سیاست

قانون بنانے سے کیا ہوگا؟ 

 ممتاز میر

ڈیڑھ دو ماہ پہلے ہماری شدید خواہش ہوتی تھی کہ مودی جی نہ جیتیں مگر عقل کہتی تھی کہ جیتیں گے تو مودی ہی۔ ایسا کیوں؟اس لئے ہمارے ذہن میں ہندوستان کا نہیں دنیا کے مستقبل کا جو نقشہ ہے اس میں مودی جی کی ہار فٹ نہیں بیٹھتی۔عالمی نقشہ نویس اب بہت جلدی میں ہیں۔ دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کا قیام اب چند ہی سالوں کی بات ہے۔ ایسے میں صیہونی مقتدرہ اپنے ایک سچے اور پکے خادم کی ہارکیسے برداشت کر سکتی تھی۔ مودی کی جگہ کوئی دوسرا آجاتا تو پھر By Hook Or Crook اسے اپنا بنانا پڑتا۔اس میں وقت جاتا۔اور کوئی اپنا نہ بنتا تو یا تو انتظار کرنا پڑتا یا ہٹانا پڑتا۔اور انتظار اب صیہونیوں کے منصوبے میں نہیں۔ کیونکہ مودی جی اور ٹرمپ یا ان جیسوں کا تخت اقتدار پر جمع ہوجانا پھر کب ممکن ہوگا کسے معلوم؟

   اب پچھلے چند دنوں سے ہمیں غزوہء ہند کی احادیث یاد آرہی ہیں۔ غزوہء ہند کی احادیث ہمیں بتاتی ہین کہ اب وطن عزیز کے مسلمان سوائے پٹنے کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کر سکتے۔اور جب تک پٹیں گے نہیں کوئی ہمیں بچانے آئے گا کیوں ؟ہم اس وقت بھی پٹتے ہیں جب ہم اکیلے ہوتے ہیں اور ہم اس وقت بھی پٹے ہیں جب ہم دو تین ساتھ ہوتے ہیں۔ کسی کے بھی دماغ میں مدافعت یا مزاحمت کا خیال کبھی آیا ہی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ہمارے دین کی تعلیمات کیا ہیں۔ حضور ﷺ کی احادیث بتاتی  ہیں کہ ہم مرے تو شہید اور جئے توغازی ہونگے۔مگر کب؟جب ہم اپنے جان ومال کی حفاظت میں لڑتے ہوئے مریں۔ ایسا آج تک نہیں ہوا۔ہاں ایک نئی بات ضرور چند دنوں سے دیکھنے میں آرہی ہے۔وہ یہ کہ جھارکنڈ میں تبریز انصاری کے موب لنچنگ میں قتل ہوجانے پر زبر دست مظاہرے ہورہے ہیں۔ یہ بڑی اچھی بات ہیں مظاہرے و احتجاجات ہونے چاہئیں۔ آئین نے ہمیں اس کا حق دیا ہے۔مگر کہیں کہیں ان مظاہروں میں ایک مطالبہ یہ بھی کیا جا رہا ہے جسے پڑھ کر سن کر ہنسی آتی ہے شاید کسی ایجنٹ نے cathrisis کے لئے یہ شامل کرا دیا ہے۔وہ مطالبہ ہے۔ موب لنچنگ کے خلاف قانون بنایا جائے۔کیا وطن عزیز میں قوانین نہیں ہیں ؟پورا دستور موجود ہے مگر اس کے باوجود شر پسند قانون کے سینے پر دندناتے موب لنچنگ کرتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے نہ صرف دیکھتے ہیں بلکہ قانون کا نفاذ مظلوم کے خلاف کرتے ہیں، شرپسندوں کے خلاف نہیں۔ ہمارا احساس تو یہ کہ چند سالوں میں دستور ہند، چنے پان اور کرانے کی دکان والوں کی خدمت کرتا نظر آئے گا۔ان حالات میں جب دستور کی آبرو ہی خطرے میں ہو ایک مزید قانون مسلمانوں کے یا اقلیتوں کے کیا کام آسکےگا؟ ہو سکتا ہے حکومت اشک شوئی کی خاطر ایک قانون بنا بھی دے مگر اسے نافذ کون کرے گا۔

