سیاست

لوک سبھا انتخابات: پس منظر و پیش منظر

راحت علی صدیقی قاسمی

لوک سبھا انتخابات قریب ہیں، سیاسی گلیاروں میں ہلچل ہے، سیاسی رہبران لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے کوشاں ہیں، سیاسی جماعتیں شب و روز حکمت عملی بنانے اور اس کو عملی جامہ پہنانے میں مشغول ہیں، انتخابی ریلیوں کا دور شروع ہوچکا ہے، تمام سیاسی جماعتیں اس اہم موقع کی نزاکت سے بخوبی واقف ہیں، وہ جانتی ہیں کہ اس اہم موقع پر سستی و کوتاہی روا نہیں ہے، اس اہم وقت کو اگر ضائع کردیا گیا، تو پھر پانچ سال تک انتظار کرنا ہوگا،سیاسی حیثیت پر حرف آئیگا، سیاسی مستقبل پر پر سوالیہ نشان لگ جائے گا، خاص طور پر کانگریس کے لئے بہت ہی اہم موقع ہے، جس کو وہ یقینی طور پر گوانا نہیں چاہے گی، مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ کے اسمبلی انتخابات نے اس پارٹی کے کارکنان کو مزید ہمت حوصلہ عطا کیا ہے۔

حالیہ انتخابات میں صاف ہوگیاہے کہ بی جے پی کی پوزیشن مستحکم نہیں ہے، اور اس کا اعتراف بی جے پی سے قربت رکھنے والے افراد کے بیانات سے بھی ہو چکا ہے، خاص طور پر بابارام دیو جیسے افراد بھی اس خدشہ کا اظہار کر چکے ہیں، اور حالات بھی اس جانب مشیر ہیں، عوام بی جے پی سے خوش نہیں ہیں، کمزور مفلس و غریب طبقہ نے نوٹ بندی کی تکلیف جھیلی، ہندتوا کے محبین بابری مسجد پر آرڈیننس نہ لانے کی وجہ سے ناراض ہیں، اور وہ بلاتردد اس بات کا اقرار کررہے ہیں، اور ان کی زبانوں سے ادا ہوئے جملے حقائق سے پردہ اٹھا رہے ہیں، وہ کہ رہے ہیں کہ مودی جی محض وکاس کے نام پر نہیں جیتے بلکہ ان کامیابی و کامرانی ہندتوا کی مرہون منت تھی، لیکن انہوں نے اس کا خیال نہیں کیا، اِن حقائق سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بی جے پی کے لئے آگے سفر آسان نہیں ہے۔

اس صورت حال میں یہ بڑا دلچسپ سوال ہوگاکہ کیا اب بھی لوگ بی جے پی پر بھروسہ کریں گے؟ کیا سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ پھر سے فضا میں گونجے گا؟ اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کیا پھر سے لوگ اس جماعت پر پھر سے نعرے اعتماد کریں گے؟ کیا ان کے ذہنوں میں نوٹ بندی، جی ایس ٹی، بے روزگاری مہنگائی نہیں ہے؟ کیا وہ ان مسائل کے حل کے لیے بی جے پی کو موزوں خیال کریں گے؟ پچھلے انتخابی منشور میں بابری مسجد کا مدعا تھا، اگرچہ اس کو زیادہ اہمیت و فوقیت نہیں دی گئی تھی، لیکن گذشتہ چند مہینوں سے جس طرح ہندو تنظیموں نے معاملے اس میں دلچسپی دکھائی ہے، وہ بھی بی جے پی کے لئے مسئلہ بن سکتا ہے، اور وزیر اعظم اس معاملہ میں آرڈیننس لانے سے انکار کر چکے ہیں، کیا اس کے بعد ہندتوا کے نام پر انہیں ووٹ ملے گا؟ حالانکہ اس معاملہ میں ناراضگی کا اظہار کیا جاچکا ہے، اور کنبھ میلے میں کل زی نیوز پر ایک ڈبیٹ کے دوران بھی اس  معاملے پر گفتگو ہوئی اور مذہبی رہنماؤں نے وزیراعظم سے ناراضگی کا اظہار کیا، اور بابری کے مسجد کے تعلق سے ان کے موقف کو پسند نہیں کیا ہے، یہ وہ مسائل ہیں، جس کی وجہ بی جے پی کی کشتی بھنور میں پھنس سکتی ہے،ساتھ ہی ساتھ کانگریس کو بھی اس بات کا علم ہے کہ بی جے پی سے عوام کو جو امیدیں تھیں، اس پر وہ کھری نہیں اتر پائی ہے، لہذا میدان میں قدم جمانے کا اس سے بہتر موقع میسر نہیں آسکتا ہے۔

کانگریس پوری طرح کوشاں ہے کہ اس انتخاب میں عوام کی توجہ حاصل کی جائے، بی جے پی سے عوام کی ناراضگی کا فائدہ اٹھایا جائے، اور کرسی حاصل کرلی جائے، کانگریس اس کے لئے کوشاں و کمربستہ ہے،البتہ بی جے پی بھی عوام کی صورت حال سے بے خبر نہیں ہے، بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس بات کاندازہ بی جے پی کو بھی ہے کہ عوام کا اعتماد ان پر پہلے جیسا نہیں ہے، ان کے فیصلے اس کی طرف اشارہ کرتے ہیں، بڑی برادریوں کو دس فی صد ریزرویشن دیا جانا اور اڈیسہ میں کروڑوں کے پروجیکٹ کا افتتاح عوام کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش محسوس ہوتی ہے، بی جے پی کا منشا و مقصد چاہے جو بھی ہو لیکن وقت اور موقع چیخ چیخ کہ رہا ہے کہ یہ لوگوں کو قریب کرنے کی کوشش ہے،کنہیا کمار اور ان کے ساتھیوں پر تین سال بعد جے این یو معاملے پر چارج شیٹ فائل کیا جانا بھی سوال پیدا کرتا ہے اور میڈیا کی اس جانب رغبت اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ عوام کا دھیان تمام مسائل سے ہٹایا جائے گا، اور انہیں اس طرح کے مسئلے میں الجھایا جائے گا۔

