سیاست

لوک سبھا انتخابات اور کانگریس

اُلٹی ہو گئی سب تدبیریں، کچھ نہ دوا نے کا م کیا

ایم شفیع میر

        لوک سبھا انتخابات کے نتائج سامنے آہی گئے۔ مودی کی قیادت والی اتحادی ٹیم نے دوسری اننگ میں بھی زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ویسے تو یہ قیاس اور اندازے پہلے ہی سے لگائے جا رہے تھے کہ نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کو دوسری معیاد کیلئے عوام کی تائید حاصل ہوجائے گی تاہم یہ شائد کسی کے وہم و گمان میں نہیں رہا تھا کہ حکومت اس قدر زیادہ بھاری اکثریت سے منتخب ہو پائیگی۔ ایک عام تاثر یہ پایا جا رہا تھا کہ مودی اگر دوبارہ وزیر اعظم بنتے بھی ہیں تو انہیں اپنی حلیف جماعتوں کے رحم و کرم پر رہنا پڑے گاتاہم ایسا نہیں ہوا بلکہ انہوں نے تمام اندازوں اور قیاس آرائیوں کو ختم کرتے ہوئے مثالی کامیابی حاصل کرلی ہے اور حلیف جماعتیں اور اتحادی قائدین اب بی جے پی کے رحم و کرم پر ہیں۔ پہلی معیاد کی تکمیل کے آخری مراحل تک جب انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہورہا تھا بی جے پی کی حالت نسبتاًکمزور دکھائی دے رہی تھی لیکن جس طرح سے کہا جار ہا ہے کہ قوم پرستی کے نعرہ کو بی جے پی نے جس شدت کے ساتھ پیش کیا تھا اس نے رائے دہندوں پر اپنا اثر دکھایا ہے اور بی جے پی اور نریندر مودی کی تشہیری صلاحیتوں اور پارٹی کی زبردست مشنری نے انہیں اس معاملہ میں بہت آگے پہنچادیا ہے۔ یہ سب کیسے ہوا؟اِس کے باجود مودی حکومت کے خلاف ایکبے شمار محاذ پر الیکشن لڑا جا رہا تھالیکن تمام محاذ آن کی آن میں ڈھیر کیوں ہوئے اِس کا جواب شائد کسی کے پاس نہیں سوائے مودی اتحادیوں کے پاس جو یہ کہہ رہے تھے الیکشن لڑا ہی مودی کے نام پر جا رہا ہے۔

        جہاں تک انڈین نیشنل کانگریس یو پی اے اتحادی ٹیم کی کارکردگی کا سوال ہے تو اِ ن کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی یعنی ’’وہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے‘‘۔ لاکھ کوششوں کے باجود کانگریس مخالف ووٹ ایسے پڑے کہ ہر کوئی دانتوں تلے اُنگلی دبائے حیرانگی سے دیکھتاہی رہ گیا کہ آخر کانگریس کا نیشنلزم، سیکولرزم، ہندو مسلم اتحاد، مہا گٹھ بندھن اور ملک کے غریب لوگوں کے لئے سالانہ 72 ہزاری خیرات جیسی دل کو للچا دینے والی اُن بھبکیوں کا کیا ہوا جن بھبکیوں کا انھوں نے اپنی انتخابی مہموں کے دوران خوب ڈونڈورہ پیٹا۔ کانگریس کے تمام انتخابی ہتھکنڈے اور حربے بیکار ثابت ہوئے ، اکثریت کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کوئی بھی انتخابی ہتھکنڈہ کام نہ آیا، چوکیدار چور ہے جیسا نعرہ بھی کھوکھلا ثابت ہوا، ’’میں بھی چوکیدار ‘‘ کی مہم کافی دمدار اور اثر دار ثابت ہوئی اور چوکیدار پھر سے ملک کی چوکیدار ی کرنے کیلئے دم خم اور جوش سے اُبھر کر آ گیا ، چوکیدار کے سامنے کانگریس کی تمام تدبیریں پھیکی پڑ  گئیں ، بقول شاعر ……

اُلٹی ہو گئی سب تدبیریں ، کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اِس بیماری ٔ دل نے ، آخر کام تمام کیا

