سیاست

لاشوں پہ ہو رہی ہے بی جے پی کی سیاست

احساس نایاب

2019 عام انتخابات کے عنقریب ملک بھر میں جس طرح کے حادثات رونما ہورہے ہیں اور نوجوانوں پہ جو حملے کئے جارہے ہیں اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ یہ سب کچھ سیاسی داؤپیج کا حصہ ہیں جس کو بہتر طریقے سے سمجھنے کے لئے بھاچپہ کی پانچ سالہ دور حکومت پہ ہلکی سی نظر دوڑانی پڑیگی۔

جیسے کہ ملک کا بچہ بچہ واقف ہے کہ مودی سرکار پانچ سالوں میں ہرلحاظ سے کس قدر ناکام رہی ہے، اقتدار میں آنے سے پہلے جتنے دعوے کئے سارے جھوٹے ثابت ہوئے، نہ عورتوں پہ ہورہے مظالم کا خاتمہ ہوپایا، نہ کسانوں کو انکا حق ملا، نہ بےروزگاری ختم ہوئی، نہ ہندوستان میں وکاس کا جنم ہوا۔

 برعکس نوٹ بندی کے نام پہ ملک کی اقتصادی حالت خستہ ہوگئی، جی یس ٹی کے وار نے عام انسان کی کمر توڑدی، پندرہ لاکھ کا لالچ دلاکر عوام کو بھوکا ننگا کردیا گیا، نیراؤ مودی جیسے کئی بھگوڑے مودی کی ناک کے نیچے سے غریب عوام کا پیسہ لیکر فرار ہوگئے، ملک میں ہندوتوا کے نام پہ مسلم و دلت نوجوانوں کا قتل و عام ہوا، طلاق کے نام پہ ہنگامہ مچا، دشمن کے دس سر لانے کی بات کہنے والے اپنے مفاد کے خاطر اپنے ہی جانباز جوانوں کی جانوں کا نظرانہ دیتے رہے، ہندوتوا کے نام پہ ملک بھر میں مندر مسجد کی آگ بھرکاتے رہے یہاں تک کہ پورے ملک کو جوالا مُکھی ( آتش فشاں ) بناکے رکھ دیا اور جب بھاچپہ کی اس نفرت بھری سیاست کو عوام سمجھنے لگی اور اپنے محب وطن کو تباہ ہوتے دیکھ عوام کا غصہ ارتداد پہ پہنچا تو جگہ جگہ ووٹ مانگنے گئے بھاچپائی غنڈوں کو دوڑا دوڑا کر بھگایا گیا دراصل یہ عوام کا پانچ سالہ غصہ تھا جو کہر بن کر بھاچپائیوں پہ ٹوٹا اور اس غصے کے نتیجے 2019 کے عام انتخابات میں بھاچپائیوں کو منہ کی کھانی پڑتی جسکا ٹریلر حال ہی میں ہوئے 4 ریاستوں کی ہار تھی جسکو ساری دنیا نے دیکھا بھی اور سراہا بھی۔

اب یہاں اس صورتحال میں مودی سرکار کا چاروں خانے چت ہونا ( مودی کی ہار ) یقینی ہوگئی تھی، اُس پر کانگریس میں پرینکا گاندھی کی آمد کو لیکر جو جوش نظر آرہا تھا وہ سیاسی شطرنج پہ کانگریس کی طرف سے نیہلے پہ دہلے والی چال ثابت ہوگیا اور تو اور عوام کے آگے ای وی ایم مشین گھوٹالے کے خلاصے نے تو بھاچپہ سرکار کی دھوکہ دہی کے سارے پول کھول کر دنیا کے آگے رکھ دئے ابھی بھاچپائیوں کے پاس 2019 عام انتخابات کے لئے نہ کوئی حکم کا اِکا بچا تھا نہ ہی مسجد مندر کا مدعہ کام آنا تھا ایسی صورت حال میں دہشتگردی کا راگ الاپتے ہوئے ایک بار پھر سے مسلم نوجوانوں کو سازش کے تحت دہشتگرد بتاکر گرفتاریاں کرنی شروع کردی گئی تاکہ ملک بھر میں انتشار بڑھے تشدد کی آگ جلے جس میں وہ دوبارہ اپنی سیاسی روٹیاں سیک سکیں لیکن اُن نوجوانوں کے خلاف کوئی پختہ ثبوت نہ ملنے کی وجہ سے یہ چال بھی ناکام ہوتی نظر آئی، اسی دوران انتخابات کے عنقریب اچانک سے کشمیر میں ہونے والا پلوامہ حملہ مودی سرکار کے لئے کسی وردان سے کم نہ تھا ایک طرف ہمارے بہادر جانباز نوجوانوں کی شہادت دوسری طرف دم توڑتی بھاچپہ کی گندی سیاست جو اسی موقعہ کی تاک میں تھی پھر کیا تھا شیطانی خرافات کو ایک اور نئی روح خیرات میں مل گئی اور اُس پر گودی میڈیا کی ۔

