سیاستطنزو مزاح

مان گئے استاد، تونسی گریٹ ہو

ڈاکٹر سلیم خان

یار کلن ایک بات بتاو تمہیں سیاست میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟

کلن بولا سیا ست؟ کیسی سیاست ؟ مجھے نہ تو سیاست میں دلچسپی ہے اور نہ سیاستدانوں میں؟

للن نے پھر سوال کیا۔ اچھا تو کیوں ہمیشہ  انتخاب پر بحث مباحثہ کرتے رہتے ہو؟

اوہو تم  توسیاست کے میدان  سے سیدھے انتخابی دنگل میں کود پڑے؟ لگتا ہے تمہارا ارادہ بھی انتخاب لڑنے کا ہے؟

توبہ کیجیے کلن بھائی میں شریف آدمی ہوں۔ آپ کیوں میری مٹی خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

اچھا تو کیا انتخابات میں شریف لوگ حصہ نہیں لیتے؟

شریف نام کے لوگ ضرور حصہ لیتے ہیں۔ ویسے اس معاملے میں آپ سے زیادہ معلومات کس کو  ہے؟ ہم تو طفل مکتب ہیں۔

یہ بات درست ہے ورنہ تم سیاست اور انتخاب کو یکساں نہیں سمجھتے۔

اچھا! انتخاب اگر سیاست نہیں ہے تو کیا ہے؟

تجارت ہے بلکہ ایک ایسی تجارت جو تقریباً جوا ہے۔

میں نہیں سمجھا ؟

کیا نہیں سمجھے تجارت یا جوا؟

تجارت اور جوا تو سمجھتا ہوں لیکن انتخاب کے ساتھ ان کا تعلق نہیں سمجھ سکا۔

میں سمجھ رہا تھا کہ تم تکلف میں اپنے آپ کو طفل مکتب کہہ رہے ہو لیکن ایسا لگتا ہے کہ واقعی کندۂ ناتراش ہو؟

چلئے یہی سہی۔ اب آپ تراش دیجیے اور بتائیے کہ انتخاب، تجارت اور جوا میں کون سی قدر مشترک  ہے؟

بھائی دیکھو تجارت میں کیا ہوتا ہے ؟ پہلے تم سرمایہ لگاتے ہو اور پھر محنت کرکے منافع کماتے ہو۔ کیا یہ سب انتخابی سیاست میں نہیں ہوتا؟

بے شک یہی سب ہوتا ہے جیسے میں نےآئسکریم کی  دوکان کھولنے کا ارادہ کیا تو پہلے مدر ڈیری کی ایجنسی لی۔ پھر دوکان خریدی گاہکوں کو رجھا کر اپنی دوکان تک لایا اور اب بیٹھ کر کمارہا ہوں  لیکن اس میں غلط کیا ہے؟

میں نے کب کہا کہ غلط ہے لیکن ایک فرق ہے تم اپنی ذریعۂ معاش کوتجارت  کہتے ہو لیکن سیاستداں اس کو عوام کی اور قوم کی خدمت کہتا ہے۔

جی ہاں یہ تو فریب  ہے۔ انسان جو کرتا ہے وہی کہے۔ میں اپنے گاہک کو مدر ڈیری کے نام پر کوالٹی کی آئسکریم تو نہیں بیچ سکتا۔

بھائی مدر ڈیری اور کوالٹی کی آئسکریم میں تو کوئی خاص فرق نہیں ہے لیکن انتخابات میں تو وعدوں کے غبارے میں خواب بھر کر بیچے جاتے ہیں۔

جی ہاں آپ نے درست فرمایا یہ تو سراسر دھوکہ ہے لیکن جوا کیسے ہوگیا ہے۔

بھائی ایسا ہے کہ جوا میں محنت سے زیادہ تقدیر کا عمل دخل ہوتا نیز خطرہ یعنی (risk) کا پہلو غالب ہوتا ہے مثلاً گھوڑوں کی ریس۔ کون جیتے گا کون ہارے گا یہ کہنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ آخری وقت میں پانسہ پلٹ جاتا ہے اورکب کیا ہوجائے   یقین کے ساتھ کچھ کہا نہیں جاسکتا ہے۔