        کانگریس کے قد آور لیڈر سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، متحدہ ترقی پسند اتحاد کی صدر سونیا گاندھی، سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم اور سابق وزیر دفاع اے کے انٹونی کی موجودگی میں لوک سبھا انتخابات کے لئے کانگریس نے اپنا انتخابی منشور جاری کیا اور یہ کہا کہ یہ دستاویز بند کمرے میں بیٹھ کر نہیں بلکہ ملک کے کونے کونے میں بیٹھے لاکھوں افراد سے بات چیت کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشور کمیٹی سے صاف صاف کہہ دیا گیا تھا کہ پارٹی ایسا کوئی وعدہ نہیں کرے گی جسے پورا کرنا ممکن نہیں ہے۔ اسی لیے کانگریس کے  ’’انتخابی منشور ‘‘میں صرف اس طرح کے وعدے کئے گئے ہیں جو حقیقی طور پر پورے کئے جا سکیں۔ سب کو معلوم ہے کہ کانگریس نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے عوام مخالف پالیسوں کو خوب لتاڑا۔ کہا کہ مودی نے ہر سال 2کروڑ روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا جو جوجھوٹا ثابت ہوا، جی ایس ٹی لگائی جس نے ملک کی معیشت اور عوام کی کمر توڑی دی ، مہنگائی آسمان چھو رہی ہے لیکن کانگریس نہ اس طرح کے جھوٹے وعدے کرے گی اور نہ ہی عوام مخالف پالیسوں کو اپنائے گی۔ کانگریس نے حقیقت کا پتہ لگایا ہے اور اسی بنیاد پر وہ وعدہ کر رہی ہے کہ سرکاری شعبہ میں 22 لاکھ خالی سامیوں کو سال 2020 تک پر کیاجائے گا۔ گرام پنچایتوں میں 10 لاکھ نوجوانوں کو روزگار دیا جائے گا۔ منریگا منصوبہ منصوبہ کو آگے بڑھاتے ہوئے اس کے تحت اب 100 کی بجائے 150 دن کے روزگار کی ضمانت دے گی۔ تعلیم پر جی ڈی پی کا 6 فیصد خرچ کرنے کا بھی کانگریس نے وعدہ کیا تھا، لیکن کانگریس کا ایک بھی وعدہ ملکی عوام کو نہیں بہایا، انھوں نے 2014کو پھر سے دہرایا اور مودی کو ہی لایا۔ گو کہ کانگریس کا انتخابی منشور دیکھ کر اور پڑھ کر ہر کوئی یہ کہتا تھا کہ کانگریس کاانتخابی منشور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ’’سنکلپ پتر‘‘ پر بھاری پڑ سکتا ہے لیکن ایسا نہ ہوا، سب کے اس کے برعکس ہوا’’سنکلپ پتر‘‘کسی جادوئی چھڑی کی طرح رائے دہندگان پر چلا پڑا۔

        حیران کن بات ہے کہ جہاں انڈین نیشنل کانگریس نے دوران انتخاب مودی کی ناکامیوں کا رونا روتے ہوئے اپنی جگہ یہ طے کر لیا تھا کہ اب کے موجودی کو پچھاڑ کر ہی دم لیں گے اور اس کے لئے کانگریس کسی حد تک تمام مہذاہب کے لوگوں کو میدان میں اُتار کر ایک نئی کوشش کی تھی لیکن یہ کوشش بھی ناکام ثابت ہوئی۔ وہیں دیکھا جائے تو بھارتیہ جنتا پارٹی نے مذہب کے نام پر زہر اگلنے والے اور بدنام زمانہ داغدار لوگوں کو میدان ِ انتخابات میں اُتار کر کامیابی پر کمندیں ڈالتے ہوئے کانگریس کو یہ آئینہ دکھایا کہ سیاست کس بھلا کا نام ہے؟ کس طرح اشتعال انگیز بیانات دیتے ہوئے بھی ملک کی سیاست پر ایک بار پھر سے اپنا قبضہ جما کر کانگریس کو بے دخلی کا راستہ دکھایا یہ سب کانگریس پارٹی کی لیڈر شپ کیلئے ایک بہت بڑا چیلیج بن کر رہ گیا۔

        تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو! برگیہ سنگھ ٹھاکور کا مہاتما گاندھی کے پتلے کو گولی مارنا اور پھر اسی برگیہ کا بحیثیت بھاجپاامیدوار انتخابی میدان میں آنا ہی کانگریس کی شکست کا سگنل تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کانگریس جب جب بھی ووٹ کی بھیک مانگتی ہے تو اُن کے ہاتھوں میں کاسہ گاندھی کا ہوتا ہے۔ اسے کانگریس والوں کی کم عقلی سمجھا جائے یا پھر لیڈر شپ کا فقدان کہ جس گاندھی کے نام پر کانگریس ووٹ بٹورکر اقتدار کی کرسی پر براجمان ہونے کے خواب دیکھ رہی ہے اب کے وہ دور گزر چکا ہے۔ موجودہ دورمیں گاندھی کی قیمت صرف نوٹوں تک محدود ہے جس گاندھی نے ہندوستان کو آزاد کرانے کے لئے اپنی جان نچھاور کر دی تھی۔ اب زمانہ بدل گیا لوگ گاندھی والا نوٹ لیتے ہیں اور مودی کے نام پر ووٹ دیتے ہیں۔ جی ہاں آپ کو ضرور حیرانگی ہوگی یہ پڑھ کر کہ پرگیہ سنگھ ٹھاکور نے جس نقلی پسٹل اور بارود سے گاندھی کے پتلے کو گولی ماری تھی وہ پسٹل اور بارود بھی اُس نے گاندھی کے نوٹوں سے خرید کر لایا تھا۔ یہ بات کانگریس لیڈر شپ کیلئے سبق آموز ہے کہ اب کے وہ زمانہ بھول جایئے جب آپ عوام کو اپنی چوڑی چپٹی باتوں کا اسیر بنا کر ووٹ بٹورنے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔ جب گاندھی کے نام پر آپ اقتدار کی چٹنی کا مزا لیتے تھے۔ جب گاندھی کا روپ دھارن کر کے وہی سب کرتے تھے جس کے خلاف گاندھی نے جنگ لڑی تھی۔ لازماً نتیجہ مایوس کن ہی آنا تھا۔