بھڑکانے والی آدھی سچی پوری جھوٹی خبروں نے مودی سرکار میں نئی طاقت بھرنے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پہ لے لی ساتھ ہی ساتھ 49 نوجوانوں کی شہادت کے صدمے و غصے میں نڈھال عوام کو اس قدر بھڑکایا جارہا ہے کہ ہر کوئی جنگ کے خوفناک انجام سے بےخبر جنگ کی مانگ کررہا ہے، کوئی یہ نہیں سوچ پارہا ہے کہ اتنے ہائی الرٹ ہائی سکیورٹی ایریا میں آخر اتنی آسانی سے محض 19 سالہ نوجوان وہ بھی بارود سے لیس کار میں سوار ہوکر کیسے بی ایس ایف کے قافلے میں داخل  ہوکر دھماکہ کرسکتا ہے وہ بھی بنا کسی مدد کے، آخر انٹیلیجنس کو وقت رہتے اتنی خطرناک سازش کی خبر  کیسے نہیں ملی ؟ آخر انٹیلیجنس ایجنسیوں سے اتنی بڑی لاپرواہی کیسے اور کیونکر ہوگئی؟

بہرحال یہاں پہ کس نے جان گنوائی، ملک کا کتنا نقصان ہوا یہ ساری باتیں اپنی جگہ بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کرتی ہیں۔ مگر ان تمام حالات سے مودی کی سیاست کو ایک نئی سمت مل گئی جو کل تک مسلم و دلت نوجوانوں کا قتل و عام کرکے سیاست کر رہے تھے آج وہ ہمارے جانباز نوجوانوں کی شہادت پہ سیاست کررہے ہیں، تبھی آج بھی بی جے پی کی انتخابی ریلیاں اُسی جوش و خروش کے ساتھ زور و شوروں سے چل رہی ہیں جبکہ کانگریس سے لیکر دیگر سیاسی جماعتیں اس ڈر سے خاموش ہیں کہ کہیں انہیں ملک کا غدار نہ قرار دے دیا جائے یہاں تک کہ کئی حق گو و بےباک صحافی بھی حقیقت سے واقف ہونے کے باوجود چپی سادھے ہوئے ہیں اور ان خوفناک حالات کو دیکھتے ہوئے شہیدوں اور آرمی کے نوجوانوں کے لئے ہمدردی کے ساتھ ساتھ برا بھی لگ رہا ہے کہ آج اُن کی زندگیوں کو بھی سیاست کی چکی میں پیسا جارہا ہے۔

ناجانے اُنکے اہل خانہ پہ کیا بیت رہی ہوگی جنہونے اپنے جوان باپ، بھائی، بیٹے، شوہر قربان کئے ہیں یا ملک کی حفاظت کے خاطر خود سے دور کیا ہوا ہے جو اپنے گھروں کو چھوڑ سرحدوں کی حفاظت کے لئے کھڑے ہیں، اُن کے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کا کیا حال ہوتا ہوگا جنہونے اپنے باپ کھوئے ہیں وہ آنگن کیسا ہوگا جہاں کی خوشیاں ہمیشہ کے لئے روٹھ چکی ہیں، اُن گھروں کا کیا ہوتا ہوگا جنکے روشن چراغ ہمیشہ کے لئے بجھ چکے ہیں، آخر کون لوٹائیگا اُنکی تمام کھوئی ہوئی خوشیاں کیا جنگ کرنے سے انکے آنگن میں خوشیاں دوبارہ لوٹ آئینگی؟

 نہیں ہرگز نہیں !