جی ہاں کلن بھائی اور یہ بھی ہے کہ جوے ایک بازی  میں ہارنے والے بہت سارے ہوتے ہیں اور جیتنے والا صرف ایک ہوتا ہے۔

لگتا ہے اب تم بالغ النظر ہوگئے ہو۔ کیاانتخابی دوڑ میں بھی معدودے چندگھوڑوں پر سوار اور بے شمار لوگ ان پر بازی لگانے والے نہیں ہوتے  ؟

اوہوچند امیدوار اور بے شمار رائے دہندگان کی  اس زبردست مماثلت پر تو میں نے غور ہی نہیں کیا  بھئی مان گئے استاد۔

لیکن فرق یہ ہے للن کہ گھوڑوں کی ریس میں جیک پاٹ کسی بازی  لگانے والے کا لگ جاتا ہے جبکہ الیکشن  میں ایک  گھوڑسوار کامیاب اور باقی سب دوڑنے اور دوڑانے والے ہار جاتے ہیں۔

جی ہاں اس طرح تو فریب خوردہ  ووٹر کو بلا وجہ کی خوش فہمی کا شکار کرکے اس کا استحصال کیا جاتا ہے۔

بھائی للن کمال ہے۔  تم نے تو کے جی میں داخلہ لے کر  سیدھے پی ایچ ڈی کا محاکمہ  لکھ ڈالا۔

یہ آپ کا فیضان نظر ہے لیکن اس آگہی کے باوجود  آنجناب  کا انتخابات میں دلچسپی لینا مزید الجھن  میں مبتلا کرتا ہے۔

ارے بھائی ہر مشغلے کے لیے وجہ جواز تلاش کرنا ضروری ہے کیا ؟ بس یو نہی سمجھ لو۔

آپ مجھے اس طرح ٹال نہیں سکتے۔ آخر۰۰۰۰کوئی تو وجہ ہوگی؟ آپ کو بتانا ہوگا۔

ٹھیک ہے لیکن پہلے یہ بتاو کہ تمہیں کرکٹ میں دلچسپی ہے یا نہیں؟

یہ کیا سوال ہے صاحب ؟ میں کیاساری قوم کو دلچسپی ہے۔ آج کل تو آئی پی ایل کے زمانے میں فلمیں ریلیز نہیں ہوتیں بلکہ انتخابات تک ٹال دیئے جاتے ہیں  یا آئی پی ایل دور دیس روانہ کردیا جاتا ہے۔

اچھا! اس میں کس کا فائدہ ہے؟

للن پہلے سوچ میں پڑگیاپھر بولا  اس میں  ٹیم کے مالکان کا، کھلاڑیوں کا، مشتہرین کا اور ذرائع ابلاغ کا سبھی  کا فائدہ ہے۔

لیکن تم جیسے کروڈوں شائقین کا کیا فائدہ ہے؟

للن کو اس سوال کی توقع نہیں تھی۔ وہ  حیرت کے گہرے تالاب میں اچانک  سے ڈھکیل دیا گیااور بمشکل تمام  نکل کر باہرآکر  بولا ہمیں ! ہمیں تفریح ملتی ہے۔ مزہ آتا ہے۔  اس لیے ہم دلچسپی لیتے ہیں۔

بس تم نے اپنے سوال کا جواب خود دے دیا۔ مجھے بھی یہی سب ملتا ہے۔

لیکن آپ کوتو کرکٹ میں ذرہ برابر دلچسپی نہیں ہے۔

جی ہاں جیسے تمہیں انتخابی سیاست میں نہیں ہے لیکن میں تو انتخابات کے بارے میں کہہ رہا تھا۔

للن سر پکڑ کر بولا۔ اچھا تو بس ٹائم پاس۔ مان گئے استاد۔ تونسی گریٹ ہو۔

مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close