سیاستطنزو مزاح

للن اور کلن کی جیل یاترا

ڈاکٹر سلیم خان

اناو سے سیتاپور تک کا سفر للن سنگھ کے لیے مصیبت بن گیا۔ اس گرمی میں اگر رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کا حکم نہیں ہوتا تو وہ کبھی یہ رخت سفر نہیں باندھتا لیکن کیا کرے مجبوری تھی۔ اپنی برادری کا آدمی  اگر مشکل میں پھنس جائے تو اس کی مزاج پرسی سے بڑا ذات دھرم کا کام کوئی اور نہیں ہے۔ جیل کے اندرساری جدید سہولیات سے لیس ایک صاف ستھرے  مخصوص  کمرے میں للن سنگھ داخل ہوا تو اس کو ایسا لگا کہ کسی ۳ سٹار ہوٹل میں آگیا۔

للن نے پوچھا آپ تو فون پر بڑی پریشانی بتارہے تھے لیکن یہاں تو سب ٹھیک ٹھاک لگتا ہے۔

کلدیپ نے کہا کیا خاک  ٹھیک ہے۔ انسان دیواروں سے تھوڑی نا بات کرسکتا ہے۔ وہاں اناو میں اپنے لوگ تھے وقتگزر جاتا تھا پتہ بھی نہیں چلتا تھا لیکن یہاں انسان کس سے بات کرے ؟

کیوں اس جیل میں تو زیادہ چہل پہل دکھائی دیتی ہے۔

سوتو ہے لیکن تم تو جانتے ہو ہم ہر کسی کو منہ نہیں لگاتے۔

جی ہاں لیکن مجبوری میں کیا حرج ہے۔ آپ کون سے یہاں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ کل چھوٹ جائیں گے تو جھٹک دیجیے گا۔

نہیں للن یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ ایک بار انسان کا مان سمانّ ختم ہوجائے تو پھر لوٹ کر نہیں آتا۔ ہم اصلی راجپوت ہیں اس ڈھونگی ادیتیہ ناتھ کی طرح نہیں کہ گیروا رنگ کیا اوڑھ لیا کہ اپنی برادری کی وفاداری بھول گئے۔

نہیں صاحب ایسی بات نہیں۔ یوگی جی نے ۸ مہینے تک بہت کوشش کی۔ شکایت تک درج ہونے نہیں دی۔

دیکھو للن وہ جو شکایت درج نہیں ہوئی اس میں یوگی کا کوئی یوگ دان نہیں ہے۔ وہ تو ہماری دبنگائی تھی کہ کسی تھانیدارکی  مجال نہیں جو ہمارے خلاف قلم چلائے لیکن اس یوگی نے وہ بھرم بھی ختم کردیا۔

آپ کی بات درست ہے لیکن یوگی جی میڈیا کے آگے  مجبور ہوگئے۔

  ستاّ کی مجبوری ؟ کیا بات کرتے ہو للن ؟؟وہ اقتدار ہی کیا جو مجبور ہوجائے؟؟؟ ہم تو ایسی سرکار کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ ہمارے پوروج انگریزوں سے لڑ گئے تھے اور یہ بھوگی میڈیا سے ڈر گیا۔ اس شخص نےتو راجپوت سماج  کا نام بدنام کردیا۔

وہ بیچارہ کیا کرے؟ میں نے سنا دلی ّ کے آدیش پر آپ کی گرفتاری ہوئی ہے۔ پردھان سیوک نے خود پستک شیپ کیا۔

وہ سارے بھی بزدل ہیں۔ راہل کی ایک ریلی سے گھبرا گئے۔ میں کہتا ہوں کیا ہوتا ؟ ایک دودن میں سب لوگ بھول بھال جاتے۔ ہمارے لوگوں کی یادداشت اتنی محدود ہےکہ جلد ہی معاملہ رفع دفع ہوجاتا لیکن ان کو کون سمجھائے۔

خیر جو ہوا سو ہوا۔ قسمت کے لکھے کو کون ٹال سکے ہے؟

 یہ تقدیر کی بات نہیں میری  غلطی تھی جو وزارت کے چکر میں  ان کے ساتھ ہوگیا ورنہ الیکشن تو میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے بھی جیت جاتا۔ وشواس  کرو سماجوادی اور بہوجن سماج دونوں میرا سمرتھن کرتے۔

اس میں کوئی شک نہیں۔ آپ ہاتھی اور سائیکل دونوں پر سواری کرچکے ہیں۔

جی ہاں وہ لوگ  اتنا مانتے تھے کہ نہ پوچھو۔  میں یہ سب کام تو پہلے بھی کرتا رہا لیکن ان لوگوں نے مجھے کوئی آنچ آنے نہیں دی۔ آج بھی اگر میں سائیکل پر ہوتا تو آندولن چھیڑ دیتے۔ آسمان سر پر اٹھالیتے لیکن یہ لوگ مجھ سے ملنے تک نہیں آتے۔ میں ان لوگوں کو دیکھ لوں گا۔

للن نے چوک کر پوچھا کیا مطلب آپ کمل کو نوچ کر پھینک دیں گے؟

یہ بات کسی سے نہ کہنا اگلے چناو سے پہلے میں ان کو سبق سکھاوں گا۔ ہمارے علاقے سے اگر ان کا ایک بھی امیدوار جیت جائے تو یہ ٹھاکر مونچھ کٹوا دے گا۔

ٹھاکر صاحب اس میں شک نہیں کہ لکھنو میں چاہے جس کی سرکار ہو  سون بھدر کے اندر تو آپ ہی کا طوطی بولتا ہےلیکن آپ سیتا پور کیوں چلے آئے؟

