سیاست

لال ٹوپی نے بھگوا چوٹی کاٹ دی

ڈاکٹر سلیم خان

یوگی ادیتیہ ناتھ نے بڑے آہنکار سے کہا تھا تریپورہ  میں لال پر چم کو نذرِ آتش کرچکے ہیں اور اب اترپردیش میں لال ٹوپی جلادیں گے۔ خیر ٹوپی تو نہیں جلی ہاں چوٹی ضرور کٹ گئی۔ تریپورہ میں اگر  بی جے پی نے نظریاتی کامیابی حاصل کی  تھی تو کیا وہ   گورکھپور میں نظریاتی شکست سے دوچار نہیں ہوئی ہے؟  یوگی جی خود ہی بتائیں کہ اب کس کا پتلا ڈھایا جائے ؟ یا کون سا مٹھ  گرایا جائے؟   ایسا لگتا ہے مشیت بی جے پی کو اٹھا اٹھا کر پٹخ رہی ہے۔ میگھیالیہ سے اچھالا  تو ارریہ میں  پھینکااور ناگالینڈ سے اٹھا کر پھول پور میں پٹخنی دی لیکن اسی پر بس نہیں کیا بلکہ تریپورہ   کے پہلوان کو گورکھپور کے اندر اس کے اکھاڑے میں  لاکر  پچھاڑا۔ آزدی سے قبل ہندوستان میں ترنگے کے خلاف سبز پر چم نے سر اٹھایا۔ پہلا چاہتا تھا کہ ملک تقسیم نہ ہواوردوسرا قیام پاکستان کا حامی تھا۔   یہ معمولی کشمکش نہیں تھی مولانا محمود مدنی بھی بڑے فخر سے اعلان کرتے ہیں کہ ہم نے نظام  مصطفیٰ  کو مسترد کرکے  ترنگے کو بلند کیا لیکن اس کے باوجود سبز پرچم سرخ رو ہوا اور پاکستان عالمِ وجود میں آگیا۔

آزادی  کے بعد ترنگا جھنڈا اور سرخ پرچم کے درمیان  کشکمش کا آغاز ہوا لیکن  بہت جلد یہ سرخی  پھیکی پڑ گئی۔ اسی زمانے میں گاندھی جی کی سفید ٹوپی کے مقابلے آریس ایس نے کالی ٹوپی کو رواج دیا  اور آج کل سماجوادیوں  نے لال ٹوپی اوڑھ  کر کالی ٹوپی کو چیلنج کردیا   ہے۔ پھول پور اور گورکھپور میں سماجوادی کی سائیکل کو بی ایس پی نے اپنے شانے پر سوار کرکے کمل کو قدموں تلے کچل دیا۔ اس طرح لال ٹوپی نے اپنے روایتی حریف کالی ٹوپی پر سبقت حاصل کرلی۔   یوگی ادیتیہ ناتھ کو گورکھپور کی سیٹ وراثت میں ملی۔ مہنت اویدیہ ناتھ ۱۹۸۹؁ سے وہاں اپنا بھگوا  جھنڈا لہرا رہے تھے۔ مہنت کو یہ پرچم سنگھ والوں نے نہیں دیا بلکہ وہ خود گورکھ ناتھ مندر کی سہارے سیاست میں آئے اور ہندو مہا سبھا کے نام انتخابی کامیابی درج کرائی۔  بی جے پی نے آگے چل کر ان کو نمسکار کیا ا اور انہیں گھوڑے سے اتار کر کمل پکڑا دیا۔

مہنت اویدیہ ناتھ سے غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے ایک نااہل چیلے یوگی ادیتیہ ناتھ کو اپنا سیاسی وارث بنادیا۔ جب تک وہ حیات رہے یوگی جی ان کا نام پر کامیاب ہوتے رہے۔ اس طرح پانچ  مرتبہ اپنے گرو کے طفیل  کامیاب ہوکر ایوان پارلیمان میں پہنچے لیکن سوائے دنگا فساد اور رونے دھونے کے  کوئی قابلِ ذکر کارنامہ انجام نہیں دے سکے۔ یہاں تک۱۲ ستمبر۲۰۱۴ ؁ کو  مہنت  اویدیہ ناتھ کا انتقال  ہوگیا۔  اس کے بعدگورکھپور میں یہ پہلا لوک سبھا کا انتخاب تھا۔ اتر پردیش کا  گزشتہ صوبائی  انتخاب مودی جی  اور شاہ جی نے بڑی   محنت سے جیتا لیکن اس میں ان دونوں سے اہم کردار وزیراعلیٰ راجناتھ سنگھ  نے ادا کیاتھا۔ انہوں نے ۱۰۰ سے زیادہ انتخابی جلسوں سے خطاب کیا لیکن  کامیابی کے بعد مودی جی نے راجناتھ سنگھ کو کنارے کرنے کے لیے یوگی جی وزیراعلیٰ بنادیا۔  یہ ان کی بہت بڑی غلطی تھی۔ اس بار نہ مہنت  اویدیہ ناتھ تھے اور نہ راج ناتھ سنگھ۔ وزارت اعلیٰ کے بل بوتے پر   یوگی نے انتخاب لڑا  اور منہ کی کھائی۔ یوگی جی اگر خوددار ہوتے تو سیاست سے سنیاس  لے لیتے لیکن خودداری  اور عزت نفس کا اس پاکھنڈی سیاستدان کا کیا لینا دینا۔

