانگریس نے وہاں جو مندر تعمیر کیا وہ آج تک موجود ہے ۔ وہاں اذان نہیں ہوتی ہے ، وہاں نماز نہیں ہوتی ہے ، وہاں کوئی امام نہیں ہے ۔ ہاں لیکن وہاں پجاری ہے ۔ وہاں مندر کی گھنٹیاں بجتی ہیں۔ وہاں پوجا ہوتی ہے ۔ وہاں عقیدت مندوں کا ہجوم لگارہتا ہے جو رام کے درشن کرتا ہے ۔ کل ملا کر، وہاں مندر موجود ہے ۔ اور مسجد نہیں ہے۔اسلئے اب ’مندر وہیں بنائیں گے‘ کانعرہ بیکار ہے ۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ فرنویس نے حا ل ہی میں کہا ہے کہ وہاں تو مندر پہلے سے موجود ہے ۔ اب اسے ایک عالیشان مندر بنانا ہے ۔ اس میں بھی مسلمانوں کے ہاتھ نقصان جیسا کچھ نہیں ہے کیونکہ نقصان تواسے 6؍دسمبر 1991ء کو ہی ہوگیا تھا ۔ بی جےپی نے مسجد شہید کی ،اور کانگریس نے اس جگہ مندر تعمیر کی ۔مندر چھوٹا ہویا بڑا ، وہ مندر ہی ہوتا ہے ۔

گائے کا ذبیحہ

گائے کا ذبیحہ بھی کانگریس نے اپنے دورِ اقتدار میں ہی غیر قانونی قرار دے رکھا ہے ۔اسلئے بی جےپی کے پاس یہ موضوع بھی نہیں ہے ۔ یہاں بھی مسلمانوں کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ نقصان کس کا ہوا؟

حکومت کیا ہوتی ہے ؟ یوپی کا بجٹ 3ء46؍لاکھ کروڑ روپے کا ہے ،جو پارٹی حکومت میں ہوتی ہے اسے یہ رقم اپنی مرضی سے خرچ کرنے کا اختیار ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ بے شمار اجازت نامے ، منظورنامے ، این او سی اور لائسنس ، پرمٹ دینے کے اختیارات بھی حکومت کے پاس ہوتے ہیں یا پھر اس پارٹی کی اعلیٰ کمان کے پاس ہوتے ہیں جو حکومت میں ہوتی ہے ۔ یہ اربوں اور کھربوں روپے کے اختیارات کا معاملہ ہے ۔ سماج وادی پارٹی اسے اپنے پاس رکھنے کی آروز مند تھی، کانگریس اس کی ساتھی تھی۔ مایاوتی بھی ایسی ہی خواہش رکھتی تھیں۔ ان سب کے ارمان بی جےپی کی فتح سے مٹی میں مل گئے ۔ یہ ہے اصل نقصان۔

علاوہ ازیں ریاست میں نظم و نسق قائم رکھنے کا بھی اختیار حکومت کے پاس ہوتا ہے جس میں پولس اس کا عسکری بازو ہوتی ہے ۔ لوگوں کے خلاف مقدمات درج کرنا ۔ انہیں مختلف الزامات کے تحت جیل میں بند کرنا اور قانونی کارروائی کرنا ،جسے چاہے مقدمات کمزور کرکے رہا کردینا۔ یہ سارے اختیارات اس بازو (پولس )کے پاس محفوظ ہوتے ہیں۔ یہی اقتدار کی شان ہے اور ساری لڑائی ان اختیارات کی ہی ہوتی ہے ۔ یہ سارے اختیارات سماج وادی پارٹی ، کانگریس اور بہوجن سماج پارٹی کے ہاتھوں سے نکل گئے ۔ یہ ہے اصل نقصان ۔

حکومت تو سماج وادی پارٹی کے ہاتھوں سے گئی ہے لیکن بی جےپی کی فتح نے دیگر پارٹیوں کی طاقت کو بھی روند دیا ہے ۔ مایاوتی کو اپنا وجود خطرہ میں محسوس ہورہا ہے ،کیونکہ اگلے سال ختم ہونے والی ان کی راجیہ سبھا کی رکنیت پر بھی خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے ہیں اور کانگریس جلد ہی کتابوں کی زینت بن جائے گی۔

اقتدار کیا ہوتا ہے اور اس کے مزے کیا ہوتے ہیں اس کا اندازہ ایک عام مسلمان نہیں لگاسکتا ۔اس کا احساس صرف ان ہائی کمان کو ہی ہوتا ہے جو پارٹیاں چلاتے ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے دیگر پارٹی لیڈران خاموش بیٹھے اپنی بربادیوں کا جشن منارہے ہیں؟ بالکل نہیں ۔ آپ یقین جانئے وہ لوگ آپ سے زیادہ فکر مند ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ندیم عبدالقدیر

فیچر ایڈیٹر (روزنامہ اردوٹائمز ، ممبئی)

متعلقہ

Close