  کانگریس کے لئے بھی یہ سفر اتنا آسان نہیں ہے بظاہر جتنا آسان لگ رہا ہے، تین ریاستوں میں گانگریس فتحیاب تو ہوئی ہے، مگر دو ریاستوں میں بی جے پی نے اسے سخت ٹکر دی، اور انتخابات کے نتائج ہندوستان پاکستان کے کرکٹ میچ کی طرح دلچسپ تھے، لوگ شام تک اپنی نشستوں پر جمے رہے، اور انتخابی نتائج نے عوام ہی نہیں بلکہ سیاسی رہنماؤں کو بھی دانتوں تلے انگلیاں دبانے پر مجبور کردیا تھا، اِن فتوحات کی بنیاد پر یہ طے نہیں ہوتا کہ کانگریس کے لئے ماحول سازگار ہوگیا ہے اور لوگ پوری طرح اس کے حق و حمایت میں ہیں، البتہ اس انتخاب نے اتنا ضرور واضح کردیا ہے کہ عوام بی جے پی سے ناراض ہیں، پانچوں ریاستوں کے انتخاب نے اس حقیقت کو عیاں کردیا ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس اس ناراضگی کا فائدہ اٹھا پائے گی؟ کیا راہل گاندھی مودی میجک کو ختم کر پائیں گے؟ کیا وہ عوام کا بھروسہ حاصل کرپائیں گے؟ کیا گاندھی خاندان کی عقیدت عوام کو اپنی طرف مائل کر پائے گی؟ کیا راہل کا چہرا متاثر کن ثابت ہوگا؟ یہ سوالات ضرور کانگریس پارٹی اور ان کے محبین کے لئے اہم ہیں، ساتھ ہی کرناٹک حکومت کی چولیں ہلنا بھی کانگریس کے لئے باعث تکلیف ہے، اس موقع پر اگر وہاں حکومت ٹوٹتی ہے، تویہ کانگریس کے لئے ضرور حوصلہ شکن ثابت ہوگا، اگر چہ کرناٹک کے وزیر آعلی اپنی حکومت کے محفوظ ہونے کا دعوی کرچکے ہیں، کانگریس کے لئے یہ موقع اہم ہے، اور اس کے لئے راہیں ہموار کرسکتا ہے، اور راہیں مسدود بھی کرسکتا ہے۔

 اترپردیش ہمارے ملک کی سیاست میں بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے،اس ریاست میں 80 نشستیں ہیں، جو وزیراعظم طے کرنے میں میں انتہائی اہم رول ادا کرتی ہیں، 2014 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے اس ریاست میں 71 نشستیں حاصل کی تھیں، جو بہت ہی بڑی کامیابی تھی، تمام سیاسی جماعتیں اس سے بخوبی واقف ہیں، اسی کا اثر ہے کہ تقریباً پچیس سالوں سے ایک دوسرے کی حریف رہیں سماج وادی اور بہوجن سماج پارٹی متحد ہو کر اس انتخاب میں حصہ لے رہی ہیں، اور آر ایل ڈی سے بھی اتحاد کے امکانات روشن ہیں، اس اتحاد میں کانگریس کو شامل نہ کرکے ان سیاسی جماعتوں نے ضرور چونکایا ہے، اور اترپردیش میں کانگریس کے لئے کامیابی کے راستے بند کردئے ہیں، اس بات کا احساس راہل گاندھی کو بھی ہے، جس کا اثر ان کے گذشتہ بیان سے ہو رہا ہے،اور غلام نبی آزاد کا اعلان (کانگریس پوری ریاست میں اپنے امیدوار میدان میں اتارے گی) بھی اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ کانگریس کو اس بات کااحساس ضرور ہے کہ انہیں اس اتحاد میں شامل نہیں کیا گیا۔

  اس اتحاد سے کانگریس کے لیے اترپردیش میں کامیابی کا دروازہ بند ہوجائے گا، اور یہ اتحاد بی جے پی کو بھی شکست دینے کی قوت رکھتا ہے، لیکن بی جے پی کی سابقہ کارکردگی اس حقیقت کو عیاں کرتی ہے کہ اب بھی اس کے لئے اترپردیش میں راہیں مسدود نہیں ہیں، اور اس اتحاد کو ٹکر دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، مشکلات و مسائل تمام جماعتوں کے سامنے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ کون عوام کی پہلی پسند بنتا ہے؟کیا انتخاب ترقی کے ایجنڈے پر ہوگا؟ یا مذہبی تشدد کی بنا پر کرسی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی؟ اس حقیقت کاادراک بھی مستقبل قریب میں ہوجائے گا۔ ہندوستانی عوام کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ انتخاب میں حصہ لیں، اور اپنے مسائل کو ذہن میں رکھتے ہوئے ملک کی ترقی کے لئے ووٹ کریں، اور ووٹنگ کی شرح کو بلند کرنے کی کوشش کریں، اس سے ملک کا معیار و وقار بلند ہوگا، اور ترقی کی راہیں ہموار ہونگی، اور ہر ہندوستانی کے خواب شرمندۂ تعبیر ہونگے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close