سیاستطنزو مزاح

للن پاٹھک اور کلن پٹیل

ڈاکٹر سلیم خان

للن پاٹھک نے عرصۂ دراز کے بعد بڑودہ بس اڈے پر اپنے لنگوٹیا یار کلن پٹیل کو دیکھا تو خوش ہوگیا اور بولا کیوں بھائی ادھر کیسے؟

کلن نے گرمجوشی سے جواب دیا جیسے تم ویسے میں ۔

کیا مطلب ؟ میں تو ویراول سے آرہا ہوں اور تم؟

میں امریلی جارہا ہوں ۔ یہ بس اڈہ بھی دنیا کی طرح ہے۔ کوئی آرہا ہے تو کوئی جارہا ہے۔

ہاں اگر ایسا ہے تو چلو دوگھڑی کینٹین میں بیٹھ کر چائے ناشتہ کرلیتے ہیں۔

جی ہاں کیوں نہیں ؟ آج کتنے سال بعد تمہارے اتفاقی درشن ہوگئے؟  اور پھر کب ایسا موقع آئے کوئی نہیں جانتا ۔

کینٹین کے ایک ویران کونے میں اہل خانہ کی خیریت دریافت کرنے کے بعد للن پاٹھک بولا یار یہ پسماندہ لوگ تو ہم سے انتقام لینے پر تل گئے ہیں۔

کلن نے چونک کر پوچھا  بات تو درست ہے لیکن اس کا تمہیں احساس  کیونکر ہوگیا؟

ارے بھائی اپنے سابق آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کو ان لوگوں نے عمر قید کی سزا سنا دی۔ یہ بھی کوئی بات ہے؟

کلن نے کہا لیکن بھائی سزا تو عدالت نے سنائی ہے۔ اس میں حکومت کاکیا دوش ؟

للن بولا یار اتنے بھولے نہ بنو۔ کیا نچلی سطح پر عدالت حکومت کی تابع نہیں ہے ۔ کیا وہاں منصف سرکار کے اشارے پر کام نہیں کرتے؟

جی ہاں  ترقی تو ہر کوئی چاہتا ہے لیکن جسٹس لویا جیسے لوگ بھی تو  پائے جاتے ہیں۔

یہ تم نے درست کہا مگر ان کوعبرتناک  انجام سے دوچار کرکے دوسرے باضمیر لوگوں کو ڈرایا بھی تو جاتا ہے۔

لیکن ہر کوئی نہیں ڈرتا۔ پرگیہ ٹھاکر کے مقدمہ کی سماعت کرنے والے جسٹس چنڈالکر کو دیکھو کس طرح اپنے موقف پر اڑے ہوئے ہیں۔

ہاں بھائی ۔ میں تو ان کی سلامتی کے لیے دل سے دعا کرتا ہوں  ورنہ ان دہشت گردو ں کا کیا اعتبار؟

ہاں تو سنجیو بھٹ کی سزا پر تمہیں اس قدر حیرت کیوں ہے۔ اس پر تو ایک اور منشیات رکھنے کامقدمہ درج ہے۔

مجھے پتہ ہے ۔ کہیں یہ لوگ ان کو اس مقدمہ میں پھانسی کی سزا نہ سنا دیں ۔

نہیں بھائی تم تو کچھ بھی کہتے ہو۔میں تو کہتا ہوں عدالت عالیہ میں بھٹ چھوٹ جائیں گے۔ کیا تمہیں اس میں شک ہے؟

مجھے یقین نہیں آتا اس لیے کہ ہمارے گجرات میں جہاں ونجارہ جیسےقاتلوں کو بری کردیا جاتا ہے۔ فرض شناس اور دلیر سنجیو بھٹ کے ساتھ یہ ناروا سلوک  نسلی  عصبیت نہیں تو اور کیا  ہے؟

دولت کی لالچ  یا سزاکا خوف  تو سمجھ میں آتا ہے لیکن یہاں ذات پات کی بات کہاں سے آگئی ؟

ذات پات نہیں تو کیا؟ ہرین پنڈیا کو قتل کیا گیا۔ اس الزام میں گرفتار ہونے والے سارےبے قصور  مسلم نوجوان رہا ہوگئے۔  تو آخر اس براہمن رہنما  کا قتل کس نے کیا؟پنڈیا کے قاتلوں کو سزا کیوں نہیں ہوئی؟

ارے بھائی ہمارے ملک میں لوگوں کا سزا سے بچ نکلنا عام سی بات ہے۔ سمجھوتہ ایکسپریس میں اتنا بڑا دھماکہ ہوا لیکن کسی کو سزا نہیں ہوئی۔

ہاں اگر ایسا ہے تو پھر سنجیو بھٹ کو کیوں ہوگئی ؟  اس کو بھی رہا کردیا جاتا۔ فرضی  انکاونٹر میں ملوث امین کی طرح ترقی کے ساتھ بحال کردیا جاتا۔