اس انتخاب میں یوگی جی کے ساتھ ساتھ ان کے نائب کیشو پرشاد موریہ کا پرشاد بھی تقسیم ہوگیا۔ پہلے انہوں نے دعویٰ کیا تھا ہم دونوں مقامات پر ایک لاکھ سے زیادہ ووٹ کے فرق سے جیتیں گے۔ ووٹوں کی گنتی کے شروع ہوئی تو کہہ دیا کہ ابتدائی راونڈ میں ایس پی ضرور آگے ہے لیکن آخری کامیابی ہماری ہی ہوگی۔ اب تقریباً ۶۰ ہزار ووٹ سے ناکام ہونے کے بعد  کہہ رہے ہیں کہ ہمیں امید نہیں تھی بی ایس پی کا دلت ووٹ ایس پی کو منتقل ہوجائے گا۔ ایس پی اور بی ایس پی  اگرمل کر انتخاب لڑتے ہیں تو ہمیں نئی حکمت عملی وضع کرنی ہوگی۔ یہ بکواس ہے۔ ان دونوں حلقۂ انتخاب میں ۲۰۱۴ ؁ کے اندر بی جے پی کو۵۰ فیصد سے زیادہ ووٹ ملے تھے۔ بی جے پی اگر اپنا دبدبہ بنائے رکھتی یا اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنی مقبولیت میں اضافہ کرتی تو ایس  پی اور بی ایس کا اتحاد بھی اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔  سچ تو یہ ہے کہ بی جے پی کے ڈھول کا پول کھل گیا ہے۔ دھوکے سے جو لوگ ان کے دام پھنس گئے تھے وہ  مایوس ہو کر لوٹ رہے ہیں۔ وہ دن دور نہیں جب مودی جی کی  بھی  دہلی سے گجرات گھر واپسی ہو جائیگی ۔

اس انتخاب نے بہار میں نتیش کمار کے ساتھ ساتھ بی جے پی کا بھی نشہ اتار دیا۔ لالو یادو کو جیل بھیجنے کے باوجود  ارریہ اور جہان آباد میں  وہ  دونوں مل کر آر جے ڈی کو نہیں ہراسکے۔ چندر گپت اور چانکیہ کہلانے والی  نتیش کمار و سشیل مودی کی جوڑی کو اکیلا تیجسوی  یادو بھاری پڑگیا۔ ان دونوں مقامات پر ۲۰۰۹ ؁ اور ۲۰۱۰ ؁ میں بی جے پی کو کامیابی ملی تھی لیکن ۲۰۱۴ ؁ اور ۲۰۱۵؁ میں یہاں سے لالو یادو کی قیادت   میں آر جے ڈی نے اپنی جیت درج کرائی تھی ۔ اس بار بی جے پی کو امید تھی کہ نتیش کمار کی مقبولت اور اقتدار کے زور سے وہ یہ سیٹیں آر جے ڈی سے چھین لے گی   لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ لالو پرشاد یادو کو بدعنوانی کے الزام میں جیل بھیجنا بھی اس کے کسی کام نہیں آیا۔ اب دیکھنا یہ ہے نتیش کمار کا بے فائدہ بوجھ  قومی انتخاب میں کیا گل کھلاتا ہے۔ بی جے پی اس کو  کب تک ڈھوتی ہے  اور ٹشو پیپر کی مانند استعمال کرلینے کے بعد کب کچرے کے ٹوکری میں پھینکتی ہے۔ ان انتخابی نتائج کے بعد نریش اگروال کو ضرور سائیکل سے اتر کر کمل تھامنے پر افسوس ہورہا ہوگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close