بلکہ ان گھروں کے ساتھ اور بھی کئی گھروں میں قیامت برپہ ہوگی کیونکہ میدان جنگ میں گولی بارود کے دھماکے ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں دیکھتے کہ سامنے دشمن ہے یا دوست، دشمن کے جوان مرینگے  تو ہمارے بھی جانباز شہید ہونگے آخر کتنی لاشوں پہ آنسو بہائیں اور کتنی چتائیں سجائیں؟

یاد رہے بارود کی ڈھیر، آگ کی لپٹوں میں دھواں ہوا منظر، خون سے سرخ ہوئی ویران و بھیانک وادیوں سے ہی قیامت نہیں جھلکتی بلکہ اُن گھروں میں بھی قیامت کا ماتم بسرا ہوتا ہے جن کے آنگن میں نوجوانوں کی لاشیں پڑی ہوتی ہیں وہ گھر اُس گھر کے افراد پہ بھی قیامت ٹوٹتی ہے جنکے لخت جگر اُن سے ہمیشہ کے لئے چھین چکے ہیں، اسلئے جوش میں آکر جنگ کی بات کہنا بڑی بات نہیں بلکہ اُن جانبازوں کے ماں، بہنوں، بیویوں کے درد اُنکی گھبراہٹ انکی بےچینی، انکی بےبسی کو محسوس کرنے کی کوش کریں جنہیں ناچاہتے ہوئے بھی مجبورا یہ سب کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

اور آج یہاں پہ جو کوئی بھی جنگ جنگ چلارہے ہیں وہ ایک دفعہ اپنے گھروں کا جائزہ لیں، آخر اُنکے گھروں کے کتنے جوان آرمی،نیوی، ایرفورس میں شامل ہیں، کتنے ملک کی حفاظت کے خاطر سرحدوں پہ تعینات ہیں ؟

کسی اور کے بچوں کو موت کے منہ میں بھیجنا جنگ کے لئے اکسانہ حب الوطنی نہیں کہلاتی ہے، بلکہ خود کا خون بہانا اپنی آل و اولاد کو وطن کے خاطر قربان کرنا دیش بھگتی ہے، کیا ان سیاستدانوں کی آل و اولاد، اس گودی میڈیا کے باپ بھائی آرمی میں ہیں؟

آج تک کتنے سیاستدانوں اور میڈیا والوں نے جنگ میں اپنے عزیزوں کو کھویا ہے ؟

اگر نہیں تو انہیں کوئی حق نہیں بنتا کہ وہ جنگ جنگ چلائیں جو خود اپنے آگے پیچھے سکیورٹی گارڈس کی لمبی چوڑی قطاریں لیکر گھومتا ہو اُسے کوئی حق نہیں کہ وہ جنگ یا شہیدوں کے متعلق لمبی چوڑی تقاریر کرے، اگر جنگ کرنے کا اتنا شوق ہے تو پہلے اپنے بھائی بیٹوں کو آرمی میں جوائن کروا کر اپنی حب الوطنی کا ثبوت دیں پھر اوروں کو جنگ کے لئے آکسائیں۔

 کیونکہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل ہرگز نہیں ہے اور اس حقیقت سے ہر کوئی بخوبی واقف ہے، باوجود اس کے جسطرح سے یہ سیاستدان  منتری سنتری اور  بکی ہوئی گودی میڈیا جو اپنی ٹی آر پی بڑھانے کے لئے گلے پھاڑ کر جنگ کا مطالبہ کرنے کے لئے عوام کو اکسارہے ہیں، بدلا بدلا چلارہے ہیں، یہ سب کچھ گندی سیاست کا حصہ ہے، اور دکنی کہاوت کی طرح ہے۔

” جیتے جی جلائے، مرنے کے بعد پلائے ” جیتے جی جن جوانوں کی پرواہ نہیں کی جاتی، اُنکے حق میں آواز نہیں اٹھائی جاتی، انکی ضرورتوں کا خیال نہیں رکھا جاتا انکی جائز مانگوں کو پورا نہیں کیا جاتا اُنکے مرنے کے بعد یہ مگرمچھ کے آنسو بہانا محض ڈھونگ ہے۔

پلوامہ حملے کے 12 دن بعد جو سرجیکل اسٹرائک کیا جارہا ہے۔ یاد رہے اس سے ملک کا بھلا ہو نہ ہو، شہیدوں کے اہل خانہ کو انصاف ملے نہ ملے مگر مودی کی پانچ سالہ ناکامیوں کی پردہ پوشی ضرور ہوگئی، انکے اگلے پچھلے تمام کارنامے بارود کی ڈھیر میں دھواں ہوگئے اور 2019 میں دوبارہ 56 انچ کا سینہ پھول کر غبارہ ہوچکا ہے تو پھر سے لاشوں پہ سیاست ہوگی کیونکہ بھاچپائیوں کی اقتدار کی بھوک،ہوس و لالچ کبھی بھی کسی کی بھی لاشیں گراسکتی ہیں  اور معصوم لاشوں پہ سیاست کرنے میں تو انہیں مہارت حاصل ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

احساس نایاب

ایڈیٹر گوشہ خواتین واطفال بصیرت آن لائن، سب ایڈیٹر روزنامہ آجکا انقلاب

متعلقہ

Close