کلن پٹیل نے سمجھاتے ہوئے کہا دیکھو ہر کسی کے ساتھ یکساں معاملہ نہیں ہوتا ۔ کوئی پھنس جاتا ہے تو کوئی نکل جاتا ہے۔

نہیں کلن ایسی بات نہیں تمہیں یاد ہے سنجے جوشی کے ساتھ ان لوگوں نے کیا کیا؟ سنگھ کی پشت پناہی کے باوجود اس کو بے دست و پا کردیا  گیاکیونکہ  وہ براہمن تھا ۔ اس کا تعلق اگر کسی اور سماج سے ہوتا تو وہ ایسی رسوائی سے دوچار نہیں ہوتا۔

یہ سنجے جوشی کون ہے ؟ میں نہیں جانتا ۔

ارے تم سنجے جوشی کو نہیں جانتے؟ وہ کیشو بھائی پٹیل کا داہنا ہاتھ تھا ۔ اسی نے مودی کو ریاست بدر کرکےبن باس پر  دہلی  روانہ کروادیا تھا ۔

ارے بھائی للن پاٹھک تم نے بھی کیشو بھائی  پٹیل کی یاد دلا کر دل مغموم کردیا ۔وہ عظیم رہنما کو جس نے پہلی بار ہماری پارٹی کو برسرِ اقتدار  کیا تھا آج کہاں ہے ؟ کوئی نہیں جانتا  لیکن ان لوگوں نے آنندی بین پٹیل کے ساتھ بھی تو اچھا نہیں کیا۔

للن بولا   ارے بھائی کلن پٹیل آنندی بین کو تم لوگوں نے تحریک چلا کر ہٹوایا۔

ہمیں یہ بات بہت بعد میں سمجھ آئی کہ ہماری تحریک کا بہانہ بناکر امت شاہ نے اپنی برادری کے آدمی کو وزارت اعلیٰ کی کرسی پر فائز کردیا۔ وہ تو سراسر وشواس گھات تھا ۔ آنندی بین کے ہٹتے ہی ہمارے مطالبات کی ہوا نکل گئی ۔

جی ہاں کلن یہ بنیا بہت خطرناک ہیں ۔ جب تک اقتدار پٹیل سماج  کے پاس تھا وہ ان کے ساتھ تھے اور جب پسماندہ طبقات کے ہاتھوں میں گیا تو ان ابن الوقتوں نے چولا بدل لیا۔

للن بولا ان سے تو اچھے کانگریس کے راجپوت تھے  ۔ وہ کھلے دشمن تھے لیکن یہ تو چھپ کر وار کرتے ہیں ۔

وہ کیسے؟ میں نہیں سمجھا ؟؟

ارے بھائی سنگھ کے نام پر سارے براہمن ان کے ساتھ ہوجاتے ہیں مگر ان لوگوں نے سنیل جوشی کے قتل میں ماخوذ پرگیہ ٹھاکر کو رکن پارلیمان بنادیا۔ اب یہ بتاو کہ کیا سنیل کے قاتل کبھی پکڑے جائیں گے؟

کلن پریشان ہوگیا ۔ وہ بولا لیکن آپ لوگ مودی اور شاہ کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتے ؟

ارے بھائی خوف و دہشت کے ماحول میں کس کی  مجال ہے کہ اعتراض کرے ؟ کیا سرکاری افسران کی کوئی تنظیم سنجیو بھٹ کی حمایت میں آگے آئی ؟

نہیں! آپ لوگ سنگھ کے اندر سے دباو بناہی سکتے ہیں؟

مشکل ہے! ان لوگوں نے ایسا ماحول بنارکھا ہے کہ مودی کی مخالفت  ملک سے بغاوت  اور حمایت راشٹر بھکتی ہے ۔ تم نے پروین توگڑیا کا حشر نہیں دیکھا ؟

ارے بھائی جب انہوں نے اڈوانی اور جوشی کو ٹھکانے لگادیا توتوگڑیاکس کھیت کی مولی ہے۔ مجھے تو اپنے ہاردک پٹیل کی چنتا ہورہی ہے۔

جی ہاں اس بیچارے پر ملک سے بغاوت کا الزام ہے۔  کون جانے ہاردک کے ساتھ کیا معاملہ ہو؟

کلن پٹیل نے پوچھا لیکن دوست  یہ دھاندلی  کب تک چلے گی؟

میں نہیں کہہ  سکتالیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ ہر اندھیرے کے بعد اجالا ہے اور تاریکی جتنی گہری ہوتی ہے روشنی اتنی ہی قریب ہوجاتی ہے۔

جی ہاں چلو چلتے ہیں ۔ میری بس کا وقت ہورہا ہے۔  بہت دنوں بعد ملاقات ہوئی اچھا لگا۔ بھابی سے سلام کہنا اور بچوں کو پیار۔

اس طرح دعا سلام کے بعد  دونوں دوست اپنی اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہوگئے۔

مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close