سیاستطنزو مزاح

للن، کلن اور سناتن

ڈاکٹر سلیم خان

للن نے کلن سے کہا یار یہ سناتن پھر سے پھنس گئے

کون  سناتن ؟  سمترا مہاجن کا رشتے دار ہے کیا ؟

ارے نہیں۔  وہی سناتن سنستھا جو مالیگاوں  اور نہ جانے کہاں کہاں دھماکوں میں ملوث رہی  ہے

اچھا !کلن نے سوال کیا  لیکن مودی سرکار کے ہوتے وہ کیسے پھنس سکتے ہیں۔ شاہ جی لوگوں کو پھنسانے کے ساتھ بچانے کا فن بھی خوب جانتے ہیں

میرا خیال ہے کہ  اب شاہ جی اپنے آپ کو  سہراب الدین انکاونٹر کے معاملے میں بچا لیں تو بہت ہے

کیوں ؟ اس کے لیے تو انہوں نے جسٹس لویا کو تک ۰۰۰۰۰۰۰

للن نے کلن کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا  اور کہا دیکھو سنبھال کربولا کرو دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں

ہوتے ہیں تو ہوا کریں کلن نے سینہ پھلا کر کہا میں کسی سے نہیں ڈرتا

وہ ایسا ہے نا کہ جسٹس لویا کے معاملے میں ایک سابق جج تو ٹرین کی سیٹ سے گر کر فوت ہوگیا اور ایک وکیل عدالت کی چھت کود کر مرگیا۔ میں نہیں چاہتا کہ تمہارے ساتھ بھی کوئی ایسا حادثہ ہوجائے

لیکن سہراب الدین معاملے میں ایک کے بعد ایک گواہ مکر رہے ہیں۔ میرے خیال میں   عدالت شاہ جی کی مٹھی میں ہے

یہی خیال  سابق ایس آئی ٹی چیف ڈی جی ونجارا کا بھی تھا۔

یہ تمہیں کیسے پتہ ؟ فون کرکے بتایا تھا کیا؟

 فون سے نہیں اس کی حرکت سے پتہ چلا۔ ونجارا نے جوش میں آکر عشرت جہاں کیس میں خلاصی کے لیے درخواست  جو دے دی

اس نے یہ حماقت کیسے کردی ؟

سی بی آئی عدالت نے جب  سابق ڈی آئی جی پی پی پانڈے کو رہا کردیا تو ونجارا نے سوچا کیوں نہ بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیے جائیں

اچھا تو پھر کیا ہوا؟

سی بی آئی عدالت خصوصی جج جے کے پنڈیا نے ونجارا کو کلیدی ملزم قرار دیتے ہوئے این کے امین کو بھی بری کرنے سے منع کردیا

یار یہ خوب ہے کہ پنڈیا نے پانڈے کو بچا لیا اور ونجارا اور امین کو پھنسا دیا

بھئی ناموں کی مماثلت محض  اتفاق ہے عدالت کا کہنا ہے کہ پانڈے کے خلاف ٹھوس  شواہد نہیں ہیں مگر ان دونوں کے خلاف ہیں

لیکن آج کل تو عدالت کا رویہ خاصہ نرم چل رہا ہے اس نے ۱۶ سال بعد گھاٹکوپر دھماکے ملزم عرفان قریشی کو باعزت بری کردیا

ارے بھائی اس کا نام  جس الطاف نے بتایا تھا وہ خود ۲۰۰۵؁ میں چھوٹ گیا اور پولس کو اس کے خلاف کوئی ثبوت بھی نہیں ملا

اچھا تو ونجارا اور امین کا کیا معاملہ ہے؟

ان کے خلاف پولس  حوالدار، سب انسپکٹر اور انسپکٹر کو سی بی آئی نے گواہ بنایا ہے کہ وہ انکاونٹر کے وقت جائے وارادات پر موجود تھے

تب تو معاملہ گمبھیر ہے لیکن آپ نے  کسی سناتن سے بات  شروع  کی لیکن پھر   کہیں اور نکل گئے

جی ہاں میں تو بھول ہی گیا۔  دراصل مہاراشٹر اے ٹی ایس کے سربراہ اتل کلکرنی نے ہیمنت کرکرے کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سناتن سنستھا کے  گئورکشک ویبھوت راوت اور اس کے دو ساتھیوں کو بم  سمیت نالا سوپارہ سے گرفتار کرلیا

لیکن آج کل  ان کو بم کی  کیا ضرورت ؟ یہ لوگ تو کہیں بھی کسی کو بھی گھیر کر ہجومی  تشدد کا شکار کرسکتے ہیں

جی ہاں لیکن ایسا کرنے سے مسلمان بدنام نہیں ہوتے بلکہ ان کے تئیں ہمدردی پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ لوگ ہوم  جمہوریہ کے موقع پر دھماکے کرکے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش رچ رہے تھے

اچھا تو کیا پھر سے ہندو دہشت گردی کا چہرہ بے نقاب کرنے کی کوشش ہورہی ہے؟

للن نے کہا لگتا تو ایسا ہی ہے۔

کلن بولا یار یہ تو خطرناک بات  ہے۔ مجھے ڈر لگتا ہے

ڈر ؟ کیسا ڈر ؟؟ یہ دہشت گرد اگر کیفرِ کردار کو پہنچ گئے تو خوف و دہشت کا ماحول اپنے آپ  ختم ہوجائے گا