   ۱۹۸۵ میں ایک بہت مشہور قانون بنایا گیا تھا جسےTerrorist & Disruptive Activities Act یاTADA کا نام دیا گیا تھا۔ اسے پنجاب میں چلنے والی دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے لئے بنا یا گیا تھا۔ پھر کشمیر  کے حالات جب پنجاب کی طرح ہو گئےتو وہاں بھی اس کا استعمال کیا گیا مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ ٹاڈا کا سب سے زیادہ استعمال دہشت گردی سے متاثرہ ان ریاستوں میں کم اور مہاراشٹر، گجرات اور مغربی بنگال جیسی پر امن ریاستوں میں زیادہ ہوا۔جب پولس کے ذریعے اس قانون کا غلط استعمال بڑھا تو اس پر آوازیں اٹھنا شروع ہوئیں۔ ملکی و غیر ملکی ماہرین قانون نے اسے سیاہ قانون  اورDraconian Law قرار دیا۔ راج ببر اور م۔افضل نے اس کے خلاف بھر پور مہم چلائی۔آخر کار ۲۰۰۵ میں جب اس کی مدت ختم ہورہی تھی تو اس کی تجدید نہ کی گئی اور اسے مرنے دیا گیا۔ مگر یہ بھی صرف دل بہلانے کی حد تک تھا ورنہ تجدید تو ہوئی اور پوٹا کے نام سے اور سخت قانون بنایا گیا۔ مہاراشٹر والوں نے مکوکا کووجود بخشا۔ خیر۔ہٹ دھرمی کی حد بلکہ بے شرمی کی حدیہ کی گئی کہ وہ کسیس جن کی بنیاد پر ماہرین قانون نے اسے سیاہ قانون یا ڈراکونین لاء کہا تھا وہ جوں کے توں برقرار رکھے گئے  اور بہت ممکن ہے کہ اب بھی ہندوستان میں کہیں ان کے تحت رجسٹرد کیس چل رہے ہوں۔ اگر ریویو کمیٹیوں نے کہیں انھیں ہٹانے کی سفارش کی بھی تو عدالتوں نے اس پر اپنا دانشورانہ ریمارک ڈال کر متاثرین تک راحت پہونچنے نہ دی مثال کے طور ناسک ٹاڈا کورٹ میں چلنے والے ایک کیس میں ’’آنریبل ‘‘ کورٹ نے پوچھا کہ پھر یہ بتایا جائے کہ ان پر ٹاڈا لگایا کیوں گیا  تھاانھیں یہ خیال بالکل نہیں آیا کے ان کی اس دانشوری کے نتائج حکومت کو نہیں متاثرین کو بھگت نہ پڑیں گے۔ جہاں حکام اس طرح کے   ہوں، بر سر اقتدار گروہ کی عقل اور نیت  اس طرح کی ہو وہاں ایک اور نیا قانون کیا مسلمانوں کو کسی قسم کی راحت دے سکے گا؟کہیں ایسا نہ  ہو کہ اسے اس طرح بنایا جائے کہ الٹی آنتیں گلے پڑ جائے۔

بھئی! دستور میں تو یہ گارنٹی ہے کہ حکومت کسی کے مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ خودسابق  چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس کیہر سنگھ یہ کہہ چکے ہیں کہ تین طلاق کا معاملہ مسلمانوں کا مذہبی معاملہ ہے۔ جس میں مداخلت نہیں کی جا سکتی۔ مگر کون سنتا ہے فغان درویش۔۔عملاً جو ہو رہا ہے کیا وہ مسلمانوں کو نظر نہیں آتا؟ حکومت کیوں ججوں کی تقرری اور تبادلوں کو اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہے؟ کالیجیم کو غیر موثر کرنے کی کوششیں کیوں کی جا رہی ہیں ؟ہم تو برسوں سے یہ خیال رکھتے ہیں کہ جمہوریت دنیا میں کہیں موجود نہیں ہے مگر جمہوریت کے وہ خوش فہم عاشق جو یہ سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز ایک جمہوری ملک ہے، بتائیں کہ یہ کیا ہے؟اگر یہ جمہوری ملک ہے تو مطلو العنانیت میں کیسے تبدیل ہورہی ہے؟اور جمہوریت کے چیمپئن منہ میں گھنگھنیاں ڈالے کیوں بیٹھے ہیں؟ بہرحال ہم سمجھتے ہیں کہ قانون بنانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ملک کا وزیر اعظم گئو رکھشکوں کو ایک بار غنڈے بدمعاش کہہ چکا ہے۔ کیا ان غنڈے بدمعاشوں پر یا قانون نافذ کرنے والوں پر اس کا کچھ اثر ہوا تھا؟بہت ممکن ہے آپ قانون بنوا لیں۔ مگر یقین کیجئے وہ قانون کی کتابوں کے باہر کہیں نظر نہیں آئے گا۔ اس لئے نئے قانون بنانے کی بجائیدستور ہند میں موجود پرانے قوانین پر ان کی روح کے مطابق عمل کروانے پر زور دیجئے۔ اور یہ ممکن ہے بشرطیکہ آپ ہمت اور طاقت کا مظاہرہ کریں۔

 دنیا نہیں مردان جفا کش کے لئے تنگ

چیتے کا جگر چاہئے شاہیں کا تجسس

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close