        جہاں تک جموں و کشمیر کی بات ہے تو ریاست جموں و کشمیر کے تئیں کانگریس کا رویہ ہمیشہ سے ہی دوغلا رہا ہے، چاہیے پنڈت نہرو کے دور کی جائے یا پھر آج کے دور کی۔ کانگریس کا رویہ ریاست جموں و کشمیر کے تئیں ہمیشہ ہی سودے بازی کا رہا۔ حالیہ انتخابات کی بات کریں تو اِن انتخابات میں بھی کانگریس نے مسلم طبقہ کو نظر انداز کیا۔ ڈوڈہ، ادھمپور کٹھوعہ کی پارلیمانی نشست کو لیکر جس قد ر مسلم طبقہ کو بری طرح سے نظر انداز کیا گیا اُس کا خمیازہ اس صورت میں بھگتنا پڑا کہ کانگریس کے اُمیدوار کو تین لاکھ سے زائد ووٹ سے ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ جب عوام پر زبردستی اُن کی ناپسند امیدوار ٹھونس دیئے جائیں تو پھر عوام دوسرے روپ میں ظاہر ہوتی ہے گوکہ پھر عوام کو خود بھی کیوں نہ مصیبتیں جھیلنی پڑیں۔ کانگریس نے مسلم طبقہ کی ایک بڑی تعداد کو نظر انداز کر کے ریاست جموں و کشمیر میں مکمل طور سے اپنا صفایا کروایا۔ کشمیر میں تو یوں بھی کانگریس کی نائو ہمیشہ منجھدار میں ہی رہی کیونکہ ماضی میں کانگریس نے کشمیر جو ظلم و ستم ڈھائے ہیں ہو نہ ہو یہ اُسی کا خمیازہ ہے کہ آج کانگریس کا ملک بھر سے صفایا ہو رہا ہے۔ معصوم اور بے گناہوں کا خون خرابہ، قاتل و غارت گری، پھانسیاں ، تشددیہی اُن ہی گناہوں کا بدلہ ہے۔ کانگریس کا ہوش کے ناخن لینے چاہیے اور خاص طور پر ریاست جموں و کشمیر کے تئیں سودے بازی کے اپنے رویہ کو تبدیل کرنا ہوگا۔ کانگریس کی جس دغابازی اور سودے بازی کی وجہ سے آج بھی کشمیریوں کا خونِ ناحق بہایا جا رہا ہے اُس لیڈر شپ میں بدلائو لانا ہوگا۔ یہاں ریاست جموں و کشمیر کے لیڈر جو کہ کانگریس میں اپنا مقام رکھتے ہیں انہیں بھی چاہیے کہ ذاتی مفادات سے اُوپر اٹھ کر کانگریس سے اپنا رابطہ جوڑی، چار دن کا اقتدار کس قدر رسوائی کا باعث بنتا ہے اِس کا اندازہ تو کانگریس لیڈر شپ کو ہوا ہی ہوگا۔ لہٰذا اب کانگریس کی ریاستی اکائی کو بھی کھل کر بات کرنی چاہیے ہاں میں ہاں کی سُر ملا کر آج تک جتنی سودے بازیاں ہوئیں اُس نے ریاست جموں و کشمیر کی عوام کو جس مصیبت میں دھکیلا ہے وہ سب آپ کے سامنے کھلی کتاب ہے لہٰذا اب محاسبہ کرناچاہے یہی وقت ہے سدھرنے کا !بقول شاعر علامہ اقبالؒ

وطن کی فکر کر ناداں ! مصیبت آنے والی ہے

تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے، ہونے والا ہے

دھَرا کیا ہے بھلا عہدِ کہن کی داستانوں میں

یہ خاموشی کہاں تک؟ لذّتِ فریاد پیدا کر

زمیں پر تُو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میں

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close