جی ہاں لیکن کہیں اس سے پہلے وہ نہ ہوجائے جو ہیمنت کرکرے اور ان کے جانباز ساتھیوں کے ساتھ ہوگیا

للن سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور بولا جی ہاں اس سے قبل  تو دھماکوں کا فائدہ اٹھایا گیا تھا۔ اب تو یہ دھماکےبھی کر  سکتے ہیں۔ سیاّں  بنے کوتوال تو ڈر کاہے کا؟

اچھا توکیا  وقت کا پہیہ پھر گھوم کر مالیگاوں دھماکوں کی جانب مڑ گیا ہے

جی ہاں کلن شاید  تاریخ اپنے آپ کو دوہرانے جا رہی ہے

لیکن کیا تمہیں نہیں  لگتا کہ سادھوی پرگنیہ کی طرح یہ بھی چھوٹ جائیں گے

ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی

میں نہیں سمجھا  ؟ کلن نے سوال کیا

ارے بھائی  یہ  لوگ  کلبرگی، پانسرے اور گوری لنکیش کے معاملے میں بھی یہ ملوث ہیں

اورہاں  مالیگاوں دھماکوں میں بری ہونے والے مسلم نوجوانوں کے خلاف حکومت کی درخواست کو سننے سے بامبے ہائی کورٹ نےا نکار کردیا ہے

 للن خوش ہوکر بولا  مجھےتو  لگتا ہے مودی سرکار کے اچھے دن اب   لوٹ  کر جا رہے ہیں

اوہو تمہیں ابھی سے لگنے لگا۔ اب تو مودی جی کو ایک یوم آزادی اور ایک  یوم جمہوریہ کا خطبہ دینا ہے۔ ہوسکتا ہے ان تقریروں سے اچھے دن لوٹ آئیں

للن بولا نہیں!  مجھے نہیں لگتا

کیوں اس کی کوئی خاص وجہ؟ کلن نے سوال کیا

بھائی ایسا ہے کہ ان کے اچھے دن ڈر  کی وجہ سے آئے تھے۔ عدلیہ اور انتظامیہ کی مدد سے اسے پروان چڑھایا جارہا تھا لیکن اب یہ پکڑ کمزور پڑ گئی ہے

یہ آپ سے کس نے کہہ دیا؟

بھائی کوئی اور کیا کہتا ؟  خود اٹارنی جنرل وینو گوپال نے سپریم کورٹ کو حکومت پر تنقید کرنے سے احتراز کرنے کی درخواست کردی

اچھا تو پھر عدالت نے کیا جواب دیا ؟

عدالت نے وینو گوپال کو پھٹکار لگاتے ہوئےکہا  ہم بھی ملک کے شہری ہیں دفعہ ۲۱ کے تحت ہمیں یہ حق حاصل ہے

اچھا تب تو لگتا ہے عدلیہ ان کے چنگل سے نکل گیاہے اور کلکرنی کے اقدام سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ  انتظامیہ بھی  آزاد ہورہا ہے

للن بولا ایسے میں  عوام کو بھی یہ لوگ زیادہ دنوں تک دہشت زدہ نہیں رکھ سکیں گے

 یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں للن بھیا۔ ابھی ابھی انہوں نے راجیہ سبھا کی نائب صدارت کا عہدہ جیتا ہے

دیکھو ایسا ہے کہ بدعنوان  سیاسی جماعتوں کو ڈرا کر بلیک میل کرنا جتنا آسان ہے  لیکن عام لوگوں پر یہ حربہ کارگر نہیں ہوتا

میں نہیں سمجھا للن بھائی

اس میں سمجھنے کی کیا بات ہے۔ بدعنوان  رہنماوں  کو ڈرانا آسان ہوتا ہےاور لالچ دے کر ان کی وفاداری کوتوبہ آسانی خریدا جاسکتا ہے مگر  عوام کی نہیں

لیکن عوام تو اپنے رہنماوں کے پیچھے آنکھ موند کر چلتے ہیں

عام حالات میں یہ ہوتا ہے لیکن جب عوام کی آنکھ کھل جاتی ہے تو  وہ رہنما کی پرواہ کیے بغیر اپنی سمت بدل دیتے ہیں

اچھا! کلن نے حیرت سے پوچھا تو اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟

للن ہنس کر بولا رہنما بھی اپنا رخ بدل کر عوام کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ تمہیں نہیں پتہ جگجیون رام نے ایمرجنسی کے بعد کیا کیا تھا؟

جی ہاں وہی جو آج کل  یشونت سنہا، ارون شوری اور شتروگھن سنہا وغیرہ کر رہے ہیں

تب تو لگتا ہے ہوا کا رخ بدل رہا ہے اور کوئی نئی آندھی آنے والی ہے۔

جی ہاں کلن کیا تم نے راحت اندوری کا شعر نہیں سنا ؎

جو آج صاحبِ مسند ہیں کل نہیں ہوں گے    

   کرایہ دار ہیں، مالک مکان تھوڑی ہیں

مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close