میں اپنی مرضی سے  کب آیا ؟ اس لڑکی نے عدالت میں کہا اس کو ہم سے خطرہ ہے عدالت نے یہاں منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔

تو اس میں یوگی جی کا کیا قصور؟

ارے تو کیا یہ موکھیہ منتری اس لڑکی سے کمزور ہے جو عدالت اس کی سنتی ہے سی ایم کی نہیں سنتی۔ مجھے تو لگتا ہے ان لوگوں نے مجھے بلی چڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے  کہیں یہ میرا انکاونٹر نہ کردیں؟

کیسی بات کرتے ہیں صاحب۔ سارا علاقہ شعلوں کی نذر ہوجائے گا۔ بہت بڑابوال ہو گا۔

یہ تو میری گرفتاری کے بارے میں بھی کہا جاتا تھا  لیکن کچھ نہیں ہوا۔ یہ سب  ہوائی باتیں۔ اس سرکار نے ہماری ہوا اکھاڑ دی ہے اور میں بھی ان کے ساتھ یہی کروں گا۔ کوئی راجپوت ان کو ووٹ نہیں دے۔ دیکھ لینا  ہرجگہ گورکھپور، پھولپور، کیرانہ اور نورپور جیسے نتائج آئیں گے۔

بات بہت لمبی ہوگئی تھی۔ کلدیپ سنگھ سینگر سے آگیہ لےکر للن  سنگھ  صدر دروازے پر پہنچا تو سامنے اس کا بچپن کا دوست کلن ّ خان مل گیا۔ دونوں بڑے عرصے بعد ملے۔   للن نے پوچھا ارے تم یہاں کیسے؟

میں تو رمضا ن میں ہر روز یہاں قیدیوں کے لیے افطاری لے کر آتا ہوں۔

جیل میں افطاری ؟ کیا یہ قیدی بھی روزے رکھتے ہیں ؟

کیوں نہیں ، مسلمان جیل میں ہو یا محل میں۔ روزے تورکھتا ہی رکھتا ہے۔

لیکن ان مجرم لوگوں کو دین دھرم میں کیا دلچسپی ؟

ارے بھائی تم تو جانتے ہی ہو ہمارے ملک  لاکھوں مقدمات زیر سماعت ہیں ۔ اس کے چلتے لاکھوں بے قصور لوگ جیل میں سڑ رہے ہیں۔

جی ہاں یہ بھی صحیح ہے  نیز جن ملزمین کو سزا سنائی جاچکی ان کے بھی تو حقوق ہوتے ہیں۔

کلن نے تائید کی انسان کو اگر دوران ِ قیدو بنداپنی غلطی کا احساس ہوجائے تو اس کی اصلاح کے لیے  روزے سے بہتر کون سی عبادت ہوسکتی ہے؟

للن نے سوال کیا کیوں دن بھر بھوکا پیاسا رہنے سے کیا ہوتا ہے؟

اس سےنفسانی خواہشات کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت اور قوت پیدا ہوتی ہے اور تم تو جانتے ہو حرص و ہوس جب کسی  کو اپنے پنجے میں جکڑ میں لیتی ہے تو انسان  جرائم کے چنگل میں پھنس جاتا ہے۔

وہ تو ٹھیک ہے لیکن اس جیل میں بہت کم مسلمان ہیں اور تم  اتنے سارے ٹوکرے پھل  لائے ہو۔ کیا یہ پورے ہفتہ کا راشن ہے؟

نہیں دوست یہ پھل سارے قیدیوں کے لیے ہیں۔  چاہے وہ روزے دار ہوں یا نہ ہوں؟

للن نے پوچھا یہ منطق سمجھ میں نہیں آئی جو روزہ نہیں رکھتا ہے اس کی افطاری کیا معنیٰ؟

بھائی کوئی مسلمان خود کھائے اور اپنے ساتھی کو نہ دے یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس لیے افطار سبھی کے لیے آتی ہے کسے پتہ کون، کب روزہ  دار بن جائے؟

یہ تو بڑے پونیہ کا کام ہے کلن۔  مجھے وشواس ہے کہ اس کے بعد تمہاری آتما کو بڑا سکون ملتا ہوگا۔

ارے بھائی یہ سب اوپر والے  کی مہربانی ہے کہ وہ ہم جیسے گناہ گار لوگوں  سے اپنے بندوں کی خدمت کا کام لیتا ہے۔  یہ بتاو کہ تم یہاں کیوں آئے؟

میں تو اپنے ودھایک (رکن صوبائی  اسمبلی)  کلدیپ سنگھ سینگر سے ملنے آیا تھا۔

اچھا تو وہ یہیں ہے ؟ کیا حال اس کا ؟؟

اس کا حال بہت خراب ہے۔ ساری سکھ سویدھا کے باوجود تنہائی کا غم کھارہا  ہے۔

کلن خان  ہنس کر بولا اس کو بولو زیادہ چنتا نہ کرے۔ کل عدالت نے یوگی جی کی ساری کوشش کے باوجود سانسد (رکن پارلیمان )  سوامی چنمیانند کے نام گرفتاری کا  وارنٹ نکال دیا ہے۔ اب چونکہ دونوں پر آبروریزی کا الزام ہے اس لیے ممکن ہے انہیں  ساتھ کردیا جائے۔

جی ہاں اگر ایسا ہوجائے تو بڑا اچھا ہے للن سنگھ  نے کہا وہ کیا ہے کہ ’’خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو‘‘

کلن بولا جی  ہاں تم سے اس  اچانک ملاقات سے ہماری بھی  خوب گزری۔ چلو مجھے اندر انتطامات کرنے ہیں۔

مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close